Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
21662

نمازى كو بطور سترہ آگے جوتے نہيں ركھنے چاہيں

كيا نمازى كے ليے اپنے آگے جوتے بطور سترہ ركھنے جائز ہيں ؟

الحمد للہ:

" نمازى كے ليے ہر چيز بطور سترہ ركھنى جائز ہے، حتى كہ اگر تير بھى ہو، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جب بھى كوئى نماز ادا كرے تو وہ سترہ ركھے چاہے تير ہى كيوں نہ ہو "

مسند احمد حديث نمبر ( 14916 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 2783 ) ميں اسے صحيح كہا ہے.

بلكہ علماء كرام كا تو يہاں تك كہنا ہے كہ دھاگہ اور جائے نماز كے كنارہ كا بھى سترہ ركھا جا سكتا ہے، بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے حديث ميں آيا ہے كہ:

" جسے لاٹھى نہ ملے تو وہ لكير كھينچ لے"

جيسا كہ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى درج ذيل حديث ميں ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم ميں سے كوئى شخص نماز ادا كرے تو وہ اپنے سامنے كچھ ركھ لے، اور اگر اسے كوئى چيز نہيں ملتى تو وہ لاٹھى ہى نصب كرلے، اور اگر اس كے پاس لاٹھى بھى نہ ہو تو وہ لكير كھينچ لے تو اس كے سامنےسے گزرنے والا اسے كوئى نقصان نہيں دے گا "

اسے امام احمد نے روايت كيا ہے، اور ابن حجر رحمہ اللہ تعالى نے " بلوغ المرام " ميں كہا ہے كہ اس حديث كو مضطرب كہنا والے كا قول صحيح نہيں بلكہ يہ حسن ہے. اھـ

يہ سب كچھ اس كى دليل ہے كہ سترہ ميں بڑى چيز كا ہونا شرط نہيں بلكہ جو چيز بھى تستر پر دلالت كرے وہ كافى ہے.

چنانچہ جوتے كے بڑى چيز ہونے ميں كوئى شك نہيں، ليكن ميرى رائے يہ ہے كہ اسے بطور سترہ استعمال كرنا صحيح نہيں؛ كيونكہ عرف عام ميں جوتے گندى چيز ہيں، اور جب آپ اللہ تعالى كے حضور كھڑے ہوں تو يہ آپ كے سامنے نہيں ہونے چاہيں.

اسى ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نمازى كو اپنے سامنے جوتا ركھنے اور تھوكنے سے منع فرمايا ہے، اس كى تعليل اور علت بيان كرتے ہوئے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كيونكہ اللہ تعالى اس كے سامنے ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 406 ) اھـ

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 13 / 326 ).

مزيد تفصيل اور معلومات كے حصول كے ليے آپ سوال نمبر ( 40865 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments