الحمد للہ.
جب بار آوری کے عمل میں بیوی اور خاوند سے ہٹ کر کسی تیسرے غیر متعلقہ فرد کا دخل ہو کہ بیضہ کسی اجنبی عورت کا ہو یا جس کے رحم میں بار آور شدہ مادہ منویہ رکھا جا رہا ہے وہ بیوی نہ ہو، یا سپرم خاوند کے نہ ہوں تو ان تمام صورتوں میں مصنوعی بار آوری حرام ہے؛ کیونکہ ایسی صورت میں اسے زنا سمجھا جائے گا؛ کیونکہ کسی عورت کا کسی اجنبی مرد کی منی اپنے اندر داخل کروانے کا وہی حکم ہو گا جو اس عورت کے ساتھ ہم بستری کرنے کا ہے۔
جبکہ ایسی صورت میں بچہ مان کی طرف ہی منسوب ہو گا جس نے اسے جنم دیا ہے، جس مرد کا نطفہ ہے اس کی طرف منسوب نہیں ہو گا، بلکہ ایسے ہی جیسے ولد الزنا کا معاملہ ہوتا ہے، لیکن اگر یہ شخص بچے کے والد ہونے کا دعوی کرے اور کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے تو پھر اس کی طرف نسبت کر دی جائے گی؛ کیونکہ شرعی منشا یہی ہے کہ لوگوں کو ان کے والدین کی طرف ہی منسوب کیا جائے، ایسی صورت میں حدیث نبوی: (بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا جبکہ زانی کے لیے پتھر ہیں۔) کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ حدیث اس وقت ہے جب پیدا ہونے والے بچے کے نسب کے متعلق کوئی جھگڑا ہو جیسے کہ حدیث کا شان ورود واضح کرتا ہے۔