Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
105152

اگر ولى بھائى ہو اور وہ عقد نكاح ميں ماموں كو وكيل بنا دے

ايك جوان لڑكى اپنى نانى اور ماموں كے ساتھ دوسرے ملك رہتى ہے اور اس ملك ميں اس كا كوئى عصبہ مرد نہيں ہے اس كا بھائى ہى اس كے عقد نكاح ميں ولى بننے كا حق ركھتا ہے ليكن اس نے بھى اپنے ماموں كو وكيل بنا ديا تا كہ وہ عقد نكاح كے معاملات مكمل كرے.
اور ايك عالم دين نے بھائى كےوكيل ماموں اور گواہوں كى موجودگى ميں شادى كے معاملات سرانجام ديے تو كيا يہ شادى صحيح ہے يا نہيں، اور عقد نكاح ہو چكا ہے ليكن ابھى رخصتى نہيں ہوئى تو كيا اگر رخصتى كى تقريب ميں لڑكى كا بھائى آئے اور عقد نكاح كى تجديد ہو جائے تو كيا عقد نكاح صحيح ہو گا ؟

الحمد للہ:

عورت كے ولى كو حق حاصل ہے كہ وہ عقد نكاح ميں كسى اور كو وكيل بنائے، چاہے وہ اس كا قريبى ہو مثلا ماموں يا كوئى اور.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

نكاح ميں وكيل بنانا جائز ہے، چاہے ولى موجود ہو يا غائب ہو، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مروى ہے كہ:

" آپ نے ابو رافع كو ميمونہ رضى اللہ تعالى عنہا كى شادى ميں وكيل بنايا تھا، اور عمرو بن اميۃ كو ام حبيبہ كے ساتھ شادى ميں اپنا وكيل بنايا تھا "

اور اس ليے بھى كہ عقد معاوضہ ہے اس ليے بيع كى طرح اس ميں بھى وكيل بنانا جائز ہوا " انتہى مختصرا

ديكھيں: المغنى ( 7 / 14 ).

اور مستقل فتاوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" عقد نكاح شرعى طريقہ پر ہوگا وہ اس طرح كہ ولى يا اس كے وكيل كى جانب سے ايجاب اور خاوند يا اس كے وكيل كى جانب سے قبول اور دو عادل گواہوں كى موجودگى ميں ہو " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميہ والافتاء ( 18 / 103 ).

اس بنا پر يہاں ماموں نے بھائى كى نيابت كرتے ہوئے جو عقد نكاح كيا ہے وہ عقد نكاح صحيح ہے، اور اس رخصتى كى تقريب ميں بھائى كا حاضر ہونا شرط نہيں ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments