اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

دوران نماز عورت كا امام كو ديكھنا

21-03-2007

سوال 3832

مجھے يہ تو معلوم ہے كہ مقتدى امام كے پيچھے يا جو شخص امام كو ديكھ رہا ہے اس كے پيچھے كھڑا ہو، ليكن ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا عورت كے ليے بھى يہى حكم ہے، ميں نے سنا ہے كہ امام نظر آنا واجب ہے، چاہے ايك ہى عورت ہو ؟
آپ كو معلوم ہے كہ عورتوں كے نماز كى جگہ اكثر پردہ ميں ہوتى ہے، جہاں سے عورت امام كو نہيں ديكھ سكتى، بلكہ وہ تو لاؤڈ سپيكر كى آواز كے ذريعہ امام كى اقتدا كرتى ہيں، اور بعض اوقات لاؤڈ سپيكر خراب ہو جاتا ہے جس كى بنا پر ہم نماز ادا نہيں كر سكتيں.
ايك بار ايسا ہوا كہ ميں اپنے خاوند كے ساتھ سفر ميں تھى، ہم نماز كے ليے ركے اور ميں عورتوں كى نماز والى جگہ چلى گئى، وہاں كوئى اور عورت نہ تھى ميں نے امام كى تكبير سنى ليكن مجھے يہ نہ پتہ چلا كہ يہ تكبير كس چيز كے ليے تھى، حتى كہ ميں ترتيب كے ساتھ امام كى اقتدا نہ كر سكى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

نماز باجماعت ادا كرنے والى عورت كے ليے امام يا بعض مقتديوں كا نظر آنا شرط نہيں، صفيں ملى ہونا شرط ہيں، اور عورتوں كے ليے نماز والى جگہ مسجد كے اندر ہونى چاہيے، اور وہاں تك امام كى آواز پہنچے تاكہ عورت اقتدا كر سكے.

اور اگر كسى سبب كے باعث عورت امام كى اقتدا نہ كر سكے تو اسے انفرادى طور پر ہى نماز ادا كر لينى چاہيے، يا اگر امام كى آواز نہ آ رہى ہويا پھر ان كے ليے اقتدا كرنا ممكن نہ ہو تو وہ عورتوں كى دوسرى جماعت كے ساتھ نماز ادا كرليں.

اور اگر عورت مسجد ميں داخل ہونے كے بعد امام كى تكبير سنے تو اس وقت تك امام كے ساتھ تكبير نہ كہے جب تك كہ اسے علم نہ ہو كہ يہ تكبير كس حالت كے ليے تھى آيا سجدہ كى تھى يا ركوع كے ليے، اس سے نكلنے كے ليے ـ جب امام يا مقتدى نظر نہ آئيں ـ اسے انتظار كرنا چاہيے حتى كہ امام سمع اللہ لمن حمدہ كہے، تو پھر وہ اس كے ساتھ نماز ادا كرے.

الكافى ميں امام عبد البر كہتے ہيں:

جسے بھى امام نظر آ رہا ہو يا پھر وہ آواز سنے اور اس كى حركات كا علم ہو جائے تو اس امام كى اقتدا كرنى جائز ہے، مالكيہ كا قول يہى ہے.

ديكھيں: الكافى ( 1 / 212 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اگر امام اور مقتديوں آڑ ہو جو امام كے دكھائى دينے ميں مانع ہو يا پھر اس كے پيچھے تو اس ميں امام احمد سے دو روايتيں ہيں:

پہلى روايت: اس كى اقتدا كرنى صحيح نہيں.

دوسرى روايت: صحيح ہے، كيونكہ مشاھدہ كے بغير بھى امام كى اقتدا ممكن ہے، مثلا اندھے شخص كى.

انہوں نے امام كى اقتدا صحيح ہونے ميں آواز سننے كى شرط ركھى ہے.

ديكھيں: المغنى ( 2 / 208 ).

خلاصہ يہ ہوا كہ:

اگر آپ مسجد ميں داخل ہوں اور امام كى آواز سن رہى ہوں اور آپ كو اس كى حالت كا بھى علم ہو تو آپ امام كى اقتدا ميں نماز كريں، وگرنہ اكيلى نماز ادا كرليں، يا پھر امام كے نماز سے فارغ ہونے كے بعد عورتوں كے ساتھ نماز باجماعت ادا كريں.

آپ كى نماز كے متعلق ہم نے فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى سے حكم دريافت كيا تو ان كا جواب تھا:

احتياط اسى ميں ہے كہ نماز دوبارہ ادا كرے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

واللہ اعلم .

نماز با جماعت
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔