Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
118278

بيوى كو كہا: آج آپ كى طلاق ہو گى

خاوند اور بيوى كے مابين جھگڑا ہو گيا تو خاوند كہنے لگا: آج تمہارى طلاق ہو گى، آج تم طلاق يافتہ بن جاؤگى، آج ميں تمہيں طلاق دے دونگا، آج تم طلاق والى بن جاؤگى " ليكن اسے آخرى الفاظ يقينى ياد نہيں " آج تم طلاق يافتہ بن جاؤگى " يہ كہے تھے كہ نہيں كہے تھے ؟
اس كے بعد خاوند اور بيوى نے اسى جگہ اور بيٹھے بيٹھے صلح كر لى اور اختلاف ختم ہو گيا، يہ بہن اپنے خاوند كى اس كلام كا حكم معلوم كرنا چاہتى ہے اور اس نے مجھے كہا ہے كہ آپ كو ايميل كروں.

الحمد للہ:

اس عبارت سے تو يہى سمجھ آتى ہے كہ يہ طلاق كى دھمكى تھى، اور بالفعل طلاق واقع نہيں كرنا چاہتا تھا، اور اس ليے كہ خاوند نے اپنى بيوى سے صلح بھى كر لى اور اس كے بعد طلاق نہيں دى تو كچھ نہيں ہوا.

ہم خاوند كو يہ نصيحت كرتے ہيں كہ وہ طلاق كے استعمال كرنے سے اجتناب كرے، كيونكہ طلاق غصہ ٹھنڈا كرنے كے ليے مشروع نہيں كى گئى، اور بار بار طلاق استعمال كرنے سے خاوند اور بيوى كا آپس ميں ايك دوسرے سے اعتماد اٹھ كر جاتا ہے اور خاندان اور گھرانہ تباہى كے دھانے پر پہنچ جاتا ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب كے حالات كى اصلاح فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments