شعبان کا مہینہ

شعبان کا مہینہ

يوم شك كا روزہ ركھنا. شعبان کے آخر میں روزے رکھنا. نصف شعبان کے بعد قضائے رمضان کے روزے رکھنے میں کوئي حرج نہیں. كيا نصف شعبان كى رات اللہ تعالى آسمان دنيا پر نزول فرماتا ہے ؟. عبادت كے ليے نصف شعبان كى رات مخصوص كرنا. کیا شعبان کے پورے مہینہ میں روزے رکھنے مستحب ہیں. رمضان کی قضاءکا یوم شک میں روزہ رکھنا. شعبان كے آخرى دن اشعار اور كھانے كا اجتماع منعقد كرنا. روزوں کی قضاء میں تاخیر کرنا. ايام بيض اور شعبان كےمہينہ ميں روزے ركھنے كي ترغيب . رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا. اگر كل رمضان ہوا تو ميں روزہ سے ہوں. دوسرے رمضان كے بعد تك قضاء ميں تاخير كرنا اور قضاء سے قبل فديہ دينا.

يوم شك كا روزہ ركھنا
تيس شعبان كى رات ہم چاند ديكھنے نكلے، ليكن فضا ابر آلود تھى اور ہم چاند نہ ديكھ سكے، تو كيا ہم تيس شعبان كا روزہ ركھيں كيونكہ يہ شك والا دن ہے ؟

الحمد للہ:

اسے يوم شك كا نام ديا جاتا ہے ( كيونكہ اس ميں شك ہےكہ آيا يہ شعبان كا دن ہے يا يكم رمضان ) اور اس دن روزہ ركھنا حرام ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" چاند ديكھ كر روزہ ركھو اور چاند ديكھ كر ہى عيد الفطر مناؤ، اور اگر تم چاند چھپ جائے ( يعنى آسمان ابر آلود ہو جائے ) تو شعبان كے تيس دن پورے كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ).

اور عمار بن ياسر رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں كہ جس نے يوم شك كا روزہ ركھا اس نے ابوالقاسم صلى اللہ عليہ وسلم كى نافرمانى كى.

اسے ترمذى نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 553 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس حديث سے يوم شك ميں روزہ ركھنے كى حرمت پر استدلال كيا گيا ہے، كيونكہ صحابى ايسا اپنى رائے سے نہيں كہتا لہذا يہ مرفوع حديث ميں شامل ہو گا.

يوم شك كے متعلق مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

" سنت نبويہ اس دن كے روزہ كى حرمت پر دلالت كرتى ہے"

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 117 ).

اور شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى يوم شك ميں روزہ ركھنے كے حكم ميں اختلاف ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:

" اور ان اقوال ميں سے صحيح قول يہ ہے كہ اس دن روزہ ركھنا حرام ہے ليكن اگر امام ( يعنى حكمران ) كے ہاں اس دن كا روزہ ركھنے كا وجوب ثابت ہو جائے اور وہ لوگوں كوروزہ ركھنے كا حكم جارى كردے تو اس كى مخالفت نہيں كى جائيگى، اور اس كى عدم مخالفت يہ ہے كہ انسان اپنا روزہ چھوڑنا ظاہر نہ كرے، بلكہ وہ چورى چھپے روزہ چھوڑے"

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 318 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


شعبان کے آخر میں روزے رکھنا
کیا نصف شعبان کےبعد روزے رکھنے جائز ہيں ، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟
الحمد للہ
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جب نصف شعبان ہوجائے تو روزہ نہ رکھو ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 3237 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر( 1651 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 738 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ترمذی ( 590 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

لھذا یہ حدیث نصف شعبان یعنی سولہ شعبان سے روزہ رکھنے سے منع کرتی ہے ، لیکن اس کے علاوہ اوردوسری احادیث میں روزہ کا جواز بھی ملتا ہے ذیل میں ہم چند ایک احاديث ذکر کرتے ہيں :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ، لیکن وہ شخص جوپہلے روزہ رکھتا رہا ہے اسے روزہ رکھ لینا چاہیے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1914 ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 1082 ) ۔

یہ حدیث نصف شعبان کےبعد روزہ رکھنے کے جواز پردلالت کرتی ہے لیکن صرف اس شخص کےلیے جو عادتا روزہ رکھ رہا ہے مثلا کسی شخص کی عادت ہے کہ وہ پیر اورجمعرات کا روزہ رکھتا ہے یا پھر ایک دن روزہ رکھتا اوردوسرے دن نہيں رکھتا تو اس کے لیے جائز ہے ۔

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتےہيں کہ :

( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقریبا پورا شعبان ہی روزہ رکھا کرتے تھے ) یہ مسلم کے الفاظ ہیں دیکھيں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1970 ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 1156 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کا یہ کہنا کہ ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، اوراس میں سے چند ایک دن چھوڑ کر سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ) ، دوسرا جملہ پہلے کی شرح ہے ، اوراس کی وضاحت ہے کہ کلہ سے مراد غالبا ہے ا ھـ ۔

لھذا یہ حدیث نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے پر دلالت کرتی ہے لیکن صرف اس شخص کےلیے جونصف سے پہلے بھی روزہ رکھ رہا تھا ۔

اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے شافعیوں کا کہنا ہے کہ :

نصف شعبان کے بعد صرف اس کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو یا پھر پہلے نصف میں جس نے روزے رکھيں ہوں ۔

اکثر اہل علم کے ہاں صحیح بھی یہی ہے کیونکہ حدیث میں نہی تحریم کے لیے ہے ۔

اوربعض – مثلا رویانی – کا کہنا ہے کہ یہاں پرنہی تحریم کے لیے نہیں بلکہ کراہت کے لیے ہے ۔

دیکھیں : کتاب المجموع ( 6 / 399 - 400 ) فتح الباری ( 4 / 129 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی ریاض الصالحین میں کہتے ہيں :

نصف شعبان کے بعد رمضان سےایک یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت میں باب لیکن جس شخص کی روزہ رکھنے کی عادت ہو یا وہ پہلے سےرکھ رہا ہو اورآخر شعبان کو بھی ساتھ ملانا چاہے یا وہ جمعرات اورپیر کا روزہ رکھتا ہواس کے لیے جائز ہے ۔ ا ھـ دیکھیں ریاض الصالحین صفحہ ( 412 ) ۔

اورجمہور علماء کرام نے نصف شعبان کےبعد روزہ سےنہی والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ، لھذا وہ اس بنا پر کہتے ہيں کہ نصف شعبان کے بعدروزے رکھنے مکروہ نہيں ۔

حافظ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

جمہور علماء کہتےہيں کہ : نصف شعبان کے بعد نفلی روزے رکھنا جائز ہیں ، اوراس کی نہی میں وارد شدہ حدیث کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام احمد اورابن معین کا کہنا ہے کہ یہ منکرے ہے ۔ ا ھـ فتح الباری ۔اس حدیث کو صعیف کہنے والوں میں امام بیھقی اور امام طحاوی شامل ہیں ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے المغنی میں کچھ اس طرح کہا ہے :

امام احمد نے اس حدیث کے بارہ میں کچھ یوں کہا ہے :

یہ حدیث محفوظ نہیں ، ہم نے اس کے بارہ میں عبدالرحمن بن مھدی سے پوچھا توانہوں نے اسے صحیح قرار دیا اورنہ ہی اسے میرے لیےبیان ہی کیا ، بلکہ اس سے بچتے تھے ۔

امام احمد کہتےہیں : علاء ثقہ ہے اس کی احادیث میں سوائے اس حدیث کے انکار نہيں ۔ ا ھـ

علاء کون ہے :

وہ علاء بن عبدالرحمن اس حدیث کو اپنے والد سے اوروہ ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہيں :

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے تھذیب السنن میں اس حدیث کو ضعیف قرار دینے والوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے ، جس کا ماحاصل یہ ہے کہ :

یہ حدیث صحیح اورمسلم کی شرط پر ہے ، اورعلاء کا اس حدیث میں تفرد اس حدیث میں قدح شمار نہيں ہوگا ، کیونکہ علاء ثقہ ہے ، اورامام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں اس کی بہت سی احادیث روایت کی ہيں جوکہ اس سند علاء عن ابیہ عن ابوھریرہ سے ہیں ، اوربہت سے ایسی سنتیں ہیں جوثقات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متفرد بیان کی ہیں اورامت نے اسے قبول کرتے ہوئے اس پرعمل بھی کیا ہے ۔

پھر وہ کہتے ہيں :

اور شعبان کےروزوں والی احادیث کے بارہ میں معارض ہونے کاخیال کرنا صحیح نہیں کیونکہ ان میں کوئي معارضہ نہيں ہے ، کیونکہ وہ احاديث پہلے نصف کے دوسرے نصف کے ساتھ اورنصف شعبان میں عادتا رکھے جانے والے روزوں پردلالت کرتی ہے ، اورعلاء والی حدیث اس پردلالت کرتی ہے کہ نصف شعبان کے بعد جوشخص عمدا روزے رکھے اس کی لیے ممانعت ہے ، ناکہ عادتا اورنہ ہی جوپہلے نصف میں روزے رکھتا ہوا دوسرے نصف کو بھی ساتھ ملانا چاہے ۔ اھـ

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے والی نہی کی حدیث کے بارہ میں سوال کیا گيا تو ان کا جواب تھا :

یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ ہمارے بھائی علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ تعالی نے کہا ہے ، اوراس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے شروع کیے جائيں ، لیکن جوشخص مہینہ کے اکثرایام یا پھر تقریباسارا مہینہ ہی روزے رکھتا ہے تو وہ سنت پر عمل پیرا ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں مجموع فتاوی الشيح ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 15 / 385 ) ۔

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی ریاض الصالحین کی شرح میں کہتے ہیں :

اگر حدیث صحیح بھی ہو تو اس میں وارد نہی تحریم کے لیے نہيں بلکہ صرف کراہت کےلیے ہے ، جیسا کہ بعض اہل علم رحمہم اللہ نے بھی ایسا ہی اخذ کیا ہے ، لیکن جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو وہ روزہ رکھ سکتا ہے چاہے نصف شعبان کے بعد ہی کیوں نہ ہو ۔ ا ھـ

دیکھیں شرح ریاض الصالحین ( 3 / 394 )

جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ :

نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا یا تو کراہت یا پھر تحریم کی بنا پر منع کیا گيا ہے ، لیکن جوشخص عادتا رکھتا ہو یا پہلے نصف کو آخرشعبان کےساتھ ملائے اس کےجائز ہے ، واللہ تعالی اعلم ۔

اور اس نہی کی حکمت یہ ہے کہ مسلسل روزے رکھنے سے ہوسکتا ہے کہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں کمزوری آجائے ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر شعبان کے شروع سے ہی روزے کھے تو اس میں اوربھی زيادہ کمزوری پیدا ہوگي !

تواس کا جواب ہے کہ :

جوشخص شعبان کے شروع سےہی روزے رکھتا ہے وہ روزے کا عادی بن جاتا ہے جس کی بنا پر اس کی مشقت میں کمی پیدا ہوجائے گی ۔

ملا علی قاری کا کہنا ہے :

یہاں پر نہی تنزیہ کے لیے ہے ،امت اسلامیہ پر مہربانی اوررحمت ہے کہ کہیں وہ کمزورہو کررمضان المبارک کے روزے رکھنے کا حق ادا نہ کرسکیں اوران میں سستی پیدا ہوجائے ، لیکن جوشخص پورے شعبان کےروزے رکھتا ہے وہ توروزوں کا عادی بن چکا ہے ، جس کی بنا پر اس سے یہ مشقت زائل ہوجائے گی ۔ اھـ

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


نصف شعبان کے بعد قضائے رمضان کے روزے رکھنے میں کوئي حرج نہیں
حمل اورولادت کی وجہ سے میرے ذمہ گزشتہ رمضان کے بہت سارے روزے تھے ، الحمدللہ میں نے اس کی قضاء میں روزے رکھے اورصرف سات باقی بچے جن میں سے تین تو نصف شعبان کے بعد رکھے ، اوررمضان سے قبل باقی بھی مکمل کرنا چاہتی ہوں ۔
میں نے آپ کی ویب سائٹ پر پڑھا کہ نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے جائزنہيں صرف عادتا روزے رکھنے والے کے جائز ہیں مجھے آپ معلومات فراہم کریں اللہ تعالی آپ کو مستفید فرمائے میں معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ کیا میں اپنے باقیماندہ روزے بھی کرلوں کہ نہیں ؟ اوراگرجواب نفی میں ہو تو ان تین ایام کے روزوں کا حکم کیا ہے آیا مجھے اس کی دوبارہ قضاء کرنا ہوگي کہ نہيں؟

الحمدللہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

( نصف شعبان کے بعد روزے نہ رکھو ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 3237 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 738 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1651 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے ۔

اس نہی سے مندرجہ ذيل مستثنی ہیں :

1 - جسے روزے رکھنے کی عادت ہو ، مثلا کوئي شخص پیر اورجمعرات کا روزہ رکھنے کا عادی ہو تووہ نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھے گا ، اس کی دلیل نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ ذيل فرمان ہے :

( رمضان سے ایک یا دو یوم قبل روزہ نہ رکھو لیکن جوشخص روزہ رکھتا ہو وہ رکھ لے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1914 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1082 ) ۔

2 - جس نے نصف شعبان سے قبل روزے رکھنے شروع کردیے اورنصف شعبان سے پہلے کو بعدوالے سے ملادیا تویہ نہی میں نہيں آئے گا اس کی دلیل عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث ہے جس میں وہ بیان کرتی ہیں کہ :

( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقریبا سارا شعبان ہی روزے رکھتے تھے صرف تھوڑے سے ایام کے علاوہ باقی پورا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1970 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1156 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

قولھا : ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے صرف تھوڑے ايام کے علاوہ باقی سارا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے ) دوسرا جملہ پہلے کی تفسیر ہے اوران کے قول کلہ کا معنی مہینہ کا اکثر ہے ۔ اھـ

تویہ حديث نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے لیکن اس کےلیے جوپہلے نصف کو دوسرے نصف سے ملائے ۔

3 - اس سے رمضان کی قضاء میں روزے رکھنے والا بھی مستثنی ہوگا ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المجموع میں کہتے ہیں :

ہمارے اصحاب کا کہنا ہے : بلااختلاف رمضان کےیوم الشک کا روزہ رکھنا جائز نہيں ۔۔۔ لیکن اگر اس میں قضاء یا نذر یا کفارہ کا روزہ رکھا جائے توجائز ہوگا، اس لیے کہ جب اس میں نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے تو فرضی روزہ رکھنا بالاولی جائز ہوگا ۔۔۔

اوراس لیے بھی کہ جب اس پرگزشتہ رمضان کے روزہ کی قضاء باقی ہو تواس پریہ روزہ رکھنا تومتعین ہوچکا ہے ، کیونکہ اس کی قضاء کے لیے وقت تنگ ہے ۔ اھـ

دیکھیں : المجموع للنووی ( 6 / 399 ) ۔

یوم الشک وہ ہے جب انتیس شعبان کو مطلع ابرآلود ہونے کی بنا پر چاند نہ دیکھا جاسکتا ہو توتیس شعبان کو یوم الشک قراردیا جائے گا ، اس لیے کہ یہ مشکوک ہے کہ آیا یہ شعبان کا آخری دن ہے یا کہ رمضان کا پہلا دن۔

جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ :

شعبان کے نصف ثانی میں قضاء کے روزے رکھنے میں کوئي حرج نہیں ، اورایسا کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے والی نہی میں شامل نہیں ہوتا ۔

اس لیے ہم یہ کہیں گے کہ آپ کےتین روزے صحیح ہیں اورآپ باقی روزے بھی رمضان سے قبل ہی مکمل کرلیں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


كيا نصف شعبان كى رات اللہ تعالى آسمان دنيا پر نزول فرماتا ہے ؟
كيا اللہ سبحانہ وتعالى نصف شعبان كى رات آسمان دنيا پر نازل ہو كر كافر اور كينہ اور بغض ركھنے والے كے علاوہ باقى سب كو بخش ديتا ہے ؟

الحمد للہ:

يہ ايك حديث ميں ہے، ليكن اس حديث كى صحت ميں اہل علم نے كلام كى ہے، اور نصف شعبان كى فضيلت ميں كوئى بھى حديث صحيح نہيں ملتى.

اور موسى اشعرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى نصف شعبان كى رات جھانك كر مشرك اور كينہ و بغض والے كے علاوہ باقى سب كو بخش ديتا ہے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1390 ).

مشاحن: اس شخص كو كہتے ہيں جو اپنے سے دشمنى ركھے.

" الزوائد" ميں ہے: عبد اللہ بن لھيعۃ كے ضعف اور وليد بن مسلم كى تدليس كى بنا پر يہ حديث ضعيف ہے.

اور اس حديث ميں اضطراب بھى جسے دار قطنى رحمہ اللہ نے " العلل ( 6 / 50 - 51 ) ميں بيان كيا ہے، اور اس كے متعلق كہا ہے: يہ حديث ثابت نہيں.

اور معاذ بن جبل، عائشہ اور ابو ھريرہ اور ابو ثعلبہ خشنى وغيرہ رضى اللہ تعالى عنہم سے بھى حديث بيان كى گئى ہے، ليكن يہ طرق بھى ضعف سے خالى نہيں، بلكہ بعض تو شديد ضعف والے ہيں.

ابن رجب حنبلى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" نصف شعبان كى رات كے فضائل ميں متعدد احاديث ہيں، جن ميں اختلاف كيا گيا ہے، اكثر علماء نےتو انہيں ضعيف قرار ديا ہے، اور بعض احاديث كو ابن حبان نے صحيح قرار ديا ہے"

ديكھيں: لطائف المعارف ( 261 ).

اور پھر اللہ تعالى كا نزول نصف شعبان كى رات كے ساتھ خاص نہيں بلكہ بخارى اور مسلم كى حديث ميں ثابت ہے كہ اللہ تعالى ہر رات كے آخرى حصہ ميں آسمان دنيا پر نزول فرماتا ہے، اور نصف شعبان كى رات اس عموم ميں داخل ہے.

اسى ليے جب عبد اللہ بن مبارك رحمہ اللہ تعالى سے نصف شعبان كى رات ميں اللہ تعالى كے نزول كے متعلق دريافت كيا گيا تو انہوں نے سائل كو كہا:

اے ضعيف صرف نصف شعبان كى رات! ؟ بلكہ اللہ تعالى كو ہر رات نزول فرماتا ہے "

اسے ابو عثمان الصابونى نے " اعتقاد اھل السنۃ ( 92 ) ميں روايت كيا ہے.

اور عقيلى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

نصف شعبان ميں اللہ تعالى كے نزول كے متعلق احاديث ميں لين ہے، اور ہر رات ميں اللہ تعالى كے نزول والى احاديث صحيح اور ثابت ہيں، اور ان شاء اللہ نصف شعبان كى رات بھى اس ميں داخل ہے.

ديكھيں: الضعفاء ( 3 / 29 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 8907 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


عبادت كے ليے نصف شعبان كى رات مخصوص كرنا
ميں نے ايك كتاب ميں پڑھا كہ نصف شعبان كا روزہ ركھنا بدعت ہے، اور ايك دوسرى كتاب ميں لكھا تھا كہ نصف شعبان كا روزہ ركھنا مستحب ہے... برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اس كے متعلق قطعى حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

نصف شعبان كى فضيلت ميں كوئى بھى صحيح اور مرفوع حديث ثابت نہيں، حتى كہ فضائل ميں بھى ثابت نہيں، بلكہ اس كے متعلق كچھ تابعين سے بعض مقطوع آثار وارد ہيں، اور ان احاديث ميں موضوع يا ضعيف احاديث شامل ہيں جو اكثر جہالت والے علاقوں ميں پھيلى ہوئى ہيں.

ان ميں مشہور يہ ہے كہ اس رات عمريں لكھى جاتى ہيں اور آئندہ برس كے اعمال مقرر كيے جاتے ہيں.... الخ.

اس بنا پر اس رات كو عبادت كے ليے بيدار ہونا جائز نہيں اور نہ ہى پندرہ شعبان كا روزہ ركھنا جائز ہے، اور اس رات كو عبادت كے ليے مخصوص كرنا بھى جائز نہيں ہے، اكثر جاہل لوگوں كا اس رات عبادت كرنا معتبر شمار نہيں ہو گا "

واللہ تعالى اعلم

الشيخ ابن جبرين حفظہ اللہ

اگر كوئى شخص عام راتوں كى طرح اس رات بھى قيام كرنا چاہے ـ اس ميں كوئى اضافى اور زائد كام نہ ہو اور نہ ہى اس كى تخصيص كى گئى ہو ـ تو جس طرح وہ عام راتوں ميں عبادت كرتا تھا اس ميں بھى جائز ہے.

اور اسى طرح پندرہ شعبان كو روزے كے ليے مخصوص كرنا صحيح نہيں، ليكن اگر وہ اس بنا پر روزہ ركھ رہا ہے كہ يہ ايام بيض يعنى ہر ماہ كى تيرہ چودہ اور پندرہ تاريخ كو روزہ ركھنا مشروع ہے، يا پھر وہ جمعرات يا سوموار كا روزہ ركھتا تھا اور پندرہ شعبان اس كے موافق ہوئى تو اس اعتبار سے روزہ ركھنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اس ميں اس كا اعتقاد نہيں ہونا چاہيے كہ اس سے اسے اجروثواب زيادہ حاصل ہو گا.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد


کیا شعبان کے پورے مہینہ میں روزے رکھنے مستحب ہیں
کیا میرے لیے پورے شعبان کے روزے رکھنا سنت ہے ؟

الحمدللہ

شعبان کے مہینہ میں زیادہ سے زيادہ رکھنے روزے رکھنے مستحب ہيں ، حدیث میں بیان کیا گياہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے :

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ :

( میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے ) ۔

مسنداحمد حدیث نمبر ( 26022 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 2336 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1648 ) ۔

اورابوداود کے الفاظ کچھ اس طرح ہيں :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے سال میں کسی بھی پورے مہینے کے روزے نہيں رکھتے تھے ، لیکن شعبان کو رمضان سے ملاتے ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود ( 2048 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

لھذا اس حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزہ رکھا کرتے تھے ۔

لیکن احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر ایام کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارہ میں دریافت کیا تووہ کہنے لگیں :

( آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں ، اورجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہيں رکھیں گے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینہ سے زيادہ کسی اورمہینہ میں زيادہ روزے رکھتے ہوئے نہيں دیکھا ، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1156 ) ۔

علماء کرام ان دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں اختلاف کرتے ہیں :

کچھ علماء کرام تو کہتے ہيں کہ یہ اوقات کی مختلف ہونے کی وجہ سےتھا ، لھذا کچھ سالوں میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارا شعبان ہی روزہ رکھا کرتے تھے ، اوربعض سالوں میں شعبان کے اکثر ایام روزہ رکھتے تھے ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے یہی اختیار کیا ہے ۔

دیکھیں مجموع فتاوی الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 15 / 416 ) ۔

اورکچھ دوسرے علماء کرام کہنا ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمہینہ میں پورے مہینہ کے روزے نہيں رکھتے تھے ، انہوں نے ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا والی حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ اس سے مراد اکثر شعبان ہے ، اورلغت میں یہ کہنا جائز ہے کہ جب کوئي شخص کسی مہینہ میں اکثر ایام روزے رکھے تو کہا جاتا ہےکہ اس نے مکمل مہینہ کےروزے رکھے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

عائشہ رضي اللہ تعالی عہنا والی حدیث ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کی مراد بیان کرتی ہے حدیث ام سلمہ میں ہے کہ ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے علاوہ کسی اورمکمل مہینے کے روزے نہيں رکھتے تھے آپ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملاتے تھے ) ۔

یعنی اس کے اکثرایام کے روزے رکھتے تھے ، امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے ابن مبارک رحمہ اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

کلام عرب میں یہ جائز ہے کہ جب کوئي مہینہ کے اکثر ایام روزے رکھے تو یہ کہا جائے کہ اس نے پورا مہینہ روزہ رکھے ۔۔

اورطیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :

اسے اس پر محمول کیا جاسکتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات پورے شعبان کےروزے رکھتے تھے اوربعض اوقات اکثرایام روزے رکھتے تا کہ یہ خیال پیدا نہ ہو کہ شعبان کے روزے بھی رمضان کی طرح واجب ہیں ۔

پھر حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اورپہلی بات ہی صحیح ہے ۔ ا ھـ

یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کے روزے نہیں رکھا کرتے تھے ، اورانہوں نے مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ :

( میرے علم میں نہيں کہ اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید ختم کیا ہو ، اورصبح تک ساری رات ہی نماز پڑھتے رہے ہوں ، اوررمضان کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 746 ) ۔

اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ کےمکمل روزے نہيں رکھے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1971 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1157 ) ۔

امام سندی رحمہ اللہ تعالی ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں :

( شعبان کو رمضان سے ملاتے تھے ) یعنی دونوں مہینوں کے روزے رکھتے تھے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے ، لیکن دوسری احادیث اس کے خلاف دلالت کرتی ہيں ، اس لیے اسے اکثر شعبان پر محمول کیا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں اکثرایام کے روزے رکھتے تھے ، گویہ کہ پورا شعبان ہی روزے رکھے ہوں اورپھر اسے رمضان سے ملاتے تھے ۔ ا ھـ

اگر یہ کہا جائے کہ شعبان میں زيادہ روزے رکھنے میں کیا حکمت ہے ؟

اس کا جواب دیتےہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں:

اس میں اولی تووہی ہے جوامام نسائی اورابوداود نے روایت بیان کی ہے اورابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے کہ :

اسامہ بن زید رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں میں نے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ، اے اللہ تعالی کے رسول آپ جتنے روزے شعبان میں رکھتے ہیں کسی اورمہینہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کاشکار ہوجاتے ہیں جورجب اوررمضان کے مابین ہے ، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ، میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائیں ) سنن نسائي ، سنن ابوداود ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن نسائي ( 2221 ) میں اسے حسن قراردیا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


رمضان کی قضاءکا یوم شک میں روزہ رکھنا
مجھے یہ توعلم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم شک میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، اوررمضان سے ایک یا دو روزقبل بھی روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، لیکن کیا میرے لیۓ یہ جائز ہے کہ گزشتہ رمضان کی قضاء یوم شک میں ادا کرلوں ؟
الحمد للہ
جی ہاں رمضان المبارک کے فوت شدہ روزوں کی قضاء یوم الشک اوررمضان کے ایک یا دو روزقبل رکھنے جائز ہیں ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الشک میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، اوراسی طرح استتقبال رمضان کے لیے رمضان سے ایک یا دو روزقبل بھی روزہ رکھنا منع ہے ، لیکن یہ نہی اس کے لیے ہے جوعادتا روزہ نہ رکھتا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( رمضان سے ایک یا دو روزہ قبل روزہ نہ رکھو ، لیکن جوشخص پہلے روزہ رکھتا ہو وہ رکھ سکتا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1914 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1082 ) ۔

لھذا جب کوئي شخص پیراور جمعرات کو روزہ رکھتا ہو اورشعبان کا آخری دن پیر کوآجائے تو وہ یہ نفلی روزہ رکھ سکتا ہے اسے اس روزہ رکھنے سے منع نہیں کیا جائےگا ۔

لھذا جب عادتا رکھے جانے والے روزے یوم الشک میں رکھنے جائز ہوئے تو رمضان المبارک کے باقیماندہ روزے بالاولی رکھے جاسکتے ہیں ، کیونکہ رمضان کے روزے تو فرض ہیں اورآئندہ رمضان کے بعد تک انہیں مؤخر کرنا جائز نہيں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المجموع میں کہتے ہیں :

ہمارے اصحاب کا کہنا ہے کہ : رمضان کے یوم شک میں بلااختلاف روزہ رکھنا صحیح نہیں ۔۔۔ ، لیکن اس دن قضاء یا نذر یا کفارہ کا روزہ رکھنا جائز ہے اوریہ کفائت کرے گا کیونکہ جب اس میں کسی سبب کی بنا پر نفلی روزہ رکھنا جائز ہے توفرضی روزہ بالاولی جائز ہوگا ، مثلا وہ قت جس میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ، لیکن سببی نماز جائز ہے ۔

اور اس لیے بھی کہ جب اس پر رمضان کے ایک روزہ کی قضاء ہو تو تویہ اس پر متعین ہے ، اوراس لیے بھی کہ اس کے قضاء کا وقت تنگ ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں المجموع ( 6 / 399 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


شعبان كے آخرى دن اشعار اور كھانے كا اجتماع منعقد كرنا
بعض خاندان شعبان كى آخرى رات جمع ہو كر كھانا تيار كرتے ہيں اور اس ميں بوڑھے اشعار پڑھتے ہيں اس اجتماع اور كھانے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

ہم نے مندرجہ بالا سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

" ميں تو اسے بدعت كے زيادہ قريب سمجھتا ہوں، اور اس كى ممانعت اس كے حلال ہونے سے زيادہ اقرب ہے، كيونكہ يہ تہوار بنايا جائيگا، اور اگر اچانك ايسا ايك بار ہو جائے تو كوئى حرج نہيں.

خلاصہ كيا ہوا ؟

جواب:

ہم ايسا كرنے سے منع كرتے ہيں " انتہى

واللہ تعالى اعلم .

الشيخ محمد بن صالح العثيمين


روزوں کی قضاء میں تاخیر کرنا
میں نے ایک سال ایام حیض میں روزے چھوڑے تھے اور آج تک میں وہ روزے نہیں رکھ سکی حالانکہ اس بات کو بہت سال بیت چکے ہیں میں چاہتی ہوں کہ ان روزوں کی قضاء دوں لیکن مجھے یہ علم نہیں کہ مجھے کتنے روزے رکھنے ہیں اب میں کیا کروں ؟

الحمدللہ

آپ کے ذمہ تین امور ہیں :

پہلی خبر :

اس تاخیر پر اللہ تبارک وتعالی سے توبہ کریں اور جو سستی اور کاہلی ہو چکی اس پر نادم ہونے کے بعد اس بات کا عزم کریں کہ آپ آئندہ ایسا نہیں کریں گی ۔

کیونکہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے :

( اے مومنوں تم سب کے سب اللہ تعالی کی طرف توبہ کرو تا کہ تم کامیابی اور فلاح پا سکو ) النور / 31

اور یہ تاخیر اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی ہے جس پر اللہ تعالی کے سامنے توبہ کرنی واجب ہے ۔

دوسری چیز :

جتنی جلدی ہو اندازہ کے مطابق روزے رکھیں اللہ تعالی ہر ایک کو اس کی طاقت واستطاعت کے مطابق مکلف بناتا ہے تو آپ کے خیال میں جتنے روزے چھوٹے ہیں ان کی قضاء کریں اگر آپ کے خیال میں دس دن ہیں تو دس روزے رکھیں اور اگر آپ کا خیال اس سے زیادہ یا کم کا ہے اس حساب سے روزوں کی قضاء کریں ۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے :

( اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ) البقرہ / 286

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

( پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ تعالی سے ڈرتے رہو ) التغابن / 16

تیسری چیز :

اگر آپ کھانا کھلانے کی طاقت رکھتی ہیں تو ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اگرچہ ایک مسکین کو ہی سارا کھانا دے دیں اور اگر اپ کی استطاعت میں نہیں اور آپ فقیر ہیں تو پھر آپ پر توبہ اور روزے کے علاوہ کچھ نہیں ۔

اور ہر دن کے بدلے میں جو واجب ہے ڈیڑھ صاع اس ملک کی خوراک ہے جس کی مقدار ڈیڑھ کلو بنتی ہے ۔ .

مجموع فتاوی ومقالات الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 19


ايام بيض اور شعبان كےمہينہ ميں روزے ركھنے كي ترغيب
الحمدللہ مجھے ہرمہينہ ايام بيض ( چاند كي تيرہ چودہ پندرہ تاريخ ) كے روزے ركھنے كي عادت ہے، ليكن اس ماہ ميں نے روزے نہيں ركھے اورجب ميں نے روزے ركھنے چاہے تو مجھے يہ كہا گيا كہ يہ جائزنہيں بلكہ يہ بدعت ہے ، ( ميں نے ماہ كےپہلے سوموار كا روزہ ركھا اور پھر انيس شعبان بروز بدھ كا بھي روزہ ركھا ہے اور اللہ كےحكم سے كل جمعرات كا بھي روزہ ركھنا ہے تو اس طرح ميرے تين روزے ہوجائيں گے ) لھذا اس كا حكم كيا ہے ؟ اور شعبان كےمہينہ ميں كثرت سے روزے ركھنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ سبحانہ وتعالي نے بغير علم كے كوئي بات كہني حرام قرار دي ہے اور اسے شرك اور كبيرہ گناہوں كےساتھ ملا كر ذكر كيا ہے .

فرمان باري تعالي ہے:

{كہہ ديجيے كہ ميرے رب نے صرف حرام كيا ہے ان تمام فحش باتوں كو جو علانيہ ہيں اور جو پوشيدہ ہيں اور ہرگناہ كي بات كو اور ناحق كسي پر ظلم كرنے كو اور اس بات كو كہ تم اللہ تعالي كےساتھ كسي كو شريك ٹھراؤ جس كي اللہ تعالي نے كوئي سند نہيں اتاري اور اس بات كو كہ تم اللہ تعالي كے ذمہ ايسي بات لگادو جس كو تم نہيں جانتے} الاعراف ( 33 )

اور سوال ميں جو يہ ذكر ہوا ہے كہ بعض لوگوں نےمذكورہ صورت ميں شعبان كےروزے ركھنے كوبدعت قرار ديا ہے يہ بھي اللہ تعالي پر بغير علم كے بات كہي گئي ہے .

دوم :

ہر ماہ ميں تين روزے ركھنا مستحب ہيں، اور افضل يہ ہے كہ يہ روزے ايام بيض جو كہ تيرہ چودہ اور پندرہ تاريخ كےبنتےہيں ركھےجائيں .

ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: ميرے دلي دوست نے مجھے تين چيزوں كي وصيت فرمائي كہ موت تك ميں انہيں ترك نہ كروں، ہر ماہ كےتين روزے اور چاشت كي نماز اور سونے سے قبل وتر ادا كرنے.

صحيح بخاري حديث نمبر ( 1124 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 721 )

اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ نے مجھے فرمايا:

" تيرے ليے ہر ماہ كےتين روزے ركھنا كافي ہے، كيونكہ تجھے ہر نيكي كا دس گنا اجرملےگا تو اس طرح يہ سارے سال كےروزے ہونگے"

صحيح بخاري حديث نمبر ( 1874 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1159 )

اور ابوذر رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے مجھے فرمايا:

" اگر تم مہينہ ميں كوئي روزہ ركھنا چاہتےہو تو تيرہ چودہ پندرہ كا روزہ ركھو"

سنن ترمذي حديث نمبر ( 761 ) سنن نسائي حديث نمبر ( 2424 ) امام ترمذي نے اس حديث كو حسن قرار ديا ہے اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے ارواء الغليل ( 947 ) ميں اس كي موفقت كي ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ سوال كيا گيا:

حديث ميں ہے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ كو ہر ماہ ميں تين روزے ركھنے كي وصيت فرمائي، لھذا يہ روزے كب ركھےجائيں؟ اور كيا يہ مسلسل ركھنےہونگے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:

يہ تين روزے مسلسل ركھنےبھي جائز ہيں اور عليحدہ عليحدہ بھي، اور يہ بھي جائز ہے كہ مہينہ كي ابتدا ميں ركھ ليے جائيں يا درميان ميں اور مہينہ كے آخر ميں بھي ركھے جاسكتے ہيں، اس ميں وسعت ہے كيونكہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اس كي تعيين نہيں فرمائي .

عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا سے پوچھا گيا كہ كيا رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم ہر ماہ تين ايام كےروزے ركھتےتھے؟

توعائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كہنےلگيں جي ہاں، ان سے كہا گيا كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم مہينہ كےكس حصہ ميں روزے ركھتےتھے؟ وہ كہنےلگيں انہيں اس كي پرواہ نہيں تھي كہ مہينہ كےكس حصہ ميں روزے ركھيں. صحيح مسلم حديث نمبر ( 1160 )

ليكن تيرہ چودہ اور پندرہ تاريخ كےروزے ركھنا افضل ہيں كيونكہ يہ ايام بيض ہيں ( يعني ان ايام ميں چاندمكمل ہوتاہے ) .

ديكھيں: مجموع فتاوي الشيخ ابن عثيمين ( 20 / سوال نمبر 376 )

جس نےبھي آپ كواس مہينہ ( شعبان ) ميں روزے ركھنےسے منع كيا ہے ہو سكتا ہے ہوسكتا ہے اس نےاس ليے كہا ہو كہ اسے يہ علم ہوا ہو كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے نصف شعبان ہونے پر روزے ركھنے سے منع فرمايا ہے .

اس ممانعت كےمتعلق سوال نمبر ( 49884 ) كےجواب ميں تفصيل سے بيان ہوچكا ہے كہ يہ ممانعت اس شخص كےمتعلق ہے جو نصف شعبان كےبعد روزے ركھنےكي ابتدا كرتا ہے اور روزہ ركھنا اس كي عادت نہيں .

ليكن جو شخص شعبان كي ابتدا ميں روزے ركھنے شروع كرے اور پھر نصف شعبان كےبعد بھي روزے ركھتا رہے يا پھر روزہ ركھنے كي عادت ہو تو نصف شعبان كےبعد اس كےروزہ ركھنے ميں كوئي ممانعت نہيں، مثلا اگر كسي شخص كي ہر ماہ تين روزے ركھنےكي عادت ہے يا پھر سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھنے كي عادت ہو .

تواس بنا پر شعبان ميں آپ كاتين روزے ركھنے ميں كوئي حرج نہيں، حتي كہ اگر كچھ روزے شعبان كےنصف كےبعد بھي ہوں توصحيح ہے.

چہارم :

شعبان كےمہينہ ميں كثرت سے روزے ركھنےميں كوئي حرج نہيں بلكہ يہ سنت ہے، نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اس ماہ ميں كثرت سے روزے ركھا كرتے تھے.

عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا بيان كرتي ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم روزے ركھتے تو ہم كہنا شروع كرديتےكہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم اب روزے نہيں چھوڑيں گے، اور روزے نہ ركھتے حتي كہ ہم يہ كہنےلگتيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم روزے نہيں ركھيں گے، ميں نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم كو رمضان المبارك كےعلاوہ كسي اور ماہ كےمكمل روزے ركھتے ہوئے نہيں ديكھا، اور ميں نےشعبان كےعلاوہ كسي اور ماہ ميں انہيں كثرت سے روزے ركھتےہوئے نہيں ديكھا.

صحيح بخاري حديث نمبر ( 1868 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1156 )

ابو سلمہ بيان كرتےہيں كہ عائشہ رضي اللہ تعالي نے انہيں بيان كيا كہ: نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم شعبان سے زيادہ كسي اور ماہ ميں روزے نہيں ركھتےتھے نبي كريم صلي اللہ پورے شعبان كےہي روزے ركھتےاور كہا كرتےتھے جتني تم طاقت ركھتےہو اتنا كام كرو، اس ليے كہ اللہ تعالي اس وقت تك اجرو ثواب ختم نہيں كرتا جب تك تم اكتا نہ جاؤ، اور نبي صلي اللہ عليہ وسلم كا سب سے پسند وہ نماز تھي جس پر ہميشگي كي جائے اگرچہ وہ كم ہي ہو، اور جب نبي صلي اللہ عليہ وسلم نماز پڑھتےتواس پر ہميشگي كرتے تھے.

صحيح بخاري حديث نمبر ( 1869 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 782 )

آپ سوال نمبر ( 49884 ) كےجواب كا بھي مطالعہ كريں جس كي طرف ابھي كچھ دير قبل اشارہ بھي كيا گيا تھا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب


رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا
ميں نےحيض كي بنا پر كئي برس سے رمضان ميں بعض ايام كےروزے نہيں ركھے اور ابھي تك نہيں ركھ سكي، مجھےكيا كرنا ہوگا ؟

الحمد للہ :

علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ جس نےبھي رمضان المبارك كےروزے نہ ركھے اس پرآئندہ رمضان آنے سے قبل روزوں كي قضاء كرني واجب ہے .

اس ميں انہوں نے مندرجہ ذيل حديث سے استدلال كيا ہے:

عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا بيان كرتي ہيں كہ : ( ميرے ذمہ رمضان المبارك كےروزہ ہوتے تو ميں اس كي قضاء شعبان كےعلاوہ كسي اور مہينہ ميں كرسكتي تھي، اور يہ نبي كريم صلي اللہ صلي اللہ عليہ وسلم كے مرتبہ كي بنا پر ) صحيح بخاري ( 1950 ) صحيح مسلم ( 1146 )

حافظ بن حجر رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كي شعبان ميں حرص كي بنا پر يہ اخذ كيا جا سكتا ہے كہ رمضان كےروزوں كي قضاء ميں اتني تاخير كرني جائز نہيں كہ دوسرا رمضان شروع ہوجائے اھ .

اور اگر كسي نے رمضان كي قضاء ميں اتني تاخير كردي كہ دوسرا رمضان بھي شروع ہوگيا تويہ دوحالتوں سے خالي نہيں :

پہلي حالت :

يہ تاخير كسي عذر كي بنا پر ہو، مثلا اگروہ مريض تھا اور دوسرا رمضان شروع ہونے تك وہ بيمار ہي رہا تواس پر تاخير كرنے ميں كوئي گناہ نہيں كيونكہ يہ معذور ہے، اوراس كےذمہ قضاء كےعلاوہ كچھ نہيں لھذا وہ ان ايام كي قضاء كرے گا جواس نے روزے ترك كيے تھے.

دوسري حالت :

بغير كسي عذر كےتاخير كرنا : مثلا اگر وہ قضاء كرنا چاہتا تو كرسكتا تھا ليكن اس نےآئندہ رمضان شروع ہونےتك قضاء كےروزے نہيں ركھے .

تو يہ شخص بغير كسي عذر كےقضاء ميں تاخير كرنے پر گنہگار ہوگا، اور علماء كرام كا متفقہ فيصلہ ہے كہ اس پر قضاءلازم ہے، ليكن قضاء كےساتھ ہر دن كےبدلے ايك مسكين كوكھانا كھلانے ميں اختلاف ہے كہ آيا وہ كھانا كھلائے يا نہيں ؟

آئمہ ثلاثہ امام مالك، امام شافعي اور امام احمد رحمھم اللہ تعالي كہتے ہيں كہ اس كےذمہ كھانا ہے اور انہوں نےاس سے استدلال كيا ہے كہ: بعض صحابہ كرام مثلا ابوھريرہ اور ابن عباس رضي اللہ تعالي عنھم سے يہ ثابت ہے .

اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں كہ قضاء كےساتھ كھانا كھلانا واجب نہيں .

انہوں اس سے استدلال كيا ہے كہ: اللہ تعالي نے رمضان ميں روزہ چھوڑنے والےكوصرف قضاء كا حكم ديا ہے اور كھانا كھلانے كاذكر نہيں كيا، فرمان باري تعالي ہے:

{اور جوكوئي مريض ہو يا مسافر وہ دوسرےايام ميں گنتي پوري كرے} البقرۃ ( 185 )

ديكھيں: المجوع ( 6 / 366 ) المعني ( 4 / 400 )

اورامام بخاري رحمہ اللہ نے اپني صحيح بخاري ميں اس دوسرے قول كو ہي اختيار كيا ہے. امام بخاري كہتےہيں:

ابراھيم نخعي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: جب كسي نے كوتاہي كي حتي كہ دوسرا رمضان شروع ہوگيا تووہ روزے ركھےگا اور اس كےذمہ كھانا كھلانا نہيں اور ابي ھريرہ رضي اللہ اورابن عباس رضي اللہ تعالي عنھم سے مرسلا مروي ہےكہ وہ كھانا كھلائےگا، پھر امام بخاري كہتے ہيں: اور اللہ تعالي نے كھانا كھلانےكا ذكر نہيں كيا بلكہ يہ فرمايا: ( دوسرے ايام ميں گنتي پوري كرے ) اھ .

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي كھانا كےعدم وجوب كا فيصلہ كرتے ہوئے كہتےہيں:

اور رہا صحابہ كرام رضوان اللہ عليھم اجمعين كےاقوال جب قرآن مجيد كےظاہرا خلاف ہوں تو اسے حجت ماننا محل نظر ہے، اور يہاں كھانا كھلانا قرآن مجيد كےظاہرا خلاف ہے كيونكہ اللہ تعالي نے توصرف دوسرے ايام ميں گنتي پوري كرنا واجب قرار ديا ہے، اس سےزيادہ كچھ واجب نہيں كيا، تواس بنا پر ہم اللہ كےبندوں پروہ لازم نہيں كرينگےجواللہ تعالي نےان پرلازم نہيں كيا ليكن اگر دليل مل جائے توپھر تا كہ ذمہ سے بري ہوسكيں، ابن عباس اور ابو ھريرہ رضي اللہ تعالي عنھم سےجومروي ہے يہ ممكن ہےكہ اسے استحباب پر محمول كيا جائے نہ كہ وجوب پر، تواس مسئلہ ميں صحيح يہي ہےكہ اس پر روزوں سے زيادہ كسي چيز كو لازم نہيں كيا جائےگا، ليكن تاخير كي بنا پر وہ گنہگار ضرور ہے. اھ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 451 )

اور اس بناپر واجب توصرف قضاء ہي ہے، اور جب انسان احتياط كرنا چاہے تو ہر دن كےبدلے ايك مسكين كو كھانا بھي كھلائے توبہتر اوراحسن اقدام ہوگا.

(اگر تو اس نے بغير كسي عذر كےتاخير كي ہے تو ) سوال كرنے والي كو چاہيے كہ وہ اللہ تعالي سےتوبہ واستغفار كرے اور يہ عزم كرےكہ آئندہ مستقبل ميں اس طرح كا كام نہيں كرےگي .

اللہ تعالي سے دعا ہے كہ وہ ہميں اپني رضا و خوشنودي اور پسند كےكام كرنے كي توفيق عطا فرمائے .

واللہ اعلم  .

الاسلام سوال وجواب


اگر كل رمضان ہوا تو ميں روزہ سے ہوں
اگر رمضان كا چاند نظر آنے كا اعلان نہ ہوا ہو، اور انسان يہ كہہ كر جلد سو جائے كہ اگر صبح رمضان ہوا تو ميں روزہ ركھونگا، تو كيا يہ نيت كافى ہوگى اور اس كا روزہ صحيح ہو گا ؟

الحمد للہ:

اس مسئلہ ميں فقھاء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، اور نيت كى تعيين كے مسئلہ كى بنا پر اس ميں دو قول ہيں:

كہ آيا رمضان كى يقينى نيت كرنى واجب ہے، يا كہ صرف روزہ كى نيت كرنى ہى كافى ہوگى، چاہے نفلى يا فرضى روزہ كى نيت كى جائے.

مالكيہ، شافعيہ، اور حنابلہ ميں سے جمہور علماء كرام كہتے ہيں كہ رمضان كے روزے كى نيت متعين كرنى شرط ہے.

اور حنفيہ كہتے ہيں كہ: نيت كى تعيين شرط نہيں، اور امام احمد كى بھى ايك روايت يہى ہے.

تو اس قول كى بنا پر اس شخص كا روزہ صحيح ہے، جو يہ كہے كہ اگر صبح رمضان ہوا تو ميرا فرضى روزہ ہے.

الفروع كے مصنف كہتے ہيں:

" امام ملك اور امام شافعى كے قول كے مطابق ہر فرضى روزہ كى نيت كى تعيين واجب ہے، وہ اس طرح كہ يہ اعتقاد ركھے كہ وہ رمضان كا فرضى، يا رمضان كى قضاء يا نذر يا كفارہ كا روزہ ركھا رہا ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو وہ نيت كرتا ہے "

اور امام احمد رحمہ اللہ سے ايك دوسرى روايت يہ ہے كہ:

امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كے قول كے مطابق رمضان كے روزے كى نيت كى تعيين واجب نہيں، كيونكہ تعيين سے تميز مراد ہوتى ہے، اور يہ وقت تو متعين ہے، تو اس بنا پر اس كى مطلقا نيت كرنا صحيح ہو گى، اور جس فرض ميں اسے تردد ہے اس كى نيت ميں....

اور ان كا يہ قول: فرض كى نيت جس ميں اسے تردد ہے كہ شك والى رات نيت كرے:

يعنى اگر صبح رمضان ہوا تو ميرا فرضى روزہ ہوگا، اور اگر نہ ہوا تو ميرا نفلى روزہ ہے.

پہلى روايت كے مطابق كفائت نہيں كريگى، جب تك وہ يقينى نيت نہ كرے كہ صبح رمضان كا روزہ ہے، اور دوسرى روايت كى بنا پر نيت كفائت كر جائيگى " انتہى.

ديكھيں: الفروع ( 3 / 40 ).

اور الانصاف ميں ہے:

" اور اگر اس نے يہ نيت كى كہ: اگر كل رمضان ہوا تو ميرا فرضى روزہ ہے، اور اگر رمضان نہ ہوا تو نفلى، يہ اسے كفائت نہيں كريگى، اور مذہب بھى يہى ہے، اور اكثر اصحاب بھى اسى پر ہيں، اور يہ تعيين نيت كى شرط پر مبنى ہے.

اور امام احمد سے روايت ہے كہ: يہ اسے كفائت كر جائيگى، يہ اس روايت پر مبنى ہے كہ: رمضان كے ليے نيت كى تعيين واجب نہيں.

اور شيخ تقى الدين نے اسى روايت كو اختيار كيا ہے، " الفائق " ميں كہتے ہيں: صاحب المحرر اور ہمارے شيخ نے اس كى تائيد و نصرت كى ہے، اور اختيار بھى يہى ہے " انتہى.

ديكھيں: الانصاف ( 3 / 295 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ درج ذيل كتب كا مطالعہ ضرور كريں:

البحر الرائق ( 2 / 280 ) مجمع الانھار ( 1 / 233 ) مغنى المحتاج ( 2 / 150 ) المغنى ( 3 / 9 ) الموسوعۃ الفقھيۃ ( 5 / 165 ) اور ( 28 - 22 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " الزاد " كے مصنف كے درج ذيل قول :

" اور اگر اس نے يہ نيت كى كہ اگر صبح رمضان ہوا تو ميرا فرضى روزہ ہے: يہ كفائت نہيں كريگى "

ابن عثيمين اس كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" يہ مسئلہ اہم ہے اور بہت زيادہ پيش آتا ہے: اس كى مثال يہ ہے كہ: تيس شعبان كو ايك شخص جلد سو گيا، اور اس ميں احتمال ہے كہ يہ رمضان كى پہلى رات ہو، تو وہ كہتا ہے: اگر صبح رمضان ہوا تو ميرا فرضى روزہ ہے، يا پھر وہ يہ كہتا ہے: اگر صبح رمضان ہوا تو ميرا روزہ، يا يہ كہے: اگر صبح رمضان ہوا تو فرضى، وگرنہ وہ واجب كفارہ يا اس طرح كے مشابہ كوئى اور معلق قسم ميں سے، تو اس ميں صحيح مذہب يہى ہے كہ يہ صحيح نہيں؛ كيونكہ اس كا يہ كہنا: اگر رمضان ہوا تو ميرا فرضى روزہ ہے، اس كے اس قول ميں تردد ہے، اور نيت كے ليے بالجزم اور يقين ہونا ضرورى ہے، اور اگر وہ طلوع فجر سے پہلے بيدار نہ ہوا اور اسے پتہ چلا كہ آج تو رمضان ہے تو مؤلف كے قول كے مطابق اس كے ذمہ اس دن كے روزہ كى قضاء ہو گى.

اور امام احمد سے دوسرى روايت يہ ہے كہ: اگر يہ واضح ہوا كہ رمضان ہے تو اس كا روزہ صحيح ہوگا، شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اور لگتا ہے يہ ضباعۃ بنت زبير رضى اللہ تعالى عنہا كو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے درج ذيل فرمان كے عموم ميں داخل ہوتا ہے:

" تم حج كرو، اور يہ شرط لگا لو كہ جہاں تو مجھے روك دے وہى ميرے حلال ہونے كى جگہ ہے، تو جو تم استثناء كروگى وہ آپ كے رب پر تيرے ليے ہوگا "

تو اس شخص نے اسے معلق ركھا ہے، اس ليے كہ وہ نہيں جانتا كہ كل رمضان ہو گا يا نہيں، تو اس كا تردد رمضان كے مہينہ كى ابتدا ميں تردد ہونے پر مبنى ہے، نہ كہ نيت ميں تردد پر، اور اس پر كہ آيا وہ روزہ ركھےگا يا نہيں ؟

اس ليے اگر وہ يكم رمضان كى رات يہ كہتا ہے كہ: ميں ممكن ہے كل روزہ ركھوں، اور ممكن ہے نہ ركھوں.

تو ہم كہينگے كہ: يہ صحيح نہيں، كيونكہ وہ متردد ہے.... اور اس بنا ہميں چاہيے كہ اگر تيس شعبان كو رمضان كا چاند نظر آنے كى خبر ملنے سے قبل ہم سونا چاہيں تو يہ نيت كريں كے اگر صبح رمضان ہوا تو ہم روزہ ركھينگے " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 375 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب


دوسرے رمضان كے بعد تك قضاء ميں تاخير كرنا اور قضاء سے قبل فديہ دينا
رمضان المبارك شروع ہوا تو ايك مسلمان بہن كے پچھلے رمضان كے چھ روزے ابھى باقى رہتے تھے، دوسرا رمضان ختم ہونے كے بعد مجھے اس نے پوچھا كہ اس پر كيا لازم آتا ہے، ميں نے پوچھنےاور مطالعہ كرنے كے بعد اسے كہا كہ اس كے ذمہ قضاء اور ہر دن كے بدلے فديہ ہے، اور ہم نے ہر يوم كے بدلے ڈيڑھ كلو گندم ادا كر دى، اور مكمل چھ يوم كا فديہ اپنے ايك يتيم ہمسائے كو دے ديا، يہ علم ميں رہے كہ اس نے اپنے ذمہ قضاء روزوں كو ابھى تك مكمل نہيں كيا، تو كيا فديہ كى يہ مقدار صحيح ہے ؟
اور كيا قضاء سے قبل ا سكا فديہ ادا كرنا صحيح شمار ہو گا ؟

الحمد للہ:

پہلى بات تو يہ ہے كہ:

فديہ صرف فقراء اور مساكين كو ہى ديا جا سكتا ہے، كسى اور كو نہيں، تواس بنا پر اگر يہ يتيم فقراء ہيں تو انہيں فديہ دينا جائز ہے، اور اگر وہ غنى اور مالدار ہوں تو پھر انہيں دينا جائز نہيں، بلكہ آپ اسے دوبارہ ادا كريں.

آپ نے گندم دے كر بہت اچھا كام كيا ہے، اور اللہ تعالى نے جو واجب كيا ہے اصل ميں وہ يہى ہے كہ غلہ ہى ديا جائے، اور نقدى كى شكل ميں فديہ كى ادائيگى جائز نہيں، اور قسم اور ظہار وغيرہ كے كفارہ، اور فطرانہ وغيرہ ميں بھى يہى قول ہے كہ جس ميں اللہ تعالى نے غلہ دينا فرض كيا ہے وہاں غلہ ہى ديا جائے.

دوم:

اصل مسئلہ كے متعلق گزارش يہ ہے كہ: پہلے رمضان كے روزوں كى قضاء ميں دوسرے رمضان كے بعد روزے ركھنے كے ساتھ فديہ و غلہ دينے ميں علماء كا اختلاف ہے، ہم اس كى تفصيل سوال نمبر ( 26865 ) كے جواب ميں بيان كى ہے، اور وہاں يہ بيان ہوا ہے كہ اگر تو رمضان كے روزوں كى قضاء دوسرے رمضان كے بعد تك كسى مستقل عذر مثلا بيمارى يا سفر يا حمل يا دودھ پلانے كى بنا پر ہو تو پھر صرف روزوں كى قضاء ہى لازم آتى ہے.

ليكن اگر بغير عذر ہو تو پھر قضاء ميں تاخيركرنے والے كو توبہ و استغفار كے ساتھ ـ جمہور علماء كے ہاں ـ قضاء كے ساتھ ہر يوم كا فديہ بھى مسكين كو ادا كرنا ہو گا، ہم نے وہاں يہ بھى بيان كيا ہے كہ راجح يہى ہے كہ فديہ دينا واجب نہيں، ليكن اگر وہ احتياط كرتے ہوئے فديہ ادا كرتا ہے تو يہ بہتر اور اچھا ہے.

اور يہاں ہم ايك زائد امر بيان كرتے ہيں جو آپ كے سوال ميں آيا ہے وہ يہ كہ قضاء كے روزے ركھنے سے قبل فديہ دينا جائز ہے، كيونكہ فديہ تو قضاء ميں تاخير كے متعلقہ ہے، نہ كہ قضاء شروع كرنے كےمتعلق.

اس بنا پر جس روزے كى قضاء ركھنا مقصود ہو اس دن سے قبل يا بعد ميں فديہ دينا جائز ہے.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" رمضان كى قضاء تراخى پر ہوگى، ليكن جمہور علماء نے اسے اس كے ساتھ مقيد كيا ہے كہ اگر اس كى قضاء كا وقت نہ گزر جائے، وہ اس طرح كہ دوسرے رمضان كا چاند نظر آ جائے، كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" ميرے ذمہ رمضان كے روزے ہوتے تو ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے مقام اور مرتبہ كى وجہ سے شعبان كے علاوہ اس كى قضاء نہيں كر سكتى تھى "

جس طرح پہلى نماز دوسرى نماز تك مؤخر نہيں كى جا سكتى.

اور جمہور علماء كے ہاں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى اس حديث كى بنا پر بغير كسى عذر كے ايك رمضان كى قضاء كے روزے دوسرے رمضان تك مؤخر كرنا جائز نہيں، اور اگر وہ تاخير كرے ت واسے ہر روزے كے ساتھ ايك مسكين كو كھانا بھى كھلانا ہو گا.

كيونكہ ابن عباس اور ابن عمر اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ جس كے ذمہ رمضان كے روزے ہوں اور اس نے دوسرے رمضان تك نہ ركھے تو اس پر قضاء كے ساتھ ہر دن ايك مسكين كو كھانا بھى كھلانا ہو گا، اور يہ فديہ تاخير كى بنا پر ہے....

اور قضاء سے قبل يا قضاء كے ساتھ يا قضاء كے بعد فديہ دينا جائز ہے " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 28 / 76 ).

جن كے ہاں تاخير يا احتياط كى بنا پر فديہ دينا واجب ہے ان كے ہاں افضل يہ ہے كہ بھلائى كى جانب جلدى كرتے ہوئے، اور تاخير كى آفات اور نقصانات سے بچنے كے ليے فديہ قضاء سے قبل ادا كيا جائے، جس طرح بھول ميں ہوتا ہے.

المرداوى حنبلى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كھانے ميں وہ چيز دے جو كفارہ ميں كفائت كرتى ہے، اور قضاء سے قبل يا قضاء كے ساتھ يا بعد ميں كھانا كھلانا جائز ہے، المجد يعنى ابن تيميہ كے دادا كہتے ہيں: ہمارے نزديك ت واسے مقدم كرنا افضل ہے، تا كہ خير و بھلائى ميں جلدى ہو، اور تاخير كى آفات اور نقصانات سے بچا جا سكے " انتہى.

ديكھيں: الانصاف ( 3 / 333 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
شعبان کا مہینہ