عاشوراء کے روزے کي فضيلت

عاشوراء کے روزے کي فضيلت

رمضان كى قضاء كى موجودگى ميں عاشورا كا روزہ ركھنا. اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟. يوم عاشورا ميں زيب و زينت كے اظہار كا حكم.

رمضان كى قضاء كى موجودگى ميں عاشورا كا روزہ ركھنا
مجھ پر رمضان كى قضاء ہے اور ميں عاشوراء كا روزہ ركھنا چاہتا ہوں، تو كيا ميرے ليے قضاء سے قبل عاشوراء كا روزہ ركھنا جائز ہے؟
اور كيا ميں عاشوراء دس اور گيارہ محرم كا روزہ رمضان كى قضاء كى نيت سے ركھ سكتا ہوں، اور كيا مجھے عاشوراء كے روزے كا اجروثواب حاصل ہو گا ؟

الحمد للہ :

اول:

جس شخص پر رمضان المبارك كے ايك يا ايك سے زيادہ دنوں كى قضاء ہو وہ نفلى روزہ نہ ركھے، بلكہ وہ اپنى قضاء سے ابتدا كرے اور پھر نفلى روزے ركھے.

دوم:

جب وہ دس اور گيارہ محرم الحرام كا روزہ رمضان المبارك كے چھوڑے ہوئے روزوں كى قضاء كى نيت سے رزہ ركھے تو يہ جائز ہے، اور يہ اس كے ذمہ دو يوم كى قضاء ہو گى، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى كچھ ہے جو اس نے نيت كى "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميہ والافتاء ( 11 / 401 )

اور اميد ہے ركھى جاسكتى ہے كہ آپ كو اس دن كے روزے اور قضاء كا اجروثواب حاصل ہو گا.

ديكھيں: فتاوى منار الاسلام، للشيخ محمد ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 2 / 358 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟
اس برس ہم عاشوراءکاروزہ کیسےرکھیں؟ ہمیں ابھی تک یہ علم نہیں کہ مہینہ کب شروع ہوااورکیا ذوالحجہ انتیس کاتھایاتیس یوم کاتوہم عاشوارء کی کیسےتحدیدکریں اور روزہ رکھیں ؟

الحمد للہ :

اگرہمیں یہ نہ پتہ چلےکہ ذوالحجہ تام ( یعنی۔30۔دن ) کاتھایاکہ ناقص ( یعنی ۔29۔دن) کاتھااورنہ ہی ہمیں اس کےمتعلق کوئی بتائےکہ محرم کب شروع ہواتواصل کےمطابق چلیں گےیعنی مہینےکوتیس یوم کامکمل کرینگے۔ ذوالحجہ کےتیس یوم کا اعتبار کیاجائےگااوراسی بناپرہم عاشوراءکوشمارکرینگے ۔

اوراگرمسلمان یہ احتیاط چاہتا ہےکہ عاشوراءکا روزہ قطعی طورپرصحیح ہوتووہ دودن کا مسلسل روزہ رکھے ۔اسےچاہئےکہ وہ شمارکرے کہ ، اگرذوالحجہ انتیس یوم کاہو توعاشوراءکب ہوگااوراگرذوالحجہ تیس کاہوتو پھرعاشوراء کب ہوگاتوان دونوں دنوں میں وہ روزے رکھ لےتواس طرح وہ عاشوراءکویقینی اورقطعی طور پر پالےگا ۔

تواس حالت میں یاتواس نےنواوردس محرم کاروزہ رکھایاپھردس اورگیارہ کاتودونوں ہی ٹھیک ہیں اوراگروہ نومحرم کاروزہ رکھنےمیں بھی احتیاط چاہتاہے توہم اسےیہ کہیں گےکہ دودن وہ جن کاذکراوپرکیاگیاہےاورایک دن اس سے پہلےروزہ رکھ لےاس طرح اس نےنو، دس اورگیارہ محرم کاروزہ یاپھرآٹھ ، نواوردس کاروزہ رکھا ۔ان دونوں حالتوں میں تاکیدی طورپرنواوردس محرم کاروزہ رکھاجائےگا ۔

اوراگرکوئي یہ کہےکہ میں اپنےخاص مسائل ، کام کاج اورذاتی ( مصروفیات ) کی بناپرصرف ایک روزہ ہی رکھ سکتاہوں ،توکونسادن افضل جس میں روزہ رکھوں توہم اسے یہ کہیں گے :

ذوالحجہ کوتیس یوم مکمل کریں پھراس کےبعددس دن شمارکرکےروزہ رکھ لو۔

یہ مضمون میں نےاپنےشیخ اوراستادعلامہ عبدالعزیزبن بازرحمہ اللہ تعالی سےجب اس کےمتعلق پوچھاگیاتوسنا ۔

اوراگرکسی ثقہ مسلمان کی طرف سےہمیں محرم کاچانددیکھ کرتعیین کرنےکی خبرملےتوہم اس پرعمل کریں گےاورمحرم میں روزہ رکھناعمومی طورپرسنت ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( رمضان کےبعدسب سےافضل روزے اللہ تعالی کےمہینہ محرم کےروزے ہیں )

صحیح مسلم حدیث نمبر ۔(1163)

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد


يوم عاشورا ميں زيب و زينت كے اظہار كا حكم
ميں گرلز كالج كى ايك طالبہ ہوں، ہم بہت زيادہ شيعہ لوگوں كے مابين رہائش پذير ہيں، اور وہ اس وقت يوم عاشوراء كى مناسبت سے سياہ لباس زيب تن كرتے ہيں، تو كيا اس كے مقابلے ميں ہمارے ليے دوسرے رنگوں ميں زرق برق لباس پہننے اور زيادہ بناؤ سنگھار كرنے جائز ہيں صرف انہيں غضب اور غصہ دلانے كے ليے؟
اور كيا ہمارے ليے ان كى غيبت كرنا اور ان كے ليے بد دعا كرنا جائز ہے، يہ علم ميں ہونا چاہيے كہ وہ ہمارے غضہ اور ناراضگى كا اظہار كرتے ہيں، جيسا كہ ميں ان ميں سے ايك لڑكى كو ديكھا كہ اس نے ايسے تعويذ پہن ركھے تھے جن پر طلسماتى عبارتيں لكھى ہوئى تھيں، اور اس كے ہاتھ ميں ايك لاٹھى تھى جس كے ساتھ وہ ايك طالبہ كى طرف اشارہ كر رہى تھى، اور ميں اس سے بہت تكليف ميں رہتى اور ابھى تك ہوں ؟

الحمد للہ :

آپ كے ليے لباس وغيرہ كے ساتھ يوم عاشوراء ميں بناؤ سنگھار كرنا جائز نہيں، كيونكہ ہو سكتا ہے اس سے جاہل خود غرض قسم كے لوگ يہ سمجھيں كہ اہل سنت حسين بن على رضى اللہ تعالى عنہما كى شھادت پر خوش ہوتے ہيں، حالانكہ حاشا وكلا اہل سنت اس پر راضى اور خوشى محسوس نہيں كرتے.

اور رہا مسئلہ ان كے ساتھ معاملات كرنے ميں ان كى غيبت اور ان كے ليے بددعا كرنا اور اس كے علاوہ دوسرے ايسے كام جو بغض پر دلالت كريں، يہ بھى صحيح اور اس لائق نہيں، ليكن ہم پر واجب اور ضرورى يہ ہے كہ ہم انہيں دعوت دين اور ان پر اثر انداز ہونے اور ان كى اصلاح كى كوشش كريں، اگر انسان كے پاس ايسا كرنے كى استطاعت نہ ہو تو وہ ان سے اعراض كرلے اور انہيں چھوڑ دے، اور صاحب استطاعت كو ايسا كرنے كا موقع دے، اور ايسے معاملات اور كام نہ كرے جو دعوت و تبليغ كے راستے ميں روڑے اٹكائيں.

الشيخ سعد الحميد

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سبب سے شيطان لوگوں ميں دو بدعات پيدا كر رہا ہے: غم و پريشانى اور يوم عاشوراء ميں ماتم اور نوحہ كى بدت، پيٹنا، آہ وبكا كرنا، اور مرثيہ گوئى كرنا، اور رونا وغيرہ، اور فرحت و خوشى كى بدعت:

لہذا ان لوگوں نے غم كى بدعت ايجاد كرلى اور دوسروں نے خوشى و سرور كى بدعت، لہذا يہ لوگ يوم عاشورا ميں سرمہ لگانا، غسل كرنا، اور اہل وعيال پر زيادہ خرچ كرنا اور عادت سے ہٹ كر كھانے پكانے وغيرہ كو مستحب قرار ديتے ہيں،

اور پھر ہر بدعت گمراہى و ضلالت ہے، مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى ايك نے بھى نہ تو آئمہ اربعہ نے اور نہ ہى كسى دوسرے نے نہ تو يہ مستحب قرار ديا ہے نہ ہى وہ.... ) اھـ ديكھيں: منھاج السنۃ ( 4 / 554 - 556 ) اختصار كے ساتھ پيش كيا گيا ہے.

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
عاشوراء کے روزے کي فضيلت