اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

اپنی بہن سے مکان خریدا اور بتلایا کہ اس کی اتنی قیمت ہے، لیکن حقیقت میں اس سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو سکتا تھا۔

10-12-2022

سوال 298008

میں نے اپنی بہن سے 3 لاکھ 20 ہزار میں مکان خریدا، مجھے ایک پراپرٹی ایجنٹ نے بتلایا تھا کہ اس کی قیمت 3 لاکھ 20 سے لے کر 3 لاکھ 50 ہزار کے درمیان ہے، لیکن میں نے زیادہ سے زیادہ قیمت اپنی ہمشیرہ کو نہیں بتلائی؛ کیونکہ لوگوں میں مشہور ہے کہ تجارت اولّے کا نام ہے، تو میں نے انہیں صرف کم از کم قیمت بتلا دی، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

لین دین کرتے ہوئے سچ بولنا برکت کا باعث ہے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (خرید و فروخت کرنے والے جب تک مجلس برخاست نہیں کرتے دونوں کو اختیار حاصل ہے، چنانچہ اگر دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو ان کی تجارت میں ان کے لیے برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر دونوں جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو ان کی تجارت میں سے برکت مٹا دی جاتی ہے۔)
اس حدیث کو امام بخاری: (2110) اور مسلم : (1532) نے روایت کیا ہے۔

انسان اپنے رشتہ دار سے خریداری کر سکتا ہے، اور بھاؤ تاؤ بھی کر سکتا ہے تا کہ اسے اچھے سے اچھا ریٹ مل جائے بشرطیکہ اس میں جھوٹ یا دھوکا دہی نہ ہو۔

آپ نے اپنی ہمشیرہ سے کہا کہ مکان کی قیمت 3 لاکھ 20 ہزار ہے، تو اگر آپ کا مقصد یہ تھا کہ یہ مکان زیادہ سے زیادہ اتنی قیمت میں فروخت ہو سکتا ہے اور یہی اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت لگی ہے تو یہ آپ نے ان سے جھوٹ بولا ہے اور انہیں دھوکا دیا ہے، آپ پر واجب ہے کہ آپ اللہ تعالی سے توبہ کریں، اور اپنی ہمشیرہ سے معافی تلافی کریں، اور انہیں بتلائیں کہ ان کا مکان اس سے بھی زیادہ قیمت میں فروخت ہو سکتا تھا۔

اسی طرح اگر آپ کی ہمشیرہ نے آپ سے کہا تھا کہ : آپ اس کا ریٹ لگوا لیں تا کہ مکان کی قیمت معلوم ہو سکے، تو تب بھی آپ نے ان سے غلط بیانی کی ہے، آپ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ آپ پراپرٹی ڈیلر کی مکمل بات انہیں بتلاتیں؛ کیونکہ کچھ بات کو چھپا لینا بھی دھوکا دہی کی ہی ایک قسم ہے۔

لیکن اگر آپ نے انہیں صرف یہ بتلایا کہ مکان اس قیمت میں فروخت ہو جائے گا، آپ نے انہیں یہ باور کروانے کی کوشش نہیں کی کہ یہ اس مکان کی زیادہ سے زیادہ قیمت ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اس صورت میں جھوٹ یا دھوکا دہی نہیں ہے، ایسے ہی اس میں غبن بھی نہیں ہے؛ کیونکہ مذکورہ قیمت حقیقی معنوں میں پراپرٹی ایجنٹ نے لگائی تھی۔

جیسے کہ علامہ ابن عابدین اپنے حاشیہ (5/ 143) میں لکھتے ہیں کہ:
"بڑا غبن یہ ہے کہ اتنا ریٹ کوئی بھی نہ لگائے، یہی بات درست ہے، جیسے کہ بحرالرائق میں ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ: اگر بیع 10 میں ہو جائے، اور پھر ریٹ لگانے والے بعض کہیں کہ یہ چیز 5 کی ہے، کچھ اسے 6 کی کہیں اور کچھ 7 کی کہیں، تو پھر یہ واضح طور پر بڑا غبن ہے؛ کیونکہ 10 کا ریٹ کسی نے بھی نہیں لگایا۔ لیکن اگر کچھ اس کا ریٹ 8 لگائیں، اور کچھ 9 لگائیں، اور کچھ 10 لگائیں تو یہ پھر معمولی غبن شمار ہو گا۔" ختم شد

واللہ اعلم

خرید و فروخت
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔