منگل 17 جمادی اولی 1440 - 22 جنوری 2019
اردو

سركہ ميں كچھ مقدار الكل كا پايا جانا

9436

تاریخ اشاعت : 04-08-2008

مشاہدات : 3916

سوال

زندہ مرغى تول كر فروخت كرنے كا حكم كيا ہے ؟
اور چھ فيصد 6 % الكل پر مشتمل سركہ فروخت كرنے كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

تول كر مرغى خريدنے ميں كوئى حرج نہيں، اصل يہى ہے ہمارے علم كے مطابق تو اس كے مخالف كوئى دليل نہيں ہے.

دوم:

حديث شريف سے ثابت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كى كثير مقدار نشہ آور ہو تو اس كى قليل مقدار بھى حرام ہے "

مسند احمد ( 2 / 179، 167، 91، 3 / 343 ).

چنانچہ اگر سركہ كى زيادہ مقدار نشہ آور ہو تو پھر اس كى قليل مقدار بھى حرام ہو گى، اور اس كا حكم شراب والا حكم ہى ہو گا.

ليكن اگر اس كى كثير مقدار نشہ آور نہ ہو تو پھر سركہ فروخت كرنے، اور اسے خريدنے اور اسے نوش كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

ماخذ: ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 47 )

تاثرات بھیجیں