12475: اسقاطِ حمل پر مرتب ہونے والے احکامات


سوال: میں مختلف مراحل میں اسقاط حمل پر مرتب ہونے والے احکامات جاننا چاہتا ہوں۔

الحمد للہ:

اول:

پہلے سوال نمبر: (42321) کے جواب میں اسقاطِ حمل  کا حکم گزر چکا ہے ، اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ضروری مطالعہ کریں۔

دوم:

اسقاط حمل  کے احکامات  حمل کے چار مختلف مراحل کی وجہ سے الگ الگ ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلا حکم:
اگر حمل پہلے دو مراحل میں  ہےیعنی: ابتدائی چالیس دن میں مرد اور عورت کے پانی کی شکل میں نطفہ   رحم میں موجود ہو ، یا پھر دوسرے مرحلہ میں منتقل ہو کر علقہ یعنی خون کا لوتھڑا بن چکا ہو، اور یہ مرحلہ دوسرے چالیس دن یعنی حمل کی 80 دن کی عمر تک جاری رہتا ہے، تو ان دونوں مرحلوں میں  اسقاطِ حمل یعنی: نطفہ یا علقہ  کی صورت میں متفقہ طور پر  کوئی حکم لاگو نہیں ہوتا، چنانچہ خاتون  نماز روزہ پابندی سے  ادا کریگے، بالکل ایسے ہی جیسے اسکا اسقاطِ حمل ہوا ہی نہیں ہے، تاہم اگر اسے خون خارج ہونے کی شکایت ہو تو ہر نماز کیلئے وضو کریگی، جیسے مستحاضہ کا خون ہوتا ہے۔

دوسرا حکم:
اگر اسقاطِ حمل تیسرے مرحلے یعنی: مضغہ [گوشت کا لوتھڑا] کی حالت میں  ہو، اور اس مرحلے میں اعضاء، شکل و صورت، اور انسانی جسم کی بناوٹ شروع ہو جاتی ہے، یہ مرحلہ 81 ویں دن سے 120 ویں دن تک جاری رہتا ہے، اس مرحلے میں اسقاط حمل کی دو صورتیں ہیں:

الف: اگر گوشت کے لوتھڑے میں انسانی جسم کی ساخت اور بناوٹ بالکل بھی موجود نہ ہو، اور کوئی دایہ بھی یہ گواہی نہ  دے کہ انسانی جسم کی بناوٹ شروع ہوچکی ہے، تو ایسے گوشت کے لوتھڑے کو ساقط کرنے کا وہی حکم ہے جو پہلے دو مراحل میں  تھا، چنانچہ ایسی صورت میں بھی کوئی  حکم لاگو نہیں ہوگا۔

ب: مضغہ: گوشت کا لوتھڑا آدمی کی شکل میں ڈھل چکا ہو، اس میں انسانی جسم کی مکمل بناوٹ اور ساخت   ہو یا کم از کم اس میں انسانی جسم کی شکل واضح ہوتی ہو، مثلاً: ہاتھ ، پاؤں وغیرہ، یا انسانی جسم کی ہلکی سی  جھلک ملتی ہو، اور دایہ یہ گواہی دے کہ یہ انسانی جسم  کی ابتدائی شکل ہے، تو  یہاں پر مضغہ  کی صورت میں اسقاطِ حمل کرنے پر  نفاس کی مدت لاگو اور [مطلقہ یا بیوہ  ہونے کی صورت میں ] ایسی عورت کی عدت مکمل ہو جائے گی۔

تیسرا حکم:
اگر حمل چوتھے مرحلے میں ہو، یعنی: روح پھونکے جانے کے بعد ساقط کیا جائے، یہ مرحلہ پانچویں ماہ یعنی: 121 ویں دن سے لیکر  آخر تک  ہوتا ہے، تو اسکی بھی دو حالتیں ہیں:

الف:  ولادت کے وقت نہ چیخے، تو  اسکا حکم  دوسرے حکم  کی دوسری حالت والا ہوگا، تاہم  اس  صورت میں اسے غسل اور کفن دیا جائے گا،  اسکا نام بھی  رکھا  جائے گا، اور اس کی طرف سے عقیقہ بھی ہوگا۔

ب:  ولادت کے وقت چیخے تو اس کے احکامات کامل مولود کے ہونگے، اور  لہذا سابقہ صورت میں گزرے ہوئے احکامات کےساتھ ساتھ یہاں اس بات کا بھی اضافہ ہوگا کہ وہ وصیت کی مد میں ملنے والے مال کا مالک ہوگا، اور وراثت میں بھی حصہ کا حقدار ٹھہرے گا، اس لئے وہ خود بھی وارث بنے گا، اور مرنے پر اسکا مال بھی تقسیم ہوگا، اسی طرح دیگر احکامات بھی مرتب ہونگے۔

فتاوى اللجنة الدائمة (21/434-438)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments