10064: سرمايہ كارى سند پر قرعہ اندازى


ہمارے ہاں مصر كے اندر بنكوں ميں سرمايہ كارى كى سنديں فروخت ہوتى ہيں جنہيں G گروپ كا نام ديا جاتا ہے، اور يہ بغير كسى فائدہ كے ہيں، يعنى اگر ميں نے كوئى سند خريدى اور پھر اسے واپس كرنا چاہوں چاہے وہ دس يا اس سے كم يا زيادہ مدت بعد تو يہ اسى قيمت پر واپس ہو گى جس پر خريدى گئى تھى، اور اس كے بعد كمپيوٹر كے ذريعہ فروخت كردہ ان سندوں كے نمبروں كى قرعہ اندازى ہو گى جس كا نمبر نكلے گا تواسے پہلا كامياب قرار ديا جائے گا، اور دوسرا اور تيسرا سے ليكر چار سو كامياب اشخاص تك ہونگے، اور پہلا نمبر حاصل كرنے والے كو بيس ہزار مصرى جنى كاميابى كى مد ميں ديے جاتے ہيں.
ميں يہ معلوم كرنا چاہتا ہوں كہ اگر ميں يہ سند خريدوں اور مجھے كاميابى مل جائے تو كيا ميرے ليے يہ رقم حاصل كرنى جائز ہے كہ نہيں؟ اور كيا ميں گنہگار ہونگا ؟

الحمد للہ :

سوال ميں آپ نے جو سرمايہ كارى سند ( ووچر يا رسيد ) كے متعلق ذكر كيا ہے يہ جوئے كى ايك قسم ہے اور كتاب و سنت اور اجماع كے دلائل سے يہ حرام ہے، بلكہ كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتى ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتوں كا نزول فرمائے .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 305 )
Create Comments