اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

بچے كے مال سے پچھلے برسوں كى زكاۃ نكالنا

28-11-2010

سوال 69798

اگر كوئى شخص جہالت كى بنا پر پچھلے چار برس كى زكاۃ ادا نہ كر سكے تو اس كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس نے اس برس سے زكاۃ نكالنى شروع كى ہے، لہذا پچھلے برسوں كا اس كے ذمہ كيا ہے ؟
اور ان حصص كا حكم كيا ہے جو وصايا كے تحت تھے، كيا اس كا مالك بالغ ہونے كے بعد اس كى زكاۃ ادا كرے گا، يہ علم ميں رہے كہ اس نے اٹھارہ برس تك اس كى زكاۃ ادا نہيں كى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

جس نے پچھلے كئى برسوں سے زكاۃ ادا نہ كى ہو اس پر پچھلے برسوں كى زكاۃ نكالنى واجب ہے، چاہے اس نے جہالت كى بنا پر نہ دى ہو يا علم ركھتے ہوئے ادا نہ كى ہو.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے ايسے شخص كے بارہ ميں سوال كيا گيا جس نے جہالت كى بنا پر پانچ برس تك زكاۃ ادا نہ كى تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

اس پر پچھلے سالوں كى زكاۃ واجب ہے، اور آپ كى جہالت زكاۃ كى ادائيگى كو ساقط نہيں كرے گى؛ كيونكہ زكاۃ كى فرضيت كا معاملہ ايسا ہے جو دين كے ضرورى معلومات ميں سے ہے، اور اس كا حكم كسى بھى مسلمان سے مخفى نہيں.

اور زكاۃ دين اسلام كے اركان ميں سے تيسرا ركن ہے، آپ كو چاہيے كہ پچھلے تمام برسوں كى زكاۃ جتنى جلدى ہو سكے ادا كرديں، اور اس كے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ وتعالى كے سامنے اس تاخير پر توبہ بھى كريں، اللہ تعالى ہميں اور آپ كو اور ہر مسلمان كو معاف فرمائے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے. انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 14 / 239 ).

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 21715 ) كا جواب ضرور ديكھيں.

اور اس سے وہ مال مستثنى ہے جس ميں زكاۃ واجب ہونے ميں اختلاف پايا جاتا ہے، مثلا پرانا اور استعمال شدہ زيور، لہذا جس شخص نے جہالت يا زيور ميں زكاۃ كے عدم وجوب كے قائل كى پيروى كرتے ہوئے زكاۃ ادا نہ كى تو اس كے ذمہ گزشتہ برسوں كى زكاۃ واجب نہ ہو گى، بلكہ وہ اس وقت كى زكاۃ ہى نكالے گا جب اسے اس ميں زكاۃ واجب ہونے كا علم ہو.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھى يہى فتوى ديا ہے: ان كا كہنا ہے:

ہم اس بات كى تنبيہ كرتے ہيں كہ جب تمہيں زيور ميں زكاۃ واجب ہونے كا علم ہو تو اسى وقت اس ميں سے زكاۃ نكالنى لازم ہے، اور جو زكاۃ كے وجوب كا علم ہونے سے قبل كى زكاۃ ہے ان برسوں كى زكاۃ آپ كے ذمہ نہيں ہے؛ كيونكہ شريعت كے احكام علم ميں آنے كے بعد لازم ہوتے ہيں؛ اور اس مسئلہ ميں علماء كرام كے اختلاف كى بنا پر بھى. انتہى

ماخوذ از: فتاوى اسلاميہ ( 2 / 84 ).

دوم:

جمہور علماء كرام كے ہاں زيور اور بچے كے مال پر زكاۃ واجب ہے، اور اس كا چھوٹا ہونا زكاۃ كو ساقط نہيں كرتا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" بچے اور مجنون كے مال ميں زكاۃ واجب ہے... يہ عمر، على، ابن عمر، عائشہ، حسن بن على، جابر رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے، اور امام مالك، امام شافعى، اور امام احمد كا بھى يہى كہنا ہے" انتہى

المغنى ( 2 / 256 ) كچھ كمى و بيشى كے ساتھ.

اور اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 75305 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے

سوم:

ہر حصص ميں زكاۃ واجب نہيں ہوتى، بلكہ بعض ميں واجب ہے، اور بعض ميں زكاۃ نہيں بلكہ اس كے منافع ميں زكاۃ واجب ہوتى ليكن يہ بھى جب وہ نصاب كو پہنچے اور اس پر ايك برس گزر جائے، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 69912 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

لہذا جب ان حصص ميں زكاۃ واجب ہوتى ہو تو پچھلے برسوں كى زكاۃ نكالنا واجب ہو گى.

اور جب صرف ان حصص كے منافع ميں زكاۃ واجب ہوتى ہو تو اس منافع كى زكاۃ نكالنى واجب ہو جو نصاب كو پہنچے اور اس پر سال مكمل ہو جائے.

واللہ اعلم .

زکاۃ
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔