الحمد للہ.
اگر تومتوفی شخص نے فوت ہونے سے قبل ترک نماز سے توبہ کرلی تھی اوراسے ادا کرنے پر حریص تھا تو پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ شھید ہو کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( پانچ شخص شھید ہیں : طاعون سے مرنے والا ، پیٹ کی بیماری سے فوت ہونے والا ، غرق ہونے والا ، کسی کے نیچے دب کرمرنے والا ، اوراللہ تعالی کے راستے میں شھید ہونے والا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2829 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1914 ) ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
اور المبطون : یعنی پیٹ کی وجہ سے مرنے والے سے مراد پیٹ کی بیماری سے مرنے والا ہے ، یعنی اسہال وغیرہ سے ، قاضی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں : ایک قول یہ ہے کہ : جسے قئي کی بیماری ہو اورپیٹ پھول جائے ۔
اورایک قول یہ بھی ہے : جسے پیٹ کی بیماری کی شکایت ہو ، اورایک قول یہ بھی ہے کہ : وہ شخص جومطلقا پیٹ کی کسی بھی بیماری سے فوت ہوجائے وہ شھید ہے ۔ دیکھیں شرح مسلم للنووی ۔
1 - گزشتہ برسوں کی جتنی بھی اس پر زکاۃ بنتی ہواس کی ادائيگي واجب ہے ، اس میں گزشتہ برسوں میں ہرسال جتنا بھی مال اس کے پاس تھا اس میں سے مباح اورجس پر زکاۃ ہو اورنصاب کو بھی پہنچنے والا ہو اس کا اندازہ لگا کر گزشتہ برسوں کی زکاۃ ادا کی جائے گی مثلا نقدی مال اوراسی طرح سونا وغیرہ ۔
لیکن یہاں ایک بات یاد رہے کہ اس مال میں حرام کردہ سودی فائدہ وغیرہ شامل نہيں کیا جائےگا اس سارے مال میں اڑھائي 2.5 ٪ فیصد زکاۃ نکالی جائے گی اوراس کے بعد جوبچے اسے دوسرے برس میں شامل کیا جائے اوراسی طرح اس میں سے بچنے والے کو اس کے بعد والے برس میں شامل کرکے زکاۃ ادا کی جائے ، اورباقی سالوں میں بھی اسی طرح اندازہ لگائیں ۔
2 - وارثوں نے جو بھی سودی مال کھایا ہے اورانہیں اس کا علم ہے توانہيں اس سے توبہ کرنی چاہیے ، اور انہيں چاہیے کہ وہ اپنے والد کےلیے زيادہ سے زيادہ دعا کريں کہ اللہ تعالی اس کی خطاؤں اورغطلیوں سے درگزر فرمائے ، اس لیے کہ سود خور کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گناہ ہے ، اللہ تعالی ہمیں اورسب مسلمانوں کو اس سے بچا کررکھے ۔
3 - ورثاء کے لیے ان معاھدوں اوروغیرہ میں سے صرف اورصرف راس المال یعنی اصل مال ہی حلال ہے ، اورجوکچھ اس پر سود کی شکل میں فائدہ کے نام سے دیا جارہا ہے وہ لینا جائز نہیں ، اوراگر بنک اصرار کرے کہ ورثاء کو یہ بھی حاصل کرنا ہوگا تواس صورت میں بنک سے حاصل کرکے فقراء ومساکین میں تقسیم کردیا جائے ، یا پھر اس سے بچنے کے لیے مسلمانوں کی مصالح میں صرف کردیا جائے ۔
آپ اس کی مزید تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر ( 20695 ) کے جواب کا مطالعہ ضرورکریں ۔
اوراگر کوئي اسلامی بنک پایا جائے جوشرعی طریقے سے کاروبار کرتا ہو تواس کے ذریعہ سے کاربار کرنا جائز ہے ۔
رہا مسئلہ صدقہ جاریہ کا تو ہم اس کے بارہ میں گزارش کرینگے کہ اس میں بہت ساری صورتیں ہیں ، جن میں مسجد کی تعمیر کرنا یا پھر اس کی تعمیر میں معاونت ومدد کرنا بھی شامل ہے ، اوراسی طرح شرعی طالب علموں کے لیے شرعی کتب خریدنا یا پھر قرآن مجید خرید کر مساجد میں رکھنا بھی صدقہ جاریہ ہی ہے ۔
اور یہ بھی صدقہ جاریہ ہی ہے کہ کوئي گھر یا دوکان وقف کرکے اس کی آمدن فقراء اورمساکین یا یتیموں اوررشتہ داروں اورطالب علموں وغیرہ پر خرچ کی جائے یہ وقت کرنے والے پر ہے کہ وہ جس کےلیے چاہے وقف کرسکتا ہے اس میں اس پر کوئي ضروری نہیں کہ وہ کسی ایک کے لیے ہی وقف کرے ۔
یہ بھی صدقہ جاریہ ہے کہ کوئي خیراتی ہاسپٹل بنادیاجائے جہاں لوگوں کا مفت علاج کیا جائے ، کچھ ممالک میں بعض ایسی تنظیمیں اورکمیٹیاں موجود ہیں جووقف کی مسؤلیت اختیار کرنے کی ذمہ داری لیتی ہیں لھذا کوئي وقف یا کسی وقف میں تعاون کرنے کے سلسلے میں ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
اپنے باپ کی موت کے بعد اس کے لیے سب سے بہتر کام یہی ہے کہ اس کے لیے دعا کرو جس کا اسے فائدہ بھی ہوگا لھذا زيادہ زيادہ یہ دعا کیا کرو کہ اللہ تعالی اسے اپنی وسیع رحمت میں ڈھانپ کررکھے اوراس کی غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر فرمائے ۔
ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ آپ کے اعمال کو شرف قبولیت بخشے اوراپنے والدین سے حسن سلوک کرنے میں مدد فرمائے ۔
واللہ تعالی اعلم .