والدین سے حسن سلوک

والدین سے حسن سلوک

خاوند كے علم كے بغير جنسى طاقت كى دوائى كھلانا. ایبولا وائرس سے متاثرہ علاقے سے باہر جانے کا حکم. واقعہ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا ءکی امامت کروائی اس کی حکمت کیا تھی؟. کیا بارش کے وقت دعا کرنا مستحب ہے؟ اور اگر بجلی گرے یا کڑک سنائی دے تو کیا کہا جائے؟. غیر مسلم والدہ کیساتھ رہنے کا حکم . کیا سودی لین دین کرنے والے کو زکاۃ دی جا سکتی ہے؟. کسی زندہ یا فوت شدہ شخص کیلئے قرآن خوانی کا حکم. ایک شخص اپنے فوت شدہ والد کو ایصال ثواب کرنا چاہتا ہے. والدين كے كہنے پر بيوى كو طلاق دينا. والد كى اطاعت كرتے ہوئے شراب كى خريدارى كرنا. اگر والد فجر كى نماز مسجد ميں ادا كرنے سے منع كرتا ہو تو كيا بيٹا اس كى اطاعت كرے ؟. منكر حديث والد كے ساتھ حسن سلوك كرنا. كھانے پينے اور نماز كے معاملہ ميں بيٹے كا والدہ سے جھگڑا كرنا. كيا وہ والدہ كى طرف سے حج كرے كا والد كى جانب سے ؟. کیا بیٹے اوربیٹی کو والدین کے اختیار کردہ رشتہ سے انکار کا حق ہے . کیا بیٹا والد کی رضامندی کےبغیر شادی کرسکتاہے ؟.

خاوند كے علم كے بغير جنسى طاقت كى دوائى كھلانا
مجھے ازدواجى تعلقات كى حاجت ہے، ليكن ميرا خاوند جنسى كمزورى كا شكار ہے، ميں نے اسے علاج كرانے پر مائل كرنے كى كوشش كى ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، تو كيا ميں خاوند كے علم كے بغير كھانے ميں جنسى طاقت كى دوائى ملا كر كھلا سكتى ہوں ؟

الحمد للہ:

ہم نے اس مسئلہ كے بارہ ميں اپنے استاد عبد الرحمن البراك سے دريافت كيا تو ان كا جواب تھا:

بيوى كو ايسا كرنے كا حق نہيں، اور اگر وہ برداشت نہيں كر سكتى تو اس كے ليے خاوند سے طلاق طلب كرنا جائز ہے.

واللہ اعلم.

اسلام سوال وجواب


ایبولا وائرس سے متاثرہ علاقے سے باہر جانے کا حکم
سوال: میں ایک ایسے ملک میں چھٹیاں گزارنے اور اپنی فیملی سے ملنے گیا تھا جہاں ایبولا وائرس پھیلا ہوا ہے، مجھے وہاں جاتے ہوئے یہ علم تھا کہ جہاں طاعون پھیلا ہو وہاں سے باہر نکلنا یا وہاں داخل ہونا جائز نہیں ہے، لیکن میں نے وہاں جانے سے پھر بھی گریز نہیں کیا؛ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہاں سے باہر آتے ہوئے مسافروں کا طبی معائنہ کر کے یہ تسلی کر لی جاتی ہے کہ متعلقہ مسافر اس بیماری سے متاثرین میں شامل نہیں ہے۔
میری چھٹیاں ختم ہونے کے ساتھ ہی میرے مینیجر کی جانب سے دباؤ ہے کہ میں ملازمت پر واپس آ جاؤں، حالانکہ ابھی تک یہ مرض پھیلا ہوا ہے، ہمارے علاقے میں ابھی تک اس پر قابو نہیں پایا گیا، تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے اس علاقے سے باہر جانا جائز ہے؟ یا میں ملازمت پر نہ جاؤں اور اس مرض پر مکمل قابو پائے جانے کا اعلان ہونے تک یہیں پر انتظار کروں؟

الحمد للہ:

اول:

"ایبولا"ایک وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی بڑی بیماری ہے جو کہ  بخار کی ایک قسم [Hemorrhagic fever] میں مبتلا کر دیتی ہے، اس وائرس سے متاثرہ شخص بخار کی پانچ میں سے کسی ایک قسم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی 25 تا 90 فیصد اموات واقع ہو جاتی ہیں، اموات کی شرح میں کمی یا اضافہ وائرس کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔

اس بیماری کی کچھ علامات یہ ہیں: تیز بخار، سر درد، جسم میں درد، قے، پیچش، جلدی  سوزش، آنکھوں، کانوں ، ناک ، پاخانے کے راستے سے خون بہنا، نازک اعضا کا سوج جانا۔

ایبولا کا لفط عوامی جمہوریہ کانگو کے علاقے یامبوکو میں اس بیماری  کی شناخت ہونے کے بعد  علاقے کے قریب ترین دریا ایبولا کی نسبت سے اس بیماری پر بولا گیا ہے۔

ایبولا وائرس بسا اوقات انسان میں جانوروں سے اور کبھی انسانوں سے بھی منتقل ہوتا ہے، جانوروں سے منتقل ہونے کی صورت یہ ہے کہ  ایبولا سے متاثر جانور کو جسم لگے یا اس کے جسم سے خارج ہونے والے فضلہ یا سیال مادہ جسم پر لگ جائے تو یہ بیماری منتقل ہونے کا عین خدشہ ہوتا ہے۔

اسی طرح جو لوگ ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے جانوروں کے ساتھ رہتے ہیں جیسے کہ چمگادڑ ، چیمپینزی ، گوریلا، بندر اور ہرن وغیرہ ۔

جبکہ انسان سے انسان میں اس مرض کی منتقلی متاثرہ مریض کے خون، بول و براز، منی، اور مردہ جسم کو ہاتھ لگانے سے بھی منتقل ہو جاتے ہیں۔

اس مرض کے بارے میں مزید معلومات کیلیے اس ربط کا وزٹ کریں:

http://goo.gl/GVLS2R

دوم:

ایسی احادیث موجود ہیں جس میں ایک مسلمان کو ایسی جگہ جانے سے منع کیا گیا  ہے جہاں پر طاعون پھیل چکا ہو، اسی طرح ایسی جگہ سے باہر نکلنے کے بارے میں بھی ممانعت کی گئی ہے۔

بخاری: (5739 ) اور مسلم: (2219) میں عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (جب بھی کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر جس علاقے میں تم موجود ہو وہاں پر طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے ڈر کر باہر مت بھاگو)

اسی طرح بخاری: (3473) اور مسلم: (2218) میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (طاعون ایک عذاب ہے جو کہ بنی اسرائیل یا تم سے پہلے کسی اور قوم پر نازل کیا گیا: چنانچہ جب بھی کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر جس علاقے میں تم موجود ہو وہاں پر طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے ڈر کر باہر مت بھاگو)

"طاعون" کیا ہے ؟ اس بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ ایک مخصوص بیماری ہے جو کہ علمائے کرام اور اطبا کے ہاں معروف ہے، جبکہ ایک موقف کے مطابق اس سے کوئی بھی وبائی مرض مراد ہے جس کی وجہ سے اموات واقع ہوتی ہیں۔

ان احادیث میں طاعون زدہ یا وبائی خطے سے باہر نکلنے کی صرف اسی شخص کو ممانعت کی گئی ہے جو اس بیماری سے ڈر کر بھاگے، لیکن تعلیم ، تجارت، یا ملازمت وغیرہ پر مشتمل کسی اور مقصد سے متاثرہ علاقہ چھوڑ کر باہر نکلنا اس ممانعت میں شامل نہیں ہے۔

بیماری سے ڈر کر باہر جانے اور کسی دوسرے مقصد سے باہر نکلنے کے درمیان فرق بہت سے علمائے کرام نے بیان کیا ہے بلکہ کچھ علمائے کرام نے اس فرق پر علمائے کرام کو متفق بھی قرار دیا ہے۔

نووی رحمہ اللہ "شرح صحیح مسلم" میں کہتے ہیں:
"طاعون کی بیماری میں جسم پر پھوڑنے نکلتے ہیں۔۔۔
جبکہ وبا کے بارے میں خلیل وغیرہ کا کہنا ہے کہ یہ بھی طاعون ہی ہے، جبکہ کچھ نے کوئی بھی وبائی مرض اس میں شامل قرار دیا ہے۔
تاہم صحیح بات وہی ہے جو محقق علمائے کرام نے کی ہے کہ: وبا سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی خطے کے لوگ غیر معتاد صورت میں ایک ہی بیماری میں مبتلا ہو جائیں تو اسے وبا کہتے ہیں، لیکن اگر معتاد انداز میں یا مختلف بیماریوں میں ایک ہی خطے کے لوگ بیمار ہوں تو یہ وبا نہیں کہلائے گی۔۔۔
اس حدیث میں طاعون زدہ علاقے میں آنے سے ممانعت کی گئی ہے، اسی طرح طاعون سے ڈر کر طاعون زدہ علاقے سے بھاگنے کی بھی ممانعت ہے۔
البتہ طاعون زدہ علاقے سے کسی اور سبب کی بنا پر نکلنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔
بلکہ علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ اگر طاعون زدہ علاقے سے نکلنے کا سبب طاعون کا خوف نہ ہو بلکہ کوئی اور ضرورت ہو تو پھر وہاں سے باہر نکلنا درست ہے، اور اس کی دلیل صریح احادیث میں موجود ہے۔" انتہی
اسی طرح ابن عبد البر رحمہ ا للہ  "التمهيد" (21/183) میں کہتے ہیں:
"اس حدیث میں طاعون کی جگہ سے باہر نکلنے کی اجازت ہے بشرطیکہ کہ اس علاقے سے باہر جانے کا سبب طاعون کا خوف نہ ہو بلکہ کوئی  ضرورت یا معمول کا سفر ہو" انتہی

اسی طرح ابن مفلح رحمہ اللہ "الآداب الشرعية" (3/367) میں کہتے ہیں:
"اور اگر کسی علاقے میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑے اور تم اس علاقے سے باہر ہو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر اسی علاقے میں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلو؛ کیونکہ اس بارے میں مشہور صحیح حدیث یہی تعلیمات دیتی ہے، چنانچہ اہل علم کے ہاں اگر اس علاقے میں جانے یا وہاں سے باہر نکلنے کا سبب طاعون کا ڈر اور خوف ہو تو حرام ہے لیکن اگر وہاں سے باہر نکلنے یا وہاں جانے کا سبب کوئی اور ہو تو حرام نہیں ہے" انتہی

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ  "شرح ریاض الصالحین" (6/569) میں کہتے ہیں:
"طاعون جان لیوا بیماری ہے-اللہ تعالی محفوظ فرمائے- اس کے بارے میں کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ وبائی امراض میں سے کوئی خاص بیماری ہے جس میں انسانی جسم پر پھوڑے اور پھنسیاں نکلتی ہیں۔۔۔ جب کہ کچھ اہل علم کا یہ بھی کہنا ہے کہ طاعون کسی بھی وبائی مرض کو کہتے ہیں جو کہ بہت جلدی پھیل جائے جیسے کہ ہیضہ کی بیماری ہے، طاعون کا یہ دوسرا مفہوم زیادہ بہتر محسوس ہوتا ہے؛ کیونکہ اگر لفظی اعتبار سے طاعون میں شامل نہ ہو لیکن معنوی اعتبار سے طاعون میں شامل ہوگا۔

چنانچہ اگر کسی بھی علاقے میں کوئی بھی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہو تو انسان کو اس علاقے میں نہیں جانا چاہیے اور اگر جہاں وہ رہ رہا ہو وہیں پر کوئی وبائی مرض پھوٹ پڑے تو اس مرض سے ڈرتے ہوئے وہاں سے باہر مت جاؤ۔

اگر کوئی انسان کسی بھی وبائی علاقے سے باہر اس بیماری سے ڈرتے ہوئے نہیں نکلتا بلکہ وہ یہاں کسی کام سے آیا تھا اور اب وہ واپس اپنے علاقے میں جانا چاہتا ہے تو ایسے شخص کے واپس جانے میں کوئی حرج نہیں ہے" انتہی

اسی طرح شیخ ابن عثیمین "الشرح الممتع" (1/110-111) میں کہتے ہیں:
"اگر کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑے تو کیا وہاں سے انسان باہر جا سکتا ہے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (طاعون سے ڈرتے ہوئے وہاں -یعنی  جہاں طاعون پھوٹ چکا ہے-سے باہر مت نکلو) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم   نے باہر آنے سے اس وقت روکا ہے جب طاعون سے ڈرتے ہوئے انسان باہر آئے، لیکن اگر کوئی شخص کسی علاقے میں کسی بھی کام یا تجارت کی غرض سے گیا اور وہاں وہ کام یا تجارت مکمل ہو چکی ہے اب وہ اپنے علاقے میں واپس آنا چاہتا ہے تو ہم اسے یہ نہیں کہیں گے تمہارے لیے اپنے علاقے میں جانا حرام ہے، بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ : آپ اپنے  گھر جا سکتے ہیں" انتہی

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کو "فتح الباری" (10/1990) میں مزید تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاعون زدہ علاقے سے باہر آنے والے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:

1-             ایک شخص کا وہاں سے باہر جانے کا مقصد ہی طاعون سے بھاگنا ہے تو یہ شخص یقینی طور پر ممانعت میں شامل ہے۔

2-             ایک شخص کا باہر جانے کا مقصد طاعون سے بھاگنا نہیں ہے بلکہ تجارت وغیرہ ہے تو وہ ممانعت میں شامل نہیں ہے، اسی قسم کے بارے میں نووی رحمہ اللہ نے اتفاق نقل کیا ہے کہ سب کے ہاں ایسا شخص باہر جا سکتا ہے۔

3-              انسان کسی کام کی غرض سے باہر نکلے اور ساتھ میں طاعون سے بچاؤ بھی شامل کر لے تو اس شخص کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف آرا ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس صورت کے بارے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا موقف  یہ بیان کیا ہے کہ ایسی صورت میں بھی طاعون زدہ علاقے سے باہر  جانا جائز ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے چنانچہ اپنی کتاب صحیح بخاری میں ایک مستقل باب قائم کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"باب ہے اس شخص کے بارے میں جو ایسے خطے سے باہر نکلے جس کی فضا اس کے لیے موافق نہ ہو"
اور اس باب کی دلیل کے طور پر وہ حدیث ذکر کی جس میں عرنی لوگوں کا تذکرہ ہے، اس حدیث میں ہے کہ: "کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس مدینہ میں آئے اور انہوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی نا موافق آب و ہوا کے باعث انہیں بیماری لگ گئی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں حکم دیا کہ اونٹوں کا دودھ اور بول نوش کریں، تو وہ مدینہ سے باہر چلے گئے کیونکہ اس وقت اونٹ مدینہ کی چراگاہوں میں ہوتے تھے"

امام بخاری نے اس حدیث کو ذکر کرنے سے پہلے وہ حدیث بھی ذکر کی ہے جس میں طاعون زدہ زمین سے طاعون سے خوف زدہ ہو کر باہر نکلنے کی ممانعت ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بخاری کے اس عنوان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:  امام بخاری نے کہا: " باب ہے اس شخص کے بارے میں جو ایسے خطے سے باہر نکلے جس کی فضا اس کے لیے موافق نہ ہو "۔۔۔ یہ کہہ کر امام بخاری نے اشارہ کیا ہے کہ جس حدیث میں طاعون زدہ علاقے سے باہر نکلنے کی ممانعت کا ذکر ہے  اس کا حکم ہر حالت کیلیے نہیں ہے بلکہ یہ ممانعت اس شخص کے ساتھ ہے جو طاعون زدہ علاقے سے خوف زدہ ہو کر باہر جاتا ہے ، جیسے کہ اس کے ثبوت میں آگے گفتگو آئے گی، ان شاء اللہ" انتہی

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب


واقعہ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا ءکی امامت کروائی اس کی حکمت کیا تھی؟
سوال: واقعہ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی امامت کروائی اس کی حکمت کیا تھی؟ اور اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟

الحمد للہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصی میں تمام انبیاء کی امامت کروائی  جو کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دور سے پیغمبروں کا مرکز تھی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی امام اعظم اور سب سے مقدم ہیں، جیسے کہ اس بات کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سورہ اسراء کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ابتدا میں ہی بتلائی ہے، نیز انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انبیائے کرام  کی امامت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ:
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء کے آگے کھڑا کر کے آپ کی عظمت، شرف اور مقام و مرتبے کو عیاں کیا گیا، اور آپ جبریل علیہ السلام کے اشارے پر آگے ہوئے تھے"

یقیناً ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام سے افضل اور اعلی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی فرمایا: (میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سربراہ ہونگا، اور سب سے پہلے میری قبر کھولی جائے گی، اور میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہونگا، اور میری ہی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی) مسلم: (2278)

جبکہ کچھ اہل علم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے تمام انبیائے کرام کی امامت کروانے پر ایک اور حکمت بھی تلاش کی ہے، اور وہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (میں نے ان سب کی امامت کروائی) میں ہے اور -واللہ اعلم-وہ یہ ہے کہ ان الفاظ میں یہ اشارہ ہے کہ امت محمدیہ پوری انسانیت کی قیادت کریگی۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب


کیا بارش کے وقت دعا کرنا مستحب ہے؟ اور اگر بجلی گرے یا کڑک سنائی دے تو کیا کہا جائے؟
پہلا سوال یہ ہے کہ: بارش ہوتے وقت یا کڑک اور بجلی دیکھنے پر کون سی دعا پڑھی جائے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ: وہ کون سی حدیث ہے جس میں بارش کے وقت کی گئی دعا کو قبولیت والی دعا کہا گیا ہے؟

الحمد للہ:

اول:

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بارش ہوتی دیکھتے تو فرمایا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا)[یا اللہ! موسلا دھار اور نافع  بارش عطا فرما] بخاری: (1032)

اسی طرح ابو داود (5099) میں اس حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
(اَللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيْئًا)[یا اللہ! موسلا دھار اور برکت والی بارش عطا فرما]اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

" صَيِّبًا " کا لفظ " صَيب" سے ماخوذ ہے اور  یہ اس بارش کو کہتے ہیں جس میں بارش کا پانی بہنے لگے، اس لفظ کی اصل: " صَابَ يَصُوْبُ" بارش ہو تو اس وقت بولا جاتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: { أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ } آسمان سے نازل ہونے والی بارش کی مانند[البقرة: 19]  نیز " صَيِّب " کا وزن "صوب" سے "فیعل" ہے۔
دیکھیں:
" معالم السنن " از: خطابی:  (4/146)

بارش ہوتے وقت بارش میں جسم کا کچھ حصہ گیلا کرنا مستحب ہے، جیسے کہ انس رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ : "ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ تھے تو بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم سے کپڑا ہٹایا اور بارش  میں گیلا کیا، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ اپنے پروردگار کے پاس سے ابھی آئی ہے)" مسلم: (898)

اور جب بارش شدید ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
( اَللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ، اَللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ )[یا اللہ! ہماری بجائے ہمارے ارد گرد بارش نازل فرما، یا اللہ! ٹیلوں، پہاڑیوں ، وادیوں اور درختوں  کے اگنے کی جگہ بارش نازل فرما] بخاری: (1014)

جبکہ کڑک سننے کے وقت  دعا   کے بارے میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : "وہ جس وقت کڑک سنتے تو گفتگو کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے:
(
سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ )
ترجمہ: میرا رب پاک ہے   کہ کڑک حمد کیساتھ اس کی تسبیح   کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے تسبیح بیان کرتے ہیں۔[الرعد: 13]
پھر عبد اللہ بن زبیر کہتے تھے: یہ اہل زمین کیلیے سخت وعید ہے"
بخاری نے اسے "ادب المفرد"  (723) میں ، امام مالک نے "موطا" (3641) میں  بیان کیا ہے اور نووی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو "الأذكار" (235)  میں صحیح قرار دیا ہے اسی طرح البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحيح الأدب المفرد" (556) میں صحیح قرار دیا ہے۔

لیکن اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی دعا ثابت نہیں ہے۔

اسی طرح  ہمارے علم کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بجلی چمکنے پر کوئی دعا ثابت نہیں ہے، واللہ اعلم۔

دوم:

بارش نازل ہونے کا وقت فضلِ الہی، اور لوگوں پر رحمتِ الہی کا وقت ہے، اس وقت میں خیر و بھلائی کے اسباب مزید بڑھ جاتے ہیں، اور اس یہ دعا کیلیے قبولیت کی گھڑی ہے۔

چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مرفوعا منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دو قسم کی دعائیں مسترد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت دعا اور بارش کے نیچے دعا)
اس روایت کو حاکم نے "مستدرک" (2534) میں اور طبرانی نے "المعجم الكبير" (5756)  میں روایت کیا ہے، نیز البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحيح الجامع" (3078 ) میں صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب


غیر مسلم والدہ کیساتھ رہنے کا حکم
سوال: غیر مسلم والدہ کیساتھ رہنے کا کیا حکم ہے؟ اور والدہ کیساتھ رہنے کیلئے بیوی کو بھی اسی گھر میں منتقل کرنا کیسا ہے؟

الحمد للہ:

بیٹا اپنی غیر مسلم والدہ کیساتھ رہے یا غیر مسلم ماں اپنے بیٹے کیساتھ رہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اگر بیٹا اپنی والدہ کیساتھ حسن سلوک سے پیش آئے تو یہ والدہ کے اسلام قبول کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے، ا س لیے ان کے سامنے اسلام اچھے انداز سے پیش کریں، اور کسی بھی ایسی حرکت سے باز رہیں جن سے ان کے اسلام قبول کرنے میں تاخیر ہو۔

چاہے والدین غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ایک مسلمان کو اپنے والدین کیساتھ ہر حالت میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ کسی بھی مسلمان کیلئے والدین کی نافرمانی یا ان کیساتھ بد سلوکی کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ گناہ اور معصیت کے کاموں میں ان کی اطاعت کرے یا کفریہ امور میں ان کا ہمنوا بنے۔

1-             فرمانِ باری تعالی ہے:
{
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
ترجمہ: ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے ، اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، میری طرف ہی تم نے لوٹنا ہے، تو میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دونگا۔[العنكبوت : 8]

2-             {وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
ترجمہ: اور اگر   والدین تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، لیکن دنیا میں ان کیساتھ حسن سلوک کرو، میری طرف رجوع کرنے والوں کے راستے پر چلو، میری طرف ہی تم نے لوٹنا ہے ، تو میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دونگا۔ [لقمان : 15]

3-             اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : "میرے پاس میری والدہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تشریف لائیں ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ : میری والدہ میرے پاس آئیں ہیں اور وہ مجھ سے کافی محبت کرتی ہیں، تو کیا میں صلہ رحمی کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں ، اپنی والدہ کیساتھ صلہ رحمی کرو)"
بخاری: ( 2477 )  مسلم :( 1003 )

4-             سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں کہ ان کی والدہ نے قسم اٹھا لی کہ جب تک سعد اسلام ترک نہ کر دے اس وقت تک اس سے بات نہیں کرے گی، اور نہ ہی کچھ کھائے پیے گی۔
چنانچہ سعد کی والدہ نے ان سے کہا: "تم کہتے ہو کہ تمہارا نبی والدین کیساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے، تو میں تمہاری ماں ہوں اور تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اسلام چھوڑ دو" سعد کہتے ہیں کہ: میری والدہ تین دن تک بھوکی پیاسی رہیں اور آخر تاب نہ لا کر بیہوش ہوگئی، اس پر سعد کے ایک اور بھائی نے جس کا نام عمارہ تھا اٹھ کر پانی پلا دیا ، چنانچہ وہ ہوش میں آئی اور سعد کو بد دعائیں دینے لگی، تو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیات نازل کر دیں:

{وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي}
ترجمہ: ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے ، اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے ۔۔۔ [العنكبوت : 8]

اور اسی بارے میں یہ بھی ہے:
{
وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا}
ترجمہ:  والدین کیساتھ دنیا میں حسن سلوک کرو۔[لقمان : 15] اس واقعہ کو مسلم (1748)نے روایت کیا ہے۔

5-             یہ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا والدین کی طرف سے داڑھی منڈوانے کے متعلق حکم کے بارے میں فتوی ہے:
سوال: داڑھی منڈوانے کے بارے میں والدین کی اطاعت کے متعلق سوال ہے۔

شیخ نے جواب دیا:
"اس بارے میں والدین کی اطاعت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ داڑھی رکھنا  اور اسے بڑھانا واجب ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (مونچھوں کو کاٹو اور داڑھی کو معاف کرتے ہوئے مشرکین کی مخالفت کرو)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (اطاعت نیکی کے کاموں کی ہوتی ہے) داڑھی کو بڑھانا  واجب ہے، فقہا کی اصطلاح کے مطابق سنت نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کے بارے میں حکم دینا اسے واجب قرار دیتا ہے، جب تک کوئی صارف موجود نہ ہو " انتہی
"مجموع فتاوى شیخ ابن باز " ( 8 / 377 – 378 )

مزید کیلئے سوال نمبر: (5053) اور (6401) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب


کیا سودی لین دین کرنے والے کو زکاۃ دی جا سکتی ہے؟
سوال: کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قرضہ لیا ہے ، تو کیا اسے ادا کرنے کیلئے زکاۃ دی جا سکتی ہے؟

الجواب :

الحمد للہ:

اول:

ایسے کریڈٹ کارڈ جن میں قرض کی واپسی پر تاخیر کی صورت میں زیادہ رقم دینی پڑے تو انہیں استعمال کرنا حرام ہے، کیونکہ یہ  شرط سود پر مبنی ہے۔

اس بارے میں تفصیل پہلے سوال نمبر: (106245) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

دوم:

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں زکاۃ کے مصارف ذکر کرتے ہوئے "الغارمين" کا ذکر  کیا ہے، اور یہاں "غارم" سے مراد مقروض ہی ہے، چنانچہ جس شخص نے اپنی جائز  ضروریات پوری کرنے کیلئے قرضہ اٹھایا  لیکن پھر قرضہ اتارنے سے  عاجز ہو گیا تو اسے زکاۃ میں سے اس قدر رقم دی جائے گی جس کے ادا کرنے سے وہ عاجز تھا تاکہ  اس کا قرضہ اتر جائے ۔

 

نیز مقروض شخص کو زکاۃ دینے کیلئے یہ بھی شرط ہے کہ: اس کا یہ قرض کسی گناہ کی وجہ سے نہ ہو، مثلاً:  کوئی شخص شراب نوشی، جوا اور سودی لین دین میں مقروض ہوا ہو تو اسے توبہ کی تمام شرائط [گناہ چھوڑ دے، اپنے کیے پر پشیمان ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے]پوری ہونے تک زکاۃ نہیں دی جا سکتی،  چنانچہ توبہ کرنے کے بعد اسکے زکاۃ دی جا سکتی ہے۔

مرداوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر قرضہ کسی گناہ کی وجہ سے چڑھا ہو تو بلا اختلاف اسے زکاۃ نہیں دی جا سکتی" انتہی
"الإنصاف" (3/ 247)

شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مقروض شخص کو زکاۃ دینے کی یہ شرط لگانا جائز و درست ہےکہ قرضہ گناہ کی وجہ سے نہ چڑھا ہو ؛ کیونکہ زکاۃ کی رقم اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی ایسے امور میں زکاۃ استعمال کی جا سکتی ہے جن کے ذریعے گناہ کے راستے ہموار ہوں" انتہی
"السيل الجرار" (2 / 59)

مزید کیلئے سوال نمبر: (99829)

چونکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قرضہ لینا حرام ہے، اس لیے اس قرضہ کی ادائیگی زکاۃ کے مال سے کرنا جائز نہیں ہوگا؛ بشرطیکہ مقروض سودی قرضہ لینے سے توبہ کر لے، اور اس پر پشیمان ہو، اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کر لے، تو ایسی صورت میں اس کا سودی قرضہ زکاۃ سے ادا کیا جا سکتا ہے۔

ماوردی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر گناہ سے توبہ نہ کرے بلکہ گناہ پر ڈٹا رہے تو پھر اسے مقروض لوگوں کے زمرے میں شامل کر کے زکاۃ کی رقم ادا کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ گناہ پر اصرار کی وجہ سے اسے زکاۃ دینا منع ہے، چنانچہ اس کی چٹی زکاۃ میں سے بھر کر  گناہ کے امور پر اسکی معاونت کرنا بھی حرام ہوگا" انتہی
"الحاوی" (8 / 508)

شیخ محمد  بن عثیمین رحمہ اللہ ایک سوال کہتے ہیں:
"مسئلہ: جو شخص کسی گناہ کی وجہ سے مقروض ہو گیا ہو تو کیا ہم اسے زکاۃ دیں؟
جواب: اگر توبہ کر لے تو دینگے، وگرنہ نہیں دینگے؛ کیونکہ توبہ کے بغیر اس کی مدد گناہ پر مدد متصور ہوگی، کیونکہ اگر اب اسکا قرضہ ہم نے اتار دیا تو دوبارہ پھر گناہ کر کے قرضہ چڑھا لے گا" انتہی
"الشرح الممتع" (6/235)

ڈاکٹر عمر سلیمان اشقر کہتے ہیں:
"جو شخص سودی قرضہ کی وجہ سے مقروض ہو تو اس کا قرضہ زکاۃ کی مد سے ادا کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر سودی لین دین سے توبہ تائب ہو جائے تو پھر اس کا قرضہ زکاۃ کی مد سے ادا کیا جا سکتا ہے"
ماخوذ از:  "أبحاث الندوة الخامسة لقضايا الزكاة المعاصرة"  صفحہ: 210

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب


کسی زندہ یا فوت شدہ شخص کیلئے قرآن خوانی کا حکم
سوال: میری والدہ ان پڑھ ہیں، اور میں ان کیساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے تلاوتِ قرآن کا ثواب انہیں ہدیہ کرتا ہوں، تاہم جب میں نے یہ سنا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے، تو میں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، اور اب میں انکی طرف سے مالی صدقہ کرتا ہوں، وہ ابھی تک قید حیات ہیں، تو کیا انہیں زندہ یا فوت ہونے کی صورت میں مالی یا کسی اور قسم کے صدقے کا ثواب پہنچتا ہے؟ یا پھر انہیں صرف دعا ہی کا فائدہ ہوتا ہے؛ کیونکہ حدیث میں صرف دعا کا ہی ذکر ہے، جیسے کہ حدیث ہے کہ: (جب انسان فوت ہوئے جائے تو تین چیزوں کے علاوہ اس کا ہر عمل منقطع ہو جاتا ہے: ان میں سے ایک ہے: نیک صالح اولاد جو اس کیلئے دعا کرے) اور کیا انسان اگر اپنے والدین کیلئے نماز و غیرہ میں کثرت سے دعا کرتا ہو کہ اٹھتے بیٹھتے ہر وقت والدین کیلئے دعا کرتا رہے، تو کیا اس حدیث کے مطابق اس کیلئے نیک صالح اولاد ہونے کی دلیل بن سکتی ہے؟ کہ اللہ کے ہاں وہ نیک صالح ہی ہوگا؟ میں آپ سے وضاحت کا متمنی ہوں، اللہ تعالی آپکو ڈھیروں اجر و ثواب سے نوازے۔ آمین

الحمد للہ:

قرآن خوانی کے بارے میں ا ہل علم کی مختلف آراء ہیں، کہ اسکا ثواب  میت کو پہنچتا ہے یا نہیں؟ اس  بارے میں دو اقوال ہیں، تاہم ان میں سے راجح قول یہی ہے کہ  قرآن خوانی کا ثواب  انہیں نہیں پہنچتا، کیونکہ اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فوت ہونے والے مسلمانوں کیلئے ایسا عمل کبھی نہیں کیا، مثلاً: آپ کی بیٹیاں رضی اللہ عنہن  آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں فوت ہوئیں، حتی کہ ہمارے علم کے مطابق صحابہ کرام نے بھی  ایسا عمل کبھی نہیں کیا، اور ایک مسلمان کو چاہیے کہ  فوت شدگان یا زندہ افراد کیلئے قرآن خوانی ، اور نوافل کی ادائیگی مت کرے، اسی طرح ان کی طرف سے نفل روزے بھی نہ رکھے، کیونکہ ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور عبادات کے بارے میں اصل توقیف ہے  یعنی کہ اللہ اور اس کے رسول سے ثابت  عبادات ہی کی جائیں، [دیگر ہر قسم کی عبادت سے توقف اختیار کیا جائے]

جبکہ صدقہ کرنے سے  زندہ و فوت شدہ سب کو  فائدہ ہوتا ہے، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، بالکل اسی طرح دعا کرنے سے بھی زندہ و فوت شدہ تمام  کو فائدہ ہوتا ہے، اس پر بھی تمام مسلمانوں کو اجماع ہے،  لیکن  دعا اور  صدقے  سے فائدہ ہونے کے بارے میں صرف میت کا ذکر حدیث میں آیا ہے، اور محل اشکال  بھی  میت کا مسئلہ ہی  ہے کہ کیا میت کو  ان کا فائدہ بھی ہوتا ہے یا نہیں؟، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافر مان ہے کہ: (جب ابن آدم فوت ہو جائے، تو اس کا عمل  تین چیزوں کےعلاوہ منقطع ہو جاتا ہے: صدقہ جاریہ، علم  جس سے لوگ مستفید ہوں، اور نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے) اور وفات کے بعد سب کو علم ہے کہ  اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی  کہ ان  تین چیزوں  پر مشتمل اعمال منقطع نہیں ہوتے، اور زندہ شخص کے بارے میں  تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ اگر وہ خود اپنی طرف سے صدقہ کرے یا کوئی اور اس کی طرف سے صدقہ کرے تو اسے ضرور فائدہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ دعا سے بھی مستفید ہوتا ہے، چنانچہ جو شخص اپنے والدین کیلئے انکی زندگی میں دعائیں کریں تو  انہیں ان دعاؤں کا فائدہ ہوگا، اسی طرح ان کی زندگی میں انکی طرف سے صدقہ کرنے پر بھی مستفید ہونگے۔

یہی حکم حج کے بارے میں ہے کہ اگر والدین بڑھاپے یا ناقابل شفا بیماری کی وجہ سے حج  کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو  ان کی طرف سے حج کرنے کا انہیں فائدہ ہوگا، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ایک حدیث ہے کہ :  ایک عورت نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:  "اللہ کی طرف سے فریضہ حج میرے والد پر اتنے بڑھاپے کی حالت میں فرض  ہو چکا  ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ ہی نہیں سکتے، تو کیا میں انکی طرف سے حج کروں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم انکی طرف سے حج کرو)

اسی طرح ایک اور آدمی آیا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرا والد بہت بوڑھا ہے، وہ حج نہیں کر سکتا، اور نہ حج کا سفر کر کرسکتاہے، تو کیا میں انکی طرف سے حج اور عمرہ کروں؟" تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو)، چنانچہ اس حدیث میں واضح ہے کہ کسی میت یا زندہ لیکن  بڑھاپے کی وجہ سے حج  کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے بوڑھے مرد یا بوڑھی خاتون کی طرف سے حج کرنا جائز ہے، اسی طرح صدقہ، دعا، حج یا عمرہ  کرنا میت  یا عاجز شخص کی طرف سے تمام اہل علم کے ہاں جائز ہے۔

اسی طرح اگر میت پر واجب  نذر، کفارہ، یا قضائے رمضان  کے روزے باقی ہوں  تو انکی طرف سے روزے رکھنا بھی ان کیلئے سود مند ہوگا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ان تمام اقسام کے روزوں کیلئے عام ہے: (جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزے واجب ہوں، تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا) اس حدیث کی صحت کے بارے میں سب کا اتفاق ہے۔

اسی طرح اس بارے میں دیگر احادیث بھی وارد ہیں،  لیکن جو شخص  رمضان میں  کسی شرعی عذر مرض یا سفر کی بنا پر  روزے نہیں رکھ سکا، اور پھر ان روزوں کی قضا دینے سے پہلے پہلے فوت ہو گیا تو اس پر قضا نہیں ہوگی،  اور نہ ہی اس کی طرف سے کھانا کھلایا جائے گا، کیونکہ اس نے شرعی عذر کی بنا پر روزے نہیں رکھے۔

بھائی آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ  آپ  اپنے والدین  کی طرف سے صدقہ اور والدین کیلئے دعا کر کے  ان شاء اللہ نیکیاں کما رہے ہیں، اور اگر اولاد نیک ہو تو  دعا کی قبولیت  کے امکانات مزید روشن ہو جاتے ہیں، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [جاری رہنے والے تین اعمال کے بارے میں]فرمایا: (یا  نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے) کیونکہ نیک اولاد کی دعا فاجر اولاد کی دعا سے زیادہ قبول ہوتی ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ سب کو اپنے والدین کیلئے دعا کرنی چاہیے،  تاہم اگر اولاد نیک ہو تو والدین کیلئے دعا قبول ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں"

واللہ اعلم.

ماخوذ از: "مجموع فتاوى ومقالات"از سماحۃ الشیخ علامہ عبد العزيز بن عبد الله بن باز رحمہ اللہ(4/348)


ایک شخص اپنے فوت شدہ والد کو ایصال ثواب کرنا چاہتا ہے
سوال: میں نے اپنے فوت شدہ والد کی طرف سے انکی نیابت کرتے ہوئے کچھ مال خرچ کیا، میں اپنے فوت شدہ والد کیلئے ایصالِ ثواب کرنا چاہتا ہوں، تو کیا رمضان میں کھانا کھلانے کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہے، جو میں اپنے والد کیلئے کر سکوں؟

الحمد للہ:

میت کی طرف سے صدقے کا میت کو فائدہ ہوتا ہے، اور اس کا ثواب میت کو حاصل بھی ہوتا ہے، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔

مسلم: (1630) میں  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: "میرا باپ فوت ہو گیا ہے، اور اس کے ترکے میں مال  موجود ہے، لیکن کسی قسم کی کوئی وصیت نہیں کی، تو کیا اگر میں انکی طرف سے صدقہ کروں تو انکے گناہ مٹ جائیں گے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں)

اسی طرح  مسلم: (1004) میں  عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "میری والدہ  اچانک فوت ہو گئیں ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر انہیں کچھ بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا مجھے اس میں سے ثواب ملے گا، اگر میں انکی طرف سے صدقہ کروں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں اس بات کا بیان  ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ، اور مستحب ہے، اور  اسکا ثواب  میت کو پہنچے گا، اور میت مستفید بھی ہوگی، اسی طرح صدقہ کرنے والے کو بھی اس سے فائدہ ہوگا، اور ان تمام باتوں پر مسلمانوں کا اجماع ہے"

اسی طرح کھانا کھلانا  نیکی کے کاموں میں سے ہے، اور اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب بھی دلائی ہے، خصوصا روزہ افطار کروانے کے بارے میں خصوصی  طور پر ترغیب دلائی ہے ۔

اسی طرح آپ اپنے والد کے فائدے کیلئے جن اچھے کاموں کو  کر سکتے ہیں ان میں  دعا بھی شامل ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب انسان فوت ہوئے جائے تو تین چیزوں  کے علاوہ اس کا ہر عمل منقطع ہو جاتا ہے: صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، نیک صالح اولاد جو اس کیلئے دعا کرے) مسلم: (1631)

اس لیے آپ اپنی نماز اور دیگر اوقات میں  کثرت کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالی انہیں معاف فرمائے، انہیں جنت میں داخل فرمائے، اور جہنم سے نجات  عطا کرے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب


والدين كے كہنے پر بيوى كو طلاق دينا
والدين كے كہنے پر بيوى كو طلاق دينے كا شرعى حكم كيا ہے ؟
والدين دليل يہ ديتے ہوں كہ وہ عورت ان كے پاس ايك ملازمہ اور خادمہ كى حيثيت سے كام كرتى تھى، اگر وہ طلاق نہ دے تو كيا يہ والدين كى نافرمانى شمار ہوگى، يہ علم ميں رہى كہ يہ بيوى اس وقت عزت و احترام كى زندگى بسر كر رہى ہے ؟

الحمد للہ:

بلاشك و شبہ والدين كا حق بہت زيادہ ہے، اور سب لوگوں سے زيادہ والدين كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آنا چاہيے، بلكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے تو والدين كے ساتھ حسن سلوك كا حكم تو اپنى عبادت كے ساتھ ذكر كيا ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تيرے پروردگار كا يہ حكم ہے كہ اس كے علاوہ كسى اور كى عبادت نہ كرو، اور والدين كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آؤ }الاسراء ( 23 ).

اولاد پر والدين كى ہر اس معاملہ ميں اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے جس ميں بچوں كو نقصان اور ضرر نہ ہو بلكہ والدين كا اس ميں فائدہ و نفع پايا جائے، ليكن جس ميں والدين كا كوئى نفع نہ ہو، يا پھر جس ميں اولاد كو نقصان و ضرر ہو تو پھر اس وقت والدين كى اطاعت واجب نہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" معصيت كے علاوہ والدين كى اطاعت كرنا آدمى پر لازم ہے، چاہے والدين فاسق ہى ہوں.... يہ اس ميں ہے جب والدين كو اس سے فائدہ ہوتا ہو، اور بچے كو كوئى نقصان و ضرر نہ ہو " اھـ

ديكھيں: الاختيارات ( 114 ).

طلاق كے مباح اسباب كے بغير كسى سبب كى بنا پر طلاق دينا اللہ كو ناپسند ہے، كيونكہ اس ميں خاوند و بيوى جيسى نعمت كو ختم كرنا اور خاندان و گھر اور اولاد كو تباہى كى طرف لے جانا ہے.

اور اس ميں عورت پر ظلم بھى ہو سكتا ہے، اور پھر ماضى ميں عورت كا ملازمہ اور خادمہ رہنا كوئى ايسا شرعى سبب نہيں جس كى بنا پر اسے طلاق دى جا سكے، خاص كر جب وہ دينى اور اخلاقى طور پر مستقيم و صحيح ہو.

اس بنا پر اس بيوى كو والدين كے كہنے پر طلاق دينا واجب نہيں، اور نہ ہى اسے نافرمانى ميں شمار كيا جائيگا، ليكن بيٹے كو چاہيے كہ بيوى كو طلاق دينے كے مطالبہ كو بيٹا احسن طريقہ سے رد كرے، اور اس ميں نرم لہجہ اور طريقہ اختيار كرے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ نہ ت وانہيں اف كہو اور نہ ہى ان كى ڈانٹ ڈپٹ كرو، اور انہيں اچھى اور نرم بات كہو }الاسراء ( 23 ).

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

جب والد صاحب بيٹے سے مطالبہ كريں كہ وہ بيوى كو طلاق دے دے تو اس كا حكم كيا ہوگا ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" جب والد بيٹے كى بيوى كو طلاق دينے كا مطالبہ كرے تو اس كى دو حالتيں ہونگى:

پہلى حالت:

والد اسے طلاق دينے اور چھوڑنے كا شرعى سبب بيان كرے مثلا وہ كہے: " تم اپنى بيوى كو طلاق دے دو " كيونكہ اس كے اخلاق صحيح نہيں اس ميں شك ہے مثلا وہ مردوں سے تعلقات ركھتى ہے، يا پھر ايسے مقامات پر جاتى ہے جو صاف نہيں اس طرح كا كوئى سبب بيان كرے.

ت واس حالت ميں بيٹا اپنے والد كى بات مانتے ہوئے بيوى كو طلاق دے گا؛ كيونكہ اس نے اپنى خواہش كى بنا پر بيٹے كو طلاق دينے كا نہيں كہا، بلكہ اس ليے طلاق دينے كا كہا ہے تا كہ بيٹے كا بستر محفوظ رہے كہ كہيں وہ اس كے بستر كو گندا كر دے تو پھر اسے طلاق ديتا پھرے.

دوسرى حالت:

والد اپنے بيٹے كو كہے: اپنى بيوى كو طلاق دے دو كيونكہ بيٹا اپنى بيوى سے بہت زيادہ محبت كرتا تھا والد بيٹے كى اس محبت سے غيرت ميں آ گيا، اور پھر ماں تو زيادہ غيرت كرتى ہے كيونكہ بہت سارى مائيں جب ديكھتى ہيں كہ ان كا بيٹا اپنى بيوى سے محبت كرتا ہے تو وہ غيرت ميں آ جاتى ہيں حتى كہ بيوى كو اپنى سوكن سمجھنے لگ جاتى ہيں، اللہ تعالى سے سلامتى و عافيت كى دعا ہے.

اس حالت ميں بيٹے كے ليے والدين كے كہنے پر بيوى كو طلاق دينا لازم نہيں، ليكن اسے چاہيے كہ وہ والدين كى خاطر مدارت كرے اور اپنى بيوى كو اپنے پاس ہى ركھے طلاق نہ دے اور نرم لہجہ سے والدين كو الفت كے ساتھ راضى كرے كہ وہ اسے رہنے ديں، اور خاص كر جب بيوى دين و اخلاق كى مالك ہو.

امام احمد رحمہ اللہ سے بالكل ايسے ہى مسئلہ كے متعلق دريافت كيا گيا ايك شخص ان كے پاس آيا اور عرض كى ميرے والد صاحب مجھے اپنى بيوى كو طلاق دينے كا كہتے ہيں ؟

امام احمد رحمہ اللہ نے اسے كہا:

تم اسے طلاق مت دو.

وہ كہنے لگا: كيا ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو جب عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے بيٹے سے اپنى بيوى كو طلاق دينے كا حكم ديا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں اس كا حكم نہيں ديا تھا ؟

تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمايا:

كيا تمہارا باپ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى طرح ہے ؟

اور اگر باپ اپنے بيٹے پر يہ دليل لے اور اسے كہے: بيٹے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو ان كے باپ عمر كے كہنے كے مطابق طلاق دينے كا حكم ديا تھا تو اس كا جواب يہى ہوگا كہ:

يعنى كيا تم عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى طرح ہو ؟

ليكن يہاں بات ميں نرمى اختيار كرتے ہوئے يہ كہنا چاہيے كہ: عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے كوئى ايسى چيز ديكھى تھى جو طلاق كى متقاضى تھى اور مصلحت اسى ميں تھى كہ وہ بيٹے كو كہيں كہ اسے طلاق دے دے.

اس مسئلہ كے متعلق بہت زيادہ سوال ہوتا ہے تو اس كا جواب يہى ہے " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 2 / 671 ).

مستقل فتاوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

والدہ اپنى شخصى ضرورت كى بنا پر بيوى كو طلاق دينے كا مطالبہ كرتى ہے يہ مطالبہ نہ تو دينى عيب كى بنا پر ہے اور نہ ہى كسى شرعى سبب كى وجہ سے اس مطالبہ كا حكم كيا ہو گا؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا سائل نے بيان كيا ہے كہ اس كى بيوى مستقيم ہے اور دين والى ہے اور وہ اس سے محبت بھى كرتا ہے، اور بيوى كو قيمتى سمجھتا ہے، اور اس نے اس كى والدہ كے ساتھ برا سلوك نہيں كيا، بلكہ والدہ نے اپنى شخصى ضرورت كى بنا پر اسے ناپسند كرنا شروع كر ديا ہے، اور وہ اپنى بيوى كو اپنے ساتھ ركھتا ہے اور يہ نكاح ختم نہيں كرتا تو اس ميں اس كے ليے والدہ كى اطاعت كرنا لازم نہيں.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا صحيح فرمان ہے:

" اطاعت و فرمانبردارى تو نيكى و معروف ميں ہے "

اس بنا پر اسے اپنى والدہ كى زيارت كر كے اور اس سے نرم لہجہ ميں بات چيت كر كے اور اس كے اخراجات برداشت كر كے صلہ رحمى كرنى چاہيے، جس چيز كى وہ محتاج اور ضرورتمند ہے وہ پورى كرے جس سے والدہ كا سينہ ٹھنڈا ہو اور اسے اچھا لگے ليكن وہ اپنى بيوى كو طلاق مت دے، باقى اعمال كرے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 20 / 29 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب


والد كى اطاعت كرتے ہوئے شراب كى خريدارى كرنا
ميرے والد صاحب شراب نوشى كرتے ہيں، اور مجھے شراب لانے كا كہتے ہيں، ليكن ميں ان كے سامنے انكار نہيں كر سكتا، كيونكہ والد صاحب ہى گھر كى آمدنى كا واحد ذريعہ ہيں تو كيا مجھے شراب كى خريدارى پر باز پرس ہو گى ؟

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ و تعالى نے اولاد پر والدين كى اطاعت و فرمانبردارى فرض كى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ آپ كہيے كہ آؤ ميں تم كو وہ چيزيں پڑھ كر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام كى ہي، وہ يہ كہ اللہ كے ساتھ كسى چيز كو شريك مت ٹھراؤ، اور ماں باپ كے ساتھ احسان كرو، اور اپنى اولاد كو افلاس كے ڈر سے قتل مت كرو، ہم تم كو اور ان كو رزق ديتے ہيں، اور بےحيائى كے جتنے طريقے ہيں ان كے پاس بھى مت جاؤ چاہے وہ علانيہ ہوں يا پوشيدہ، اور جس كا خون كرنا اللہ تعالى نے حرام كر ديا ہے اس كو قتل مت كرو، ہاں مگر حق كے ساتھ، ان كا تم كو تاكيدى حكم ديا ہے تا كہ تم سمجھو }الانعام ( 151 ).

اور اللہ تعالى نے اولاد كے ليے والدين كى نافرمانى حرام كى ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تيرا رب صاف صاف حكم دے چكا ہے كہ تم اس كے سوا كسى اور كى عبادت نہ كرنا، اور ماں باپ كے ساتھ احسان كرنا، اگر تيرى موجودگى ميں ان ميں سے كوئى ايك يا دونوں بڑھاپے كو پہنچ جائيں تو ان كے آگے اف تك نہ كہنا، نہ انہيں ڈانٹ ڈپٹ كرنا بلكہ ان كے ساتھ ادب و احترام سے بات چيت كرنا } الاسراء ( 23 ).

اور يہ اطاعت و فرمانبردارى واجب ہے، ليكن اگر آپ كے والدين آپ كو شرك يا معصيت و نافرمانى كا حكم ديں تو پھر اس ميں ان كى اطاعت نہيں ہو گى، كيونكہ اللہ خالق الملك كى نافرمانى ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت نہيں ہے.

اور پھر كتاب و سنت اور اجماع كے دلائل سے شراب حرام ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ}المآئدۃ ( 90 ).

شراب ميں دس آدميوں پر لعنت كى گئى ہے، جن ميں خريدار بھى شامل ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شراب ميں دس آدميوں پر لعنت كى: شراب كشيد كرنے والے، اور شراب كشيد كروانے والے، اور شراب نشى كرنے والے، اور شراب اٹھانے والے اور جس كى طرف اٹھا كر ليجائى جائے، اور شراب فروخت كرنے والے، اور اس كى قيمت كھانے والے، اور شراب خريدنے والے، اور جس كے ليے خريدى گئى ہے سب پر لعنت فرمائى "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1259 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3381 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 1041 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

خلاصہ يہ ہوا كہ:

آپ كے ليے جائز نہيں كہ آپ والد كے ليے شراب خريديں، اور اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى ميں مخلوق كى اطاعت نہيں ہو سكتى، چاہے يہ چيز آپ كے ليے والد كى ناراضگى كا باعث بنے، اور وہ آپ كے ليے بد دعاء بھى كرے، تو وہ خود گنہگار ہو گا، اور شريعت ميں اس كا كوئى وزن نہيں.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى لوگوں كو ناراض كر كے اللہ تعالى كو راضى كيا تو اللہ تعالى اسے كافى ہو جائيگا، اور جس نے لوگوں كو راضى كر كے اللہ كو ناراض كيا تو اللہ تعالى اسے لوگوں كے سپرد كر ديگا "

صحيح ابن حبان ( 1 / 115 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 2311 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے والد كو ہدايت سے نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب


اگر والد فجر كى نماز مسجد ميں ادا كرنے سے منع كرتا ہو تو كيا بيٹا اس كى اطاعت كرے ؟
ميرى عمر سولہ برس ہے اور مسجد ہمارے گھر كے بہت قريب ہے، ليكن والد صاحب مجھے فجر كى نماز كے ليے مسجد نہيں جانے ديتے، اور باقى نمازيں مسجد ميں ادا كرنے ديتے ہيں، كہ مجھے خدشہ ہے آپ كو كوئى حادثہ نہ پيش آ جائے، كيونكہ ہمارے اور گھر كے مابين ايك چوراہا آتا ہے، يعنى دو سڑكيں ملتيں ہيں، حالانكہ ميں نے والد صاحب كو آيات اور احاديث پيش كر مطمئن كرنے كى كوشش كى ہے، ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، تو كيا ميں ان كے علم كے بغير مسجد ميں نماز كے ليے چلا جاؤں ؟

الحمد للہ:

اول:

ہمارے سائل بھائى ابتدا ميں ہم نماز پنجگانہ مسجد ميں ادا كرنے ميں آپ كى اس ہمت كى داد ديتے ہيں، اور اللہ تعالى سے آپ كے ليے دين پر استقامت كى دعا كرتے ہيں، اور دعا ہے كہ آپ كے والد كى جانب سے اس طرح كے تصرفات آپ كى استقامت ميں خلل پيدا نہ كريں، اور خير و ہدايت كے كاموں سے پيچھے نہ ہٹائيں.

آپ كے سوال كا جواب دينے سے قبل ايك بہت ہى اہم اور ضرورى چيز كا ذكر كرنا ضرورى سمجھتے ہيں، اور وہ درج ذيل ہے:

والدين كى اطاعت و فرمانبردارى اور ان كے ساتھ حسن سلوك فرض ہے اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنى كتاب عزيز قرآن مجيد ميں بہت سے مقامات پر اس كى وصيت كرتے ہوئے فرمايا:

﴿اور صرف اللہ تعالى كى عبادت كرو، اور اس كے ساتھ كسى كو بھى شريك مت كرو، اور والدين كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آؤ ﴾النساء (36 ).

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

﴿اور آپ كا رب صاف صاف حكم دے چكا ہے كہ تم اس كے سوا كسى اور كى عبادت نہ كرنا، اور والدين كے ساتھ احسان كرنا، اگر تيرى موجودگى ميں ان ميں سے ايك يا دونوں بڑھاپے كو پہنچ جائيں تو ان كے آگے اف تك نہ كہنا نہ انہيں ڈانٹ ڈپٹ كرنا، بلكہ ان كے ساتھ ادب و احترام سے بات چيت كرنا، اور عاجزى و محبت كے ساتھ ان كے سامنے تواضع كا بازو پست ركھنے ركھنا، اور دعا كرتے رہنا كہ اے ميرے پروردگار! ان پر ويسا ہى رحم كر جيسا انہوں نے ميرے پچپن ميں ميرى پرورش كى ﴾الاسراء ( 23 - 24 ).

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ آپ پر والدين كى اطاعت لازم ہے، ليكن اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى ميں آپ ان كى اطاعت نہيں كر سكتے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى كى معصيت ميں اطاعت نہيں، بلكہ اطاعت تو نيكى اور معروف ميں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6830 ) صحيح مسلم حديث نمبر (1840 )

اور رہا مسئلہ نماز باجماعت كا مسئلہ تو نماز باجماعت ادا كرنا فرض ہے اور والد كے ليے مكلف بيٹے كو اس سے منع كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں، بلكہ والدين كو چاہيے كہ وہ اپنى اولاد كو اس كى ترغيب ديں، اور اس پر ابھاريں، اور اگر والد بيٹے كى جانب سے اس فرض كى ادائيگى ميں تقصير اور كوتاہى محسوس كرے تو وہ اسے اس مسئوليت كى ياد دہانى كروائے جو اس پر ڈالى گئى ہے، اس ذمہ دارى كے متعلق حساب و كتاب كے دن اللہ تعالى كو جواب دينا ہو گا، اس ليے وہ اپنى رعايا اور ماتحت افراد كو نيكى كا حكم اور برائى سے منع كرے، اور ان پر رب كى جانب سے جو واجبات ہيں انہيں ياد دلائے، اور اس ميں سستى و كاہلى كرنے كے خطرناك انجام كو ان كے سامنے ركھے.

اور اگر والد اپنى اولاد كے حق ميں كسى قسم كى كوتاہى كرتے ہوئے انہيں نيكى كا حكم نہيں ديتا، اور برائى سے منع نہيں كرتا، اور نہ ہى خير كے كاموں كى ترغيب دلاتا، اور شر و برائى كے كاموں سے ڈراتا نہيں تو يہ والد اپنى اولاد كے حرام كاموں كے ارتكاب، اور واجبات ميں كوتاہى كا ذمہ وار ہے.

اور اگر معاملہ يہاں تك پہنچ جائے كہ والد اپنى اولاد كو اللہ تعالى كے فرض كردہ واجبات سے منع كرتا ہے، تو اس وقت اللہ تعالى كى معصيت ميں والد كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں ہو گى، يا اس كے كہنے پر اللہ تعالى كا فرض كردہ كام ترك نہيں كيا جائيگا.

اگر والد بيٹے كو سب يا بعض نمازيں باجماعت ادا كرنےسے منع كرے تو يہ معصيت و نافرمانى كا حكم ہے، اس وقت اس كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں كى جائيگى، ليكن اس كے باوجود والد كے ساتھ حسن سلوك اور نيكى كے ساتھ پيش آيا جائيگا.

آپ كا يہ سوال كہ آيا آپ چورى چھپے نماز فجر كے ليے جا سكتے ہيں؟

اس كا جواب يہ ہے كہ: ايسا كرنا آپ كے ليے اچھا اور بہتر ہو گا، ليكن آپ كے والد كے ليے اس اعتبار سے برا ہو گا كہ اسے معلوم ہى نہيں، جب تك آپ كے والد آپ كو نمازباجماعت سے منع كرتے ہيں وہ معصيت كے مرتكب ہو رہے ہيں، حتى كہ اگر آپ اس كے علم كے بغير بھى نماز كے ليے جائيں تو وہ گناہ سے نہيں بچيں گے، كيونكہ وہ تو آپ كو برائى كا حكم دے رہے، اور نيكى سے منع كر رہے ہيں.

حتى كہ اگر آپ ان كے علم كے بغير نماز كے ليے بھى چليں جائيں، اس ليے آپ كو پہلے تو والد صاحب كو شرعى حكم كے ساتھ مطمئن كرنے كى كوشش كريں، اگر وہ آپ كى بات نہيں سنتے يا آپ كو چھوٹا سمجھتے ہيں تو كسى اور شخص كے ذريعہ ہى انہيں مطمئن كريں، اور اگر وہ پھر بھى قبول نہ كريں تو آپ كے ليے بغير اجازت اور ان كے علم كے بغير جانے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن آپ مسجد جاتے ہوئے راستے ميں احتياط سے كام ليں.

دوم:

ہم آپ كے والد كو كہتے ہيں ـ اللہ تعالى انہيں ہدايت سے نوازے ـ كہ اللہ تعالى نے ان پر بہت عظيم ذمہ دارى ڈال ركھى ہے، جو كہ اپنى بيوى بچوں كى تعليم اور نصيت كى ہے.

بخارى اور مسلم شريف كى حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے ہر ايك ذمہ دار ہے، اور اسے اس كى رعايا كى ذمہ دارى كے متعلق سوال كيا جائيگا، مرد اپنے گھر والوں كا ذمہ دار ہے، اور اسے اس كى اس رعايا كے متعلق سوال كيا جائيگا"

اور پھر اللہ تعالى نے آپ كو حكم ديا ہے كہ آپ اپنے آپ اور اپنے اہل و عيال كو جہنم كى آگ سے محفوظ كريں.

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اے ايمان والو! تم اپنے آپ اور اپنے اہل و عيال كو اس آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، اس پر سخت قسم كے ايسے فرشتے مقرر ہيں، جو اللہ تعالى كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے، اور وہ وہى كچھ كرتے ہيں جو انہيں حكم ديا جاتا ہے ﴾التحريم ( 6 ).

اور نماز كے حكم كے ميں اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اور آپ اپنے گھر والوں كو نماز ادا كرنے كا حكم ديں، اور خود بھى اس پر جما رہ ہم تجھ سے روزى طلب نہيں كرتے، بلكہ ہم خود تجھے روزى ديتے ہيں اور آخر ميں بول بالا پرہيزگارى كا ہى ہے ﴾طہ ( 132 ).

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جس نے بھى اپنے بچے كى تعليم ميں سستى كى اور تعليم كا خيال نہ ركھا، اور بچے كو بيكار چھوڑ ديا تو اس نے بہت غلط كام كيا، اكثر بچوں كى خرابى ان كے والد كى جانب سے ہوتى ہے كيونكہ وہ ان كى تعليم و تربيت كا خيال نہيں كرتے، اور انہيں دين كے فرائض اور سنن كى تعليم نہيں ديتے، تو انہيں چھوٹى عمر ميں ضائع كر بيٹھتے ہيں، اور خود بھى كوئى فائدہ حاصل نہيں كر پاتے، اور جب اولاد بڑى ہو جاتى ہے تو والدين كو بھى كوئى نفع نہيں ديتى " انتہى

ديكھيں: تحفۃ الودود صفحہ نمبر ( 229 ).

ہم آپ سے ايك بہت ہى اہم سوال كرتے ہيں:

آپ نماز فجر ميں كہاں ہيں ؟! كيا نماز فجر كى باجماعت ادائيگى آپ پر فرض نہيں تھى؟ ! كيا آپ اپنے گھر والوں اور بچوں كے ليے قدوہ اور نمونہ نہيں بن سكتے كہ مسجد ميں جاكر نماز فجر باجماعت ادا كريں ؟!

اگر آپ ايسا كرتے ہيں تو آپ نے اللہ تعالى كى جانب سے اپنے اوپر ايك واجب كى ادائيگى كى، اور مسجد ميں نماز ادا كرنے پر اپنے بچے كى بھى معاونت اور مدد كى ہے، اور اس طرح آپ اس كے اكيلا مسجد جانے كے خوف سے بھى بچ جائيں گے.

اے عزيز والد آپ كو علم ہونا چاہيے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں بتايا ہے كہ جو شخص نماز فجر ادا كرتا ہے وہ اللہ تعالى كے ذمہ ميں ہے تو آپ ايسے شخص كے متعلق كيوں خوفزدہ ہيں جو اللہ تعالى كى ذمہ اور حفظ و امان ميں ہے؟!

جندب بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے صبح كى نماز ادا كى وہ اللہ تعالى كى حفظ و امان اور اس كے ذمہ ميں ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 657 ).

يہاں ذمہ سے مراد ضمانت، اور حفظ وامان مراد ہے، جيسا كہ امام نووى كا كہنا ہے.

ہمارى اللہ تعالى سے دعا ہے كہ آپ كو امانت كى ادائيگى كى توفيق نصيب فرمائے، اور آپ اپنے اہل و عيال كے ليے بہترين قدوہ اور نمونہ بنيں، اور مسجد ميں نمازيں ادا كرنے ميں اپنے بيٹے كے ممد و معاون بنيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


منكر حديث والد كے ساتھ حسن سلوك كرنا
ميں ايك بے دين خاندان ميں زندگى بسر كر رہا ہوں جو ميرے ساتھ مذاق كرتا اور مجھ پر ظلم كرتا ہے، الحمد للہ ميں دين پر عمل پيرا ہوں، ميرے والد صاحب كا اعتقاد ہے كہ وہ احاديث جو قرآن مجيد ميں پائے جانے والے امور كى شرح كرتى ہيں مثلا نماز وغيرہ ان پر عمل كرنا واجب ہے، اور جو امور قرآن مجيد ميں نہيں مثلا اجنبى عورت سے مصافحہ كرنا ان احاديث پر عمل كرنا واجب نہيں.
اس كے علاوہ بھى والد صاحب كے كئى ايك اعتقادات ہيں، مجھے علم ہے كہ والدين كے ساتھ حسن سلوك كرنا واجب ہے، كيا ميرے ليے اپنے والد كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے ؟
اگر جواب نفى ميں ہو تو كيا ميں يہ ظاہر كر سكتا ہوں كہ ميں اس كے پيچھے نماز ادا كروں اور بعد ميں نماز لوٹا لوں تا كہ والد ناراض نہ ہوں ؟

الحمد للہ :

سائل بھائى جس حالت ميں زندگى بسر كر رہا ہے وہ بالفعل ايك مشكل حالت ہے، كسى مومن شخص كے ليے باپ كے ساتھ زندگى بسر كرنا آسان كام نہيں جو ضلالت و گمراہى ميں پڑا ہوا ہو، اور وہ صحيح منھج اہل سنت والجماعت كا مسلك كا اختيار نہ كرے بلكہ كسى اور مسلك پر عمل پيرا ہو ليكن مسلمان كو اس طرح كے والد كے متعلق صبر و تحمل سے كام ليتے ہوئے اجروثواب كى نيت ركھنى چاہيے، اور اسے وعظ و نصيحت كرنے ميں نرمى اور بصيرت سے كام لينا چاہيے، اور ايسے وسائل بروئے كار لائے جس سے والد كو يہ محسوس نہ ہو كہ بيٹا اس كے خلاف ہے، اور نہ ہى اس كے ساتھ بے رخى اور قطع تعلقى سے كام لے، بلكہ اس سے والد يہ محسوس كرے كہ يہ اس بيٹے كى جانب سے نصيحت ہے جو والد كا ادب و احترام كرنا جانتا ہے، اور والد كے ساتھ حسن سلوك كرنے والے بيٹے كى نصيحت ہے، اور اس كے ساتھ شفقت كے ساتھ پيش آنے والا ہے جيسا كہ ابراہيم عليہ السلام كى جانب سے والد كو تبليغ كے وقت ہوا تھا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس كتاب ميں ابراہيم عليہ السلام كا قصہ بيان كريں، بيشك وہ بڑى سچائى والے نبى تھے ﴾

﴿ جبكہ انہوں نے اپنے باپ سے كہا كہ ابا جان ! آپ ان كى پوجاپاٹ كيوں كر رہے ہيں جو نہ تو سنتے ہيں نہ ديكھتے ؟ نہ آپ كو كچھ نفع اور فائدہ دے سكيں؟ ﴾

﴿ ميرے مہربان ابا جان! آپ ديكھيے ميرے پاس وہ علم آيا ہے جو آپ كے پاس آيا ہى نہيں، تو آپ ميرى ہى مانيں ميں بالكل سيدھى راہ كى طرف آپ كى راہنمائى كرونگا ﴾

﴿ ميرے پيارے اباجان! آپ شيطان كى پرستش سے باز آجائيں شيطان تو رحم وكرم والے اللہ تعالى كا بڑا ہى نافرمان ہے ﴾

﴿ ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے كہ كہيں آپ پر كوئى عذاب الہى نہ آپڑے كہ آپ شيطان كے ساتھ بن جائيں ﴾

﴿ اس نے جواب ديا كہ اے ابراہيم! كيا تو ہمارے معبودوں سے روگردانى كر رہا ہے، سن لو اگر تو باز نہ آيا تو ميں تجھے پتھروں سے مار مار كر ہلاك كر ڈالوں گا، جا ايك مدت دراز تك مجھ سے الگ رہو ﴾

﴿ اس نے كہا اچھا تم پر سلامتى ہو، ميں تو اپنے پروردگار سے تمہارى بخشش كى دعا كرتا رہوں گا، وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے ﴾مريم ( 41 - 47 ).

چنانچہ ابراہيم عليہ السلام نے ميرے اباجان كى رقيق اورنرم پكار لگاتے ہوئے اے ميرے ابا جان كے الفاظ كہے، انہوں نے يہ نہيں فرمايا: ميں عالم ہوں اور آپ جاہل ہيں، بلكہ يہ فرمايا كہ ميرے پاس وہ علم آيا ہے جو آپ كے پاس نہيں آيا.

اور اپنے والد پر اپنى شفقت اور نرمى اور اس كى سلامتى كا اظہار كرتے ہوئے كہا:

اے ميرے ابا جان مجھے ڈر ہے كہ كہيں آپ كو اللہ رحمن كى جانب سے عذاب الہى نہ پہنچ جائے، اور جب ان كے والد نے انكار كر ديا اور رجم كرنے كى دھمكى دى تو ابراہيم عليہ السلام نے اس سے زيادہ كچھ نہيں كہا بلكہ يہ بھى پورے ادب و احترام سے كہا كہ آپ پر سلامتى ہو، اور اس كے ساتھ دعائے استغفار كا وعدہ كيا.

چنانچہ ہمارے نيك و صالح بيٹوں كى جانب سے اپنے گمراہ باپوں كو اسى طرح كى دعوت ہونى چاہيے.

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ سنت و حديث كا انكار يا اس ميں سے كسى چيز كا انكار كرنا بہت ہى خطرناك مسئلہ ہے ـ اس موضوع كى تفصيل ہم كسى اور جگہ پر كرينگے ـ ليكن ہم اختصار كے ساتھ يہ كہتے ہيں كہ:

اگر آپ كے والد كى بدعت اسے دين اسلام سے ہى نكال دے مثلا بالكل حديث كا انكار كرنا، اور اس پر حجت بھى قائم ہو چكى ہو، اس كے باوجود وہ حق ماننے سے انكار كردے تو پھر اس كے كفر كى بنا پر اس كے پيچھے آپ كى نماز صحيح نہيں.

ليكن اگر اس كى بدعت كفر تك نہيں پہنچتى مثلا وہ كسى حديث كے حكم پر عمل نہيں كرتا ـ كمى و كوتاہى كى بنا پر ـ تو آپ كے ليےاس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے، تو اس وقت آپ كى نماز صحيح ہو گى. واللہ اعلم

اضافہ:

اس سوال كے متعلق ہميں شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كى جانب سے درج ذيل كلمات ملے:

بعض اوقات انكار تاويل ہوتا ے، اور بعض اوقات انكار جحد، چنانچہ اگر انكار جحد ہو يعنى وہ يہ كہے: جى ہاں مجھے علم ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے، ليكن ميں اسے نہيں مانتا، اور نہ ہى قبول كرتا ہوں، اگر تو ايسا ہو تو وہ كافر اور اسلام سے مرتد ہے، اور اس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز نہيں.

اور اگر اس كا انكار انكار تاويل ہو تو پھر ديكھا جائيگا كہ اگر تو اس كى تاويل اس كى محتمل ہو جو لغت جائز كرتى ہے، اور مصادر شريعت اور اس كے موارد جانتے ہيں تو يہ شخص كار نہيں ہو گا، بلكہ يہ بدعتيوں ميں شامل ہوتا ہے، اگر اس كا قول بدعتى ہو تواس كے پيچھے نماز ادا كى جائيگى ليكن اگر اس كے پيچھے نماز ترك كرنے ميں كوئى مصلحت ہو كہ وہ اپنى بدعت سے باز آجائے اور معاملات ميں دوبارہ سوچ و بچار كرے گا تو اس كے پيچھے نماز ادا نہ كى جائے.

اس باپ كى حالت يہ ہے كہ وہ بعض احاديث جو قرآن مجيد كے موافق اور اس كى شرح ہيں كا اقرار كرتا ہے، ليكن اسى وقت وہ دوسرى قسم كا انكار كرتا ہے جو قرآن مجيد سے زائد ہے، اس طرح كا عمل عظيم بدعت ميں شمار ہوتا ہے، جس پر شارع نے وعيد سنائى ہے، يسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں كوئى ايك كسى اور اپنى مسند پر سہارا لگائے ہوئے پائيگا .... الحديث"

يہ بہت بڑى بدعت ہے ايسى بدعت كے مرتكب شخص كے متعلق خدشہ ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد


كھانے پينے اور نماز كے معاملہ ميں بيٹے كا والدہ سے جھگڑا كرنا
ميرا بھائى بہت موٹا ہے اور بہت زيادہ كھاتا ہے، جب بھى والدہ اسے كم كھانے كى نصيحت كرتى اور دھمكى ديتى ہے كہ اگر اس نے بات نہ مانى تو وہ اس سے ناراض ہو جائيگى، تو بھائى جواب ديتا ہے كہ:
كھانا حرام تو نہيں، اور والدہ كو كسى حلال كام سے منع كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں ؟
اور وہ نماز بھى مسجد ميں ادا نہيں كرتا، والدہ جب بھى اسے مسجد نہ جانے كا سبب پوچھتى ہے تو وہ جواب ديتا ہے: نماز باجماعت سنت مؤكدہ ہے جيسا كہ امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا قول ہے.
اور وہ اذان كے بعد نماز كو بہت ليٹ كر كے ادا كرتا ہے، ہم جب بھى اسے كہتے ہيں كہ وقت پر نماز ادا كيوں نہيں كرتے تو جواب ديتا ہے كہ: ميں نماز كے مقرر كردہ وقت سے ليٹ تو نہيں كرتا، اس ليے كہ نماز كے اوقات معروف ہيں جو اذان اور اقامت كے ساتھ ملے ہوئے نہيں، ہم اس كا جواب كيا ديں ؟

الحمد للہ :

اول:

يقينا اللہ تعالى كا اپنے بندوں پر سب سے عظيم احسان يہ ہے كہ اس نے زمين ميں ہر چيز اس كے ليے مسخر كر ركھى ہے، اور اس پر نعمتيں نازل فرمائى اور ان كے ليے پاكيزہ اشياء كھانے پينے اور پہننے كے ليے مباح كى ہيں.

ليكن اللہ تعالى نے ان اشياء كے استعمال ميں اسراف كرنے يا پھر اس ميں ايسى رخصت تلاش كرنا جس ميں اسے ضرر اور اذيت ہو يا وہ اسے اس كے دين و دنيا ميں زيادہ نفع والى چيز كے آڑے آرہى ہو ميں مشغول ہونے والے كى مذمت بھى كى ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿كھاؤ پيئو اور اسراف و فضول خرچى مت كرو، كيونكہ اللہ تعالى فضول خرچى اور اسراف كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا ﴾الاعراف ( 31 ).

دوم:

ابن آدم كے ليے سب سے زيادہ ہلاكت اور تباہ كرنے والى اشياء ميں پيٹ كى شہوت ہے، اور پھر پيٹ شہوات كا منبع اور بيماريوں اور آفات كى جڑ ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى كے ليے سب سے برى چيز اس كا بھرا ہوا پيٹ ہے، ابن آدم كے ليے تو اس كى پيٹھ سيدھى ركھنے كے ليے چند لقمے ہى كافى ہيں، اگر وہ اس كے بغير نہيں رہ سكتا تو ايك تہائى كھانے كے ليے، اور ايك تہائى پينے اور ايك تہائى حصہ سانس لينے كے ليے ركھے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2380 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يعنى ابن آدم صرف اتنا كھائے جو اس كى پيٹھ كو سيدھا ركھے، اور اس سے زيادہ نہ كھائے، ليكن اگر وہ اس سے زيادہ كھانا ہى چاہتا ہے تو پھر اتنا پيٹ بھر كر كھا سكتا ہے كہ پيٹ كے تين حصے كرے ايك حصہ كھانے، اور ايك حصہ پينے اور تيسرا حصہ سانس لينے كے ليے ركھے، اس سے زيادہ مقدار ميں نہ كھائے.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى.

دور جاہليت ميں عقلمند اور دانشور كم كھانے كى تعريف كيا كرتے تھے:

حاتم طائى كا قول ہے:

اگر تو نے پيٹ اور شرمگاہ كو اس كى مطلوبہ اشياء دے ديں تو دونوں خون كى انتہائى مقدار حاصل كر لينگے.

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 669 ).

اور اگر انسان اتنا زيادہ كھا لے كہ يہ اس كے ليے ضرر اور نقصان كا باعث بنے تو يہ حرام ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا زيادہ كھانا حرام ہے ؟

تو كميٹى كا جواب تھا:

" جى ہاں مسلمان كے ليے اتنا زيادہ كھانا كہ اس سے ضرر اور نقصان ہو حرام ہے؛ كيونكہ يہ اسراف ميں شامل ہوتا ہے، اور اسراف حرام ہے.

اس كى دليل اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اے بنى آدم مسجد ميں حاضر كے وقت لباس پہن ليا كرو، اور كھاؤ پيؤ اور اسراف نہ كرو كيونكہ اللہ تعالى اسراف كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا﴾ الاعراف ( 31 ). انتہى

ديكھيں فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 22 / 329 ).

سير ہو كر اور پيٹ بھر كر كھانے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ترہيب وارد ہوئى ہے، يہ اس ليے كہ ايسا كرنا روز قيامت بھوك كا باعث ہو گا.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كى پاس ڈكار ليا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہم سے اپنا ڈكار روك كر ركھو، كيونكہ دنيا ميں اكثر سير رہنے والا شخص روز قيامت سب سے زيادہ مدت بھوكا رہے گا "

جامع ترمذى حديث نمبر ( 2015 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الجشاء: سير ہونے كى صورت ميں انسان سے ہوا كے ساتھ خارج ہونے والى آواز كو كہا جاتا ہے.

ابن ابى الدنيا اور طبرانى نے كبير اور الاوسط ميں اور بيہقى نے ابو جحيفہ سے يہى روايت بيان كى ہے اور اس ميں انہوں نے يہ زيادہ كيا ہے كہ:

ابو جحيفہ نے موت تك پيٹ بھر كر نہيں كھايا، جب وہ دوپہر كا كھانا كھا ليتے تو رات كو نہ كھاتے، اور جب رات كو كھا ليتے تو دوپہر كا كھانا نہ كھاتے.

اور ابن ابى الدنيا كى ايك روايت ميں ہے:

ابو جحيفہ كہتے ہيں: ميں تيس برس سے اپنا پيٹ نہيں بھرا.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى.

زيادہ كھانا ترك كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ كھانا بتدريج اور آہستہ آہستہ كم كيا جائے، اس ليے كہ جو شخص زيادہ كھانے كا عادى ہو اور يكبارگى كھانے ميں كمى كرنے پر اس ميں كمزورى اور نقاہت آ جائيگى، اور اس كى مشقت بڑھ جائيگى، اس ليے اسے تھوڑا تھوڑا كھانا كم كرنا چاہيے، وہ اس طرح كہ عادتا كھانے ميں كچھ كمى كرتا رہے حتى كہ كھانے اعتدال حد ميں چلا جائے.

سوم:

اگر نماز باجماعت كى ادائيگى سنت مؤكدہ ہے، يا پھر اول وقت ميں نماز ادا كرنا افضل ہے تو اس كا معنى يہ ہوا كہ ہميں اس كو مضبوطى سے تھامنا چاہيے، اور اس كى مداومت اور حرص كريں، نہ كہ اس كى ادائيگى ميں سستى و كاہلى سے كام ليں، ہميں اللہ تعالى كا شكر بجا لانا اور اس كى تعريف كرنى چاہيے كہ اس نے ہمارے ليے عبادت اور خير كے طريقے، اور سنن ہدى مشروع كى ہيں، اور ہميں اپنوں سے پہلى نسل اور سلف كے حال سے عبرت حاصل كرنى چاہيے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

" جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو وہ ان نماز پنجگانہ كى ادائيگى وہاں كرے جس جگہ اس كى اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے تمہارے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن ہدى مشروع كى ہيں، اور يہ نمازيں سنن ہدى ميں سے ہيں، اگر تم پيچھے رہ كر اپنے گھر ميں نماز ادا كرنے والے شضص كى طرح گھروں ميں ہى نماز ادا كرنے لگو تو تم نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ترك كى تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح طہارت كر كے بہترين وضوء كرتا ہے پھر ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد كى طرف جاتا ہے تو اللہ تعالى ہر قدم كے بدلے اس كے ليے ايك نيكى لكھتا ہے، اور ايك درجہ بلند فرماتا ہے، اور اس كى ايك غلطى معاف كرتا ہے، ہم نے ديكھا ہے كہ اس نماز سے پيچھے صرف منافق ہى رہتا ہے جس كا نفاق معلوم ہو، ايك شخص كو دو آدميوں كے درميان پكڑ كر لايا جاتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا تھا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

يہ تو اس صورت ميں ہے جب ہم فرض كريں كہ نماز باجماعت ادا كرنا سنت مؤكدہ ہے، بہت سے سوالات كے جوابات ميں نماز باجماعت كے وجوب كا بيان ہو چكا ہے.

اس كى تفصيل آپ مندرجہ ذيل سوالات ميں ديكھ سكتے ہيں: \

( 120 ) اور ( 8918 ) اور ( 10292 ) اور ( 21498 ) اور ( 40113 ).

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ ہميں اور آپ كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جو اس كى محبت اور رضا كے باعث ہوں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


كيا وہ والدہ كى طرف سے حج كرے كا والد كى جانب سے ؟
الحمد للہ ميں حج كر چكا ہوں اور ميرے والدين فوت ہو چكے ہيں ميں ان كى جانب سے حج كرنا چاہتا ہوں كيا والدہ كى طرف سے پہلے حج كروں ؟
اور اگر دونوں كى طرف سے حج كرتا ہوں تو دوسرے كے ليے مجھے قرض حاصل كر كے كسى دوسرے شخص كو حج بدل كروانا ہو گا ؟

الحمد للہ :

حسن سلوك ميں والدہ كا مقام والد سے زيادہ ہے اس ليے والدہ حسن سلوك كى زيادہ مستحق ہے:

بخارى اور مسلم رحمہما اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

ايك شخص رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر كہنے لگا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ لوگوں ميں سے سب سے زيادہ ميرے حسن سلوك كا مستحق كون ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى والدہ، اس شخص نے كہا: پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى والدہ، وہ شخص كہنے لگا: پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى والدہ، اس شخص نے كہا پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: پھر تيرا والد "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5971 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2548)

ابن بطال رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس كا تقاضا يہ ہے كہ والد كى بنسبت والدہ تين حصے زيادہ حسن سلوك كى مستحق ہے، ان كا كہنا ہے كہ: يہ حمل اور پھر وضع حمل اور پھر دودھ پلانے كى صعوبت برداشت كرنے كى بنا پر ہے، اور اس ميں ماں كو انفرادى حيثيت حاصل ہے اور وہى يہ بوجھ اور تكليف برداشت كرتى ہے، پھر والد تربيت ميں شامل ہوتا ہے.

اور اس كا اشارہ مندرجہ ذيل فرمان بارى ميں موجود ہے:

﴿اور ہم نے انسان كو اس كے ماں باپ كے متعلق نصيحت كى ہے، اس كى ماں نے دكھ پر دكھ اٹھا كر اسے حمل ميں ركھا اور اس كى دودھ چھڑائى دو برس ميں ہے ﴾لقمان ( 14 ).

اللہ تعالى نے نصيحت ميں برابرى كى اور والدہ كو تين امور ميں خصوصيت سے نوازا.

قرطبى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

مراد يہ ہے كہ نيكى اور حسن سلوك ميں والدہ كو زيادہ حق حاصل ہے اور حقوق زيادہ ہونے كے وقت والدہ كے حقوق كو مقدم كيا جائے گا.

اور قاضى عياض رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جمہور علماء كرام كا كہنا ہے كہ نيكى اور احسان ميں والدہ كو والد سے مقدم كيا جائے گا.

اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ: نيكى ميں دونوں برابر ہيں، ليكن صحيح پہلا قول ہى ہے. انتہى

ماخوذ از فتح البارى لابن حجر.

اور مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس حديث ميں الصحابۃ صحبۃ كے معنى ميں ہے، علماء كرام كا كہنا ہے كہ والدہ كو مقدم كرنے كا سبب اولاد كے متعلق اس كى تكاليف كا زيادہ ہونا ہے، اور ماں كى اولاد پر شفقت اور خدمت كرنا اور حمل اور پھر جننے اور پھر دودھ پلانے كى مشقت برداشت كرنے، اور پھر بچے كى تربيت اور اس كى بيمارى وغيرہ كا خيال كرنے كى بنا پر ہے. انتہى

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے اس جيسے مسئلہ كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

پہلے اپنى والدہ كى جانب سے حج كرو كيونكہ ماں باپ سے نيكى اور حسن سلوك كى زيادہ حقدار ہے، يہ تو فرضى حج ميں ہے، ليكن اگر ماں كى طرف سے نفلى حج ہو اور باپ كا فرضى تو پھر والد كا حج پہلے كيا جائيگا كيونكہ يہ فرضى ہے.

ليكن والد كى جانب سے حج كرنے كے ليے آپ رقم قرض نہ ليں، اور اگر آئندہ برس آپ قدرت ركھيں تو والد كى جانب سے حج كر ليں، اور آپ كا والد كى جانب سے خود حج كرنا كسى دوسرے كو حج ميں نائب بنانے سے بہتر اور افضل ہے، كيونكہ آپ كا اپنے والد كے ليے اخلاص كسى دوسرے كا آپ كے والد كے ليے اخلاص سے زيادہ ہو گا.

اس ليے ہم يہ كہتے ہيں كہ: اپنے والد كى جانب سے حج كرنے كے ليے آپ قرض حاصل نہ كريں تا كہ كسى كو والد كى جانب سے حج بدل كروائيں، بلكہ اس برس جب آپ كو استطاعت حاصل ہے تو اپنى والدہ كى جانب سے حج كر ليں، اور آئندہ برس اگر طاقت ہوئى تو اپنے والد كى جانب سے حج كر ليں. انتہى

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 21 / 134 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


کیا بیٹے اوربیٹی کو والدین کے اختیار کردہ رشتہ سے انکار کا حق ہے
والدین کو اپنے بچے کا رفیق حیات اختیار کرنے میں کہاں تک حق حاصل ہے ، اورکیا اگر وہ بیٹی کو اپنے کسی رشتہ دار سے شادی پرمجبور کریں جسے بیٹی نہیں چاہتی تو اس کا حکم کیا ہوگا ؟
اور اگر بیٹی انکار کردے تووہ کس حد تک گنہگار ہوگی ، کیا والدین کے اختیار کردہ شخص سے شادی نہ کرنے کا بیٹی کو اختیار ہے ؟

الحمدللہ

شروط نکاح میں یہ شامل ہے کہ خاوند اوربیوی دونوں کی عقد نکاح پر رضامندی ہو جس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث میں موجود ہے :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ، اورنہ ہی شادی شدہ بھی اس کے مشورہ کے بغیر بیاہی جاسکتی ہے ۔

صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت کیسے ہوگي ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ خاموشی اختیار کرلے ) صحیح بخاری حديث نمبر ( 5136 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1419 ) ۔

تونکاح کے لیے خاوند کی رضامندی ضروری ہے اوراسی طرح بیوی کی بھی رضامندی ہونا لازمی ہے ، لھذا والدین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بیٹے یا پھر بیٹی کی شادی اس سے کریں جسے وہ ناپسند کرتے ہوں ۔

لیکن اگر والدین نے شادی کے لیے ایسا رشتہ اختیار کیا ہو جونیک اورصالح اور اخلاقی لحاظ سے بھی صحیح ہو تو پھر بیٹے یا بیٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس میں اپنے والدین کی اطاعت کرے ، اس لیے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تمہارے پاس ایسا رشتہ آئے جس کے دین اوراخلاق کوتم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کردو ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1084 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1967 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 865 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

لیکن اگروالدین کی یہ اطاعت بعد میں علیحدگي کا باعث بنے تو پھر اس میں والدین کی اطاعت لازم نہيں ، اس لیے کہ ازدواجی تعلقات کی اساس ہی رضامندی ہے ، اورپھر یہ رضامندی شریعت کے موافق ہونی ضروری ہے ، وہ اس طرح کہ بچے یا بچی کو دین اوراخلاق والے شریک حیات پر راضي ہونا چاہیے ۔

الشيخ ڈاکٹر خالد المشیقح

اوراگر بچہ اس میں والدین کی اطاعت نہیں کرتا تو نافرمان شمار نہيں ہوگا ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

والدین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بچے کو اس سے نکاح کرنے پر مجبور کریں جس سے وہ نکاح نہيں کرنا چاہتا ، اوراگر وہ نکاح نہيں کرتا تو اس سے وہ نافرمان اورعاق نہيں ہوگا ، جس طرح کہ اگر کوئي چيز نہ کھانا چاہے ۔ دیکھیں الاختیارات ( 344 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


کیا بیٹا والد کی رضامندی کےبغیر شادی کرسکتاہے ؟
کیا کوئي شخص اپنے والد کی رضامندی کے بغیر دینی اوراخلاقی لحاظ سے پسندیدہ لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟
الحمد للہ
جب بیٹا کسی دینی اوراخلاقی لحاظ سے اچھی لڑکی کواختیار کرتا ہے تو وہ اس میں غلطی پر نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت بھی یہی ہے کہ جوبھی نکاح کرنا چاہے وہ دین اوراخلاق والی لڑکی اختیار کرے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( عورت سے چاروجوہات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے ، اس کے مال ودولت کی وجہ سے ، اس کےحسب ونسب کی وجہ سے ، اوراس کی حسن خوبصورتی کی وجہ سے ، اوراس کے دین کی وجہ سے ، تمہارے ہاتھ خاک میں ملیں تم دین والی کو اختیار کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4802 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1466 ) ۔

ذيل میں ہم آپ اورآپ کے والد صاحب کے لیے شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کی نصیحت پیش کرتے ہیں جو آپ کے موضوع سے ہی متعلقہ ہے :

اس سوال کا تقاضا ہے کہ ہم دو طرح کی نصیحت کریں ۔

پہلی نصیحت : آپ کے والد کے لیے ہے کہ وہ آپ کو دین اوراچھے اخلاق کی مالکہ عورت سےشادی نہیں کرنے دیتا بلکہ آپ کے والد پر واجب ہے کہ وہ آپ کو اس لڑکی سے شادی کی اجازت دے دے اورانکار پر اصرار نہ کرے ، لیکن اگر اس کے پاس کوئي شرعی عذر ہے تو وہ آپ کے سامنے بیان کرے اوربتائے تا کہ آپ بھی مطمئن ہوں ۔

اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اس کا والد اسے ایک دین والی اوراچھے اخلاق کی مالک لڑکی سے شادی نہ کرنے دے تو کیا وہ نہیں سوچے گا کہ اس میں اس کی آزادی سلب کی گئي ہے اوراسے دبایا جارہا ہے ؟

جب وہ اپنے والدکی طرف سے ایسا ہونے میں خوش نہیں تو پھر وہ اس پر کیسے راضي ہورہا ہے کہ اس سے خود اپنے بیٹے کے حق میں ایسا ہو ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو فرمان ہے کہ :

( تم میں اس وقت تک کوئي مومن ہی نہيں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائي کے لیے بھی وہی چيز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ) ۔

لھذا آپ کے والد کے لیے ایسا کرنا حلال نہیں کہ وہ اس لڑکی سے آپ کو بغیر کسی شرعی سبب کے شادی نہ کرنے دے ، اوراگر کوئي شرعی سبب ہے تواسے بیان کرنا چاہیے کہ تا کہ آپ کو بھی اس کا علم ہو ۔

اورسائل کو ہماری یہ نصحیت ہے کہ :

میں یہ کہوں گا کہ اگر آپ اس عورت کو چھوڑ کر کسی اورعورت سے شادی کرليں تا کہ آپ کے والدہ صاحب بھی راضي ہوجائيں اورتفرقہ بھی نہ پڑے اگر ایسا کرنا ممکن ہو تو آپ ایسا کرلیں ۔

اوراگر یہ نہیں ہوسکتا وہ اس طرح کہ آپ اس لڑکی سےمحبت کرنے لگے ہیں اورآپ کو یہ بھی خدشہ ہو کہ اگر کسی اور عورت سے منگنی کروں تو وہاں بھی والد شادی نہیں کرنے دیں گے – کیونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں غیرت یا پھر حسد ہوتا ہے چاہے وہ اپنے بیٹوں کے بارہ میں ہی کیوں نہ ہو وہ اپنے بیٹوں کو بھی اپنی مرضی کا کام نہیں کرنے دیتے بلکہ اس سے منع کرتے ہیں ۔

میں یہ کہوں گا کہ جب آپ کو اس کا خدشہ ہو اورآپ اس عورت سے محبت کرنے لگے ہیں اورصبر نہيں کرسکتے تو پھر آپ کےلیے کوئي حرج نہيں آپ اس لڑکی سے شادی کرليں چاہے آپ کے والد ناپسند ہی کریں ، ہوسکتا ہے کہ شادی کے بعد وہ مطمئن ہوجائيں اور رضامندی کا اظہار کرنے لگیں اوران کے دل میں جو کچھ ناراضگي ہے وہ ختم ہوجائے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ دونوں معاملوں میں سے جو بھی آپ کے لیے اچھا ہو اس میں آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائے ۔

دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 4 / 193- 194 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
والدین سے حسن سلوک