Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
117677

خاوند نے بيوى كو قسم دے كر كہا كہ اگر تم نے بہنوئى سے بات كى تو تمہيں طلاق اور بيوى نے بغير ارادہ و قصد بہنوئى سے كلام كر لى

ميں شادى شدہ ہوں اور ميرے خاوند نے قسم اٹھائى كہ ميں اپنے بہنوئى سے بات نہ كروں، تو كيا يہ حلال ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ ميرے بہنوئى نے ميرى بہن كو ايك بار كہا كہ اپنى بہن كو سلام كہنا، ميرى بہن نے مجھے اس كے بارہ ميں بتايا اور ميں نے سلام كا جواب ديا كيا طلاق واقع ہو گئى ، اور ايك بار ميں نے اپنے بہنوئى سے بغير ارادہ بات بھى كر لى تو كيا اس سے طلاق واقع ہو جائيگى ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر آپ كے خاوند كا قسم اٹھانا كہ تم اپنے بہنوئى سے كلام نہ كرو يہ طلاق كى قسم تھى مثلا اس نے كہا: تم اس سے بات نہ كرنا وگرنہ مجھ پر طلاق، يا اس نے اس پر طلاق كو معلق كرتے ہوئے كہا: اگر تم نے اپنے بہنوئى سے بات كى تو تمہيں طلاق يا تم طلاق يافتہ ہوگى.

چنانچہ اگر تو خاوند كا آپ كو اپنے بہنوئى سے بات چيت كى ممانعتك رنے كا سبب واضح ہو مثلا وہ شخص يعنى آپ كا بہنوئى آپ سے بات چيت كرتے وقت اپنى كلام پر كنٹرول نہيں كرتا، يا پھر بات لمبى اور ايسى ہوتى ہو جو آپ كے خاوند كو پسند نہيں، يا پھر بہنوئى كا آپ سے بات چيت كرنے ميں خرابى كا باعث ہو تو پھر آپ كے خاوند كے ليے آپ كو كلام كرنے سے روكنے ميں كوئى حرج نہيں، چاہے وہ خود بھى آپ كى بہن سے كلام كرتا ہو.

يہ معلوم ہونا چاہيے كہ آپ اپنے بہنوئى كے ليے ايك اجنبى عورت كى حيثيت ركھتى ہيں، اس ليے آپ كے ليے بہنوئى كے سامنے بےپردہ ہونا حلال نہيں اور نہ ہى چہرہ ننگا ركھ سكتى ہيں، اور اسى طرح آپ كے ليے اس كے ساتھ مصافحہ كرنا بھى جائز نہيں ہے.

آپ كو چاہيے كہ آپ بہنوئى كے ساتھ كلام كرتے وقت كنٹرول كريں كہ بات لمبى نہ ہو اور نہ ہى اس ميں نرم لہجہ ہو كہ لہك لہك كر بات كريں اور ہنس كر بات كو آگے بڑھائيں اور پھر بغير ضرورت اس سے كلام مت كريں؛ كيونكہ وہ باقى اجنبى مردوں كى طرح آپ كے ليے ايك اجنبى كى حيثيت ركھتا ہے.

دوم:

اس قسم يا طلاق معلق كرنے ميں تفصيل پائى جاتى ہے:

اگر خاوند كا قصد ہو كہ آپ نے اپنے بہنوئى سے كلام كى تو آپ كو طلاق، تو آپ كا اپنے بہنوئى سے بات چيت كرنے كى صورت ميں طلاق واقع ہو جائيگى.

اور اگر خاوند كا صرف آپ كو بہنوئى كے ساتھ كلام كرنے سے منع كرنا مقصد ہو تو اور طلاق واقع كرنے كا مقصد نہ ہو تو يہ قسم ہو گى، اگر چاہے تو آپ كو اس كى اجازت دے كر اپنى قسم كا كفارہ ادا كر دے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے يہى تفصيل اختيار كى ہے اور اہل علم كى ايك جماعت كا فتوى بھى يہى ہے، ليكن جمہور اس تفصيل كے قائل نہيں، بلكہ وہ كہتے ہيں كہ اگر بات چيت كى تو طلاق واقع ہو جائيگى اور اس ميں قسم اٹھانے والے كى نيت نہيں ديكھى جائيگى.

مزيد آپ سوال نمبر ( 39941 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

سوم:

اگر آپ نے اپنے بہنوئى سے كلام كى اور آپ كو اپنے خاوند كى قسم ياد نہ تھى تو راجح قول كے مطابق طلاق واقع نہيں ہو گى، شافعيہ كا مسلك يہى ہے، اور امام احمد سے بھى ايك روايت ہے جسے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اختيار كيا ہے اور المرداوى نے بھى اسے ہى صحيح كہا ہے " انتہى

ديكھيں: الانصاف ( 9 / 114 ).

شيخ الاسلام زكريا انصارى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ( اور اسى طرح ) اگر كسى ( غير كے ) فعل پر طلاق ومعلق كى بيوى يا كسى اور كے اور اس نے اس سے ( اسے منع كرنے كا ارادہ كيا ) يا پھر اسے ابھارا ( اور وہ ان ميں شامل ہو جس كى پرواہ كى جائے ) تو اس كے معلق كرنے پر وہ اس ميں دوستى وغيرہ كى بنا پر اس كى مخالفت نہ كرے ( اور اسے اس كے معلق كرنے كا علم ہو اور اور غير نے بھول كر يا پھر جہالت كى حالت ميں يا جبر كى حالت ميں اسے كو كر ليا ) انتہى

ديكھيں: اسنى المطالب ( 3 / 301 ).

اور ابن حجر الھيتمى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب اس نے طلاق كى قسم اٹھائى كہ وہ خود يا كوئى دوسرا اس عمل كو كرے تو اس نے وہ عمل بھول كر يا پھر جبر كى حالت ميں كر ليا، يا اختيار كى حالت ميں اس عمل كو جہالت كے ساتھ كر ليا، حكم سے جاہل نہيں اس كے خلاف جس كو وہم ہو تو اس كى قسم نہيں ٹوٹےگى كيونكہ سابقہ حديث ميں بيان ہوا ہے:

" يقينا اللہ سبحانہ و تعالى نے ميرى امت سے بھول چوك اور خطا و نيسان اور جس پر انہيں مجبور كر ديا گيا ہو معاف كر ديا ہے "

يعنى ان تين امور ميں ان كا مؤاخذہ نہيں ہوگا.. اور اسى طرح اگر اس نے كسى دوسرے شخص جس كى پرواہ كى جائے كے عمل پر معلق كيا تو بھى قسم نہيں ٹوٹےگى، كہ وہ اس اس معاملہ ميں دوستى يا پھر حياء اور مروت كى بنا پر مخالفت نہيں كريگا، اور اس سے اس كا مقصد اسے روكنا يا پھر كسى بات پر آمادہ كرنا ہو، اور اسے معلق كردہ كا علم بھى ہو تو دوسرے نے بھول كر يا جہالت كى حالت ميں يا جبر كى حالت ميں وہ عمل كر ليا تو قسم نہيں ٹوٹےگى " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الفقھيۃ الكبرى ( 4 / 178 ).

مزيد آپ شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا فتاوى ( 22 / 47 ) ضرور ديكھيں.

سوم:

آپ كى بہن كا آپ كو بہنوئى كى سلام پہنچانا اور آپ كا اس كى سلام كا جواب دينا يہ بہنوئى سے بات چيت اور كلام شمار نہيں ہوتا، اس ليے آپ كو كوئى نقصان نہيں ديگا، آپ كو چاہيے كہ اس سلسلہ ميں آپ اپنے خاوند سے رجوع كريں كہ اس نے آپ كو كس چيز كى اجازت دى ہے اور كس چيز سے منع كيا ہے، اور اس نے قسم ميں كيا نيت كى تھى.

كيونكہ نيت الفاظ كو مخصوص كرتى ہے، ہو سكتا ہے اس نے آپ كو كچھ وقت كے ليے بات چيت كرنے سے منع كيا ہو مستقل طور پر نہيں، يا پھر ہر حالت ميں نہيں بلكہ كسى حالت ميں، يا وہ چاہتا ہو كہ آپ بہنوئى سے لمبى اور لہك لہك كر كلام نہ كريں، اور سلام وغيرہ سے منع نہ كيا ہو جو كلام پيش كى جاتى ہے.

ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اپنے گھر اور خاندان كى حرص ركھيں، اور اپنے بہنوئى سے بالكل كلام مت كريں، اور ہر اس عمل سے اجتناب كريں جو آپ كے ليے اس ميں واقع ہونے كا سبب بن سكتا ہو، اور پھر جب آپ كا خاوند ايسا كرنے سے روكتا ہے، اور يہ نہ ہو كہ كہيں طلاق ہى ہو جائے، اور اس كے ساتھ ساتھ آپ اپنے خاوند كے بارہ ميں حسن ظن ركھيں اور اس كے ليے كوئى عذر تلاش كر ليں، ہو سكتا ہے اس كا كوئى ايسا سبب ہو جس كى بنا پر اس نے ايسا كيا ہے.

اور اسى طرح ہم آپ كو نصحيت كرتے ہيں كہ آپ اپنے بہنوئى كے سامنے مكمل شرعى پردہ كر كے آيا كريں، اور اسى طرح اپنے خاوند كے بھائيوں كے سامنے بھى مكمل پردہ كريں كيونكہ يہ سب آپ كے ليے ايك اجنبى مرد كى حيثيت ركھتے ہيں.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو مزيد صحيح اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments