اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

بنك البلاد ميں شراكت كرنے كا حكم

15-06-2007

سوال 46588

بنك البلاد ميں شراكت كرنے كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

بنك البلاد كے ہاں اہل فقہ حضرات پر مشتمل ايك كميٹى بنا ركھى ہے جو مسائل ميں ريسرچ كرتى ہے، اور بنك البلاد نے كئى بار يہ اعلان بھى كيا ہے كہ وہ ايك اسلامى بنك ہوگا، اور اس كے نظام كى ديكھ بھال اور نگرانى ہوتى رہتى ہے، اس ليے اگر تو وہ شريعت اسلاميہ كے موافق ہو اور شروع كرتے وقت اس كے سارے اعمال شريعت اسلاميہ كے موافق ہوں تو اس ميں شراكت كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

اور اس كا ثبوت اس وقت تك نہيں مل سكتا جب تك اس شرعى كميٹى كے متعبر اور ثقہ افراد سے دريافت نہ كر ليا جائے، اور اس بنك كے شروع ہونے كے بعد اس ميں ہونے والا اعمال اور لين دين كى چھان بين نہ كر لى جائے.

لہذا جسے بھى اس نظام اور جارى اعمال كے جواز كا علم اس كے ليے اس ميں شراكت كرنا جائز ہے.

بنك كى شرعى كميٹى نے درج ذيل فيصلہ اور قرار پاس كي ہے:

شرعى بنك كميٹى كى قرار نمبر ( 100 ) بتاريخ 1 / 1 / 1426 ھجرى.

بسم اللہ الرحمن الرحيم

رب العالمين و الصلاۃ والسلام على سيد المرسلين و الآخرين نبينا محمد و على آلہ و صحبہ اجمعين.

سب تعريفات اللہ رب العالمين كے ليے ہيں، اور سب رسولوں كے سردار ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور سب صحابہ كرام پر اللہ كى رحمتيں نازل ہوں.

اما بعد:

بنك البلاد ميں شرعى كميٹى نے اپنے اجلاس نمبر ( 100 ) جو كہ بروز جمعرات الموافق 1 / 1 / 1426 ہجرى ميں منعقد ہوا ميں بنك البلاد ميں شراكت كے حكم كے متعلق كئى قسم كے آنے والے سوالات پر غور و خوض كرنے كے بعد درج ذيل قرار پاس كى:

اول:

بنك البلاد ميں شراكت كرنى جائز ہے؛ كيونكہ بنك البلاد شرعى شياست كے تابع ہے، اس پر اپنے سارے اعمال شرعى كميٹى كے سامنے پيش كرنے لازم ہيں، اور شرعى كميٹى كے فيصلوں پر عمل كرنے كا بنك پابند ہے اور اور شرعى نگران كميٹى ان فيصلوں پر اپنى نگرانى ميں عمل كرائيگى بنك كى شرعى سياست يہ بيان كرتى ہے كہ:

اللہ تعالى كى توفيق سے جب سے بنك كى تاسيس ہوئى ہے اس وقت سے بنك البلاد اپنے اوپر بنك كے سب معاملات ميں شريعت مطہرہ كو لاگو كرنے كا التزام كر رہا ہے، اسى طرح اس نے اپنے كندھوں پر شرعى مقاصد اور اسلامى اقتصاديات كى غرض و غايت كا خيال ركھنے كا التزام بھى كر ركھا ہے.

اس قيمتى ہدف كو پورا كرنے كے ليے بنك نے اپنے نظام ميں ايك مستقل شرعى كميٹى كا وجود ركھا ہے جو بنك كے سب اداروں سے عليحدہ اور مستقل ہے، بنك اس كے سامنے اپنے سارے معاملات ركھتا ہے؛ تا كہ ان اعمال كو پركھا جا سكے كہ يہ شرعى احكام كے كتنے موافق ہيں، اس جگہ درج ذيل كچھ اشارے كرنا مناسب معلوم ہوتے ہيں:

1 - شرعى كميٹى كے فيصلے اور قرار بنك كے ہر ادارے اور آفس پر لازم ہونگے.

2 - كوئى پروگرام يا كام بھى شرعى كميٹى پر پيش كيے اور اس كى موافقت حاصل كرنے كے بغير كھاتہ داروں كے سامنے پيش نہيں كى جائيگى.

3 - بنك كے اعمال كى نگران كميٹى اس بات كا يقين كريگى اور خيال ركھےگى كہ آيا اس كے اعمال اور كام كميٹى كے فيصلوں كے مطابق ہيں اور اس كى ذمہ دار شرعى نگران كميٹى ہوگى.

4 - شرعى كميٹى اپنے پروگرام اور اعمال كو اس طرح ترقى ديگى كہ وہ شرعى قواعد اور اصول و ضوابط كے موافق ہوں، اور شرعى اقتصاديات كى غرض و غايت كے اہداف پورے كرتے ہوں.

5 - شرعى كميٹى كى ذمہ دارى ہے كہ وہ بنك اور معاشرے كے مختلف شعبہ جات ميں اسلامى بينكارى كى فضاء اور رجحان پھيلائے " ا ھـ

شرعى عمل كميٹى نے اس سياست كى تنفيذ اپنى تشكيل كى ابتدا ربيع الآخر 1425 ھـ ميں ہى شروع كر دى تھى، اس نے بنك كے اساسى نظام اور تاسيسى معاہدے، اور بنك كے تعارفى ليٹريچر اور بروشر، اور شراكت كے نمونوں، اور شراكت ميں شريك بنكوں كے ساتھ معاہدہ جات، اور شراكت كے مينجر كے ساتھ بنك كے معاہدے كا تفصيلى مطالعہ كيا تو اسے كوئى ايسى چيز نہيں ملى جو اس ميں شراكت اور اس كے ساتھ لين دين كرنے ميں مانع اور عدم جواز پر دلالت كرتا ہو.

اور شرعى كميٹى بنك كے كئى ا يك معاہدوں اور اس كے سرٹيفكيٹ كے مطالعہ اور چھان بين سے فارغ ہوئى اور بنك كے معاملات كے ليے كئى ايك شرعى ضوابط مقرر كيے.

دوم:

اجازت كے بعد حصص ماركيٹ ميں بنك البلاد كے حصص كى خريد و فروخت جائز ہے؛ كيونكہ بنك ايسى موجودہ اشياء كا مالك ہے جو شرعا معتبر ہيں، جن ميں يہ اشياء ہيں:

بنك كے ليے لين دين كرنے كا لائسنس، بنك كے مركزى دفتر كى عمارت، اور بنك كئى ايك شاخيں جس ميں ضرورى ساز و سامان موجود ہے جس ميں چھ سو سے زائد ملازمين كام كرتے ہيں، اس كے علاوہ بھى كئى ايك آلات اور نظام ہيں، اور اس كے ساتھ ساتھ سعودى عرب كيش كمپنى كے ساتھ كئى ايك معاہدے بھى ہيں، اور پورى دنيا ميں ايك سو سے زائد بنكوں كے ساتھ بھى معاہدہ جات.

اور اس ليے كہ حصص كا لين دين كرنے كے بعد حصص كى قيمت ميں تغير و تبدل كا كلى طور پر موجود اشياء كى قيمت ارتباط نہيں جو كمپنى كے پاس ہيں، يا مطلوب ہيں، بلكہ اس ميں كئى ايك دوسرے عوامل موثر ہوتے ہيں، مثلا عمومى حصص كى پيشكش اور مانگ كا انڈيكس، اور معنوى حقوق وغيرہ.

سوم:

شراكت دار كے جائز نہيں كہ وہ شراكت ميں كسى اور كا نام استعمال كرے، چاہے وہ كسى عوض كے بدلے ہو جو نام والے شخص كو ادا كيا جائے، يا بغير عوض اور مقابل كے ہو، كيونكہ اس ميں اس حد سے تجاوز جس نظام كے اعتبار سے وہ مستحق ٹھرتا ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ نظام ميں چلنے اور اس كا التزام كرنے والے دوسرے افراد پر ظلم اور زيادتى ہے، جبكہ انصاف كا تقاضہ يہ ہے كہ حصص كے حصول كے ليے سب شراكت داروں كے ليے برابر فرصت ملنى چاہيے، اور يہ اس وقت ہى ہو سكتا ہے كہ ہر شراكت دار كے ليے ايك حد مقرر كى دى جائے جس سے وہ تجاوز نہ كرے.

لہذا كسى دوسرے كا نام استعمال كرنے سے منع كرنا اس شرعى سياست ميں شامل ہوتا ہے جو مقاصد شرعيہ كے ساتھ متفق ہے كہ مال سب لوگوں كے ہاتھ ميں ہوچاہے وہ فقير ہو يا امير، نہ كہ وہ صرف ايك قليل سے گروہ اور افراد كے ہاتھوں ميں ہى گھومتا رہے، اس كے علاوہ يہ بھى ہے كہ ايسا كرنا ( يعنى كسى كا نام استعمال كرنا ) تدليس اور دھوكہ كى ايك قسم ہے، جو كہ طرفين كے مابين لڑائى جھگڑے كا باعث ہے.

چہارم:

شراكت دار كے ليے شراكت كى قيمت بطور قرضہ حسنہ لينا جائز ہے جو بغير كسى زيادتى كے اتنى رقم ہى واپس كريگا، اور اگر وہ قرض واپسى ميں زيادہ واپس كرنے كے ساتھ مشروط ہو تو يہ حرام ہے، چاہے واپسى ميں زيادتى تناسب كے لحاظ سے ہو يا پھر كسى عليحدہ مبلغ كى شكل ميں اور چاہے اسے تمويل بنكى يا تسھيل ( آسان بنكنگ ) وغيرہ كا نام ديا گيا ہو، كيونكہ يہ سود ميں شامل ہوتا ہے.

اور اس كے عوض ميں اس شراكت دار كے ليے جس كے پاس كافى مال نہ ہو مال والے كے ساتھ شراكت كے معاہدے ميں شريك ہونا جائز ہے، اور اس كے بعد خريد و فروخت كے نتيجہ ميں حاصل ہونے والا نفع وہ آپس ميں حسب اتفاق تقسيم كرينگے، شرط يہ ركھى جاتى ہے كہ ہر ايك كے مشروط نفع كا حصہ معلوم ہو، مثلا يہ كہے كہ: يہ مال لو اور اس سے حاصل ہونے والے نفع ميں سے بيس فيصد ( 20 % ) آپ كا اور اسى فيصد ( 80 % ) ميرا ليكن اگر آپ ان دونوں ميں سے حصہ كى مبلغ اور عليحدہ رقم كے ساتھ تحديد كريں تو يہ جائز نہيں.

مثلا كوئى يہ كہے كہ: يہ مال لو اور اس سے شراكت كا كاروبار كرو اور آپ كو نفع ميں سے ايك ہزار ريال اور اس سے جو زائد ہو وہ ميرا؛ كيونكہ يہ مشاركت كے نفع ميں قطعى اور فكس ہے، ہو سكتا ہے ان حصص ميں صرف مذكورہ بالا رقم ہى نفع حاصل ہو، يا پھر اس سے بھى كم، يا پھر بہت زيادہ نفع ہو تو وہ اسے دھوكہ اور غبن محسوس كرے.

اور يہ كوئى مخفى نہيں كہ مال كے مالك كا شراكت كے معاہدے ميں اس شخص كے ساتھ شامل ہونا جو حصص كو اپنے نام لكھوائےگا يہ ان دونوں كے مابين زيادہ عدل و انصاف پر ہو گا كہ مال والا سارے نفع كا خود مالك بن جائے، اور خاص كر اس مشاركت ميں ايسى كوئى چيز ظاہر نہيں ہوتى جو نظام كے اعتبار سے مانع ہو.

كمپنيوں كے نظام ميں يہ بيان كيا گيا ہے كہ دو اشخاص يا اس سے زيادہ ايك حصہ كے مالك اس شرط پر ہو سكتے ہيں كہ وہ كمپنى كے مقابلہ ميں ايك ہى شخص كے نام لكھا گيا ہو.

اور آخر ميں ہم اللہ تعالى سے دعا گو ہيں كہ وہ بنك البلاد كے ذمہ داران كو شرعى احكام كى پابندى كرنے كى توفيق عطا كرے، اسى طرح ہم شراكت والى كمپنيوں كے ذمہ داران كو اس پر ابھارتے ہيں كہ وہ سرمايہ كارى اور مالدارى ميں حرام معاملات سے دور رہيں، اور شئر بازار اور ماركيٹ ميں كام كرنے والوں كو بھى اس پر ابھارتے ہيں كہ وہ شرعى احكام كى پابندى كرنے والى كمپنيوں كى مدد كريں.

اللہ تعالى سب كو ہدايت نصيب فرمائے، اور اللہ كى رضا مندى والے كام كرنے كى توفيق بخشے, واللہ تعالى اعلم.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

بنك البلاد شرعى كميٹى كے اركان

الشيخ استاد ڈاكٹر عبد اللہ بن موسى العمار

الشيخ ڈاكٹر عبد العزيز بن فوزان الفوزان

الشيخ ڈاكٹر يوسف بن عبد اللہ الشبيلى.

الشيخ ڈاكٹر محمد بن سعود العصيمى

واللہ اعلم .

سرمایہ کاری
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔