111892: آباء و اجداد كا نفقہ اولاد پر واجب ہے


كيا ميرے عورت ہونے كے باوجود ميرے والد اور دادا كا نفقہ مجھ پر واجب ہے ؟

الحمد للہ:

مالدار اولاد چاہے بيٹے ہوں يا بيٹياں وہ اپنے تنگ دست ماں باپ اور آباء و اجداد پر خرچ كريں گے كيونكہ يہ نفقہ اولاد پر واجب ہے، اس كے وجوب كے دلائل و كتاب و سنت اور اجماع ميں پائے جاتے ہيں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تيرے رب كا فيصلہ ہے كہ اس كے علاوہ كسى اور كى عبادت مت كرو، اور والدين كے ساتھ حسن سلوك كيا كرو } الاسراء ( 23 ).

ضرورت كے وقت والدين پر خرچ كرنا بھى والدين كے ساتھ حسن سلوك كہلاتا ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سب سے اچھا و پاكيزہ چيز وہ ہے جو آدمى اپنى كمائى سے كھائے، اور اس كى اولاد اس كى كمائى ميں سے ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3528 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" سب اہل علم اس پر جمع ہيں كہ تنگ دست والدين جن كى كوئى آمدنى نہ ہو اور نہ ہى ان كے پاس مال ہو تو اولاد كے مال ميں سے خرچ كرنا واجب ہے " انتہى

ايك شخص نے رسو ل كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا:

ميرے حسن صحبت اور حسن سلوك كا سب سے زيادہ حقدار كون ہے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا

" تيرى ماں.

اس شخص نے عرض كيا: پھر اس كے بعد ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

پھر تيرى ماں.

اس شخص نے عرض كيا:

پھر كون ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" پھر تيرى ماں.

اس شخص نے عرض كيا: پھر كون ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

پھر تيرا والد "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5971 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2548 ).

جمہور علماء كرام جن ميں آئمہ ثلاثۃ ابو حنيفہ شافعى اور امام احمد شامل ہيں كے ہاں ماں اور باپ كى جانب سے آباء و اجداد كا نفقہ واجب ہے، كيونكہ جد كو باپ كا نام ديا جاتا ہے جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ ملۃ ابيكم ابراہيم تمہارے باپ ابراہيم كى ملت }الحج ( 78 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ اور تم ان عورتوں سے نكاح مت كرو جن سے تمہارے آباء نے نكاح كيا }النساء ( 22 ).

يہاں باپ اور دادا ماں اور باپ دونوں كى جانب سے شامل ہونگے يعنى نانا اور دادا بھى.

اور ايك دوسرى آيت ميں اللہ رب العزت كا فرمان ہے:

اور ارشاد ربانى ہے:

{ اور ان ميں سے ہر ايك كے والدين كے ليے چھٹا حصہ ہے اس ميں سے جو ميت نے چھوڑا اگر اس كى اولاد ہو تو }النساء ( 11 ).

يہاں دادا اور دادى اور نانا اور نانى دونوں شامل ہيں.

نانى كو ماں كا نام ديا جاتا ہے اس كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

{ تم پر تمہارى مائيں حرام كر دى گئى ہيں }النساء ( 23 ).

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ يہ ماں اور نانى دونوں كو شامل ہے.

اس ليے جب دادے كو اب اور نانى كو ماں كا نام ديا جاتا ہے تو پھر يہ بھى وجوب حسن سلوك كے دلائل ميں شامل ہونگے، كہ ان كا نفقہ بھى واجب ہوگا.

مزيد ديكھيں: المغنى ( 11 / 372 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اقرباء كے نفقہ كے متعلق باب:

اصل: اس ميں يعنى آباء و اجداد اور مائيں شامل ہونگى.

فرع: اس ميں آدمى كى فرع يعنى بيٹے اور بيٹياں شامل ہيں.

پھر شيخ رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

يہ علم ميں ركھيں كہ يہ باب بھى نكاح كى حرمت كى طرح ہے، اس ميں ماں اور باپ كى جہت كے مابين كوئى فرق نہيں، اس ليے اصل اور فرع چاہے وہ چاہے ذوى الارحام ہوں يا عصبہ يا اصحاب فرض ان سب كا نفقہ شروط كے ساتھ واجب ہو گا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 498 - 499 ).

آباء و اجداد كا نفقہ اس شرط پر واجب ہوگا كہ اگر وہ تنگ دست و فقراء ہوں، اور بيٹا غنى و مالدار ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

تم اپنے آپ سے شروع كرو اور اپنے آپ پر صدقہ كرو، اور اگر كچھ بچ جائے تو پھر اپنے اہل و عيال پر، اور اگر آپ كے بيوى بچوں سے بچ جائے تو پھر اپنے قريبہ رشتہ داروں پر "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 997 ).

اور شيخ ابن جبرين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب والدين فقير و محتاج ہوں اور بيٹى كے پاس اپنى ضرورت سے زائد مال ہو تو پھر اس پر بقدر ضرورت و حاجت اپنے والدين پر اپنى ضرورت ميں كمى كيے بغير خرچ كرنا لازم ہے " انتہى

اس بنا پر اگر يہ عورت غنى و مالدار ہے تو اسے اپنے محتاج والدين پر خرچ كرنا لازم ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments