Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
147954

بيوى كو كہا اگر تم نے موبائل چيك كيا تو تمہيں طلاق

ميں نے اپنى بيوى سے كہا كہ اگر تم نے ميرا موبائل فون چيك كيا تو تمہيں طلاق، مجھے خدشہ تھا كہ بيوى ميرا موبائل فون چيك كريگى، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟

الحمد للہ:

آدمى كا اپنى بيوى سے كہنا: " اگر تم نے ميرا موبائل فون چيك كيا تو تمہيں طلاق " اصل ميں يہى ہے كہ اگر بيوى نے موبائل فون چيك كيا تو ايك رجعى طلاق ہو جائيگى، اور اسے اس طلاق ميں رجوع كرنے كا حق حاصل نہيں.

اس بنا پر بيوى كو موبائل فون چيك كرنے سے اجتناب كرنا چاہيے تا كہ طلاق واقع نہ ہو، اور اگر وہ موبائل فون چيك كر ليتى ہے تو ايك طلاق ہو جائيگى، اور خاوند دوران عدت بيوى سے رجوع كر سكتا ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 105438 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور بعض اہل علم كہتے ہيں كہ ـ اصل مسئلہ ـ اگر اس سے خاوند اپنى بيوى كو موبائل فون چيك كرنے سے روكنا چاہتا تھا اور طلاق دينا مقصود نہ تھى تو يہ قسم كے حكم ميں ہوگا، اور اگر وہ موبائل فون چيك كرتى ہے تو خاوند كو قسم كا كفارہ ادا كرنا ہوگا، اور طلاق واقع نہيں ہوگى.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ اور اہل علم كى ايك جماعت نے يہى اختيار كيا ہے، اور راجح بھى يہى ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 82400 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

ہر انسان اپنى نيت كا بخوبى علم ركھتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى بھى اس پر مطلع ہے، چنانچہ اسے كوئى فائدہ نہيں ہو گا كہ وہ اپنے آپ كو دھوكہ ديتا ہوا يہ دعوى كرے كہ وہ طلاق نہيں دينا چاہتا جبكہ وہ اپنى كلام سے طلاق كا مقصد ركھتا تھا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments