اتوار 16 محرم 1441 - 15 ستمبر 2019
اردو

ڈکار لینے کے بعد "الحمد للہ" کہنا اور جمائی لینے کے بعد تعوّذ پڑھنا جائز ہے؟

226979

تاریخ اشاعت : 29-10-2015

مشاہدات : 3698

سوال

سوال: میں نے یہ دیکھا ہے کہ کچھ لوگ ڈکار لینے کے بعد "استغفر اللہ" کہتے ہیں، یا پھر "الحمد للہ" کہتے ہیں، تو کیا یہ سنت ہے یا بدعت؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

ڈکار:   سیر شکم ہو نے پر منہ کے ذریعے خارج ہونے والی ہوا آواز کے ساتھ ہو تو اسے "ڈکار" کہتے ہیں۔

احادیث مبارکہ میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جس میں ڈکار آنے پر "الحمد للہ" کہنا  یا "استغفر اللہ" کہنا  یا کوئی اور ذکر کرنا مستحب قرار پاتا ہو، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے ڈکار لی تو  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے بعد کوئی ذکر کرنے کی تلقین نہیں فرمائی۔

چنانچہ ترمذی : (2478) نے ایک روایت نقل کرنے کے بعد اسے حسن بھی قرار دیا ہے، جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما  کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ڈکار لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: (اپنی ڈکار کو ہم سے دور ہی رکھو، دنیا میں سیر شکم  ہو کر کھانے والے قیامت کے دن زیادہ عرصہ  بھوکے رہیں گے) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ترمذی " میں حسن کہا ہے۔

چونکہ "ڈکار" زیادہ کھانے کی وجہ سے آتی ہے، اور زیادہ کھانا شریعت میں مذموم عمل ہے۔

مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کیونکہ زیادہ کھانے زیادہ پینے پر مجبور ہوتا ہے، چنانچہ اسے نیند زیادہ آتی ہے، اور جسم سست ہو جاتا ہے" انتہی
"التيسير" (1/ 312)

یعنی اس حدیث میں صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو لوگوں کی موجودگی میں ڈکار لینے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ عمل خلاف ادب ہے، اور اسی لیے آپ نے اسے کم کھانے کی ترغیب دلائی، لیکن کوئی خاص ذکر کرنے کی تلقین نہیں فرمائی، اور نہ ہی اسے استغفار کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ڈکار کے وقت ذکر کرنا سنت نہیں ہے۔

دوم:

ڈکار لینے کے بعد "الحمد للہ" کہنے کی کچھ صورتیں ہیں:

1- ڈکار لینے کے بعد "الحمد للہ" سنت، عبادت ، اور قرب الہی  کا ذریعہ سمجھ کر کہے، تو ایسی صورت میں یہ عمل بدعت ہوگا، کیونکہ یہ ایسے طریقہ سے قرب الہی   تلاش کرنا جو شارع  نے نہیں بتلایا، درست نہیں ہے۔

2- "الحمد اللہ" اس کی زبان پر  بطور عادت جاری ہو جاتا ہے، اس کا اس بارے میں کوئی نظریہ یا عقیدہ نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اسے بدعت نہیں کہا جائے گا، بلکہ یہ مباح امور میں شامل ہوگا۔

3- ڈکار لینے والا شخص "الحمد للہ" اس وجہ سے کہتا ہے کہ  ڈکار چونکہ سیر شکم ہونے پر آتی ہے، اور یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے، لہذا اللہ کی اس نعمت پر اللہ کی تعریف ہونی چاہیے، بالکل اسی طرح  جو شخص جمائی لینے کے بعد اس لیے تعوذ پڑھتا ہے کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، تو "اعوذ باللہ" پڑھ کر شیطان سے اللہ کی پناہ چاہتا ہے، لیکن اسے سنت  نہیں سمجھتا، بلکہ ذہن میں آنے والے اس تصور کی وجہ سے الحمد للہ، اور اعوذ باللہ پڑھتا تو ، اس شخص کے بارے میں راجح یہی ہےکہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مندرجہ بالا تفصیل  ہم نے شیخ عبد الرحمن  البراک حفظہ اللہ سے جب سوال کیا تھا تو انہوں نے بتلائی  تھی۔

ابن مفلح کہتے ہیں:
"ڈکار لینے والا کسی قسم کا جواب نہیں دے گا،  اگر ڈکار لینے والا  "الحمد للہ" کہے تو اسے کہا جائے گا: " هَنِيئًا مَرِيئًا " یا پھر  کہا جائے گا: " هَنَّأَكَ اللہ وَأَمْرَاك " یہ دونوں جواب رعایۃ الکبری  میں ابن تمیم  نے ذکر کیے ہیں، اسی طرح ابن عقیل  نے بھی  ذکر کیا ہے، لیکن انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ: اس بارے میں ہمیں کوئی حدیث معلوم نہیں ہے، بلکہ خود ساختہ ایک عادت ہے" انتہی
"الآداب الشرعية " (2/346)

شیخ عبد المحسن عباد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:
"ڈکار کے وقت الحمد للہ کہنے کا کیا حکم ہے؟"

تو انہوں نے جواب دیا:
"اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، لیکن انسان ہر حالت میں الحمد للہ کہتا ہے، اور سیر شکمی  حاصل ہونا اللہ کی نعمت بھی ہے، تو اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم الحمد للہ کہنے کے بارے میں کوئی نظریہ رکھے کہ یہ سنت ہے، تو میرے علم کے مطابق ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے اس عمل کے مسنون ہونے کی دلیل ملے" انتہی
"شرح سنن ابی داود" (492/ 19) مکتبہ شاملہ کی خود کار ترتیب کے مطابق۔

جمائی لینے کے بعد  تعوذ پڑھنے سے متعلق  علمائے کرام کے کچھ فتاوی جات درج ذیل ہیں:

چنانچہ دائمی فتوی کمیٹی کے  فتاوی (5/320) میں شیخ ابن باز کی صدارت میں یہ فتوی دیا گیا:
"جمائی لینے کے بعد تعوذ پڑھنے کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، تاہم جمائی کو حتی الامکان روکنا چاہیے، اور اگر جمائی لینے کے بعد نماز میں یا غیر نماز میں تعوذ پڑھ لے تو اس پر کچھ نہیں ہے" انتہی

اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"جمائی لیتے وقت  تعوذ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا  اس بارے میں کوئی دلیل ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ جمائی ہوتی ہی شیطان کی طرف سے ہے، تاہم اس عمل کے مستحب ہونے کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، صرف اتنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  "جمائی شیطان کی طرف سے ہے، جب کوئی جمائی لے تو حتی الامکان اسے روکنے کی کوشش کرے" اور اسی حدیث کے دوسرے الفاظ یہ بھی ہیں کہ: (جمائی کے دوران اپنے منہ پر ہاتھ رکھے) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ  جمائی شیطان کی طرف سے ہے، چنانچہ اگر کوئی "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ایسا کوئی عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے"

ماخوذ از:

http://www.binbaz.org.sa/mat/9357

اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:
"عامۃ الناس اس  بات پر عمل اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم جمائی پر اعوذ باللہ  پڑھنے سے متعلق ہمیں کسی دلیل کا علم نہیں ہے، یہ بات یقینی ہے کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، اور  کوئی بھی ایسی صورت حال جس میں  شیطان  انسان کو  نقصان پہنچا سکتا ہو، ایسی حالت میں  تعوذ پڑھنا جائز ہے، اسی طرح کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد پڑھا جائے، لیکن ہمیں اس مسئلے کے بارے میں خصوصی کوئی عمل مع دلیل معلوم نہیں ہے، چنانچہ اگر کوئی یہ جانتے ہوئے کہ جمائی شیطان کی طرف سے لہذا اعوذ باللہ پڑھ لے تو اس میں  کوئی حرج نہیں ہے، تاہم   یہ ضرور ہے کہ یہ عمل سنت نہیں ہے، کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے" انتہی
ماخوذ از:

شیخ عبد المحسن عباد حفظہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر انسان اس اعتبار سے تعوذ پڑھتا ہے کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہے، اور یہ نظریہ نہیں رکھتا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اگر کوئی شخص یہ کہے کہ  تعوذ پڑھنا سنت ہے، یا یہ کہے کہ جمائی کے وقت فلاں فلاں ذکر پڑھنا چاہیے تو یہ بات درست نہیں ہوگی، البتہ اگر جمائی آنے پر شیطان سے پناہ مانگتا ہے، کیونکہ شیطان کی طرف سے ہی جمائی ہوتی ہے ، اور ساتھ میں یہ نظریہ بھی رکھتا ہے کہ یہ عمل سنت نہیں ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں" انتہی
"شرح سنن ابی داود" (492/ 17) مکتبہ شاملہ  کی خود کار ترتیب کے مطابق۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں