151218: والدہ كى زندگى ميں والدہ كى لا علمى ميں پيسے لے لينا


ميں والدہ كى لاعلمى ميں اپنا ضرورت سے زيادہ لباس لينے اور خرچ كرنے ليے پيسے لے ليا كرتى تھى، بعد ميں نے توبہ كا عزم كيا، ليكن اچانك ميرى والدہ فوت ہوگئى، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں اس گناہ سے اپنے آپ كو كيسے برى كر سكتى ہوں ؟
يہ علم ميں رہے كہ والدہ كى ميں ہى اكيلى وارث ہوں، اور والدہ كى جو بھى ملكيت تھى وہ مجھے مل چكى ہے، مجھے اپنے پروردگار كو راضى كرنے كے ليے كيا كرنا ہوگا، اور كيا ميرى والدہ كى وفات ميرے ليے اللہ كى جانب سے سزا تھى ؟

الحمد للہ:

ماں باپ وغيرہ جن پر اولاد يا كسى اور كا نفقہ اور اخراجات واجب ہوں تو بيٹے وغيرہ كا ان كے مال ميں سے بغير اجازت لينے كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

اتنا مال لے جو اس كے كھانے پينے اور لباس وغيرہ كى ضرورت پورى كرے تو يہ جائز ہے.

چاہے مال والے كى لا علمى ميں ہے ليا گيا ہو، ليكن شرط يہ ہے كہ اس طريقہ كے بغير وہ اپنا حق حاصل نہيں كر سكتا.

اس كى دليل بخارى اور مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ہند بن عتبہ رضى اللہ تعالى عنہا نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم يقينا ابو سفيان ايك بخيل و شحيح شخص ہے، اور مجھے اتنا مال نہيں ديتا جو ميرے اور ميرے بچے كے ليے كافى ہو، ليكن يہ ہے كہ ميں اس كى لاعلمى ميں كچھ رقم لے لوں تو گزارا ہو جاتا ہے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم اچھے طريقہ سے اتنا لے ليا كرو جو تمہيں اور تمہارے بچے كو كافى ہو جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5364 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1714 ).

دوسرى حالت:

نفقہ سے زيادہ وسعت كے ليے مال ليا جائے تو يہ جائز نہيں ہوگا، اور اسے ناحق مال لينا كہا جائيگا، اس حالت ميں ايسا كرنے والے كو توبہ كرتے ہوئے مالك كو اس كا ليا ہوا مال واپس كرنا ہوگا، يا اگر وہ زندہ نہيں تو اس كے ورثاء كو واپس كرے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميں اپنے والد كى اكيلى اولاد ہوں، الحمد للہ اللہ كا فضل ہے مالى حالت بہت اچھى ہے، بعض اوقات ميں والد صاحب كى لاعلمى ميں ان كے پيسے لے ليا كرتى تھى اور انہوں نے اس كے متعلق كبھى پوچھا بھى نہيں تو كيا ايسا كرنے پر ميں گنہگار ہوں .... ؟

شيخ كا جواب تھا:

" كسى بھى شخص كے ليے كسى دوسرے كى ناحق طور پر چيز لينى جائز نہيں، اوروہ حق كے بغير نہيں لے سكتا، يہ لڑكى اگر تو والد كى جيب سے اپنى اپنى ضرورت كے ليے پيسے ليتى رہى كيونكہ بيٹى كے مانگنے پر باپ اسے پيسے نہ ديتا تھا تو پھر اس ميں كوئى حرج والى بات نہيں.

كيونكہ ہند بن عتبہ رضى اللہ تعالى عنہا نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كے بارہ ميں دريافت كيا تھا، بلكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے شكايت كى تھى كہ اس كا خاوند اسے اتنا مال نہيں ديتا جو اسے اور اس كے بچے كو كافى ہوتا ہو.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم اس كے مال سے اتنا لے ليا كرو جو تمہارے اور بچے كے ليے كافى ہو جائے "

ليكن اگر اس عورت كا باپ ضروريات كى اشياء مانگنے پر اسے منع نہ كرتا ہو تو پھر اس كے ليے والد كى جيب سے بغير علم كے كچھ لينا جائز نہيں ہو گا " انتہى

ماخوذ از: فتاوى نور على الدرب.

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 82099 ) اور ( 149347 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اس بنا پر آپ نے جو كچھ كيا اس پر توبہ و استغفار كريں اور اپنے كيے پر ندامت كا اظہار كريں، آپ كو ليا گيا مال واپس نہيں كرنا، ليكن اگر آپ كے علاوہ كوئى اور دوسرا بھى وارث ہے تو پھر واپس كرنا ہوگا، كيونكہ اس مال ميں دوسرے ورثاء كا بھى حق ہے.

آپ اپنى والدہ كے ليے كثرت سے دعا كيا كريں، كيونكہ موت كے بعد ان كے ساتھ سب سے بہتر اور افضل صلہ رحمى ان كے ليے دعا ہى ہے، اور اگر آپ اپنى والدہ كى جانب سے كچھ صدقہ كر ديں تو اميد ہے كہ اس كا ثواب اسے ملے گا، اور كى توبہ كى تكميل ہوگى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments