Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
20732

حربي كفار كي اشياء كا بائيكاٹ

كيا عادتا يھوديوں يا يھوديوں كي ملكيتي كمپنيوں يا يھوديوں كي شراكت سے چلنےوالي كمپنيوں يا ايسي كمپنياں جس كي شاخيں اسرائيل ميں بھي ہيں كےساتھ لين دين كرنا مباح ہے الخ ؟
ان آخري ايام ميں بہت سےمسلمان يہ كہتےہيں كہ يہوديوں كےساتھ مطلقا لين دين كرنا حرام ہے، ميري محدود معلومات كےمطابق تو يہ ہے كہ جب مسلمانوں نے دورنبوي ميں يھوديوں كےساتھ مسلمانوں نےلڑائي لڑي تو اس وقت بھي ان كےساتھ لين دين منع نہيں كيا، اور جب نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اس دنيا سے رخصت ہوئے توان كي درعہ قرضہ كے عوض ميں ايك يھودي كے پاس گروي ركھي ہوئي تھي، آپ سےگزارش ہے كہ اس معاملہ ميں ہماري صحيح راہمائي فرمائيں.

الحمد للہ :

اول:

اصل تويہي ہے كہ يھوديوں وغيرہ كےساتھ خريدوفروخت جائز ہے، كيونكہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام سے ايسا كرنا ثابت ہے اور وہ مدينہ كےيھوديوں سے خريدوفروخت اور رہن وغيرہ اور اس كے علاوہ ہمارے دين ميں مباح قسم كےمعاملات ميں لين دين كرتےتھے.

اور بني كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے جن يھوديوں سے لين دين كيا وہ معاہدہ والے يھودي تھے، اور جس نے بھي ان ميں سے معاہدہ توڑ ديا اسے يا تو قتل كرديا گيا يا پھر جلاوطن كرديا گيا يا كسي مصلحت كي بنا پر چھوڑديا گيا.

اور يہ بھي ثابت ہے جو محارب كفار كےساتھ بھي خريدوفروخت كےجواز پر دلالت كرتا ہے اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

امام بخاري رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

مشركوں اور اہل حرب سے خريدوفروخت كا بيان

پھر اس كےبعد مندرجہ ذيل روايت بيان كرتےہيں:

عبدالرحمن بن ابي بكر رضي اللہ تعالي عنھما بيان كرتےہيں كہ ہم نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےساتھ تھے، توايك مشرك شخص بكري ہانكتا ہوا آيا تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: فروخت يا عطيہ يا فرمايا: يا ھبہ ؟ تو اس نےجواب ديا: بلكہ فروخت كےليے، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےاس سے وہ بكري خريد لي. صحيح بخاري حديث نمبر ( 2216 ) .

امام نووي رحمہ اللہ تعالي صحيح مسلم كي شرح ميں كہتےہيں:

اہل ذمہ اور ان كےعلاوہ دوسرے كفار كےساتھ معاملات كرنےكےجواز پر مسلمان متفق ہيں جب تك جوكچھ اس كےپاس ہے كي حرمت نہ ثابت ہو جائے، ليكن مسلمان كےليے اہل حرب كو اسلحہ يا لڑائي كےليے كوئي آلہ فروخت كرنا جائز نہيں اور نہ ايسي چيز جس سے وہ اپنےدين كومضبوط كرنےكےليے اس سے مدد حاصل كريں ... اھ

ديكھيں: شرح صحيح مسلم للنووي ( 11 / 41 )

اور ابن بطال رحمہ اللہ تعالي كا كہنا ہےكہ:

كفار كےساتھ معاملات كرنا جائز ہے، ليكن ايسي كوئي چيز فروخت كرني جائز نہيں جو اہل حرب مسلمانوں كےخلاف استعمال كريں اور اس سے مسلمانوں كےخلاف انہيں مدد حاصل ہوتي ہو. اھ

اور المجموع ميں اہل حرب كو اسلحہ فروخت كرنے كي حرمت پر اجماع نقل كيا گيا ہے. ديكھيں: المجموع ( 9 / 432 ) .

اس كي حكمت واضح اور ظاہر ہے كہ وہ اس اسلحہ سے مسلمانوں كو قتل كريں گے اور ان كےخلاف استعمال كريں گے.

دوم:

محارب يھوديوں اور دوسرے حربي كفار كےخلاف مالي اور جاني جھاد كےمشروع ہونے ميں كوئي شك وشبہ نہيں، اور اس ميں ہروہ وسيلہ اور طريقہ داخل ہوگا جس سے ان كفار كي اقتصاديات كمزور ہوں اور انہيں نقصان پہنچے اس ليےكہ پہلےدورميں بھي اور آج بھي جنگ ميں مال لڑائي كي روح شمار ہوتي ہے.

اورمسلمانوں كوعموما يہ چاہيےكہ وہ نيكي اور تقوي پر ايك دوسرے كا تعاون كريں اور ہر جگہ پر مسلمانوں كا تعاون كريں جوان كے گھربار كي حفاظت كا باعث ہو اور اس سے وہ اپنےملك ميں رہنےاور ديني شعائر كوظاہر اور اسلامي تعليمات پر عمل پيرا ہونے اور شرعي احكام اور حدود اللہ كا نفاذ كرنے كے قابل ہوسكيں، اور ايسي اشياء كےساتھ ان كي مدد كريں جو كافروں اور يھوديوں وغيرہ كےخلاف مسلمانوں كي مدد ونصرت كا سبب بنيں، اس ليے اسے ہر قسم كي طاقت كو بقدر استطاعت اللہ تعالي كےدشمنوں كےخلاف جھاد ميں استعمال كرنا چاہيے.

اور پھر رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےبھي يہ فرمايا ہےكہ:

( مشركوں كےخلاف اپنےمالوں، جانوں اور زبانوں كےساتھ جھاد كرو ) سنن ابوداود حديث نمبر ( 2504 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح ابوداود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

لھذا مسلمانوں كوچاہيے كہ وہ ہر اس چيز كےساتھ مجاھدين كي مدد كريں جس كي ان ميں طاقت ہے، اور ہر وہ وسائل اور ذرائع جومسلمانوں اور اسلام كي تقويت كا باعث بنيں اسے خرچ كريں، اور ان پر يہ بھي ضروري ہے كہ وہ جتي طاقت اور قدرت ركھتےہيں اس كےساتھ كفار كےخلاف جھاد كريں، اور ہرايسا عمل كريں جس سے كفار اوردين اسلام كو نقصان اوركمزوي حاصل ہو، لھذا مسلمان ان كفار كو ايسي ملازمتوں پر نہ ركھيں جس ميں انہيں تقويت اور مال حاصل ہوتا ہو اور وہ مسلمانوں كا مال جمع كركے مسلمانوں كو ہي اس مال كےساتھ ماريں، مثلا انہيں اجرت پر كاتب، يا اكاؤٹنٹ، يا انجنئير اور خادم وغيرہ نہ ركھيں.

خلاصہ:

اس بحث كا حاصل يہ ہےكہ: جو كوئي بھي حربي كفار كےمال اور اشياء كا بائيكاٹ كر كےوہ كفار كےساتھ عدم دوستي كا اظہار اور ان كي افتصاديات كو كمزور كرنا چاہتا ہے تواس اچھے مقصد كي بنا پران شاء اللہ اسےاجروثواب حاصل ہوگا .

اور جوكوئي اصل پر عمل كرتےہوئے كہ كفار كےساتھ معاملات كرنے جائز ہيں اور خاص كران اشياء كي خريداري جس كا وہ محتاج ہے تو ان شاء اللہ اس ميں كوئي حرج نہيں اور ايسا كرنے سے اسلام كےاصول الولاء والبراء كےمتعلق اس پر كوئي قدغن نہيں لگائي جائےگي .

مستقل فتوي كميٹي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

مسلمانوں كا آپس ميں تعاون ترك كردينا وہ اس طرح كہ مسلمان كسي مسلمان سے خريدنا پسند نہيں كرتا بلكہ كفار سے خريداري كرنا پسند كرتا ہے اس كيا حكم كيا ہےاور آيا يہ حلال ہے كہ حرام؟

كميٹي كا جواب تھا:

اصل تو جواز ہے كہ مسلمان اپني ضرورت كي وہ اشياء جواللہ تعالي نے اس كےليے حلال قرار دي ہيں مسلمان سےخريدے يا كافر سے جائز ہے، اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےبھي يھوديوں سے خريداري كي تھي.

ليكن جب مسلمان اپنےمسلمان بھائي سے بغير كسي سبب يعني دھوكہ اور ريٹ ميں زيادتي اور سامان ردي ہونے وغيرہ كےبغير ہي خريداري ترك كركے كفار سے خريداري كرنا پسند كرے يا اس كي رغبت ركھے اور بغير كسي سبب كے ہي كافر سے خريداري كو مسلمان پر ترجيح دے تو يہ حرام ہے كيونكہ اس ميں كفار سےموالاۃ و دوستي اور ان سے راضي ہونا اور ان سےمحبت كا اظہار، اور مسلمان تاجروں كےساتھ كساد بازاري اور انہيں نقصان دينا ہے اور جب مسلمان اس كي عادت ہي بنا لے تو اس ميں مسلمانوں سےخريداري كا عدم رواج ہوگا، ليكن اگر مسلمان سےخريداري نہ كرنے كےكچھ اسباب ہوں جيسا كہ اوپر بيان ہوچكا ہے تو وہ اپنےمسلمان بھائي كو نصيحت كرے جواسے ان عيوب كودور كرے اگر تو وہ نصيحت قبول كرلے الحمد للہ وگرنہ وہ اس سے خريداري كرنا ترك كركے كسي اور سے خريداري كرے اگرچہ كافر ہي كيوں نہ جو اپنےمعاملات ميں سچائي اختيار كرتا اور منافع كا احسن طريقہ سے تبادلہ كرتا ہو. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 18 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments