10000: خاوند اس کی اولاد کا خیال نہیں کرتا اورانہیں بدعتیوں کے پاس لےجاتا ہے


خاوند میرے بیٹے کوایک اسلامی سکول بھیجتا ہے لیکن میرے اعتقاد میں یہ سکول دینی اعتبار سے بہت متساہل ہے ، بچہ سات برس کا ہے اورابھی تک اس نے قرآن پڑھنا بھی نہیں سیکھا بلکہ ایک سورۃ بھی نہيں آتی ، عربی نہ آنے کی وجہ سے میں اسے انگلش ترجمہ سے پڑھاتی رہی ہوں لیکن یہ ناکافی ہے۔
اس سلسلے میں خاوند سے بات کی لیکن وہ میری مخالفت کرتا ہے ، یا وہ اس بنا پر میرے بچوں کوایک معروف بدعتی اورخرافی سکول بھیجنے کا ذریعہ بنانے لگا ہے ، اس کی دوسری بیوی کے بچے اسی سکول میں تعلیم حاصل کرتے اورعربی میں فر فرقرآن پڑھتے ہیں ۔
ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ میں توچاہتی ہوں کہ میرا بچہ بھی قرآنی تعلیم حاصل کرے لیکن جہاں پڑھتا ہے وہ سکول بہت ہی متساہل اورخرافی ہے ، اوردوسرا سکول جہاں پڑھائي کا زيادہ اہتمام کیا جاتاہے وہ ہمارے ہاں اسلامی کمیونٹی سے دور ہے ، اوراس کی جگہ مسجد کچھ نہ کچھ کام چلارہی ہے اوروہ بھی عربی زبان میں بہت ہی کم ۔ میرا خاوند اپنی دوسری بیوی کو لے کر اس مسجدمیں جاتا ہے ، اور میں اپنے محلے کی مسجدمیں جاتی ہوں جہاں پرکسی مذھب کی بجائے سنت نبویہ کے مطابق عمل کیا جاتا ہے ، جس کی بنا پرمیرے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہیں کیونکہ میرا خاوند مذاھب کے ان احتیاطات اورخدشات کا خیال نہیں کرتا جس سے علماء کرام نے بچنے کا کہا ہے ، اور جب میں کسی معین مذھب کی اتباع نہ کرنے کا کہتی ہوں تووہ میری مخالفت اورانکار کرتا ہے ؟
اس سلسلے میں آپ کچھ نہ کچھ راہنمائی کریں جس پر ان شاءاللہ میں آپ کی قدردان رہوں گي ۔

الحمد للہ
اول :

ہم سائلہ بہن کے مشکور ہیں کہ وہ اپنی اولاد کودینی وقرآنی تعلیم دینے پر حریص ہے ، اس لیے کہ یہ حسن تربیت کا ایک مظہر ہے ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہيں کہ وہ اسے توفیق عطا فرمائے اور اس پر اس کی مدد وتعاون فرمائے۔

دوم :

اسے ہماری نصیحت ہے کہ وہ بچوں کوعربی زبان سکھانے میں شدید حرص رکھے اوراس کا اہتمام کرے اس لیے کہ اس دین عظیم کے علم ومعرفت کا سب سے بہتر وسیلہ یہی ہے ، جس بنا پر وہ اپنی اولاد کو علموم نافع کی تعلیم سے بھی بہرہ ور کرسکتی ہے ، اوراس لیے بھی کہ ماں اپنی اولاد پر دوسروں کی بنسبت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے ۔

سوم :

خاوند کو بھی ہماری نصیحت ہے کہ وہ اللہ تعالی کا تقوی اور ڈر اختیار کرتا ہوا اپنی اولاد مین تعلیم وتربیت کے اہتمام میں عدل وانصاف کرے جواس کی اولاد کو دین و دنیامیں نفع دے ، ان میں سب سے بہتر اوراچھی چيز اللہ تعالی کی کتاب اورسنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے بچوں کو اس کی تعلیم کا خاص اہتمام کرنا چاہیے ۔

نعمان بن بشیررضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کوئي چيزعطیہ دی توعمرہ بنت رواحۃ رضي اللہ تعالی عنہا کہنے لگي میں تواس پر راضي نہيں حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکراس کے متعلق پوچھ نہ لو لھذا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس گئے اورعرض کی :

اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے عمرہ بنت رواحہ میں سے اپنے بیٹے کوعطیہ دیا تو وہ کہنے لگي کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اورانہيں گواہ بناؤ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تونے اپنے سب بچوں کو اسی طرح عطیہ دیا ہے ؟ وہ کہنے لگے نہیں ۔

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی کا تقوی اورڈراختیار کرتے ہوئے اپنی ساری اولاد میں عدل وانصاف کرو ، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نےواپس آکر اپنے عطیہ واپس لے لیا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2447 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1623 )

حدیث میں شاھد یہ ہے کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نعمان رضی اللہ تعالی عنہ کا صرف اپنے ایک بیٹے کو کچھ عطیہ کرنا صحیح قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ سب اولاد میں عدل کرتے ہوئے سب کو دو یا اس سے بھی واپس لے لو ، لھذا اس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ کوئي شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو تعلیم دلائے اورکسی کونہ دلائے یا اسی طرح کسی اورمعاملہ میں کسی ایک سے امتیازی سلوک کرے یہ صحیح نہیں ۔

جس طرح مرد یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی اولاد اس کی اطاعت اوراسے سے بہتر سلوک کرنے میں برابر رہیں اس لیے اسے بھی ان کے ساتھ ہرمعاملہ میں برابری کرنا ہوگي ، اولاد کا آپس میں ایک دوسرے سے حسد وبغض اورکینہ پیدا ہونے کے اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ والد زيادہ محبت کرے اوریاپھر کسی ایک کو دوسروں پر فضیلت دے ۔

یوسف علیہ السلام کے قصہ میں اس سے بھی بڑھ کر شاھد پایا جاتا ہے جواللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے :

{ جب انہوں نے کہا کہ یوسف اوراس کا بھائي ہماری نسبت ہمارے باپ کو ہم سے بھی زيادہ پیارا ہے حالانکہ ہم ( طاقتور ) جماعت ہیں یقینا ہمارا باپ صریح غلطی میں ہے ، یوسف کوتو مار ہی ڈالو یا اسے کسی نامعلوم جگہ پر پھینک دو تا کہ تمہارے والد کا رخ اور محبت تمہاری طرف ہوجائے ، اس کے بعد تم نیک اورصالح بن جانا } یوسف ( 8 - 9 ) ۔

چہارم :

خاوند پر ضروری ہے کہ وہ اولاد کو شرعی تعلیم سے روشناس کرائے اورخاص کرانہيں عربی زبان اورقرآن مجید بچپن میں ہی سکھائے تا کہ وہ بڑے ہو کر بھی اسی طرف راغب رہیں کیونکہ بچپن میں حاصل کی گئي تعلیم زيادہ فائدہ مند ہوتی ہے اورذھن میں بھی زیادہ جاگزیں رہتی ہے ۔

اورپھر یہ مقولہ بھی ہے کہ : پچپن میں تعلیم حاصل کرنا ایساہی ہے جیسا کہ پتھر میں نقش ونگارکیا جاتا ہے ۔

اورپھر اگر مسلمان ایسے ملک میں رہائش پذیر ہوجہاں پر فتنہ وفساد بھی زيادہ ہو اورخاص کر بچوں کی کھیل کود اورانہیں غلط راہ پر چلانے کا سامان بھی زيادہ مہیا کیا گيا وہاں تو دینی تعلیم اوربھی زيادہ ضروری ہوجاتی ہے ۔

پنجم :

مسلمان پر واجب اورضروی ہے کہ وہ کتاب وسنت کی اتباع وپیروی کرے کیونکہ شریعت الہی کے یہی دو مصدر ہیں جس کے بارہ میں اللہ سبحانہ وتعالی نے بھی کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ اے ایمان والو ! اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری و اطاعت کرو اورجو تم میں سے اختیار والے ہیں ان کی بھی ، لیکن اگر تم کسی چيز میں اختلاف کرنے لگو تو اسے اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ تعالی اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ، یہ بہت ہی بہتر ہے اوراس کا انجام بھی بہت اچھا ہے } النساء (59)

اورجابر بن عبداللہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( میں تم میں ایسی چيز چھوڑ رہا ہوں جسے تم پکڑے رکھو تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے وہ کتاب اللہ ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

لھذا ھدایت و راہنمائی کی اساس توکتاب وسنت میں ہے نہ کہ کسی بشر کے قول میں چاہے وہ کوئي بھی ہو ، لیکن یہ ہے کہ ہم آئمہ کرام رحمہم اللہ تعالی کی شان میں کمی اورگستاخی نہیں کرینگے ، بلکہ ہم ان کے اقوال و کلام کے ساتھ کتاب اللہ اورسنت نبویہ کوصحیح سمجھنے اوراحکام شریعہ کوبھی سمجھنے میں تعاون حاصل کریں گے ۔

ان مذاھب کا کوئي مسلمان بھی انکار نہیں کرتا اورنہ ہی کسی امام کی شان میں کمی اورگستاخی کرتا ہے ، بلکہ مسلمان کے لیے کوئي حرج نہيں کہ وہ اس مذاھب سے استفادہ کرے اوراسے سمجھنے کی کوشش کرے ، لیکن انکار اس چيز کا ہے کہ ان مذاھب میں تعصب کا شکار نہ ہوا جائے اورکسی کی جامد اوراندھی تقلید نہ کی جائے اور انکار اس بات کا ہے کہ کسی ایک مذھب پرعمل کرنے پراصرارکرنا چاہے وہ صحیح حدیث کے مخالف ہی ہو ۔

صحیح تو یہ ہے کہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں جوبھی آئے اسے ترک کیا جائے اورصحیح حدیث پرعمل ہونا ضروری ہے ۔

اورپھر آئمہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کوئي عمدا اورجان بوجھ کرنہیں کی بلکہ معاملہ یہ ہے کہ سب کومعلوم ہے کہ صحابہ کرام مختلف ممالک میں پھیل چکے تھے اوران آئمہ کرام کے پاس جواحادیث پہنچیں ان پر عمل کیااورجن مسائل میں انہیں احادیث نہ مل سکیں وہاں انہوں نے اپنی رائے اوراجتھاد سے فتوی دیا ۔

یہ بھی ہے کہ ان کےپاس احادیث نہ پہنچی تو انہوں نے کچھ مسائل میں اجتھاد کیا اوریہی وہ مسائل ہیں جو سنت کے مخالف ہیں اب صحیح حدیث پر عمل ہوگا نہ کہ ان کے اقوال واجتھاد ہے ۔

اورمسلمان شخص پر اس معاملہ میں واجب اورضروری ہے کہ وہ کتاب وسنت کی پیروی کرے اورآئمہ کرام کو معذور سمجھے ، اوریہ اعتقاد رکھے کہ آئمہ کرام اپنے اجتھاد کی وجہ سے انشاء اللہ ماجور ہیں اوراس میں ان میں سےکسی کو ڈبل اورکسی کو ایک ہی اجر ملے گا جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے ۔

اورآئمہ کرام نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم قرآن وسنت پر عمل کریں اوراس کے مخالف اقوال کو ترک کردیں چاہے اس کا قائل کوئي بھی کیوں نہ ہو

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

جب حدیث صحیح ہو تو میرا مذھب بھی وہی ہے ۔

اوریہ بھی کہا کہ : کسی کے لیے بھی یہ حلال نہیں کہ وہ ہمارے کسی قول کو لے جب تک کہ اسے یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم یہ کہاں سے اخذ کیا ہے ۔

اورایک قول یہ بھی ہے :

میں جب کتاب وسنت کے خلاف کوئي قول کہہ دوں تو میرے قول کو ترک کردو ۔

اورامام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

میں ایک انسان اوربشر ہوں غلطی بھی کرتا ہوں اورمجھ سے صحیح بات بھی ہوسکتی ہے لھذا میری رائے کودیکھو اگر تو وہ کتاب وسنت کے موافق ہو اسے لے لو اورجوبھی کتاب وسنت کے مخالف ہو اسے ترک کردو ۔

اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

جب تم میری کتاب میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئي بھی چيز پاؤ توسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہی کہو اور میری بات کوچھوڑدو ۔

امام احمد رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

نہ تومیری تقلید کرو اور نہ ہی مالک اورشافعی کی اورنہ ہی اوزاعی اورثوری رحمہم اللہ تعالی کی بلکہ آپ بھی وہیں سے اخذ کریں اور لیں جہاں سے انہوں نے اخذ کیا اورمسائل حاصل کیے ۔

شاھد یہ ہے کہ آئمہ کرام نے اس بات کو رفض کیا ہے کہ کوئي ایک بھی ان کے کسی قول پر بغیر کسی دلیل کے تعصب کا مظاہرہ کرے ، اورخاص کرجب وہ قول کتاب وسنت کے بھی خلاف ہو اس لیے کہ آئمہ کرام بھی سب کےسب بشر ہیں اوران سے بھی غلطی ہوسکتی ہے وہ کوئي معصوم نہیں ۔

لیکن یہ ہے کہ ہمیں ان سب کی قدر کرنی چاہیے اورعلم میں ان کے فضل ومرتبے کا خیال کرتے ہوئے ان کے علم سے استفادہ کریں لیکن ان میں سے کسی ایک کے قول پر بھی ہمیں متعصب نہیں ہونا چاہیے ۔

ششم :

دوسرا سکول جس کے بارہ میں سائلہ کا کہنا ہے کہ اس میں بدعات وغیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے لیکن قرآن مجید کا اہتمام اچھے طریقے سے کیا جاتا ہے ، لھذا ہم سائلہ سے کہيں گے کہ وہ اپنی اولاد کی مصلحت اورمصالح اورمفاسد میں توازن دیکھے ، اس لیے اگر توبچوں کوکوئي اچھا سا مدرس مل جائے توان پر توجہ دے جس کی بنا پر اس سکول میں جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو تو پھر بچوں کی مصلحت اسی میں ہے کہ بچوں کو سکول نہ بھیجا جائے تا کہ وہ سکول جا کر بدعات وخرافات ہی نہ سیکھتے رہیں ۔

اوراسی طرح جب یہ بدعات وخرافات بڑے بڑے امور میں ہوں جوبچوں کو اہل سنت والجماعت کے منھج اورطریقے سے ہٹا کر دوسرے طریقے پر لے چلنے کا باعث ہوں تو انہيں سکول نہيں بھیجنا چاہیے ۔

لیکن اگر یہ بدعات وخرافات اتنی بڑی نہيں اورنہ ہی اس حدتک جاتی ہوں کہ بچے اہل سنت والجماعت اورکتاب وسنت سے نہ ہٹیں اور بچوں کو ان بدعات وخرافات کے بارہ میں بتانا ممکن ہو اورانہیں یہ سمجھایا جائے کہ ان بدعات سے بچنا ضروری ہے ، اوراس سکول کے بدلہ میں کوئي اورسکول بھی نہ ہو توپھر انشاء اللہ بچوں کو اسی سکول میں بھیجنے میں کوئی حرج والی بات نہیں لیکن ہمیشہ ہی پوری طرح ہوشیار رہنا چاہیے کہ بچے ان بدعات کا اثر نہ لے لیں ، اوراگر یہ دیکھا جائے کہ بچے ان بدعات سے متاثر ہونے لگے ہیں تواس حالت میں فوری طور پر بچوں کو اس سکول جانے سے منع کردیا جائے ۔

ہفتم :

اس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ جو استاد لوگوں کو کتاب وسنت کی تعلیم دے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کا خیال رکھے وہ دوسروں سے زيادہ اولی اوربہتر ہے ، بلکہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایسے شخص سے خود بھی مستفید ہو اوراپنے بیوی بچوں کو بھی اس سے مستفید کرے ۔

لھذا خاوند کو نصیحت ہے کہ وہ اپنی بیوی کی بات کو تسلیم کرتا ہوا کتاب وسنت کی اتباع وپیروی کرے اس لیے کہ بیوی بھی کتاب وسنت پرعمل کرنے پر حریص ہے ، اورخاوند کو یہ بھی چاہیے کہ وہ بیوی بچوں کو عربی زبان اورقرآن مجید کی تعلیم لازمی دلائے ، اوراس کے ساتھ ساتھ اس میں اپنی اولاد کے مابین عدل وانصاف کرے ۔

اوراسے چاہیے کہ وہ کتاب وسنت کی اتباع وپیروی کرے اوران مذاھب اقوال میں سے کسی ایک میں بھی تعصب سے کام نہ لے جو کتاب وسنت کے مخالف ہوں ، اوراسے اپنی بیوی کے ساتھ نرمی اوربہتری کا برتاؤ کرنا چاہیے ، اوراسے نصیحت کرنے کا تجربہ کرے ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کا شرح صدر کردے اوراسے خیرو بھلائی کے کام کرنے کی توفیق دے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ سائلہ کو توفیق عطا فرمائے اوراس پر اپنا فضل رحم کرے اوراس کی مدد فرمائے اوراسے حق پر ثابت قدر رکھے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments