111787: بيٹے كو ناپسند لڑكى سے شادى كرنے پر مجبور كرنا جائز نہيں


ميرے والد صاحب ميرى شادى چچا كى بيٹى سے كرنا چاہتے ہيں ليكن ميں اسے پسند نہيں كرتا، والد صاحب مجھے كہتے ہيں كہ اگر ميں اس سے شادى نہيں كرونگا تو وہ مجھ سے ناراض ہيں، كيا اگر ميں اس سے شادى نہيں كرتا تو كيا ميں والد كا نافرمان ٹھرونگا، اور اگر والد صاحب ناراض ہو جائيں تو مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

والد كے ليے جائز نہيں كہ وہ بيٹے يا بيٹى كو كسى ايسے شخص سے شادى كرنے پر مجبور كريں جسے وہ نہ چاہتے ہوں، اور والد كو غور كرنا چاہيے كہ اگر وہ اس كى جگہ ہوتا تو كيا كرتا، آيا وہ اپنے والد كے جبر كو قبول كرتے ہوئے اس لڑكى سے شادى كرتا جسے وہ چاہتا ہى نہيں ؟

اور پھر اس ميں بيٹے كى كوئى مصلحت بھى نہيں ہے، كيونكہ اگر شادى پورى رضامندى سے نہ ہو تو ناكام ہو جاتى ہے، اور جب بيٹا يا بيٹى والد كى رغبت كو نافذ نہ كرے اور والد كى پسند كى شادى سے انكار كر دے تو وہ والد كا نافرمان شمار نہيں ہوتا.

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" والدين كو كوئى حق حاصل نہيں كہ وہ كسى ايسى لڑكى سے شادى كريں جسے وہ نہ چاہتا ہو، اور اگر وہ شادى نہيں كرتا تو اس طرح وہ نافرمان شمار نہيں ہو گا، بالكل اسى طرح جس طرح كوئى كھانا نہ كھانا چاہے "

ديكھيں: الاختيارات ( 344 ).

جناب شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر والد بيٹے كى شادى كسى ايسى عورت سے چاہے جو نيك و صالح نہيں تو كيا حكم ہو گا، اور اگر نيك و صالح لڑكى سے شادى كرنے سے انكار كر دے تو كيا حكم ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" والد كے ليے اپنے بيٹے كو كسى ايسى لڑكى سے شادى پر مجبور كرنا جائز نہيں جسے وہ نہ چاہتا ہو چاہے وہ كسى دينى يا اخلاقى يا جسمانى عيب كى بنا پر ہو يا كسى دوسرے عيب كى وجہ سے، اور كتنے ہى ايسے لوگ ہيں جنہوں نے اپنى اولاد كو ايسى عورتوں سے شادى كرنے پر مجبور كيا جنہيں وہ نہيں چاہتے تھے اور پھر بعد وہ انہيں ندامت كا سامنا كرنا پڑا.

ليكن وہ كہتا ہے كہ اس نے اس لڑكى سے بيٹے كى شادى اس ليے كہ وہ اس كے بھائى كى بيٹى تھى، يا اس ليے كہ وہ اس كے قبيلہ و برادرى كى ہے اس كے علاوہ دوسرے اسباب بيان كرتا ہے چنانچہ بيٹے كے ليے اسے قبول كرنا لازم نہيں، اور نہ ہى والد كے ليے بيٹے كو اس پر مجبور كرنا جائز ہے.

اسى طرح اگر بيٹا كسى نيك و صالح عورت سے شادى كرنا چاہتا ہے ليكن والد اسے نہيں كرنے ديتا، تو اس حالت ميں بيٹے كے ليے والد كى اطاعت لازم نہيں، چنانچہ جب بيٹا كسى نيك و صالح عورت سے شادى پر راضى ہو اور اس كا والد كہے تم اس سے شادى مت كرو، لہذا بيٹے كو اس سے شادى كرنے كا حق حاصل ہے چاہے اس كا والد منع بھى كرے.

كيونكہ بيٹے كے ليے ايسے معاملہ ميں والد كى اطاعت كرنا ضرورى و لازم نہيں جس كے نتيجہ ميں والد كو كوئى نقصان و ضرر نہ ہوتا ہو، اور بيٹے كو اس ميں فائدہ ہو.

اور اگر ہم كہيں كہ: بيٹے كے ليے والد كى ہر حالت ميں اطاعت كرنا لازم ہے حتى كہ اس ميں بھى جس ميں بيٹے كو فائدہ ہوتا ہو، اور نہ ہى اس ميں والد كو كوئى نقصان و ضرر ہوتا ہو تو اس سے فساد و خرابى پيدا ہو گى، ليكن اس طرح كى حالت ميں بيٹے كو والد كے ساتھ اچھا طريقہ اختيار كرنا چاہيے اور حسب استطاعت والد كو منانے كى كوشش كرے، اور جتنى استطاعت ہو اسے راضى كرے " انتہى

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلۃ ( 2 / 640 - 641 ) ترتيب اشرف عبد المقصود.

رہا آپ كے والد كا ناراض ہونا تو ہم والدين كو نصيحت كرتے ہيں كہ وہ اولاد كے حسن سلوك كو ان پر تلوار بنا كر مسلط نہ كر ديں، كہ جسے وہ نہيں چاہتے اسے بھى دھمكى سے ان پر لازم كر ديں، كہ اگر تو نے ايسا نہ كيا تو ميں تجھ سے ناراض ہو جاؤنگا.

اور آپ كو بھى چاہيے كہ والد كے ساتھ نرم رويہ اختيار كريں اور پورى حكمت كے ساتھ كوشش كريں تا كہ والد اپنى رائے ترك كر دے، اور اس كے ليے آپ اپنے خاندان اور گھر والوں سے معاونت كرتے ہوئے دخل اندازى كرانے كى كوشش كريں مثلا ماموں اور چچے وغيرہ سے كہيں، ليكن اگر والد پھر بھى اپنى رائے پر قائم رہے اور اصرار كرے تو آپ كے ليے اس كى اطاعت كرنا لازم نہيں چاہے وہ آپ پر ناراض ہى ہو جائے، يہ آپ كے ليے ضرر و نقصاندہ نہيں، كيونكہ يہ آپ پر ظلم كر رہا ہے كہ وہ آپ كو ايسا كام كرنے پر مجبور كر رہا ہے جو ہو سكتا ہے آپ كى زندگى كے بہت زيادہ خطرناك ثابت ہو.

ليكن .... آپ اس كو حسن تصرف اور بہتر معاملہ سے حل كريں اور والد كے ساتھ حسن سلوك اور اچھا معاملہ كرتے رہيں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اگر وہ دونوں ( والد اور والدہ ) تمہيں اس پر ابھاريں كہ تم ميرے ساتھ شرك كرو جس كا تمہيں علم نہيں تو پھر تم ان كى اطاعت مت كرو، اور دنياوى معاملات ميں ان كے ساتھ حسن سلوك كرتے رہو ﴾لقمان ( 15 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments