98424: جانوروں كى شكلوں ميں مصنوعات ختم كر كے ان سے نفع حاصل كرنا


ماربل كے بنے ہوئے كچھ جانوروں كے مجسمے فروخت كرنے كا كام كيا، ليكن بعد ميں علم ہوا كہ يہ حرام ہے، اب ميں اس كام كو ترك كرنا چاہتا ہوں، تو كيا براہ كرم آپ مجھے يہ بتا سكتے ہيں كہ ميرے پاس ماربل كے بنے ہوئے جو جانور ہيں كيا ميں انہيں توڑ دوں يا اسے كسى اور شكل ميں ڈھال لوں، يا پھر كہيں دور كسى جگہ ركھ دوں ؟

Published Date: 2008-10-22

الحمد للہ:

ذى روح كى اشكال ميں كوئى بھى چيز بنانا جائز نہيں، چاہے وہ پرندے كى شكل ہو يا جانور يا انسان كى، كيونكہ اس ميں بہت شديد وعيد آئى ہے.

مثلا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا ان تصاوير بنانے والوں كو روز قيامت عذاب ديا جائيگا اور انہيں كہا جائيگا كہ جو تم نے بنايا تھا انہيں زند كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7557 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 210 ).

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان اس طرح ہے:

" بلا شبہ روز قيامت سے زيادہ شديد عذاب مصوروں كو ہو گا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5950 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2109 ).

اس ليے جس كسى كے پاس كوئى ايسى كريد كر بنائى ہوئى چيز ہو جو ذى روح كى شكل ميں ہو اور قيمتى ہو مثلا تانبے يا برونز يا ماربل كى ہو تو وہ اسے تلف نہ كرے، بلكہ اسے ڈھال كر اس سے فائدہ حاصل كر لے.

اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميرے پاس جبريل آئے اور فرمايا:

ميں كل رات آيا تو ميں گھر ميں اس ليے داخل نہ ہوا كہ گھر كے دروازے پر تصاوير اور مجسمے تھے، اور گھر ميں ايك پردہ ايسا تھا جس ميں تصاوير تھيں، اور گھر ميں ايك كتا تھا، اس ليے آپ حكم ديں كہ گھر كے دروازے پر پردہ كى تصاوير كے سر كاٹ ديے جائيں تو وہ درخت كى شكل بن جائينگے.

اور پردہ كے بارہ ميں حكم ديں اس سے دو تكيہ بنا ليے جائيں جن پر بيٹھا جائے اور انہيں روندا جائے، اور كتے كو نكالنے كا حكم ديں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا ہى كيا، وہ كتے كا بچہ تھا جسے حسن يا حسين رضى اللہ تعالى عنہما كا پلا تھے جو ميز كے نيچے گھسا ہوا تھا، جسے نبى صلى اللہ وسلم نے باہر نكالنے كا حكم ديا تو وہ باہر نكال ديا گيا"

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4158 )، سنن ترمذى حديث نمبر ( 2806 ) وغيرہ نے روايت كيا ہے، علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

علامہ الباني شرح السنۃ ميں كہتے ہيں:

" اس ميں دليل ہے كہ اگر تصاوير كى شكل و ہيئت تبديل كر دي جائے مثلا اس كا سر كاٹ ديا جائے، يا اس كے اعضاء تحليل كر دے جائيں حتى كہ صرف تصاوير كے مشابہ ہو اور اس ميں شكل نظر نہ آتى ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور اس كى دليل ہے كہ اگر تصوير والى جگہ توڑ دى جائے حتى كہ اس كے اعضاء توڑ ديے جائيں تو اس كا استعمال جائز ہے " انتہى.

اسے شيخ مباركپورى نے تحفۃ الاحوذى ميں نقل كيا ہے.

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

اگر تصاويرى كسى ايسى چيز ميں ہوں جس سے فائدہ اٹھايا جا سكتا ہے تو اس كا كيا جائے ؟

جواب:

" اس تصوير كو حرام ہيئت و شكل سے نكالنا ضرورى ہے يعنى اسے ايسى شكل ميں كر ديا جائے جو حرام نہ ہو، اسے بالكل ضائع كرنا لازم نہيں " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 12 / 125 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments