9014: کیا ہفتہ وارطواف کرنا اوراسکا ثواب کسی اور کوھبہ کرنا مشروع ہے


کیا بیت اللہ کاہفتہ وار طواف کرنا اوراس کا ثواب کسی زندہ یا مردہ کوبخشا جانا مشروع ہے ؟
وہ ایسے کونسے اعمال ہے جن کا ثواب کسی دوسرے کوبخشنا مشروع ہے ؟

Published Date: 2004-06-10

الحمدللہ

کسی بھی زندہ شخص کوثواب ھدیہ کرنا مشروع نہيں ، لیکن فوت شدگان کے لیے بھی اس چيز کے ساتھ ہی مشروع ہے جس کی نص وارد ہے ، ذيل میں ہم ان شاء اللہ اس مسئلہ کوبالتفصیل بیان کرتے ہیں :

1 - زندہ شخص کوثواب بخشنا :

عبادات میں اصل تویہ ہے کہ شرعی دلیل کے بغیر کوئي عبادت کرنا حرام اورمنع ہے ، لیکن شرعی دلیل ہوتوپھروہ عبادت کی جاسکتی ہے ، کتب احادیث اورتراجم کی کسی بھی کتاب میں یہ نہيں ملتا ہے کہ امت کے سلف صالحین میں سے کسی نے بھی کوئي کام کیا اورپھراس کا ثواب کسی مسلمان کوبخشا ہو نہ توکسی نبی اورنہ ہی کسی صحابی کو۔

شیخ عبدالعزیز بن بازرحمہ اللہ تعالی سے کسی سائل نے نفلی نماز اورقرآن کی تلاوت کرکے اپنی اس ماں کوبخشنے کے بارہ میں پوچھا جولکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی توشیخ رحمہ اللہ تعالی نےجواب دیا :

نماز ادا کرکے اورقرآن مجید کی تلاوت کرکے کسی زندہ یا فوت شدہ کواس کا اجروثواب بخشنے کے بارہ میں کوئي شرعی دلیل نہيں ملتی ۔

اورپھر عبادت توقیفی ہے ، کوئي عبادت بھی اس وقت تک مشروع نہيں جب تک کہ اس کی مشروعیت پر شرعی دلیل نہ مل جائے ۔

لیکن آپ کے لیے یہ مشروع ہے کہ آپ اس کے لیے دعا اوراس کی طرف سے صدقہ وخیرات کریں ، اوراسی طرح اگروہ زيادہ عمر کی ہے اورحج وعمرہ نہيں کرسکتی توآپ اس کی طرف سے حج وعمرہ کرسکتے ہیں ۔

دیکھیں : فتاوی الشيخ ابن باز ( 9 / 321 ) ۔

1 - فوت شدگان کواجروثواب بخشنا :

شریعت اسلامیہ نے اس میں بعض اعمال کوجائز قرار دیا ہے ، لھذا اس مسئلہ میں انہيں اعمال تک ہی محدود رہنا چاہیے اورکسی دوسری چيز کواس پرقیاس کرتے ہوئے عمل پیرا نہیں ہونا چاہیے بلکہ جواعمال کرنے جائز ہیں اوردلائل سے ثابت ہیں وہی کیے جاسکتے ہیں ، کیونکہ عبادات میں اصل توممانعت ہی ہے لیکن جب کوئي دلیل مل جائے توپھر وہ عبادت کی جاسکتی ہے ۔

شریعت اسلامیہ میں فوت شدگان کے لیے جن اعمال کا اجروثواب بخشنا جائزہے ،یا زندہ لوگوں کے جن اعمال سے فوت شدگان کوفائدہ حاصل ہوتا ہے وہ مندرجہ ذيل ہیں :

ا - دعاء

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورجولوگ ان کے بعد آئيں جوکہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اورہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں } الحشر( 10 ) ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہووسلم نے ہمیں حبشہ والے نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : اپنے بھائي کے لیےبخشش کی دعا کرو ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1236 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 951 ) ۔

اورعثمان بن عفان رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تواس ( کی قبرکے پاس ) پر کھڑے ہوتے اور فرماتے :

( اپنے بھائي کے لیے بخشش کی دعا کرو کیونکہ اس وقت اس سے سوال وجواب ہورہے ہیں ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 3221 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب المجموع ( 5 / 292 ) میں اس حدیث کی سند جید قرار دی ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اورامت کا اجماع بھی اس پردلالت کرتا ہے کہ دعاء سے میت مستفید ہوتی ہے ، لھذا نماز جنازہ میں میت کے لیے دعا کرنے پرامت کا اجماع ہے ۔۔۔ بہت ساری احادیث میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے بلکہ میت کی نماز جنازہ ادا کرنے کا مقصدہی یہی ہے ، اوراسی طرح میت کودفن کرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرنا، اوراسی طرح قبرستان کی زيارت کرتے وقت بھی فوت شدگان کےلیے دعا کرنے پر امت کا اجماع بھی اورسنت سے بھی ثابت ہے ۔

دیکھیں : ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی کتاب " الروح " ( 118 - 119 ) ۔

ب - میت کے ذمہ نذر یا کفارہ وغیرہ کے واجب روزوں کی قضاء کی ادائيگي کرنا ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جوشخص فوت ہوجائے اوراس کے ذمہ روزے ہوں تواس کی جانب سے اس کا ولی روزہ رکھےگا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1851 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1147 ) ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ :

ایک عورت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئي اورکہنے لگی : میری والدہ فوت ہوچکی ہے اوراس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں ، تونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

( مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض ہوتا توکیا تم اسے ادا کرتی ؟ وہ عورت کہنے لگي : جی ہاں ، تونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : تو پھر اللہ تعالی کے قرض کی ادائيگي کا زيادہ حق ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1817 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1148 ) ۔

اوراس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، کچھ علماء کرام کا کہنا ہے کہ میت کی جانب سے صرف نذر کے روزے رکھے جائيں گے ، لیکن عموم ہی صحیح ہے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

علماء سلف اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں :

اصحاب الحدیث میت کی جانب سے روزے رکھنے جائز قرار دیتے ہیں ، اورامام شافعی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے قدیم قول میں تعلیقا حدیث کوصحیح کہا ہے جیسا کہ امام بیھقی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " المعرفۃ " میں بھی نقل کیا ہے ، اورابوثور ، اورشافعیہ میں سے محدثین کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے ۔

امام بیھقی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " الخلافیات " میں کہا ہے کہ : یہ مسئلہ ثابت ہے اوراہل حدیث کے مابین اس کی صحیح ہونے میں مجھے کسی اختلاف کا علم نہیں لھذا اس پر عمل کرنا واجب ہے ، پھر اس کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں :

میں نے جوکچھ کہا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف ثابت ہے لھذا آپ لوگ حدیث پر عمل کریں ، اورمیری تقلید نہ کریں ۔

اورامام شافعی رحمہ اللہ تعالی کا قول جدید اورامام مالک اورابوحنیفہ رحمہم اللہ تعالی کا قول ہے کہ : میت کی جانب سے روزہ نہیں رکھا جائے گا ۔

اورامام احمد ، اللیث ، اسحاق ، اورابوعبید رحمہم اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ : عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا والی حدیث کے عموم کوابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ کی مقید حدیث پر محمول کرتے ہوئے میت کی جانب سے نذر کے علاوہ کوئي روزہ نہیں رکھا جاسکتا ۔

اوران دونوں حدیثوں کے مابین کوئي اختلاف ہی نہیں کہ ان دونوں کوجمع کیا جائے ، لھذا ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ایک مستقل صورت بیان ہوئي ہے وہ صورت سائل کے ہاں پیداہوئي تھی جس کےبارہ میں اس نے سوال کیا ، اورعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں عام قاعدہ بیان ہوا ہے ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں بھی اس عموم کی جانب اشارہ بھی پایا جاتا ہے ، کیونکہ حدیث کے آخر میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : لھذا اللہ تعالی کا قرض ادائيگي کا زيادہ حقدار ہے " ۔ دیکھیں فتح الباری لابن حجر ( 4 / 193 - 194 ) ۔

لیکن احناف نے ایک ضعیف حدیث سے استدلال کرتے ہوئے میت کی جانب سے روزے رکھنے کی ممانعت کی ہے ، اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فتح الباری میں اوپربیان کیے کئے حوالہ میں ہی ان کا رد کیا ہے ۔

اوران میں سے بعض نے مندرجہ ذيل حدیث سے بھی استدلال کیا ہے :

( جب ابن آدم فوت ہوجاتا ہے تواس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے لیکن تین قسم کا عمل جاری رہتا ہے ، صدقہ جاریہ ، یا علم نافع ، یا نیک اورصالح اولاد جواس کےلیے دعا کرتی رہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1631 ) ۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اس استدلال والوں کا رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ :

ان لوگوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان " جب ابن آدم فوت ہوجاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہوجاتے ہیں " سے استدلال صحیح نہيں بلکہ ساقط ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اس کا نفع حاصل کرنا منقع ہوجاتا ہے ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے علاوہ کسی اورکا عمل تواس کے عامل کے لیے ہی ہے لیکن اگر وہ میت کوھبہ کردیتا ہے تواسے عمل کرنے والے کے عمل کا ثواب پہنچتا ہے نہ کہ اس کا عمل ۔

لھذا منقطع ہونے والی چيز اورہے اوراس تک پہنچنے والی چيز اور اوراسی طرح دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

میت تک جوچيز پہنچتی ہے وہ اس کی نیکیاں اورعمل ہیں " لھذا یہ نفی نہیں کی جاسکتی کہ کسی دوسرے کے عمل اورنیکیاں اسے نہیں پہنچتیں ۔

دیکھیں : کتاب : الروح صفحہ نمبر ( 129 ) ۔

ت - قرض کی ادائيگي :

سلمہ بن اکوع رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گيا اورلوگ کہنے لگے اس کا نمازہ جنازہ پڑھائيں تونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اس پرقرض ہے تولوگوں نے جواب دیا نہيں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے کچھ ترکہ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نےجواب نفی میں دیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نماز جنازہ پڑھایا ۔

پھرایک اورجنازہ آیا تولوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے اس کی نماز جنازہ پڑھائيں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پرقرض ہے ؟ تولوگوں نے جواب دیا جی ہاں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ اس نے تین دینار چھوڑے ہیں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نماز جنازہ پڑھایا ۔

پھرایک تیسرا جنازہ آیا تولوگ کہنے لگے اس کی نماز جنازہ پڑھائيں تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے جواب نفی میں دیا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس پرقرض ہے ؟ تولوگ کہنے لگے تین دینار ہیں ، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی کا نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو ۔

ابو قتادہ رضي اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کا نماز جنازہ پڑھائيں اس کا قرض میرے ذمہ ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نماز جنازہ پڑھایا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2169 ) ۔

ث - اطاعت کی نذر پوری کرنا ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھینہ قبیلہ کی ایک عورت آئي اورکہنے لگی : میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن حج کرنے سے قبل ہی فوت ہو‏گئي توکیا میں اس کی جانب سے حج کروں ؟

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس کی جانب سے حج کرو ، مجھے یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پرکوئي قرض ہوتا توکیا تم اسے ادا نہ کرتی ؟ اللہ تعالی کا قرض ادا کرو کیونکہ اللہ تعالی کے ساتھ وفاکرنے کا زيادہ حق ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1754 ) ۔

ج - ابن عباس رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا تھا میں شبرمہ کی طرف جانب سے حاضر ہوں ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شبرمہ کون ہے ؟

وہ شخص کہنے لگا میرا قریبی رشتہ دار ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تونے کبھی حج کیا ہے وہ کہنے لگا نہيں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنی جانب سےکرواور پھر بعد میں شبرمہ کی جانب سے کرنا ۔

سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1811 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 2903 ) اوریہ الفاظ سنن ابن ماجہ کے ہیں ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواءالغلیل ( 4 / 171 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

ح - میت کی اولاد کے اعمال صالحہ کرنے سے میت کوفائدہ ہوتا ہے :

شیخ البانی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اولاد جوبھی اعمال صالحہ کرتی ہے اس کےوالدین کوبھی اتنا ہی اجروثواب حاصل ہوتا ہے اوراولاد کے اجروثواب میں کسی بھی قسم کی کمی نہيں ہوتی ، کیونکہ بچہ والدین کی کوشش وکمائي ہے اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورانسان کووہی کچھ حاصل ہوتا ہے جواس نےخود کوشش کی ہو } النجم ( 39 ) ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( مرد کا اپنی کمائي سےکھانا سب سے بہتراوراچھا ہے ، اوراس کا بیٹا اس کی کمائي میں سے ہے ) ابوداود ( 2 / 108 ) سنن نسائي ( 2 / 211 ) سنن ترمذی ( 2 / 287 ) امام ترمذي رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔

ابوداود میں عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث بھی اس کی شاھد ہے جسے ابن ماجہ اورامام احمد( 2 /179 – 204 - 214 ) رحمہم اللہ نے بھی حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

دیکھیں احکام الجنائز صفحہ نمبر ( 216 - 217 ) ۔

اوررہا صدقہ اورقرآن مجید کی تلاوت یعنی قرآن خوانی کا مسئلہ توصحیح بات یہی ہے کہ اس میں سے میت کوکچھ بھی نہيں پہنچتا کیونکہ اس کی کوئي دلیل نہیں ملتی ، اورجب کسی چيزکے کرنے کی کوئي دلیل نہ ہوتواصل ممانعت ہی ہوتی ہے ، لیکن بعض علماء کرام نے اس پراجماع ذکرکیا ہے کہ صدقہ میت کوپہنچتا ہے ،لیکن صحیح بات یہی ہے کہ اس مسئلہ میں علماء کرام کےمابین اختلاف پایا جاتا ہے ۔

ا - امام ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

{ اورانسان کے لیے وہی ہے جواس نے خود کوشش کی ہو } یعنی جس طرح اس پرکسی دوسرے کا بوجھ اورگناہ نہيں ڈالا جاسکتا تواسی طرح اسے اجروثواب بھی وہی حاصل ہو گا جواس نے خود کمایا ہو ، اوراس آیت سے امام شافعی رحمہ اللہ تعالی اوران کے متبعین نے یہ استنباط کیا ہے کہ :

فوت شدگان کوقرآن خوانی کا ثواب نہيں پہنچتا کیونکہ یہ ان کا اپنا عمل نہیں اور نہ ہی ان کی اپنی کوشش وکمائي ہے ، اس لیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کواس کی طرف بلایا ہے اورنہ ہی اس کی راہنمائي نہیں فرمائي اورنہ ہی ایسا کرنے پرابھارا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تواس کی کوئي نص ملتی ہے اورنہ کوئي اشارتا ہی اس کا ذکر ملتا ہے کہ ایسا کرنا صحیح ہے اورپھر صحابہ کرام میں سے بھی کسی ایک سے ایسا کرنا منقول نہيں ، لھذا اگر یہ کوئي نیکی وبھلائي ہوتی توصحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم اس میں ہم سے سبقت لےجاتے ، یا بات یادرکھنی چاہیے کہ اللہ تعالی کا تقرب انہی اشیاء کے ساتھ ہوسکتا ہے جن کا ثبوت نصوص میں پایا جائے ، اوراس میں کسی بھی قسم کی رائے اورقیاس نہیں چل سکتا ۔ دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 4 / 259 ) ۔

ب - امام شوکانی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اس باب کی احادیث اس پردلالت کرتی ہیں کہ والد کی موت کے بعد بغیر کسی وصیت کے اولاد کی جانب سے کیا ہوا صدقہ وخیرات کا ثواب والدین کوپہنچتا ہے ، لھذا اللہ تعالی کے فرمان { اورانسان کے لیے وہی کچھ ہے جواس نے خود کوشش کی ہے } النجم ( 39 ) کے عموم کواحادیث خاص کردیتی ہیں ۔

لیکن اس باب کی احادیث میں اولاد کی جانب سےکیے گئے صدقہ وخیرات کےعلاوہ کوئي اورچيز نہیں پہنچتی ، اورپھر حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ اولاد انسان کی اپنی کمائي اورکوشش ہے ، لھذا تخصیص کے دعوی کی بھی کوئي ضرورت نہيں رہ جاتی ۔

اوررہا مسئلہ اولاد کے علاوہ دوسروں کا توقرآن مجید کے عموم سے یہ ظاہر ہے کہ اس کا ثواب میت کونہیں پہنچتا لھذا اسی پر توقف اختیار کرنا ہوگا حتی کہ اس کی تخصیص کے لیے کوئي دلیل مل جائے ۔

دیکھیں : نیل الاوطار للشوکانی ( 4 / 142 ) ۔

ج - اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں:

سلف رحمہم اللہ کی یہ عادت نہیں تھی کہ جب وہ نفلی نماز پڑھتے یا نفی روزہ رکھتے یا نفلی حج کرتے یا پھر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تواس کا ثواب مسلمان فوت شدگان کوھدیہ کردیتے ، لھذا سلف رحمہم اللہ تعالی کے راستہ اورطریقے علیحدہ کوئي اورراستہ اختیار کرنا صحیح نہیں کیونکہ ان کا طریقہ ہی افضل اوراکمل ہے ۔

دیکھیں : الاختیارات العلمیۃ صفحہ نمبر ( 54 ) ۔

اورشیخ الاسلام رحمہ اللہ کا ایک اورقول بھی ہے جوپہلے قول کے مخالف ہے اورابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس کی موافقت کی ہے لیکن شیخ محمد رشید رضا نے تفسیر المنار میں ان دونوں کا رد کیا ہے ۔ دیکھیں تفسیر المنار ( 8 / 254 - 270 ) ۔

اورلجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی سعودی عرب ) کا فتوی ہے :

سوال نمبر 3

کیا قرآن خوانی اورقرب والی دوسری اشیاء کا ثواب فوت شدگان کوپہنچتا ہے ؟ چاہے وہ میت کی اولاد ہویا اولاد کےعلاوہ کوئي اور؟

جواب :

ہمارے علم کے مطابق تونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن خوانی کرکے اپنے فوت شدہ رشتہ داروں یا کسی اورکو بخشا ہو ، اوراگر فوت شدگان تک ثواب پہنچتا ہوتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حرص کرتے اوراپنی امت کی بھی اس کی طرف راہنمائی کرتے تا کہ ان کے فوت شدگان نفع حاصل کرتے ، اس لیے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تومومنوں کے ساتھ بہت ہی شفقت ورحم کرنے والے ہیں ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین اورباقی سب صحابہ کرام بھی آپ کے طریقہ پرچلتےرہے ، ہمیں توعلم نہيں کہ صحابہ کرام میں سے بھی کسی ایک نے قرآن خوانی کرکے اس کا ثواب کسی کوبخشا ہو ، اورخير وبھلائي توصرف اورصرف نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفاء راشدین اوردوسرے صحابہ کرام کی اتباع میں ہے ، اوربدعات اورنئے نئے کاموں کی اتباع میں شرہی شر ہے ، اورپھر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تواس سے بچنے کا کہا ہے :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( تم نئے نئے کام کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ ہرنیا کام بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے ) ۔

اورایک حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ( جس نے بھی ہمارے اس معاملہ ( دین ) میں ایسا کام ایجاد کیا جواس میں سے نہیں تووہ مردود ہے ) ۔

لھذا اس بنا پر میت کے لیے قرآن خوانی کرنا جائز نہیں اورنہ ہی اس قرآن خوانی کا ثواب بخشا جاسکتا ہے بلکہ ایسا کرنا بدعت ہے ۔

اوررہا مسئلہ باقی تقرب والی اشیاء کا : توجس چیزکا ثواب میت کوپہنچنے کی صحیح دلیل پائي جائے اس کا قبول کرنا واجب ہے مثلا میت کی جانب سے صدقہ وخیرات اوراس کے لیے دعا کرنا ، اورمیت کی جانب سے حج کرنا ، لیکن جس چيز کی دلیل نہيں پائي جاتی وہ اس وقت تک غیر مشروع ہی رہے گی جب تک اس کی دلیل نہ مل جائے ۔

تواس بنا پر علماء کرام کا صحیح قول یہی ہے کہ میت کے لیے قرآنی خوانی صحیح جائز نہيں اورنہ ہی میت کوقرآن خوانی کا ثواب ہی پہنچتا ہے ، بلکہ ایسا کرنا بدعت ہے ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اوروہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اوران کے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء فتوی نمبر ( 2232 ) ۔

میں کہتا ہوں کہ : صدقہ کے بارہ میں اوپر کلام ہوچکی ہے ، اوراس کے بارہ میں وارد شدہ احاديث میں عام لوگ شامل نہیں ہوتے بلکہ یہ احادیث صرف اورصرف میت کی اولاد کےلیے خاص ہيں ۔

اورسوال میں وارد طواف کے بارہ میں گزارش یہ ہے کہ : نفلی طواف کرکے اس کا ثواب میت کوبخشنا مشروع نہيں کیونکہ اس کی دلیل نہيں پائي جاتی ، لیکن اگر عمرہ اورحج کا طواف ہو تویہ حج اورعمرہ میں شامل اورجائز ہے ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذیل سوال کیاگيا :

میں بعض اوقات اپنے کسی فوت شدہ رشتہ داریا اپنے والدین اورباپ دادوں کے لیے کرتا ہوں اس کاحکم کیا ہوگا ؟

اوران فوت شدگان کے لیے ختم قرآن کا حکم کیا ہے ؟ اللہ تعالی آپ کوجزائے خیر عطا فرمائے ۔

شیخ رحمہ اللہ تعالی نے جواب دیا :

افضل اوراعلی تویہ ہے کہ اسے ترک کردیا جائے کیونکہ اس کی کوئي دلیل نہیں ملتی ، ۔۔ ۔۔ ان کی جانب سے نماز ، طواف ، اوران کے لیے قرآن خوانی کرنا بھی ترک کرنا ہی افضل ہے کیونکہ اس کی کوئي دلیل نہيں ملتی ۔

اوربعض اہل علم نے صدقہ اوردعا پرقیاس کرتےہوئے اس کی اجازت دی ہے ، لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ اسے نہ کیا جائے ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

دیکھیں : فتاوی ابن باز ( 8 / 344 - 345 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments