99363: نيچے پہننے والے لباس ( زير جامہ ) كى پيكنگ پر ننكى تصاوير


ميں ليڈيز ريڈى ميڈ گارمنٹس كى دوكان كا مالك ہوں، لباس كے نيچے پہننے والے اندرونى ( زير جامہ ) لباس كى پيكنگ پر ننگى عورتوں كى تصاوير ہيں، يہ علم ميں رہے كہ اگر ميں نے يہ تصاوير اتار ديں تو كچھ خريدار اسے پرانا مال گمان كرينگے، اس ليے مجھے كيا كرنا چاہيے، يہ علم ميں ركھيں كہ اگر ميں ان تصاوير كے چہرے مٹا دوں تو پھر بھى كوئى فائد نہيں كيونكہ باقى سارا جسم تقريبا ننگا ہے.
اور ميں آپ كے علم ميں يہ بھى لانا چاہتا ہوں كہ يہ دوكان اسلامى اور شرعى لباس كى ہے، يہاں اسلامى لباس ہى فروخت ہوتا ہے، اور اس ميں ايك قسم عورتوں كے ليے مخصوص ہے، كہ اگر كوئى دين كا التزام كرنے والى عورت يہاں آئے ميں خاص كر مكمل پردہ كرنے والى اور چہرے كا نقاب پہننے والى عورتوں كى بات كر رہا ہوں تو وہ اپنى ضرورت كى ہر چيز اس دوكان ميں حاصل كر سكتى ہے، اور اسے كسى اور دوكان ميں جانے كى ضرورت نہيں جہاں مرد و عورت كا اختلاط ہو، اور ميرے پاس عورتوں والى اس قسم ميں دين كا التزام كرنے والى ايك عورت ہى ملازمہ ہے، وہى يہ اشياء عورتوں كو فروخت كرتى ہے، ميں يہ اشياء عورتوں كو فروخت نہيں كرتا، الحمد للہ ميں بھى دين كا التزام كرتا ہوں.

Published Date: 2008-08-16

الحمد للہ:

لباس كى پيكنگ اور كاٹن اور ڈبے وغيرہ پر موجود تصاوير وہ ہيں جس سے بالذات تصاوير مقصود نہيں، بلكہ يہ مباح اور جائز سامان كے تابع ہيں، ان كے باقى ركھنے ميں كوئى حرج نہيں، اور اگر بغير كسى حرج كے انہيں اتارنا يا مٹانا ممكن ہو تو يہ اولى اور بہتر ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ڈبوں اور ميگزين اور اخبارات ميں موجود تصاوير كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" ..... ڈبوں اور ميگزين اور اخبارات ميں پائى جانے والى تصاوير كے متعلق گزارش يہ ہے كہ جس سے بچنا اور اجتناب كرنا ممكن ہو تو ورع اور تقوى يہى ہے كہ اس سے اجتناب كيا جائے، اور اسے چھوڑ ديا جائے، اور جس سے نہيں بچا سكتا اور اجتناب ممكن نہيں، اور اس ميں تصاوير مقصود نہ ہوں، تو ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اس سے حرمت درج ذيل شرعى قاعدہ اور اصول كے تحت اٹھ جاتى ہے:

{ اللہ تعالى نے تم پر دين ميں كوئى تنگى نہيں بنائى }.

اور مشقت آسانى كو لاتى ہے، اس ليے مشقت سے دور رہنا بہتر ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 2 / 260 ).

اور شيخ رحمہ اللہ يہ بھى كہتے ہيں:

" چوتھى قسم:

ايسى تصاوير ركھے جس ميں اسے مطلقا كوئى رغبت تك نہ ہو ليكن وہ تصاوير كسى دوسرى چيز كے تابع ہو كر آتى ہوں، مثلا وہ تصاوير جو اخبارات اور ميگزين وغيرہ ميں ہوتى ہيں اخبار اور ميگزين ركھنے والے كا مقصد تصاوير نہيں ہوتا، بلكہ اس كا مقصد تو ان اخبارات اور ميگزين ميں موجود خبريں اور كالم اور علمى سرچ وغيرہ ہوتى ہے.

تو ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اس ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ ان ميں تصاوير غير مقصود ہيں، ليكن اگر بغير كسى حرج اور مشقت كے انہيں مٹايا جا سكتا ہو تو يہ اولى اور بہتر ہے " انتہى.

ماخوذ از: شرح كتاب التوحيد باب ما جاء في المصورين.

اس ليے ہم آپ كو اس سلسلہ ميں يعنى تصاوير كے متعلق چند ايك امور كى نصيحت كرتے ہيں:

1 - ان ميں سے كچھ تصاوير تو ايك ورق پر بنى ہوتى ہيں جو ڈبے ميں ركھا ہوتا ہے، تو اس طرح كى تصاوير كو اگر ختم كرنا ممكن ہو چاہے وہ تصوير والا كاغذ نكال كر اس كى دوبارہ پيكنگ كر دى جائے تو يہ زيادہ بہتر ہے.

2 - اگر تصاوير بالكل چھوٹى ہوں اور بغير كسى نقصان و ضرر كے انہيں مٹانا ممكن ہو تو آپ انہيں مٹا ديں.

3 - اگر يہ سب كچھ كرنا ممكن نہ ہو تو پھر آپ اس پيكنگ كے اوپر كوئى اور اسٹكر لگا كر اس تصوير كو چھپا سكتے ہيں، يا پھر جسم كے پرفتن اعضا كو چھپانے كے ليے اوپر اسٹكر چسپاں كر ديں، كہ گاہك كو علم ہو جائے كہ ايسا عمدا اور جان بوجھ كر تصوير چھپانے كے ليے كيا گيا ہے، كيونكہ يہ تصوير ننگى تھى، اور مال كو كچھ نہيں اور جو خريدارى نہيں كرنا چاہتا، يا پھر اگر وہ تصوير ديكھنا چاہتا تھا تو پھر وہ اس ننگى تصوير كو نہيں ديكھ سكےگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments