9607: دین کےضا بطےاوراصول :؟


دین صحیح کی صفات کیا ہے ۔؟

Published Date: 2004-02-25

الحمدللہ

ہرمسلک اورمذہب پرچلنے والایہ اعتقادرکھتا ہے کہ اس کامسلک اورمذہب ہی حق پر ہے اورہردین کے پیروکارکابھی یہی اعتقادہے کہ ان کادین ہی مثالی اورمنہج زیادہ صحیح ہےاور جب آپ تحریف شدہ ادیان اوربشری قوانین کےپیروکاروں سےسوال کریں گےکہ ان کےاس اعتقادکی دلیل کیاہےتووہ یہ دلیل بناتےہیں کہ انہوں نے اپنے آباواجدادکواسی طریقےپرپایاتووہ بھی ان کےطریقےپرچل رہے ہیں ۔

اورپھروہ ایسی حکا یتیں اورخبریں بیان کریں گے جن کی کوئی سندبھی صحیح نہیں اورنہ ہی ان کا متن علتوں اور جرح وقدح سے خالی ہو گااوروہ ایسی کتابوں پراعتمادکرتے ہیں جو کہ انہیں وراثت میں ملیں ہیں وہ نہ توان کےلکھنےوالےاورنہ ہی اس کے کہنے والے کوجانتے ہیں اورنہ ہی انہیں اس بات کاعلم ہے کہ یہ کتاب پہلی دفعہ کس زبان میں لکھی گئی اورکس شہرمیں پائی گئی ۔

یہ توساری ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے جوکہ جمع کردی گئی اوراسے تعظیم دےدی گئی توبغیرکسی علمی تحقیق کے جوکہ سندکولکھے اورمتن کوضبط کرےنسل درنسل سےواراثت میں آنے لگی ۔

اورمجہول قسم کی کتابیں اورحکایات اوراندھی تقلیدادیان اورعقائد کے موضوع میں دلیل اورحجت نہیں بن سکتیں ، توکیایہ سب کے سب تحریف شدہ ادیان اوربشری اورانسانی مذاہب صحیح ہیں یا کہ باطل ۔؟

یہ تومستحیل ہے کہ سب کے سب حق اور صحیح ہوں کیونکہ حق توایک ہوتاہے کئی ایک نہیں ہوسکتے ، اورپھریہ بھی مستحیل ہے کہ یہ سب کے سب تحریف شدہ ادیان اورانسانی مذاھب اللہ تعالی کی طرف سے اورحق ہوں ۔جب یہ کئی ایک ہیں ۔ اورحق توایک ہے ۔ توپھر حق کونساہے ؟ اس کےلئے ضروری ہے کہ کچھ ضا بطےاوراصول ہوں جن کے ذریعے دین حق اورباطل کی پہچان کی جاسکے اورجب یہ اصول اورضابطےکسی بھی دین پرفٹ ہوں تووہ دین ہی حق ہوگااوراگریہ ضابطےیاان میں سےایک ضابطہ بھی کسی دین پرفٹ نہ ہوتو ہمیں علم ہوگایہ دین باطل ہے ۔

وہ ضابطےجن سے دین حق اورباطل کے درمیان تمیزاورفرق کیاجاسکتا ہے ۔

اول : یہ کہ وہ دین اللہ تعالی کی طرف سےہوجسےاللہ تعالی فرشتوں میں سےکسی ایک فرشتےکےذریعے اپنے رسولوں میں سےکسی ایک رسول پرنازل فرمایاہوتا کہ وہ اس دین کی تبلیغ اللہ تعالی کے بندوں کوکرے ۔

اس لۓ کہ دین حق وہ ہے جو کہ اللہ تعالی کادین ہواوراللہ تعالی ہی مخلوق کوقیامت کےدن اس دین پرعمل کرنے کی وجہ سے جوکہ اس نے ان کی طرف نازل فرمایاہے اجروثواب دے گا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ بیشک ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح کہ نوح ( علیہ السلام ) اوران کے بعد والے انبیاء کی طرف کی اورہم نے ابراہیم اوراسماعیل اوراسحاق اوریعقوب اوران کی اولاد اور عیسی اورایوب اوریونس اورہارون اورسلیمان ( علیہم السلام ) کی طرف وحی کی اورہم نے داود ( علیہ السلام ) کوزبورعطافرمائی } ۔النساء ۔/(163)

{ اورہم نے آپ سے پہلے جوبھی رسول مبعوث کیااس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے علاوہ کوئی معبودبرحق نہیں توتم میری ہی عبادت کرو }

تواس بناپرجوکوئی بھی کسی دین کا دعوی کرے اوراسکی نسبت اللہ تعالی کی بجائے اپنی طرف کرتاہے تووہ دین باطل ہے حق نہیں ۔

دوم : یہ کہ وہ دین اللہ تعالی کی توحید کی دعوت دےاور شرک اورشرک کی طرف لے جانے والے وسائل واعمال کی تحریم کر تاہو ۔

اس لئےکہ توحید کی دعوت ہی سب انبیاء اوررسولوں کی دعوت کی اساس اوربنیاد ہے اورہر نبی نے اپنی قوم کویہ فرمایا :

{ اللہ تعالی کی عبادت کروتمہارےلۓاس کےعلاوہ کوئی اورمعبودب حق نہیں } ۔الاعراف ۔/(73)

تواس بناپر جودین بھی شرک پرمشتمل ہواوراللہ تعالی کے ساتھ کسی غیرچاہےوہ نبی ہویا کہ فرشتے اورولی کوشریک کرےتووہ دین باطل ہے اگرچہ اس دین والے اسے کسی نبی کی طرف ہی منسوب کیوں نہ کریں ۔

سوم : یہ کہ وہ دین ان اصولوں کے ساتھ متفق ہوجن کی طرف رسولوں نے دعوت دی ہے یعنی اللہ وحدہ کی عبادت اوراس کے راستے کی دعوت اوراسی طرح شرک کی حرمت اوروالدین کی نافرمانی اورکسی کوناحق قتل کرنااورظاہری اورباطنی طور پرفحاشی کےکام کرنےکی تحریم ۔

اللہ عزوجل کاارشادہے :

{ اورہم نے آپ سے پہلے جوبھی رسول مبعوث کیا اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں توتم میری ہی عبادت کرو }

اوراللہ تبارکوتعالی کاارشادہے :

{ آپ کہہ دیجۓکہ آؤمیں تم کووہ چیزیں پڑھ کرسناؤں جن کوتمہارے رب نےتم پرحرام فرمادیاہے وہ یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کوشریک مت ٹھراؤاورماں باپ کےساتھ احسان کرواوراپنی اولاد کوافلاس اورفقرکےڈرسےقتل نہ کروہم تمہیں بھی رزق دیتےہیں اوران کوبھی اوربےحیائی اورفحاشی کے جتنے بھی طریقےہیں ان کے قریب مت جاؤخواہ وہ اعلانیہ ہوں یا کہ پوشیدہ اورجس کےقتل کواللہ تعالی نے حرام کردیا ہے اسے قتل نہ کروہاں مگرحق کے ساتھ ان کاتمہیں تا کیدی طور پرحکم دیا ہے تا کہ تم سمجھو } ۔الانعام ۔/(151)

فرمان باری تعالی ہے :

{ اورہمارے ان نبیوں سے پوچھوجنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجاتھا کہ کیاہم نے رحمن کےعلاوہ اورکوئی معبود مقررکۓتھے جن کی عبادت کی جا‏ئے ؟ } ۔الزخرف ۔/(45)

چہارم : یہ کہ وہ دین اوراسکے احکام آپس میں ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں اورنہ ہی ان میں تناقض ہو ۔ یہ نہ ہوکہ پہلےایک حکم دےاور پھراسے اس کےمخالف حکم سےتوڑدےاورکسی چیزکوحرام کرنےکےبعداس جیسی کسی اورچیزکوبغیرکسی علت کے جائزقراردے اورکسی چیزکوایک فرقہ اورگروپ کے لۓ حرام کرےاوردوسرےکےلۓجائز ۔

اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے :

{ کیایہ لوگ قرآن میں غوروفکراورتدبرنہیں کرتے ؟ اگریہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکی طرف سےہوتاتویقینااس میں بہت کچھ اختلاف پاتے } ۔النساء ۔/ (82)

پنجم : یہ کہ وہ دین ان اموراوراحکام پرمشتمل ہوجوکہ لوگوں کےدین اورانکی عزت وآبرو اوران کے مال وجان اورانکی اولادکی حفاظت کریں اورایسےاخلاق اورامرونہی اورتنبیہات مشروع کرےجوکہ ان پانچ کلیوں کی حفاظت کرسکیں ۔

ششم : یہ کہ وہ دین مخلوق کےلۓرحمت ہو ۔

یہ نہ ہوکہ وہ اس سےاپنےنفسوں پرظلم کرنے لگیں یاپھرایک دوسرے پرچاہےیہ ظلم حق چھین کر ہو یا خیراور بھلا ئی والی چیزوں کے استبداد سے یا پھر بڑوں کا چھوٹوں کوگمراہ کر نا ۔

موسی علیہ السلام پراتاری جانےوالی تورات میں جورحمت پرمشتمل تھی اس کابیان کرتے ہوئےاللہ تعالی نےفرمایاہے :

{ اورجب موسی ( علیہ السلام ) کاغصہ ختم ہواتوان تختیوں کواٹھالیاجن میں اوران کے مضامین میں ان لوگوں کےلۓجواپنےرب سےڈرتےہیں رحمت اورہدایت تھی }۔الاعراف ۔/(154)

اوراللہ سبحانہ وتعالی عیسی علیہ السلام کی بعثت کےبارہ میں فرمایاہے :

{ تا کہ ہم اسےلوگوں کے لۓایک نشانی اوراپنی خاص رحمت بنائیں } ۔مریم ۔/(21)

اوراللہ سبحانہ وتعالی نے صالح علیہ السلام کےبارہ میں فرمایا :

{ وہ کہنے لگےاےمیری قوم کےلوگوذرایہ توبتاؤاگرمیں اپنےرب کی طرف سےکسی مضبوط اور پکی دلیل پرہوااوراس نےمجھےاپنی خاص رحمت سےنوازاہو } ۔ھود ۔/(63)

اوراللہ عزوجل نےقرآن مجیدکےمتعلق فرمایاہے :

{ اوریہ قرآن جوکہ ہم نازل کررہےہیں مومنوں کےلۓتوسراسررحمت اورشفاہے } ۔الاسراء ۔/(82)

ہفتم : وہ دین مکارم اخلاق اوراچھے کاموں کی دعوت دے ۔

مثلا : عدول انصاف اورسچائی وامانت اورشرم وحیاء اورعفت اورسخاوت وکرم وغیرہ اوربرے کاموں میں سےروکے ۔

مثلا : والدین کی نافرمانی اورکسی کوقتل کرنااورفحاشی اوربے حیائی کےکاموں کی تحریم اورجھوٹ وظلم وبغاوت اورفسق وفجوراوربخل وغیرہ ۔

نہم : جواس دین پرایمان لائےوہ اسےسعادت مندی سےبہرہ ورکرے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کاارشادہے :

{ طہ۔ ہم نےیہ قرآن آپ پراس ليےنازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں }۔طہ۔/(1۔2)

اوروہ دین فطرت سلیمہ کےساتھ متفق ہو ۔

اللہ عزوجل کاارشادہے :

{ اللہ تعالی کی وہ فطرت جس پراللہ تعالی نے لوگوں کو پیدا فرمایاہے }۔الروم۔/(30)

اوروہ دین عقل سلیم اورصحیح کےساتھ بھی متفق ہوکیونکہ دین صحیح اللہ تعالی کادین اورعقل سلیم اللہ تعالی کی مخلوق ہے تویہ ناممکن اورمحال ہے کہ اللہ تعالی کی شرع اورمخلوق کامیں تناقض ہو ۔

دہم : یہ کہ وہ دین حق پرلالت کرتااورباطل سےبچنےکا کہتاہواورہدایت کی طرف راہنمائی کرتا اورگمراہی اورضلال سےنفرت دلائےاورلوگوں کوصراط مستقیم کی طرف بلائےجس میں کوئی ٹیڑھاپن اوراونچ نیچ نہ ہو ۔

اللہ تعالی نےان جنوں کے متعلق خبردیتے ہوئےفرمایاہے جنہوں نے قرآن کوسناتوایک دوسرےکوکہنے لگے :

{ اے ہماری قوم ہم نےیقیناوہ سنی ہے جوموسی (علیہ السلام ) کےبعدنازل کی گئی اوراپنےسے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنےوالی ہے جوسچے دین اوراورصراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے }۔الاحقاف ۔/(30)

اوروہ دین انہیں اس چیزکی دعوت نہ دے جس میں ان کی شقاوت وبدبختی ہو ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کاارشاد ہے :

{ طہ۔ ہم نےیہ قرآن آپ پراس ليےنازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں }۔طہ۔/(1۔2)

اورنہ انہیں اس چیزکاحکم دے جس میں ان کی ہلا کت وتباہی ہو ۔

اللہ تبارک وتعالی کاارشاد ہے :

{ اوراپنےآپ کوقتل نہ کرویقینااللہ تعالی تم پربہت ہی زیادہ مہربان ہے } ۔النساء

۔/(29)

اوردین اپنے پیروکاروں اورمتبعین میں رنگ ونسل اورجنس وقبیلہ کاامتیازنہ برتےاورنہ ہی ان میں اس لحاظ سےفرق کرے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ اےلوگو؛ ہم نےتم سب کوایک ہی مردوعورت سے پیداکیاہےاورتمہارے کنبے اور قبیلےبنادیۓتا کہ تم ایک دوسرےکوپہچانوبیشک اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سےباعزت وہ ہے جوسب سے زیادہ تقوی اختیارکرنے والااورڈرنےوالاہے بیشک اللہ تعالی یقینی طور پرعلم رکھنے والااورخبردارہے } ۔الحجرات ۔/(13)

تودین حق میں مراتب کے لئےجوچیزمعتبراورمعیار ہےوہ اللہ تعالی کاتقوی اورڈرہے ۔ .

محمدبن عبداللہ بن صالح السحیم کی کتاب اسلام کےاصول اوراسکی مبادیات ( الاسلام اصولہ ومبادئہ ) سےلیاگیاہے ۔
Create Comments