اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

غلط قرآن پڑھنے والے كے پيچھے نماز ادا كرنا

03-12-2009

سوال 70270

جس مسجد ميں ميں نماز ادا كرتا ہوں اس كا امام سورۃ الفاتحہ ميں غلطياں كرتا ہے، پيش كى جگہ زبر اور پيش كى جگہ زير پڑھ جاتا ہے جس كى وجہ سے آيت كا معنى بدل جاتا ہے تو كيا اس كے پيچھے نماز ادا كرنا صحيح ہے ؟
ہمارى مسجد ميں نماز كے بعد ايك بدعت بھى پائى جاتى ہے وہ يہ كہ اجتماعى صورت ميں سو بار يا لطيف كا ورد كيا جاتا ہے، كيا يہ صحيح ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگر كوئى امام يا مقتدى قرآت فاتحہ ميں غلطى كرے جس سے آيات كا معنى بدل جائے تو اس كى نماز باطل ہے؛ كيونكہ سورۃ الفاتحہ نماز كے اركان ميں سے ايك ركن ہے، اس پر واجب اور ضرورى ہے كہ وہ اپنى قرآت صحيح كرے، اور صحيح طريقہ سے سورۃ الفاتحہ پڑھنا سيكھے، ليكن اگر وہ اس تعليم ميں جدوجھد اور كوشش كرنے كے باوجود صحيح كرنے سے عاجز ہو تو پھر اللہ تعالى كسى نفس كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا، ليكن اگر وہ امام ہو تو پھر اس كے پيچھے بھى وہى شخص نماز ادا كرے جو اس طرح غلط پڑھنے والا ہے يا اس سے بھى كم صحيح سورۃ فاتحہ پڑھتا ہو.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قرآت ميں لحن يعنى غلطياں كرنے والے كا امامت كرانا مكروہ ہے؛ پھر ديكھا جائيگا كہ: اگر اس كى غلطى معنى ميں تبديلى كا باعث نہيں بنتى مثلا الحمد للہ ميں ہاء پر پيش پڑھنا تو اس كى اور اس كے پيچھے نماز ادا كرنا صحيح ہے.

ليكن اگر معنى ميں تبديلى كا باعث بنتى ہو مثلا انعمت ميں تاء پر پيش پڑھنا يا پھر اس پر زير پڑھنا تو اس كى نماز باطل ہو جائيگى، اور مثلا اس كا قول: الصراط المستقين؛ اگر تو اس كى زبان اس كے اختيار ميں اور لكنت نہ پائى جائے اور اس كے ليے اس كو سيكھنا ممكن ہو تو اس كى تعليم لازم ہے، ليكن اگر وہ ايسا نہ كر سكتا ہو اور وقت تنگ ہو تو نماز ادا كر لے اور پھر قضاء كرے اور اس كى اقتدا ميں نماز ادا كرنا جائز نہيں.

اور اگر زبان ميں لكنت ہو يعنى زبان اس كى فرمانبردار نہ ہو يا پھر وہ نہ گزرا ہو جس ميں اس كو سيكھنا ممكن ہو اگر يہ غلطى سورۃ فاتحہ ميں ہو تو اس كے پيچھے اس جيسے شخص كى نماز صحيح ہو گى، اور صحيح زبان والے شخص كى اس كے پيچھے اور پڑھے ہوئے شخص كى ان پڑھ شخص كے پيچھے نماز صحيح نہيں ہو گى، اور اگر فاتحہ كے علاوہ ميں غلطى ہو تو اس كى اپنى اور اس كے پيچھے والے كى بھى نماز صحيح ہو گى " انتہى

ديكھيں: روضۃ الطالبين ( 1 / 350 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اگر غير پڑھا لكھا كسى غير پڑھے لكھے اور پڑھے ہوئے دونوں كى امامت كرائے پڑھا لكھا اكيلا نماز دھرائے گا، امى يعنى ان پڑھ وہ ہے جسے سورۃ فاتحہ اچھى طرح پڑھنى نہ آتى ہو يا اس كا كچھ حصہ نہ پڑھ سكتا ہے، يا پھر اس كا كوئى حرف نہ پڑھ سكتا ہو.

اور اگر وہ اس كے علاوہ اچھا پڑھ سكتا ہو تو اچھا پڑھنے والے كى امامت كرانا جائز نہيں، اور اپنے جيسے كى امامت كرانا صحيح ہے.

پھر كہتے ہيں:

" اور جس نے عاجز ہونے كى بنا سورۃ فاتحہ كا كوئى حرف چھوڑ ديا، يا اسے كسى اور حرف ميں تبديل كر ديا جيسا كہ تتلانے والا شخص راء كو غين بنا ديتا ہے، يا پھر ہكلانے والا جو ايك حرف كو دوسرے ميں مدغم كر ديتا ہے، يا كوئى ايسى غلطى كرے جس سے معنى ہى بدل جائے مثلا كوئى شخص اياك كى كاف پر زير پڑھے يا انعمت كى تاء پر پيش پڑھے اور اس كى اصلاح اور صحيح كرنے كى استطاعت نہ ركھتا ہو تو وہ امى يعنى ان پڑھ كى طرح ہى ہے اس كے ليے قارئ يعنى پڑھے ہوئے كى امامت كرانا صحيح نہيں.

ان ميں سے ہر ايك كے ليے اپنے جيسے شخص كى امامت كرانا جائز ہے؛ كيونكہ وہ دونوں ان پڑھ ہيں، اس ليے دونوں كے ليے ايك دوسرے كى امامت كرانى جائز ہوئى، بالكل ان دو اشخاص كى طرح جو كچھ بھى صحيح نہ پڑھ سكتے ہوں.

اور اگر وہ اس ميں سے كچھ كو صحيح كرنے كى استطاعت ركھتے ہوں اور وہ اس كى اصلاح نہ كرے يعنى صحيح نہ پڑھے تو اس كى نماز صحيح نہيں، اور نہ ہى اس كى اقتدا كرنے والے كى نماز صحيح ہو گى"

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" بہت زيادہ غلط پڑھنے والے شخص كے ليے امامت كرانا مكروہ ہے جو معنى تبديل نہ كرتا ہو، امام احمد نے يہى بيان كيا ہے، اور جو غلطى نہيں كرتا اس كى نماز صحيح ہو گى، كيونكہ اس نے قرآت كا فرض ادا كر ديا ہے.

اور اگر سورۃ فاتحہ كے علاوہ كسى اور آيت ميں معنى تبديل كر ديا تو اس كى نماز صحيح ہونے كو نہ تو ممنوع كيا جائيگا اور نہ ہى اس كى اقتدا ميں نماز ادا كرنے كو ليكن اگر وہ تعمدا اور جان بوجھ كر ايسا كرے تو دونوں كى نماز باطل ہو جائيگى....

ليكن اگر اس كى غلطى كى بنا پر آيات كا معنى تبديل نہيں ہوتا تو اس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے، ليكن اس كے ليے قرآت سيكھنا واجب ہے.

اور اگر اس كى غلطى سورۃ فاتحہ كے علاوہ كسى اور آيت ميں ہو اس كى نماز ميں نقص تو ہو گا ليكن باطل نہيں ہو گى اور كسى متقن قارئ كے پيچھے نماز ادا كرنا غلط قرآت والے شخص كے پيچھے نماز ادا كرنے سے بلاشك زيادہ اولى ہے، اور ذمہ داران كے ليے اس طرح كے جاہل لوگوں كو نماز كى امامت كے ليے مقرر كرنا جائز نہيں، اگر ايسا كرينگے تو وہ بھى ان كے ساتھ گناہ ميں شريك ہونگے "

ديكھيں: المغنى ( 3 / 29 - 32 ) طبع ھجر

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كہتے ہيں:

" ليكن اگر وہ غلط پڑھتا ہو اور اس كى غلطى سے معنى تبديل نہ ہو تو ميسر ہونے كى صورت ميں صحيح قرآت كرنے والے كے پيچھے نماز ادا كرنا اولى اور بہتر ہے.

ليكن اگر اس كى غلطى سورۃ فاتحہ ميں ہو اور معنى تبديل كر دے تو اس كے پيچھے نماز ادا كرنا باطل ہے، كيونكہ يہ اس كے غلط پڑھنے كى بنا پر ہے نہ مثلا جو شخص اياك نعبد ميں كاف پر زير پڑھ يا پھر انعمت عليھم كے تاء پر پيش يا زير پڑھ لے.

اور اگر اس كا حفظ كمزور ہونےكى بنا پر غلطى ہو تو اس كے علاوہ دوسرا شخص جو زيادہ حافظ ہے اس كو امام بنانا اولى اور بہتر ہے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 527 ).

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك امام قرآن مجيد كى تلاوت ميں غلطياں كرتا ہے بعض اوقات قرآنى آيات ميں حروف زيادہ كر ديتا ہے يا كم پڑھتا ہے اس كے پيچھے نماز ادا كرنے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

اگر تو اس كى غلطى آيات كے معانى كو تبديل نہ كرے ت واس كے پيچھے نماز ادا كرنے ميں كوئى حرج نہيں مثلا الحمد للہ رب العالمين ميں رب كى باء پر زبر يا پيش پڑھے، اور اسى طرح الرحمن كے نون پر زبر يا پيش.

ليكن اگر اس غلطى سے معانى تبديل ہو جاتے ہوں اور اسے سكھانے اور اس كى غلطى بتانے كے باوجود وہ اسے صحيح نہ كرے تو اس كے پيچھے نماز ادا نہ كى جائے، مثلا اياك نعبد ميں كاف پر زير پڑھ دے، يا انعمت كى تاء پر پيش يا زير پڑھ دے، اگر وہ سكھانے سے سيكھ جائے اور لقمہ دينے سے غلطى كى اصلاح كر لے تو اس كى نماز اور قرآت صحيح ہے.

ہر حال ميں مسلمان كے ليے مشروع ہے كہ وہ اپنے بھائى كو نماز كى حالت ميں يا نماز سے باہر ہر وقت تعليم دے، اور جب وہ غلطى كرے تو اسے غلطى كا لقمہ دے، اور جب وہ جاہل ہو تو اسے تعليم دے اور جب قرآن بھول جائے تو وہ اس كى تصحيح كرے "

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 12 / 98 - 99 ).

دوم:

رہا مسئلہ يا لطيف كا سو بار ورد كرنا: تو بلاشك و شبہ يہ بدعت ہے اگر مسلمان شخص صرف اكيلا كلمہ يا لطيف كہتا رہے تو يہ بدعت ہو گى كيونكہ يہ جملہ مفيدہ نہيں ہے، يہ اللہ كے ليے ندا اور پكار تو ہے ليكن اس كے بعد كيا ہے ؟

كيا وہ اپنے رب سے كچھ طلب كر رہا ہے ؟ كيا اس كے بعد وہ اپنے رب كى حمد و ثنا بيان كرنا چاہتا ہے ؟ اس ميں سے كچھ بھى نہيں، اور پھر اگر يہ اجتحماعى صورت ميں ورد كيا جائے تو يہ ايك اور بدعت ہو گى.

مزيد آپ اس كے متعلق درج ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں:

سوال نمبر ( 26867 ) اور ( 22457 ) كے جوابات.

واللہ اعلم .

امامت نماز میں تلاوت بدعت
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔