ہفتہ 11 شعبان 1441 - 4 اپریل 2020
اردو

اہل ایمان اللہ تعالی سے مل کر فرحت پائیں گے۔

308653

تاریخ اشاعت : 14-03-2020

مشاہدات : 191

سوال

ایسی کون سی قرآنی آیات ہیں جن میں اہل ایمان کا اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت خوش ہونے کا تذکرہ ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

قیامت کے دن آخرت کے گھر میں اہل ایمان کی اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت فرحت و مسرت متعدد مواقع پر واضح ہو گی، ان میں سے پہلا موقع یہ ہے:

وفات کے وقت: جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ * الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ * لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ 

 ترجمہ: متنبہ رہو! بلا شبہ اللہ تعالی کے دوستوں پر نہ خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے، یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے، ان کے لیے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔[یونس: 62 -64]

اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا خَيْرًا لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ * جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ كَذَلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

ترجمہ: اور جب پرہیز گاروں سے پوچھا گیا کہ: "تمہارے رب نے کیا نازل کیا ؟" تو وہ کہتے ہیں "بھلائی ہی بھلائی" اچھے کام کرنے والوں کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت بہتر ہے۔ اور پرہیز گاروں کے لئے کیا ہی اچھا گھر ہے۔ [30] دائمی باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ ان میں نہریں جاری ہوں گی اور جو کچھ بھی وہ چاہیں گے انہیں ملے گا اللہ تعالی پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے۔ [31] وہ پرہیز گار جو پاک سیرت ہوتے ہیں۔ فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں تم پر سلام ہو، جو اچھے عمل تم کرتے رہے اس کے صلے میں جنت میں داخل ہو جاؤ" [النحل: 30 - 32]

ایک اور مقام پر فرمایا:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ * نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ * نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ

 ترجمہ: جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں۔ نہ ڈرو اور نہ غمگین ہو اور اس جنت کی خوشی مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے [30] ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں تمہارا جو جی چاہے گا تمہیں ملے گا اور جو کچھ مانگو گے تمہارا ہوگا۔[31] یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہوگی۔ [فصلت: 30 - 32]

چنانچہ جس وقت مومن بندے کے پاس فرشتے اللہ تعالی کی طرف سے خوش خبری لاتے ہیں تو اہل ایمان پر فرحت و مسرت کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔

جبکہ کافر اور گناہ گار شخص پر دکھ، مصیبت اور تنگی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مومن شخص قریب المرگ حالت میں اللہ تعالی سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے، جبکہ کافر اور گناہ گار شخص اللہ تعالی سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا۔

جیسے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو اچھا نہیں سمجھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو اچھا نہیں سمجھتا ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ : "مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے ؟" اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : (بات یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ مومن آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضا مندی اور اس کے ہاں عزت افزائی کی اسے خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو اس ملنے والی رضا مندی اور عزت افزائی سے بڑھ کر کوئی بھی چیز عزیز نہیں ہوتی ، اس لئے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہش مند ہو جا تا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتا ہے ۔ لیکن جب کا فر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے ، چنانچہ اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس ملنے والے عذاب اور سزا سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اللہ سے جا ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے ، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔)

اور یہی وجہ ہے کہ نیک آدمی اپنے جنازے کو اٹھانے والوں سے مطالبہ کر رہا ہوتا ہے کہ وہ جلد از جلد اسے قبر تک پہنچائیں ؛ کیونکہ اسے اللہ کی نعمتوں کا شوق ہوتا ہے، جبکہ بد کار آدمی واویلا کر رہا ہوتا ہے کہ اسے کہاں لے کر جا رہے ہیں!؟ اس کی دلیل صحیح بخاری اور سنن نسائی میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب میت کو جنازے کی چار پائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر میت نیک ہو تو وہ کہتی ہے: مجھے جلدی لے چلو، اور اگر بد کار ہو تو وہ اپنے جاننے والوں سے کہتی ہے: ہائے تباہی تم اسے کہا لے جا رہے ہو؟ اس کی آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اور اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔)
مزید کے لیے دیکھیں:
"القيامة الصغرى "از عمر بن سلیمان اشقر ، (28) اور اسی طرح : "الموسوعة العقدية" (4/ 131)

دوم:

آخرت میں اہل ایمان اس خوش خبری پر محو مسرت ہوں گے کہ انہیں جنت ملے گی، اللہ تعالی نے ان کے لیے جنت میں جو کچھ تیار کر رکھا ہے وہ سب کچھ ملے گا، وہ اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں وصول کریں گے، ذرا اس منظر کو دیکھیں جس میں اہل ایمان اپنے نامہ اعمال کو لے کر خوش ہوں گے، فرمانِ باری تعالی ہے:

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ

ترجمہ: پھر جسے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا: آؤ اور میرا نامہ اعمال پڑھو [19] بلاشبہ مجھے تو یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ملے گا [20] تو وہ من پسند زندگی میں ہو گا [21] بلند جنتوں میں [22] اس کے پھل جھکے ہوئے قریب ہوں گے[23] گزشتہ ایام میں تم جو کچھ کرتے رہے ہو اس کے عوض اب تم کھاؤ اور پیو [الحاقہ: 19 - 24]

سوم:

اللہ تعالی سے ملاقات پر اہل ایمان کی فرحت اس وقت بھی ہو گی جب وہ اللہ تعالی کا دیدار کریں گے، اور اللہ تعالی کے چہرے کو دیکھیں گے، اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 لِلَّذِيْنَ أَحْسَنُوْا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ 

 ترجمہ: جن لوگوں نے اچھائی کی ان کے بدلہ بھی اچھا ہو گا اور اس سے بڑھ کر بھی ملے گا۔ [یونس:26]
تو اس آیت کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں کہ:
"یہاں " زِيَادَةٌ " سے مراد اللہ تعالی کے چہرے کا دیدار ہے۔"

اس تفسیر کی تائید صحیح مسلم : (181) کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے   لِلَّذِيْنَ أَحْسَنُوْا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ   آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا: (جس وقت جنتی جنت میں چلے جائیں گے، اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو ایک صدا لگانے والا صدا لگائے گا اور کہے گا: "اے جنتیو! تمہارے لیے اللہ تعالی کا ایک وعدہ باقی ہے، اور اللہ تعالی اس وعدے کو پورا کرنا چاہتا ہے" اس پر جنتی کہیں گے: وہ کون سا وعدہ ہے؟ کیا اللہ تعالی نے ہمارے اعمال کے پلڑے کو وزنی نہیں کر دیا، اور ہمارے چہروں کو بھی روشن کر دیا، پھر ہمیں جنت میں بھی داخل کر دیا ، ہمیں جہنم سے بچا بھی لیا؟ تو اللہ تعالی ان کے سامنے سے حجاب کو کھول دے گا، اور وہ سب اللہ تعالی کی طرف دیکھنے لگے گیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے انہیں کوئی بھی چیز عطا نہیں کی جو انہیں دیدار الہی سے زیادہ محبوب ہو، اور ان کی آنکھوں کے لیے دیدار الہی سے زیادہ ٹھنڈ ک کا باعث ہو۔)

اسی طرح سورت القیامہ، آیت: (23) میں ہے کہ:

  وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ  

 ترجمہ: اس دن کچھ چہرے تر و تازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔[القیامہ: 23]

تو اس آیت میں بھی بالکل واضح دلالت موجود ہے کہ اہل ایمان کے قیامت کے دن چہرے تر و تازہ اور پر مسرت ہوں گے اور اللہ تعالی کے چہرے کی جانب دیکھ رہے ہوں گے، اور پھر دیدار الہی کرنے کے بعد ان کے حسن و جمال اور مسرت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (1916)، (125618) اور (210252) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں