اتوار 23 محرم 1441 - 22 ستمبر 2019
اردو

کسی دکان پر پہرہ دینے کا حکم جہاں کچھ حرام چیزیں بھی فروخت ہوں؟

300731

تاریخ اشاعت : 30-08-2019

مشاہدات : 208

سوال

میں شادی شدہ ہوں اور فرانس میں مقیم ہوں، میں ایک فرانسیسی سیکورٹی کمپنی کے ساتھ چوکیداری کا کام کرتا ہوں، اور ماہانہ تنخواہ ان سے وصول کرتا ہوں، اس کمپنی کے دکانوں کے ساتھ بھی ٹھیکے ہیں اور ان تمام کے ساتھ ٹھیکے ہیں جن کا تعلق سیکورٹی سے ہے، تو اس سلسلے میں کمپنی ہمیں ان تمام جگہوں میں متعین کرتی ہے جن کا ہماری کمپنی کے ساتھ سیکورٹی معاہدہ ہے۔ لیکن میرے ساتھ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ کمپنی نے مجھے اول دن سے لیکر آج تک ایک بہت بڑے سپر اسٹور پر چوکیداری کے لئے بھیجا ہوا ہے، یہاں زیادہ تر ملبوسات ہیں مردوں، عورتوں، بچوں اور شیر خوار بچوں کا لباس یہاں پر ملتا ہے، اسی طرح عام گھریلو استعمال کی چیزیں مثلاً: بیگ، مٹھائی، کھلونے، اسکول کی اسٹیشنری اور دیگر اسی طرح کی اشیا یہاں موجود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس اسٹور میں شرعی اور غیر شرعی تمام طرح کی چیزیں موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر اس اسٹور میں شرعی طور پر جائز چیزیں ہی ہیں غیر شرعی چیزوں کی تعداد کم ہے۔

میرا کام اسٹور کے اندر نہیں ہے، میں گودام کی جانب ڈیوٹی کرتا ہوں جہاں پر بڑے بڑے پیک وصول کیے جاتے ہیں، الحمدللہ مجھے اس جگہ پر بر وقت نماز پڑھنے کا بھی بھر پور موقع ملتا ہے۔ مجھے اپنی ڈاڑھی بھی نہیں منڈوانی پڑتی؛ کیونکہ میں گودام میں کام کرتا ہوں، میں نے گاہکوں کے ساتھ لین دین نہیں کرنا ہوتا، تو میرا سوال یہ ہے کہ اس اسٹور پر بطور سیکورٹی گارڈ کام کرنا میرے لیے کیسا ہے؟ یہ ایک بار پھر واضح رہے کہ اس اسٹور پر فروخت ہونے والی اشیا میں شرعاً جائز چیزیں غیر شرعی چیزوں سے زیادہ ہیں۔ جو تنخواہ مجھے ملتی ہے کیا اس میں حرام اور حلال دونوں کی آمیزش ہے؟ تنخواہ کے بارے میں یہ واضح کر دوں کہ میں اپنی تنخواہ اپنی سیکورٹی کمپنی سے وصول کرتا ہوں ، اس اسٹور سے مجھے تنخواہ نہیں ملتی۔

جواب کا متن

الحمدللہ:

ایسی دکانوں اور اسٹوروں پر پہرے کا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جہاں لباس وغیرہ جیسی شرعی طور پر جائز چیزیں فروخت ہوتی ہیں، لیکن ایسی جگہوں کی چوکیداری کرنا جائز نہیں ہے جو کہ حرام کاموں کے لئے تیار کی گئی ہیں، یا جن جگہوں میں حرام چیزیں حلال چیزوں سے زیادہ ہوں، مثلاً: سودی بینک، شراب کی دکانیں، جوا کھیلنے اور رقص کرنے کے ہال وغیرہ؛ کیونکہ گناہ کے کاموں میں معاونت کرنا بھی حرام ہوتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کرو ، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو، اللہ سے ڈرو ؛ بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔[ المائدة:2]

اسی طرح دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی (14/ 481)میں ہے کہ:
"کیا کسی مسلمان فوجی یا چوکیدار کے لئے کلیسا ، شراب خانہ، سینما یا برائی کے اڈوں جیسے کہ جوا خانہ، یا شراب کی دکان وغیرہ کی چوکیداری کرنا جائز ہے؟
جواب: چرچ، شراب خانوں، اور سینما جیسے برائی کے اڈوں کی چوکیداری کا کام کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں گناہ کے لئے تعاون پایا جاتا ہے، جبکہ اللہ تعالی نے برائی کے کام میں تعاون سے روکا ہے اور فرمایا:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ 

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کرو ، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو، اللہ سے ڈرو ؛ بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔[ المائدة:2]
عبد اللہ غدیان۔۔۔ عبد الرزاق عفیفی۔۔۔ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز " ختم شد

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (173073) کا جواب ملاحظہ کریں۔

جس اسٹور کے گودام کی آپ چوکیداری کرتے ہیں وہاں پر شرعی طور پر جائز چیزیں زیادہ ہیں، اور آپ کسی بھی حرام چیز کے لئے کسی قسم کا تعاون براہ راست پیش نہیں کرتے ، مثلاً: آپ اسے اٹھا کر نہیں رکھتے، نہ ہی ان کا ریکارڈ مرتب کرتے ہیں تو پھر غالب اور زیادہ چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے اس ملازمت کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دکانوں میں معمولی حرام چیزوں کا پایا جانا [آپ کے علاقے میں] بلوا عامہ بن چکا ہے، اور یہ ایک اصولی قاعدہ ہے کہ : ذیلی امور میں جن چیزوں سے صرفِ نظر ہو سکتا ہے بنیادی امور میں ان سے صرفِ نظر ممکن نہیں ہوتا۔

پھر آپ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس ملازمت کے دوران آپ آسانی سے نماز وقت پر بھی ادا کرتے ہیں اور ڈاڑھی بھی منڈوانی نہیں پڑتی۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں