اتوار 15 جمادی اولی 1440 - 20 جنوری 2019
اردو

بل فائٹنگ مقابلے كرانے كا حكم

1697

تاریخ اشاعت : 07-10-2008

مشاہدات : 3318

سوال

بعض ممالك ميں مختلف تقريبات كے موقع پر بل فائٹنگ كے مقابلے كرائے جاتے ہيں، اور كامياب ہونے والے بيل كا مالك رقم حاصل كرتا ہے، تو كيا اس عمل ميں كوئى شرعى ممانعت پائى جاتى ہے، اور كيا بيل كے مالك كا يہ رقم حاصل كرنا حلال ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر بل فائٹنگ ميں بيل كو ضرر اور نقصان ہوتا ہو تو يہ حرام ہے، كيونكہ كسى بھى جانور كو اذيت دينا اور اس پر مشقت ڈالنا جائز نہيں، اور اگر اس سے اسے تكليف اور اذيت نہ ہوتى ہو تو بھى بيكار اور تماشہ ہے جس ميں كوئى خير نہيں، بلكہ يہ وقت كا ضياع ہے، اور ان مقابلوں كى وجہ سے بيل خريدنے مال ضائع كرنے كا باعث ہے، ليكن اگر مقابلہ ميں معاوضہ بھى ہو تو يہ ہر حال ميں حرام ہے.

تو اس طرح بل فائٹنگ مقابلے كا حكم درج ذيل پر مشتمل ہو گا:

اگر تو اس ميں بيل كو نقصان اور ضرر ہو تو يہ حرام ہے، يا اگر عوض پر مشتمل ہو تو بھى حرام ہوگا.

ليكن اگر ايسا نہيں تو پھر يہ وقت اور مال كا ضياع ہے، كسى بھى عقل مند كے شايان شان نہيں كہ وہ اس كا مرتكب ہو، اور اسى طرح ہم اپنے ان بھائيوں كو نصيحت كرتے ہيں جو ان مقابلوں كو ٹى وى پر ديكھتے ہيں يا اس كا شوق ركھتے ہيں ہم انہيں كہينگے كہ: وقت بہت زيادہ قيمتى ہے، كہ اس طرح كے بيكار كاموں ميں ضائع كيا جائے جس ميں كوئى خير و بھلائى نہيں.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

ماخذ: لقاء الباب المفتوح ابن عثيمين ( 52 / 46 )

تاثرات بھیجیں