ar

99809: بيوى تھجد ادا كرتى ليكن فرائض ميں كوتاہى كرتى ہے! اور اس كى حالت اور برى ہو چكى ہے خاوند اس كے ساتھ كيا سلوك كرے ؟


ميں جوان ہوں اور تقريبا اڑھائى برس قبل شادى كى ہے الحمد للہ ہمارى شادى كے ابتدائى ايام ميں ہزار خير پائى جاتى تھى، اور ہم كتاب اللہ اور رياض الصالحين پر جمع تھے اور سوموار اور جمعرات كا روزہ بھى ركھتے، ليكن ـ جيسا كہ ضرب المثل ہے ـ كہ حالت ايك طرح كى رہنى محال ہے، ہمارى شادى كے تين ماہ ہى گزرے تھے كہ اس بيوى كى حالت تبديل ہوگى.
يہ انكشاف ہوا كہ يہ عورت تو ان عورتوں ميں شمار ہوتى ہے جو نمازيں بروقت ادا نہيں كرتيں، اور بعض اوقات تو اكثر نمازيں ايك ہى وقت جمع كر كے ادا كرتى ہے، حالانكہ بعض اوقات تو ميرى بيوى تھجد بھى ادا كرنے كا اہتمام كرتى ہے، اور رات كو بيدار رہنے كا اسے عشق ہے، جس كى بنا پر سارا دن سوئى رہتى ہے.
گھر ميں ڈش نہيں تھى تو بيوى كے مطالبہ پر تقريبا چھ ماہ قبل ميں نے ڈش چينل كا اضافہ كرديا، اس پر مستزاد يہ كہ اس كے نزديك خاوند كى كوئى اہميت نہيں وہ اس كا اہتمام نہيں كرتى، اكثر طور پر ہم بسترى سے انكار كرتى ہے، اور اس سلسلہ ميں كثرت سے كر ليں كر ليں گے كہتى رہتى ہے.
حالانكہ اسے علم ہے كہ خاوند اسے اس كى سزا كا بھى علم ہے؛ اور پھر اس كے پاس اسلامى علوم ميں بى اے كى ڈگرى بھى ہے!! اور جب ميں اس سے ناراض ہوتا ہوں تو پھر بھى اس پر كوئى اثر نہيں ہوتاگويا كہ يہ چيز تو اس كے ليے عام حيثيت ركھتى ہے، كتنى بار اسے بستر پر الگ چھوڑا ہے ليكن اس پر كوئى اثر ہى نہيں.
اور كئى بار تو دوسرے لوگوں نے اس كى اصلاح كے ليے دخل اندازى كى ہے ليكن افسوس كہ اس كى حالت پہلے سے بھى خراب ہوئى ہے، اس پر مستزاد يہ كہ اس ميں دائمى عناد پايا جاتا ہے، وہ بڑى شدت سے اس پر قائم ہے چاہے غلطى پر ہى ہو، اس كے ہاں تو معذرت كا اسلوب پايا ہى نہيں جاتا كہ وہ كبھى معذرت بھى كر سكتى ہے، برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟

Published Date: 2011-12-31

الحمد للہ:

اول:

اے خاوند آپ پر واجب ہے كہ آپ اپنى اس بيوى كو سمجھائيں اور اسے اللہ كى ياد دلائيں، اور خاص كر نماز كے مسئلہ ميں، يہ ضرورى ہے كہ آپ كو علم ہو كہ جان بوجھ كر ايك نماز ترك كرنے والا حتى كہ نماز كا وقت ہى نكل جائے تو اس كے كافر ہونے ميں علماء كرام كا اختلاف ہے.

سلف اور خلف علماء كرام ميں سے كچھ نے اسے كافر قرار ديا ہے، بلكہ بعض علماء نے تو سلف رحمہ اللہ كا اس كے كافر ہونے پر اجماع نقل كيا ہے، تو پھر يہ عورت كس طرح راضى ہوتى ہے كہ وہ اپنے آپ كو ايسى حالت ميں ركھے جس ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے.

اور اسى طرح ہم اس كے نمازوں كو وقت پر ادا نہ كرنے اور ان ميں كوتاہى كرنے كى حالت ميں كہيں گے، لہذا اس طرح كى عورت كو ہدايت و راہنمائى دينے ميں اسباب صرف كرنے كے بعد بھى راہ راست پر نہ آئے تو عقد زوجيت ميں ركھا جائز نہيں.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نہ تو فجر كى نماز باجماعت ادا كرتا ہے، اور نہ ہى اكيلا نماز ادا كرتا ہے، اور باقى نمازيں بھى اپنى مرضى كے مطابق ادا كرتا ہے، كيا اسے كافر شمار كيا جائيگا يا نہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے ـ جو شخص بغير كسى عذر كے ايك نماز ترك كر دے حتى كہ نماز كا وقت ہى جاتا رہے ـ بعض علماء نے اسے كافر قرار ديا ہے، اور بعض سلف رحمہ اللہ كا قول يہى ہے، اور بعض خلف علماء بھى يہى كہتے ہيں، اور وقت حاضر ميں ہمارے شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كى رائے يہ ہے كہ:

اگر كوئى شخص بغير عذر كے نماز ترك كردے حتى كہ نماز كا وقت ہى نكل جائے تو وہ كافر ہے، ليكن ميرى رائے يہ ہے كہ اسے اسى وقت كافر قرار ديا جائيگا جب وہ بالكل نماز ترك كريگا، اور جو شخص نماز كى فرضيت كا اقرار كرنے كے ساتھ ساتھ كبھى نماز ادا كرے اور كبھى ترك كر دے تو اسے كافر قرار نہيں ديا جائيگا.

ليكن وہ اللہ كے بندوں ميں سب سے زيادہ فاسق شمار ہو گا.... چنانچہ اس كا گناہ زناكارى اور شراب نوشى اور قتل سے بھى زيادہ بڑا ہے... "

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 168 ) سوال نمبر ( 6 ).

اس بيوى كو يہ معلوم ہونا چاہيے كہ نماز بروقت ادا نہ كرنا كبيرہ گناہ شمار ہوتا ہے، اور وہ نمازيں جو وقت كے بعد ادا كى جائيں تو وہ نمازيں قبول نہيں، ان كا ادا كرنا يا نہ كرنا برابر ہے، اے خاوند اس ليے آپ پر واجب ہے كہ آپ اپنى بيوى پر اس معاملہ ميں سختى كريں، يا تو نماز كى بروقت پابندى كرائيں يا پھر اس بيوى كو چھوڑ ديں اور عليحدگى اختيار كريں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميرى شادى ميرے ماموں كى بيٹى سے ہوئى ہے، اور اس سے ميرا ايك بچہ بھى ہے، وہ نہ تو نماز ادا كرتى ہے اور نہ ہى رمضان المبارك كے روزے ركھتى ہے، مجھے خدشہ ہے كہ كہيں اس كا گناہ ميرے ذمہ نہ ہو، ميں اس معاملہ سے بہت پريشان ہوں، برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" ماضى ميں آپ كى بيوى نماز ترك كرتى اور روزے نہيں ركھتى تھى اور اس عرصہ ميں آپ كا اس سے معاشرت كرنا گناہ كا باعث ہے، اور آپ نے اسے نصيحت كرنے كى بھى كوشش نہيں كى، اور نہ ہى اس كے ساتھ اپنے معاملہ ميں دور انديشى اختيار كى.

ليكن آج بھى اگر معاملہ ايسا ہى ہے كہ وہ نماز روزہ ترك كرتى ہے تو پھر آپ اس كے نماز روزے اور دوسرے دينى فرائض كى پابندى كرانے كى كوشش كريں، اور اس ميں اللہ سبحانہ و تعالى سے مدد و معاونت حاصل كريں، اور پھر اپنے اور اس كے زندہ والدين اور رشتہ داروں سے تعاون حاصل كريں كہ وہ اسے نصيحت كريں.

اگر تو وہ اطاعت كرلے اور اللہ كے ہاں توبہ و رجوع كر لے اور نماز ادا كرنے لگے تو الحمد للہ، آپ اس كے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوك كريں، اور اگر وہ ترك نماز اور روزے ترك كرنے پر مصر ہو تو آپ اسے طلاق دے ديں، يہ ياد ركھيں كہ اللہ كے پاس جو كچھ ہے وہ آپ كے ليے بہتر ہے، واللہ المستعان؛ كيونكہ نماز ترك كرنا كفر اور اسلام سے ارتداد ہے كيونكہ حديث ميں ہے:

آدمى اور شكر و كفر كے مابين نماز ترك كرنا ہے "

اسے مسلم نے روايت كيا ہے.

اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہمارے اور ان ( كافروں ) كے مابين عہد نماز ہے، چنانچہ جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا "

اسے ترمذى اور نسائى اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے.

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تم كافروں كى عصمت كو روك كر مت ركھو }الممتحنۃ ( 10 ).

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 283 - 284 ).

دوم:

آپ كو چاہيے كہ اپنى بيوى كو خاوند كے حقوق كى ياد دہانى كرائيں، كہ خاوند كى اطاعت كرنا واجب ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ مرد عورتوں پر حاكم ہيں اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں }النساء ( 34 ).

اور يہ كہ بيوى كے ليے خاوند كى دعوت مباشرت كو رد كرنا اور اس سے انكار كرنا حلال نہيں، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خاوند كى دعوت مباشرت سے انكار كرنے والى عورت كو ڈراتے ہوئے فرمايا:

جب خاوند اپنى بيوى كو مباشرت كے ليے اپنے بستر پر بلائے اور بيوى نہ آئے اور خاوند اس پر ناراض ہو كر رات بسر كرے تو صبح ہونے تك فرشتے اس عورت پر لعنت كرتے رہتے ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3065 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1736 ).

اسى طرح بيوى كے ليے خاوند كى نافرمانى اور خاوند سے اعراض كرنا حلال نہيں، اللہ سبحانہ و تعالى نے اس پر شريعت كے دائرہ ميں رہتے ہوئے خاوند كى اطاعت كرنا واجب كي ہے اور رات كو بيدار رہ كر دن كے وقت واجبات و فرائض كو ضائع كرتى ہے يہ ايك برائى ہے، اس كے ليے يہ عمل جارى ركھنا حلال نہيں ہے.

چہارم:

رہا مسئلہ كہ اس سلسلہ ميں بيوى كے ساتھ كيا كرنا چاہيے، تو آپ اسے دعوت دينے اور نصيحت كرنے ميں پورى حكمت سے كام ليں اور نرم رويہ اختيار كرتے ہوئے بغير سختى كيے اسے ان غلط اعمال سے روكيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ سبحانہ و تعالى بڑا نرم و رحم كرنے والا ہے اور نرمى كو پسند كرتا ہے، اور نرمى اختيار كرنے پر وہ كچھ عطا كرتا ہے جو سختى كرنے پر عطا نہيں كرتا، اور وہ كچھ جو اس كے علاوہ كسى اور پر عطا نہيں فرماتا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2593 ).

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس چيز ميں بھى نرمى آ جاتى ہے اسے خوبصورت بنا ديتى ہے، اور جس چيز سے نرمى كھينچ لى جائے وہ بدصورت ہو جاتى ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2594 ).

زانہ: يعنى اسے خوبصورت بنا ديتى ہے.

شانہ: يعنى اسے عيب دار اور بدصورت كر ديتى ہے.

بيوى كى اصلاح اور اس كى ہدايت كے ليے آپ كئى ايك طريقہ اختيار كر سكتے ہيں جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:

1 ـ بيوى سے براہ راست خود نرمى اور محبت كے ساتھ مخاطب ہوں اور اسے سمجھائيں.

2 ـ بيوى كے خاندان اور رشتہ داروں ميں سے يا پھر اس كى سہيليوں ميں سے كسى ايك سے بيوى كى اصلاح ميں معاونت حاصل كريں.

3 ـ بيوى كو لے كر عمرہ كرنے جائيں، اور حرم مكى ميں پابندى كے ساتھ نماز ادا كريں.

4 ـ بيوى كو اچھى اور فائدہ مند كيسٹيں اور سى ڈيز سنائيں، اور نفع مند كتابيں اور پمفلٹ لا كر ديں تا كہ اس كو اپنے ذمہ حقوق كا علم ہو سكے، اور آپ اسے آخرت ياد دلائيں.

5 ـ آپ نے گھر ميں جو ڈش لگائى ہے اس سے مكمل طور پر چھٹكارا حاصل كريں، يا پھر صرف وہ چينل ركھيں جس سے فائدہ ہو يعنى المجد اور الحكمۃ چينل.

6 ـ آپ كچھ دوسرے ايسے اسباب تلاش كرنے كى كوشش كريں جن كى بنا پر اس كى حالت ميں تبديلى آئى ہو، مثلا اس كى كوئى غلط قسم كى اور خراب حالت والى سہيلى ہو، يا پھر كوئى غلط پڑوسن يا قريبى رشتہ دار ہو اور آپ اسے اس قسم كى عورت سے ملنے سے منع كر ديں.

7 ـ اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا كريں كہ اللہ تعالى اسے ہدايت نصيب فرمائے، اور اس كى اصلاح كرے.

اللہ سبحانہ و تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments