تازہ ترین جوابات
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعائیں وارد ہیں: 1- اَلَّلهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ترجمہ: ’’ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ‘‘ 2- أَعُوْذُ بَاللهِ الْعَظِيْمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ ترجمہ:’’ میں اللہ عظیم کی پناہ لیتا ہوں، اس کے باعزت چہرے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بادشاہت کی پناہ لیتا ہوں، شیطان مردود سے۔‘‘ اور مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: اَلَّلهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ترجمہ: ’’اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘ جہاں تک سوال کرنے والے نے ذکر کیا کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ’’آمین‘‘ کہنا مستحب ہے تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں، نہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، اور نہ ہی کسی اہل علم سے اس بارے میں کوئی قول منقول ہے۔محفوظ کریںدوران نماز کچھ لمحات کے لیے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو کیا اس سے نماز باطل ہو جائے گی؟
محفوظ کریںاہل کتاب یہودی یا نصرانی کے ذبیحہ کا حکم جب وہ ذبح کے وقت ’’باپ، بیٹے اور روحِ القدس کے نام پر‘‘ ذبح کرے۔
محفوظ کریںطلاق واقع ہونے سے پہلے رجوع کا حکم، اور یہ کہنا کہ ’’جب بھی میں تمہیں طلاق دوں تو میری طرف سے رجوع سمجھا جائے‘‘
محفوظ کریںخواتین سے مصافحہ کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنے والے کسی بھی مرد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت سے ہاتھ ملائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو یا اس کے محرم رشتہ داروں میں شامل نہ ہو؛ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی ماری جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو ہاتھ لگائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔) مصافحہ حتیٰ کہ کپڑے کے اوپر سے بھی جائز نہیں، اور اس بارے میں جو حدیث آئی ہے وہ ضعیف ہے۔محفوظ کریںمحض ذاتی مطالعہ پر اکتفا کرنے کے منفی اثرات
محفوظ کریںاجنبی عورت سے مرد کا مصافحہ کرنا
محفوظ کریںکیا سابقہ کمپنی کے ڈیٹا سے نئی ملازمت کی جگہ پر فائدہ اٹھانا جائز ہے؟
محفوظ کریںنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا غضب ناک ہونا آپ کی بشریت کا تقاضا ہے۔
محفوظ کریںتعزیت کے موقع پر کہے جانے والے بہترین کلمات
تعزیت کا مقصد مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین کرنا ہے، اور اس کے لیے شریعت میں کوئی خاص الفاظ مقرر نہیں کیے گئے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ الفاظ کہے جائیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کے موقع پر ارشاد فرمائے، جیسے: { إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ}’’بیشک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے ہاں ایک مقرر مدت ہے، لہٰذا تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو‘‘۔ عام طور پر کہے جانے والے تعزیتی الفاظ یہ ہیں: {عَظَّمَ اللهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ اللهُ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ، أَلْهَمَكَ اللهُ صَبْرًا، وَأَجْزَلَ لَنَا وَلَكَ بِالصَّبْرِ أَجْرًا } ’’اللہ تعالیٰ آپ کا اجر عظیم فرمائے، آپ کے غم میں آسانی فرمائے، آپ کے مُردے کو بخش دے، اور آپ کو صبر عطا فرمائے، اور ہمیں اور آپ کو اس صبر پر اجر جزیل عطا فرمائے۔محفوظ کریں