20960: كيا وضوء اور نماز كے ليے صاف جگہ نہ ملنے پر نماز ميں تاخير ہو سكتى ہے ؟


ميں ايسى كمپنى ميں ملازمت كرتا ہوں جہاں سب ملازمين غير مسلم ہيں، ميں اكيلا ہى مسلمان ہوں، سارا دن وہاں وضوء كے ليے كوئى مناسب جگہ نہيں ملتى، اور نہ ہى نماز كے ليے مخصوص جگہ ہے، كيا ميرے ليے گھر جانے تك ظہر اور عصر كى نماز ميں تاخير كرنى جائز ہے ؟

الحمد للہ:

مسلمان شخص كے ليے نماز كى اہميت اور اوقات ميں نماز پنجگانہ پورى شروط و اركان اور واجبات كے ساتھ ادا كرنے كى پابندى كى ضرورت كا علم ہونا ضرورى ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ يقينا مومنوں پر نماز وقت مقررہ ميں ادا كرنا فرض كى گئى ہے ﴾النساء ( 103 ).

اور حديث ميں فرمان بھى اسے بيان كيا گيا ہے:

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا: كونسا عمل اللہ تعالى كو سب سے زيادہ محبوب ہے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" وقت پر نماز ادا كرنا.

راوى كہتے ہيں: پھر كونسا عمل ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" والدين كے ساتھ حسن سلوك كرنا "

راوى كہتے ہيں: پھر كونسا عمل ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى كى راہ ميں جھاد كرنا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 504 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 85 ).

چنانچہ مسلمان شخص كےليے بروقت نماز كى ادائيگى ضرورى ہے، اور وقت سے ليٹ اور تاخير كرنا حلال نہيں، اور وضوء كرنے كے ليے صاف جگہ كى ضرورت نہيں، اگر ہم يہ فرض بھى كر ليں كہ اس كى ضرورت ہے تو سائل كو كام پر جانے سے قبل اس كى احتياط كرنى چاہيے، وہ وضوء كر كے آئے تا كہ وقت پر نماز ادا كر سكے.

اس كے ليے وقت پر نماز ادا كرنا، اور نماز كے پاك صاف جگہ كى تلاش واجب ہے، اور يہ كوئى مشكل بھى نہيں اور نہ ہى اس ميں تنگى ہوتى ہے، كيونكہ اگر زمين پاك ہو تو نماز ہر جگہ ادا كى جا سكتى ہے، اس كى دليل نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور ميرے ليے زمين كو پاك اور مسجد بنايا گيا ہے، چنانچہ ميرى امت ميں سے كسى شخص كو كہيں بھى نماز كا وقت ہو جائے تو وہ نماز ادا كرے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 335 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 521 ).

اور پھر شريعت اسلاميہ نے كچھ مخصوص جگہوں كو نماز كى ادائيگى والى جگہوں سے مستثنى كيا ہے، جہاں نماز نہيں ہوتى ان ميں قبرستان، ليٹرين وغسل خانہ جات شامل ہيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" سارى كى سارى زمين مسجد ہے، صرف قبرستان اور ليٹرين نہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 492 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

چنانچہ جہاں وہ كام كرتا ہے اگر وہ پاك صاف ہے تو وہى نماز كى جگہ ہے، ليكن اگر وہ صاف نہيں تو كوئى اور جگہ تلاش كر لے، اور اگر وہ ذمہ داران سے نماز كى ادائيگى كے ليے جگہ مختص كرنے كا مطالبہ كرے تو يہ بھى مشكل كام نہيں ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اور اگر وہ نماز كى ادائيگى ميں جان بوجھ كر عمدا اتنى تاخير كرے كہ نماز كےاركان و شروط كى ادائيگى كے ليے بھى وقت تنگ ہو جائے، مثلا اسے نجاست لگى ہو، يا وہ جنبى حالت ميں ہو اور اگر غسل كرنے ميں ہى نماز كا باقى مانندہ وقت نكل جائے، تو پھر بھى اسے طہارت اور غسل كرنا ہو گا، ليكن وہ اسے بروقت ادا نہ كرنے كى وجہ سے گنہگار ہو گا؛ كيونكہ اس پر واجب تھا كہ وہ وقت تنگ ہونے سے قبل غسل و طہارت كر كے نماز ادا كرتا چنانچہ جب وہ اس ميں تاخير كرے تو گنہگار ہونے كے ساتھ ساتھ اسے وہى كام كرنا ہونگے جو اس كے ذمہ واجب تھے.

ديكھيں: شرح العمدہ ( 4 / 58 ).

اور اگر نماز صحيح ہونے كى شروط ميں سے كسى شرط كے پورا كرنے سے عاجز ہو ـ مثلا طہارت و غسل كرنے سے ـ تو وہ وقت ميں نماز ادا كرے گا اور وہ شرط اس سے ساقط ہو جائيگى، اس كے ليے جائز نہيں كہ وہ يہ شرط پورى كرنے كے ليے نماز وقت سے ليٹ كر لے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

...... كيونكہ جسے اول وقت ميں نماز ادا كرنے كا حكم ديا گيا ہے، اگر وہ فى الحال كسى شرط اور اركان كو پورا كرنے سے عاجز ہو، اور نماز كا وقت نكل جانے سے وہ اسے پورا كرسكتا ہو تو اس كے ليے نماز ميں تاخير كرنى جائز نہيں حتى كہ نماز كا وقت ہى جاتا رہے.

اگر يہ جائز ہوتا تو پھر سترہ، اور طہارت، اور ركوع و سجود وغيرہ دوسرى شروط و اركان سے عاجز شخص كے ليے نماز ميں تاخير اتنى تاخير كرنى جائز ہوتى كہ اس پر قادر ہو جائے، اگر اس كے علم ميں يا ظن غالب ہو كہ وہ اس پر قادر ہو جائيگا.

يہ كتاب و سنت اور اجماع كے خلاف ہے؛ كيونكہ شريعت نے عاجز ہو جانے والى سب و شروط و اركان ميں سے سب سے زيادہ وقت كا خيال ركھا ہے اس ليے نماز كے كچھ اركان سے عاجز ہونے كى صورت ميں بھى بالكل نماز وقت سے موخر نہيں كى جا سكتى.

اور جب بھى فعل اور شرط كے حصول كے ليے وقتِ وجوب تنگ ہو تو شرط كو چھوڑ كر وقت ميں فعل مقدم ہو گا، شرط كى پابندى اس وقت كرنى اول و بہتر ہو گى جب آخر وقت ميں واجب ہو، مثلا سوايا ہوا شخص آخرى وقت بيدار ہو تو اس پر اس وقت نماز مكمل شروط كے ساتھ واجب ہے جيس طرح اگر وہ وقت كے بعد بيدار ہوتا.

ديكھيں: شرح العمدہ ( 4 / 347 - 348 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments