وسوسہ اوراس کا علاج

وسوسہ اوراس کا علاج

وسوسے كے شكار شخص كا بہت زيادہ قسميں اٹھانا اور توڑنا. وسوسہ كى بيمارى ميں مبتلا عورت عبادت ميں شك كرتى ہے. وسوسہ اوراس کا علاج .

وسوسے كے شكار شخص كا بہت زيادہ قسميں اٹھانا اور توڑنا
وسوسے كے شكار شخص نے كئى ايك قسميں اٹھائيں كہ وہ عمل بار بار نہيں كريگا، ليكن قسم توڑ دى، اس پر بہت سى قسميں اور عہد جمع ہو چكے ہيں، جس كى تعداد كا علم اللہ ہى كو ہے، اور اسے وسوسہ كى بيمارى بھى ہے، سابقہ قسموں كا كفارہ كيسے ادا كرے ؟

الحمد للہ:

اول:

جس شخص نے بھى كئى ايك قسميں اٹھائيں، اور قسم توڑ دى اور كسى ايك كا بھى كفارہ ادا نہ كيا تو اس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

ايك ہى چيز پر قسم اٹھائى گئى ہو، مثلا وہ يہ كہے: اللہ كى قسم ميں سگرٹ نوشى نہيں كرونگا، پھر قسم توڑ دے، اور اپنى قسم كا كفارہ ادا نہ كرے، پھر دوبارہ قسم اٹھائى كہ وہ سگرٹ نوشى نہيں كريگا، اور پھر قسم توڑ دے..... تو اسے ايك كفارہ ہى لازم آئيگا.

دوسرى حالت:

اس كى قسميں مختلف قسم كے كاموں پر ہوں، مثلا وہ اس طرح كہے: اللہ كى قسم ميں سگرٹ نوشى نہيں كرونگا، اللہ كى قسم ميں فلاں جگہ نہيں جاؤنگا، اور پھر ان سب قسموں كو توڑ دے، تو كيا اس پر ايك ہى كفارہ لازم آتا ہے يا قسموں كى تعداد كے مطابق ؟

اس مسئلہ ميں فقھاء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، جمہور كے ہاں كفارہ قسموں كى تعداد كے مطابق ہوگا، اور حنابلہ يہ كہتے ہيں كہ: اس پر ايك كفارہ ہى لازم آتا ہے.

ليكن اس ميں راجح مسلك جمہور علماء كا ہے؛ كيونكہ اس نے مختلف كاموں پر قسميں اٹھائيں تھيں، اس ليے ايك قسم توڑنے سے دوسرى نہيں ٹوٹتي، اور يہ ايك دوسرے ميں داخل نہيں ہونگى.

المغنى ابن قدامہ ( 9 / 406 ) بھى ديكھيں.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ميں نوجوان ہوں اور ميں نے تين بار سے زيادہ قسم اٹھائى كہ ميں حرام كام كے ارتكاب سے توبہ كرونگا، ميرا سوال يہ ہے كہ:

كيا مجھ پر ايك كفارہ لازم آتا ہے يا كہ تين، اور كفارہ كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" آپ كے ذمہ ايك ہى كفارہ ہے اور وہ يہ كہ: دس مسكينوں كو كھانا دينا، يا انہيں لباس مہيا كرنا، يا ايك غلام آزاد كرنا، اور جو يہ نہ پائے تو وہ تين روز ركھ لے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہارا لغو قسموں ميں مؤاخذہ نہيں كرتا، ليكن اس كا مؤاخذہ كرتا ہے جو تم نے پختہ قسم اٹھائى ہے، اس كا كفارہ يہ ہے كہ دس مسكينوں كو اوسط درجے كا كھانا ديا جائے جو تم اپنے اہل وعيال كو كھلاتے ہو، يا ان كے كپڑے دينا، يا ايك غلام آزاد كرنا، اور جو يہ نہ پائے تو وہ تين يوم كے روزے ركھے، يہ تمہارى قسموں كا كفارہ ہے جب تم قسم اٹھاؤ، اور تم اپنى قسموں كا خيال ركھو ﴾المآئدۃ ( 89 ).

اور اسى طرح كسى ايك فعل كے كرنے يا كسى ايك چيز كے كرنے پر ہر قسم چاہے اس ميں تكرار ہو تو اس ميں پہلى كا كفارہ نہ ديا گيا ہو تو ان سب ميں ايك كفارہ ہى ہوگا، ليكن اگر پہلى قسم كا كفارہ ادا كر ديا گيا ہو اور پھر دوبارہ قسم اٹھائى تو قسم توڑنے كى صورت ميں اس پر دوبارہ كفارہ ہوگا، اور اسى طرح اگر تيسرى بار اٹھائے اور دوسرى كا كفارہ ادا كر ديا ہو تو اس كے ذمہ تيسرا كفارہ ہوگا.

ليكن اگر اس نے كئى ايك افعال كرنے يا متعدد افعال ترك كرنے پر تكرار كے ساتھ قسميں اٹھائيں تو اس كے ذمہ ہر قسم كا كفارہ ہے، مثلا اگر وہ كہے:

اللہ كى قسم ميں فلاں شخص سے كلام نہيں كرونگا، اللہ كى قسم ميں كھانا نہيں كھاؤنگا، اللہ كى قسم ميں اس جگہ كا سفر نہيں كرونگا، يا يہ كہے: اللہ كى قسم ميں فلاں شخص سے ضرور كلام كرونگا، اللہ كى قسم ميں اسے ضرور مارونگا، يا اس طرح كى دوسرى كلام كرے.

مسكين كو كھانا دينے ميں واجب يہ ہے كہ ہر مسكين كو نصف صاع اپنے علاقے ميں كھايا جانے والا غلہ ديا جائے، جو تقريبا ڈيرھ كلو بنتا ہے.

اور كپڑے ميں وہ چيز دى جائيگى جو نماز كى ادائيگى ميں كفائت كرتى ہو مثلا قميص اور سلوار، يا تہہ بند، اور اگر انہيں وہ دوپہر يا رات كا كھانا كھلا دے تو اوپر بيان كردہ آيت كى عموم كے مطابق كفائت كر جائيگا.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 23 / 145 ).

دوم:

اگر جس شخص كے بارہ ميں سوال كيا گيا ہے وہ وسوسہ كا شكار ہے اور اس نے يہ قسميں وسوسہ كى تاثير كے تحت بغير كسى قصد اور ارادہ كے اٹھائى ہيں اور اسے قسم اٹھانے كى رغبت بھى نہ تھى تو اس كے ذمہ كچھ لازم نہيں آتا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" وسوسہ ميں شكار شخص كى طلاق واقع نہيں ہوگى چاہے وہ زبان سے الفاظ بھى ادا كر دے جب تك قصد نہ ہو، كيونكہ وسوسہ كے شكار شخص سے يہ الفاظ بغير كسى ارادہ اور قصد كے ادا ہوتے ہيں، بلكہ وسوسہ كى قوت اور قلت مانع كى وجہ سے وہ يہ الفاظ كہنے پر مجبور اور مكرہ ہوتا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اكراہ ميں طلاق نہيں ہوتى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1874 ).

اس ليے اگر وہ حقيقى ارادہ اور اطمنان كے ساتھ نہ ہو تو طلاق واقع نہيں ہوگى، تو يہ چيز اس پر بغير كسى قصد اور ارادہ اور اختيار كے ٹھونسى گئى ہے تو اس سے طلاق واقع نہيں ہوگى " انتہى.

ماخوذ از: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 277 ).

اور جب طلاق ميں يہ مسئلہ ہے تو پھر قسم كے باب ميں بدرجہ اولى ہوگا، كيونكہ نكاح كا معاملہ تو قسم كے معاملے سے بھى زيادہ عظيم ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب


وسوسہ كى بيمارى ميں مبتلا عورت عبادت ميں شك كرتى ہے
ميں روزہ كے متعلق وسوسہ كى شديد بيمارى ميں مبتلا ہوں جس كا بشرى عقل تصور بھى نہيں كر سكتى، رمضان المبارك ميں جب ميں روزہ كى حالت ميں ہوتى ہوں تو چھوٹے سے چھوٹے سبب كى وجہ سے كئى قسم كے وسوسے پيدا ہوتے ہيں، فجر سے قبل اور بعد ميں يہى ہوتا ہے كہ ميرا روزہ صحيح نہيں، اور بعض اوقات تو مغرب سے قبل بھى پيدا ہوتا ہے.
جس كى بنا پر ميں نے اس دن كا روزہ بھى ركھا ہوتا ہے ليكن پھر بھى نيت كرتى ہوں اس دن كا روزہ دوبارہ ركھوں گى، اور جب رمضان المبارك ختم ہو جاتا ہے تو دل ميں كہتى ہوں كہ صرف رہنے والے روزے ہى ركھونگى كيونكہ باقى ايام كے روزے تو ركھے تھے.
ليكن مجھے دوبارہ وسوسے گھير ليتے ہيں كہ ميں نے تو روزے دوبارہ ركھنے كى نيت كى تھى، اب مجھے يہ پتہ نہيں چلتا كہ آيا ميں يہ روزے دوبارہ ركھوں يا كہ اللہ تعالى سے وہى روزے قبول كرنے كى دعاء كروں ؟
اس پر مستزاد يہ كہ رجب، شعبان اور رمضان ميں مجھے طہر اور پاكى ہونے كے بعد پھر زرد قسم كا مادہ آيا تھا، اور پھر اس كے بعد كسى بھى ماہ نہيں آيا يعنى ان تين ماہ كے بعد ماہوارى سے پاك ہونے كى نشانى كے بعد كوئى زرد قسم كا مادہ يا گدلا پانى نہيں آيا، جو ان وسوسوں كا بہت زيادہ ممد و معاون ثابت ہوا ہے، اور رمضان كے بعد ان وسوسوں كى بنا پر ميرے بہت سے ايام ضائع ہوئے كبھى تو ميں نيت ہى نہ كر سكى، اور كبھى دو نيتيں ہو گئيں، يہ چيز ميرے حلق ميں اٹكى ہوئى ہے، اور رمضان المبارك پھر قريب آ گيا ہے، ليكن ميں پچھلے رمضان كى قضاء بھى نہيں كر سكى، ميں اس حالت ميں پہنچ چكى ہو جو اللہ كے علاوہ كسى كو علم نہيں، برائے مہربانى مجھے اس مسئلہ ميں معلومات فراہم كريں.

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو اس وسوسے كى بيمارى سے شفايابى نصيب فرمائے؛ كيونكہ وسوسہ ايك ايسى بيمارى ہے جس كے راستہ سے شيطان داخل ہو كر مؤمن كو غمزدہ اور پريشان كرتا ہے، ہم آپ كو صبر كى تلقين كرتے ہيں، اور آپ سے گزارش ہے كہ آپ اللہ كى طرف رجوع كريں، اور اسى سے عافيت و درگزر كا سوال كريں، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا ہے.

اور آپ كو يہ بھى علم ميں ہونا چاہيے كہ وسوسے كا سب سے بہتر علاج وسوسے سے اعراض كرنا ہے، اور اس كى طرف دھيان نہ دينا ہے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 62839 ) اور ( 25778 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

آپ كے روزے صحيح ہيں، اور ان روزں كا اعادہ اور قضاء لازم نہيں، چاہے آپ نے دوبارہ ركھنے كى نيت بھى كى تھى، كيونكہ ـ جيسا كہ آپ كو علم ہے كہ وسوسے كى ـ كوئى حقيقت نہيں ہوتى.

آپ سول نمبر ( 39684 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

سوم:

ماہوارى ختم ہونے كى نشانى ظاہر ہونے كے بعد گدلا پانى يا زرد مادہ آنا حيض شمار نہيں ہوتا؛ كيونكہ ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" طہر يعنى پاكى ظاہر ہونے كے بعد ہم گدلا پانى اور زرد مادہ كو كچھ بھى شمار نہيں كرتى تھيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 326 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 307 ) يہ الفاظ ابو داود كے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب


وسوسہ اوراس کا علاج
جب مجھے وسوسہ پیدا ہواورمیں بیوی کی بات کا وسوسے کے سبب جواب نہ دوں یا پھر اپنے اس اعتقاد کی بنا پر کہ بیوی ہی اس وسوسے کا سبب ہے توکیا میرا جواب نہ دینا طلاق شمارہوگا ؟
اورجب میں اس سے عصیبیت اورانفعال سے یا متاثرہوکر بات کروں توکیا اسے طلاق شمار کیا جاۓ گا ؟

الحمدللہ

آپ کا بیوی کوجواب نہ دینا طلاق شمار نہیں ہوگا ، اوراسی طرح عصبیت اورانفعال میں کی گئي بات بھی طلاق شمار نہيں ہوگی ۔

جتنا بھی آپ طلاق کے متعلق سوچ لیں یا پھراپنے آپ سے اندر ہی اندر کہتے رہیں یا عزم کرلیں طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوگی جب تک آپ الفاظ کی شکل میں زبان سے ادا نہیں کرتے ۔

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( بلاشبہ اللہ تعالی نے میری امت سے اس کے وسوسے ، اوران کے دل کی بات جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرلیں یا زبان سے بات نہ کرلیں معاف کردی ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6664 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 127 ) ۔

اہل علم کے ہاں عمل بھی اسی پر ہے کہ جب انسان اپنے دل میں ہی طلاق کی بات کرے اوراسے زبان پر نہ لاۓ تو وہ کچھ بھی نہيں ۔

بلکہ بعض اہل علم کے ہاں تووسوسےمیں مبتلاشخص کی طلاق واقع ہی نہیں ہوتی چاہے وہ زبان سے بھی طلاق کے الفاظ بول دے ، لیکن اس سے اس کا طلاق دینے کا ارادہ نہ ہو ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

( وسوسے میں مبتلا شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ وہ زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کردے اوراس سے طلاق مقصد نہ ہو ، اس لیے کہ یہ الفاظ وسوسے والے شخص بغیر ارادہ اورقصد کے ادا ہوۓ ہیں ، بلکہ وہ اس پر مبہم ہے جوکہ قلت منع اورقوت دافع کی وجہ سے ادا ہوۓ‌ ہيں ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

" ابہام میں طلاق نہيں "

لھذا اس سے اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اطمنان اورحقیقی ارادہ سے طلاق نہ دے ، تویہ چيز جس پروہ بغیر قصد اوراختیار کے بغیر مجبورکیا گيا ہے یقینا اس سے طلاق واقع نہيں ہوتی ) انتہی ۔ دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 3 / 277 ) ۔

ہم آپ کووصیت کرتے ہیں کہ آپ وسوسے کی طرف متوجہ ہی نہ ہوں اوراس سے اعراض کرتے ہوۓ جس چيز کی دعوت وسوسہ دے اس کی مخالفت کریں ، اس لیے کہ وسوسہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے تا کہ وہ مومنوں کوپریشانی میں مبتلا اورغمگین کرے ۔

وسوسے کا سب سے بہتر اور اچھا علاج اللہ تعالی کا کثرت سے ذکر اورشیطان مردود سے پناہ اورمعاصی و گناہوں سے دور رہنا ہےجس کی وجہ سے شیطان اولاد آدم پر مسلط ہوتا ہے ۔

اللہ جل شانہ کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ یقینا ( شیطان ) کے لیے ان لوگوں پرکوئی طاقت اورزور نہيں چلتا جو ایمان لائيں اوراپنے رب پر توکل کریں } النحل ( 99 ) ۔

بہتر ہے کہ ہم یہاں پر ابن حجر ھیتمی رحمہ اللہ تعالی نے جووسوسے کا علاج بیان کیا ہے وہ نقل کرتے جائيں :

ابن حجر رحمہ اللہ تعالی ( اللہ ان سے نفع دے ) سے جب وسوسے کی بیماری کا علاج دریافت کیا گیا تو ان کا جواب تھا :

اس کی بہت ہی فائدہ منداورنفع بخش دوا موجود ہے ، وہ یہ کہ اس سے مکمل طور پراعراض ہی کافی ہے ۔

اگر نفس میں کسی قسم کا تردد ہو توجب اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا جاۓ گا اوراس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا جاۓ تو وہ تردد اوروسوسہ کبھی بھی نہیں ٹھر سکتا بلکہ کچھ مدت کے بعد ہی وہ غائب ہوجائیگا ، جیسا کہ اس کا تجربہ بھی بہت سے اچھے لوگوں نے کیا ہے ۔

لیکن اگر اس کی طرف متوجہ ہوکراوردھیان دے کر اس کے تقاضے پر عمل کیا جاۓ گا تو وہ اورزيادہ ہوتا چلا جاۓ گا حتی کہ اسے مجنونوں اورپاگلوں تک پہنچا دے گا بلکہ اس سے بھی قبیح شکل میں لے جاۓگا ، جیسا کہ ہم نے بہت سے لوگوں کا مشاہدہ کیا ہے جواس بیماری میں مبتلا ہوۓ اوراس کی اوراس کے شیطان کی طرف متوجہ ہوۓ

جس کے بارہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کرتے ہوۓ کچھ اس طرح فرمایا :

( پانی کے وسوسہ ولھان سے بچو ) یعنی جوکچھ اس میں مبالغہ اورلھو ہے اس کی وجہ سے بچو جیسا کہ اس کے متعلق شرح مشکاۃ الانوار میں بیان کیا گیا ہے ، اورصحیح بخاری اورصحیح مسلم میں اس کی تائيد بھی آئي ہے جومیں نے ذکر کی ہے کہ جوبھی وسوسہ میں مبتلا ہواسے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنی چاہیۓ اوروہ اس وسوسہ سے رک جاۓ ۔

توآپ اس علاج پر ذرا غور وفکر اورتامل کریں جسے ایسے شخص نے تجویز کیا ہے جواپنی امت کے لیے خود بولتا ہی نہيں ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ جواس سے محروم ہوا وہ ہر قسم کی بھلائی اورخير سے محروم ہوگيا ، اس لیے کہ وسوسہ بالاتفاق شیطان کی طرف سے ہے وہ ایسا لنعتی ہے جس کی مراد کی کوئي انتہاء ہی نہیں بلکہ وہ تومومن کوضلالت و گمراہی اورپریشانی ، زندگی کی بربادی ، اورنفس کواندیھرے میں ڈال دیتا ہے اوروہاں تک لےجاتا ہے کہ اسے اسلام سے ہی خارج کردے اوراسے اس کا شعور اور علم تک نہیں ہوتا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے توتم اسے دشمن ہی بنا کررکھو } فاطر (6)

ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ : ( جووسوسہ میں مبتلا ہواسے یہ کہنا چاہيۓ : میں اللہ تعالی اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا )

اس میں کوئي شک نہیں کہ جوبھی اپنے ذھن میں انبیاء کے طریقے اورسنت رکھے اورخاص کر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اورشریعت جسے وہ آسان و سہل اورواضع اوربالکل صاف شفاف جس میں کسی قسم کا کوئي حرج نہیں وہ آسانی پاۓ گا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ اوراس نے تم پر دین میں کوئی حرج نہیں بنایا } الحج ( 78 ) ۔

جوبھی اس پر غوروفکر اورتامل کرتا اورحقیقی ایمان لاۓ اس سے وسوسہ کی بیماری اورشیطان کی طرف دھیان دینے کی بیماری جاتی رہتی ہے ، ابن سنی کی کتاب میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ :

جوبھی اس وسوسے میں مبتلا ہو اسے تین باریہ کہنا چاہیۓ : ہم اللہ تعالی ، اوراس کے رسولوں پر ایمان لاۓ ، اس سے اس کا وسوسہ جاتا رہے گا ۔

عز بن عبدالسلام وغیرہ نے بھی اسی طرح ذکرکیا ہے جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے ، ان کا کہنا ہے :

وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ : یہ اعتقاد رکھے کہ یہ ایک شیطانی سوچ ہے ، اورابلیس ہی ہے جس نے یہ سب کچھ اس کے ذہن میں ڈالا اوراس سے لڑ رہا ہے ، تواس سے اسے مجاھد کا ثواب حاصل ہوگا ، اس لیے کہ وہ اللہ تعالی کے دشمن سے لڑ رہا ہے ۔

اورجب وہ اسے محسوس کرے گا تواس سے بھاگ جاۓ گا ، اوریہ اسی سے ہےجس سے نوع انسانی شروع سے مبتلا رہی اوراللہ تعالی نے اسے اس پر بطور آزمائش مسلط کردیا تا کہ اللہ تعالی حق کوثابت اورباطل کوختم کرے اوراگرچہ کافر اس کو برا ہی جانتیں رہیں ۔

اورصحیح مسلم میں عثمان بن ابی العاص رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ شیطان میرے اورمیری نماز اورقرات کے درمیان حائل ہوگیا ، میں نے اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا توآپ نے فرمایا :

یہ شیطان جسے خنزب کہا جاتا ہے ، تواس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کر اوراپنی بائيں جانب تین بار تھوک ، میں نے ایسے ہی کیا تواللہ تعالی نے مجھ سے اسے دور کردیا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2203 ) ۔

تواس سے آپ کو علم ہوگا کہ میں نے جوکچھ بیان کیا ہے وہ صحیح ہے کہ وسوسہ صرف اس پر مسلط ہوتا ہے جس پر جہالت طاری ہواوروہ تمیز کرنے سے عاری ہوجاۓ ، لیکن جوحقیقی علم رکھے اورباعقل ہو تووہ اتباع سے نہیں نکلتا اورنہ ہی اس میں بدعات پائي جاتی ہیں ۔

اورسب سے قبیح اوربرے بدعتی وہ ہیں جنہیں وسوسوں نے گھیررکھا ہے اسی لیے امام مالک رحمہ اللہ تعالی نے اپنے شیخ ربیعہ جوکہ ان کے زمانے کے امام تھے کہا ہے :

ربیع لوگوں میں سے دوکاموں استبراء اوروضوء میں سب سے زيادہ تیز اورآگے تھے ، حتی کہ اگر ان کے علاوہ کوئي اور ہوتا تومیں کہتا کہ اس نے نہیں کیا ، شائد وہ اپنے اس قول ( اس نے نہیں کیا ) سے مراد وضوء نہيں کیا ہو۔

اورابن ھرمز استبراء ( برات طلب کرنے ) اوروضوء میں بہت زيادہ سست تھے ، اوروہ کہتے تھے کہ میں آزمائش میں ہوں میری اقتداء نہ کرو ۔

اورامام نووی رحمہ اللہ تعالی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ :

جوشخص وضوء یا پھر نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہوجاۓ تو اس کے لیے لااٍله اٍلاالله کہنا مستحب ہے ، اس لیے کہ شیطان جب یہ سنے گا توذلیل ہوکر پیچھے ہوجاۓ گا ، اور لااٍله اٍلاالله ذکر کی چوٹی اوربلندی ہے ، اوروسوسے کوختم کرنے کے لیے سب سے بہتر اوراچھا علاج کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے ۔۔۔۔ ) ابن حجرھیتمی رحمہ اللہ کی کلام ختم ہوئي

دیکھیں : الفتاوی الفقھیۃ ا لکبری ( 1 / 149 )

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہيں کہ وہ آپ کے وسوسوں کودورفرماۓ ، اورہمیں اورآپ کومزید ایمان اوراصلاح اورتقوی عطا فرماۓ آمین یا رب العالیمن ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
وسوسہ اوراس کا علاج