Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
110488

تين طلاق دينے كے بعد بيوى كو اپنى عصمت ميں واپس لانا

بيوى سے ميرا جھگڑا ہو گيا ابھى وہ ابتدائى مہينوں كى حاملہ ہى تھى تو ميں نے اسے تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق كہہ ديا، پھر ولادت كے كچھ ايام بعد ميں نے اسے كہا تجھے طلاق، اور رمضان المبارك ميں پھر جھگڑا ہوا تو ميں نے اسے كہا تم مجھ پر حرام ہو ميں نے تجھے طلاق دى... تو كيا يہ طلاق شمار ہو گى، اور كيا ممكن ہے كہ ميں اپنى بيوى كو اپنى عصمت ميں دوبارہ لے آؤں يا كہ وہ مجھ سے طلاق يافتہ شمار ہو گى ؟

الحمد للہ:

اول:

آدمى كا اپنى بيوى كو " تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق " كہنے سے اكثر علماء كے ہاں تين طلاق واقع ہو جاتى ہيں ليكن اگر وہ دوسرے اور تيسرے كلمہ سے پہلے كلمہ كى تاكيد كہنا مراد لے تو پھر ايك ہى طلاق واقع ہو گى.

اور بعض اہل علم كہتے ہيں كہ " تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق بالكل اسى طرح ہے كہ تجھے تين طلاق كہا جائے اس سے صرف ايك طلاق ہى واقع ہو گى.

اور آپ كا اپنى بيوى كو " تجھے طلاق " ولادت كے بعد كہنے سے طلاق واقع ہو جائيگى، تو اس طرح يہ دوسرى طلاق ہوئى، ليكن اگر وہ طلاق كے وقت نفاس كى حالت ميں تھى تو يہ طلاق بدعى اور حرام ہے، اس كے واقع ہونے ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام نے يہى اختيار كيا ہے كہ يہ طلاق واقع نہيں ہوتى.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" طلاق بدعى كى كئى اقسام ہيں جس ميں يہ بھى ہے كہ آدمى اپنى بيوى كو حيض يا نفاس كى حالت ميں يا پھر ايسے طہر ميں طلاق دے جس ميں اس سے مباشرت كى ہو، اور صحيح يہى ہے كہ يہ واقع نہيں ہوتى " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 20 / 58 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے مشروع كيا ہے كہ عورت كو نفاس اور حيض سے پاكى كى حالت ميں طلاق دى جائے، اور ايسى حالت ميں طلاق دى جائے جس طہر ميں اس سے جماع نہ كيا ہو تو يہ شرعى طلاق ہوگى.

اور جب وہ بيوى كو حيض يا نفاس كى حالت ميں يا پھر ايسےطہر جس ميں بيوى سے جماع كيا ہو طلاق دى ہو تو يہ طلاق بدعى كہلاتى ہے، اور علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق يہ طلاق واقع نہيں ہوتى كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے نبى جب آپ عورتوں كو طلاق ديں تو انہيں ان كى عدت ( كے دنوں كے آغاز ) ميں طلاق دو }الطلاق ( 1 ).

معنى يہ ہے كہ وہ جماع كے بغير پاك ہوں، اہل علم نے ان كى عدت ميں طلاق كا معنى يہى كيا ہے كہ وہ بغير جماع كے پاك ہوں يا پھر حاملہ ہوں تو يہ طلاق عدت ہوگى " انتہى

ديكھيں: فتاوى الطلاق ( 44 ).

اگر آپ نے اس دوسرى طلاق كے حكم كے بارہ ميں كسى بھى اہل علم سے دريافت نہيں كيا تو يہ طلاق واقع نہيں ہوئى، ليكن اگر آپ نے كسى عالم دين سے فتوى ليا ہے تو آپ كو اس فتوى پر عمل كرنا چاہيے.

اور تيسرى بار آپ كا بيوى كو يہ كہنا: ميں نے تجھے طلاق دى اس سے بھى طلاق واقع ہو جائيگى.

جب كوئى شخص اپنى بيوى كو تين طلاق دے دے تو وہ عورت اس سے بائن كبرى ہو جاتى ہے، اور اس كے ليے حلال نہيں جب تك كہ وہ كسى اور شخص سے نكاح نہ كر لے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اگر وہ اسے ( تيسرى بار ) طلاق دے دے تو وہ اس كے ليے حلال نہ ہو گى جب تك وہ كسى اور كے ساتھ نكاح نہ كر لے اور اگر وہ ( دوسرا شخص ) اسے طلاق دے دے تو پھر ان دونوں پر كوئى گناہ نہيں كہ وہ آپس ميں رجوع ( دوبارہ نكاح ) كر ليں اگر انہيں يہ گمان ہو كہ وہ اللہ كى حدود قائم ركھيں گے، اور يہ اللہ كى حدود ہيں اللہ انہيں اس قوم كے ليے بيان كرتا ہے جو جانتى ہے }البقرۃ ( 230 ).

يہاں اس پر متنبہ رہنا ضرورى ہے كہ آج كل لوگ جو نكاح حلالہ كرتے ہيں تا كہ تين طلاق والى عورت اپنے پہلے خاوند كے ليے حلال ہو جائے يہ حرام ہے اور ايسا كرنے والا ملعون ہے، اور يہ نكاح صحيح نہيں، اس سے عورت اپنے پہلے خاوند كے ليے حلال نہيں ہوتى.

آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 109245 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments