21401: مالدار لوگ كافر حكومت كى جانب سے فقراء كے ليے مخصوص كردہ اشياء حاصل كر ليتے ہيں


يونائيٹڈ سٹيٹ امريكہ ميں كچھ مسلمان اشخاص غذائى كوپن حاصل كرتے ہيں، يہ كوپن حكومت فقراء كو ديتى ہے جن كے پاس كافى رقم نہيں ہوتى، يہ ( مالدار ) لوگ بنكوں ميں اپنى رقم كى معلومات مخفى ركھتے ہيں تا كہ وہ ان كوپن كے مستحق بن سكيں، جب ميں انہيں نصيحت كرتا ہوں تو جواب ميں كہتے ہيں كہ يہ حرام نہيں كيونكہ ہم كسى اسلامى ملك سے تعاون حاصل تو نہيں كرتے، كيا يہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

شرعى عذر كے بغير اور شرعى شروط كے ساتھ آپ كا كافر ملك ميں بسنا جائز نہيں، اس كا بيان كئى ايك بار ہو چكا ہے، اس كى تفصيل جاننے كے ليے آپ سوال نمبر ( 12866 ) اور ( 6154 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

مستحقين كے علاوہ كسى اور كو يہ كوپن حاصل كرنے حلال نہيں، چاہے دينے والا ملك مسلمان ہو يا كافر ملك، كيونكہ اس حالت ميں يہ كوپن حاصل كرنے والا كاذب اور جھوٹے كے حكم ميں داخل ہوتا ہے، اور اللہ تعالى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو جھوٹ اور كذب بيانى حرام كى ہے.

ابوہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" منافق كى تين علامتيں اور نشانياں ہيں: جب بات كرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ كرے تو وعدہ خلافى كرے، اور جب اس كے پاس امانت ركھى جائے تو امانت ميں خيانت كرے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 33 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 59 ).

اور عبداللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يقينا سچائى اور صدق نيكى كى طرف لے جاتى ہے، اور نيكى جنت كى راہنمائى كرتى ہے، اور يقينا ايك شخص سچ بولتا رہتا ہے حتى كہ وہ صديق بن جاتا ہے، اور يقينا كذب بيانى اور جھوٹ فجور كى طرف لے جاتا ہے، اور بے شك فجور آگ كى طرف راہنمائى كرتا ہے، يقينا ايك شخص جھوٹ بولتا اور كذب بيانى كرتا رہتا ہے حتى كہ اللہ تعالى كے ہاں وہ جھوٹا اور كذاب لكھ ديا جاتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5743 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2607 )

اور اسى طرح يہ لوگوں كا ناحق مال كھانا بھى ہے:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور تم اپنا مال آپس ميں باطل اور ناحق نہ كھايا كرو} البقرۃ ( 188 ).

اور كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ بغير كسى ضرورت كے لوگوں سے ان كا مال مانگتا پھرے، جبكہ وہ محتاج بھى نہ ہو ، امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم شريف ميں حديث بيان كى ہے كہ:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے مال زيادہ كرنے كے ليے لوگوں سے ان كا مال مانگا، تو وہ انگارے مانگ رہا ہے، لھذا وہ چاہے تو اسے كم كر لے يا پھر زيادہ كرتا رہے"

معنى يہ ہے كہ: اس نے بغير كسى محتاجگى كے صرف زيادہ مال جمع كرنے كے ليے لوگوں سے مانگا. يہ حافظ كا قول ہے.

سوم:

مسلمانوں كو چاہيے كہ وہ ان بدترين قسم كے افعال سے اجتناب كريں، يہ افعال ايسے ہيں جو صرف ان كے اپنے ليے ہى برے نہيں بلكہ يہ تو ان كے دين كے ساتھ اچھا برتاؤ نہيں كرتے، تو اس طرح كفار كے ليے ان كے يہ فعل دين اسلام ميں طعن و تشنيع كرنے كا باعث بنيں گے، اور دين كى مخالفت كا سبب بھى.

حالانكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تو ان فقراء اور مساكين قسم كے لوگوں كى تعريف بيان كى ہے جو لوگوں سے سوال نہيں كرتے اور لوگوں سے مال طلب نہيں كرتے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{صدقات كے مستحق صرف وہ غرباء ہيں جو اللہ تعالى كى راہ ميں روك ديے گئے ہيں، جو زمين ميں چل پھر نہيں سكتے، نادان لوگ ان كى بے سوالى كى وجہ سے انہيں مال دار خيال كرتے ہيں، آپ ان كے چہرے ديكھ كر قيافہ سے انہيں پہچان ليں گے، وہ لوگوں سے چمٹ كر سوال نہيں كرتے، تم جو كچھ مال خرچ كرو تو اللہ تعالى اس كو جاننے والا ہے} البقرۃ ( 273 ).

تو پھر اس شخص كيا حال ہو گا جو نہ تو فقير ہے اور نہ ہى محتاج اور ضرورتمند ليكن اس كے باوجود لوگوں سے مانگتا پھرے، تو كيا وہ قابل تعريف اور مدح كے قابل ہے ؟

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments