Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
22063

اہل وعیال اورالاد پر خرچہ کرنے کا اجروثواب

انسان کا اپنے اہل وعیال اور اولاد پر خرچہ کرنے کا اجروثواب کیا ہے ؟

الحمدللہ

کتاب وسنت میں بہت سارے دلائل ملتے ہیں جواولاد پرخرچہ کرنے کی ترغیب دلاتی اورابھارتی ہیں اوراس کی فضیلت کا بیان کرتی ہیں ذیل میں ہم چندایک دلائل کا ذکر کریں گے ۔

اول : قرآن مجید سے دلائل :

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ اورجن کے بچے ہیں ان کے ذمہ دستور کے مطابق ان کا روٹی کپڑا ہے } البقرۃ ( 233 ) ۔

اوراللہ تبارک وتعالی کا ایک دوسرے مقام پرکچھ اس طرح ارشاد ہے :

{ اوروسعت اورکشاد رزق والےکے لیے اپنی وسعت وکشادگی سےخرچ کرنا ضروری ہے اورجس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئي ہو اسے چاہیے کہ اللہ تعالی نے اسے جوکچھ دے رکھا ہے ( اپنی حیثیت کے مطابق ) خرچ کرے } الطلاق ( 7 ) ۔

ایک اورمقام پراللہ تعالی نے فرمایا :

{ اورتم جوبھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالی اس کے بدلے میں تہمیں اورزیادہ عطا کرتا ہے اوروہ اللہ ہی سب سے بہتر رازق وروزی دینے والا ہے } سبا ( 39 ) ۔

دوم : سنت نبویہ سے دلائل :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ساری احاديث وارد ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں اوربچوں اورخاص کرلڑکیوں پر خرچ کرنے کی فضيلت بیان کے ہے جن میں سے چندایک یہ ہیں :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( ایک دینار اللہ تعالی کے راستے میں آپ کا خرچ کرنا اورایک وہ دینار ہےجو آپ نے غلامی کی آزادی کے لیے خرچ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوآپ نے مسکین پر صدقہ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوآپ نے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کیا ، ان میں سے سب سے زيادہ اجرو ثواب والا وہ ہے جوآپ نے اپنے اہل وعیال پرخرچ کیا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 995 ) ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( سب سے افضل دینار وہ ہے جوآدمی آپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے ، اوروہ دینار جواپنے جانور پر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے ، اوروہ دینار جواللہ تعالی کے راستے میں اپنے دوست واحباب پرخرچ کرتا ہے ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 994 ) ۔

ابوقلابہ رحمہ اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں اہل عیال سے ابتداء کی گئي ہے ، پھرابوقلابہ کہتے ہیں کہ کہ اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرنے والے سے زيادہ اجروثواب کا مالک کون ہوسکتا ہے جن بچوں کی بنا پر اللہ تعالی اسے معاف کردے گا یا پھر ان کی بنا پر اللہ تعالی اسے نفع دے اورانہيں غنی کردے ۔

سعدبن ابی وقاص رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا :

( توکوئ بھی چیز اللہ تعالی کے راستے میں اللہ تعالی کی خوشنودی اوررضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرے توتجھے اس پر اجر ثواب ملے گا حتی کہ وہ چيز بھی جو تواپنی بیوی کے منہ میں ڈالے ( اس کا بھی اجرو ثواب ملے گا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1295 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1628 ) ۔

ابومسعود البدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جب آدمی اپنے گھروالوں پرثواب کی نیت سے خرچ کرے تویہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 55 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1002 ) ۔

اورابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

( بندے جب بھی صبح کرتے ہیں تودو فرشتے نازل ہوتے ہيں ان میں سےایک یہ کہتاہے اے اللہ خرچ کرنے والے کواورزيادہ عطا فرما اوراس کا نعم البلد دے اوردوسرا کہتا ہے اے اللہ خرچ نہ کرنے والے کو اورکم عطا کر اورباقی ماندہ کوضائع کردے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1442 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1010 ) ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت مانگنے آئ اوراسے کے ساتھ اس کی دوبچیاں بھی تھیں تواس نے میرے پاس سواۓ کھجور کے اورکچھ بھی نہ پایا تومیں نے وہی ایک کھجور اسے دے دی تواس نے وہ کھجور دوحصوں میں تقسیم کرکے اپنی دونوں بچیوں کو دے دی اورخود کچھ بھی نہ کھایا اورپھر اٹھـ کر چلی گئي

اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھرمیں تشریف لاۓ تومیں نے انہیں یہ ماجرا سنایا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

( ان لڑکیوں کے بارہ میں جسے بھی آزمائش میں ڈالا جاۓ ( یعنی جس کے ہاں بھی بیٹیاں ہوں ) تووہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اوراچھی تربیت کرے تووہ اس کےلیے آگ سے بچاؤ کا باعث ہوں گی ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1418 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2629 ) ۔

ام المؤمنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دوبیٹیوں کواٹھاۓ ہوۓ آئي تومیں نے اسے تین کھجوریں دیں تواس نے اپنی دونوں بیٹیوں کوایک ایک کھجور دی اورجب وہ خود کھجور کھانے کے لیے اٹھانے لگی تواس کی دونوں بیٹیوں نے وہ کھجوربھی کھانے کے لیے مانگ لی تواس عورت نے وہ کھجوری بھی دو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے انہیں دے دی جوخود کھانے کا ارادہ رکھتی تھی

مجھے اس کا یہ کام بہت ہی اچھا لگا بعد میں میں اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا توانہوں نےفرمایا :

( اللہ تعالی نے اس عورت کواس کے بدلے میں جنت دے دی یا اس کی بنا پرآگ سے آزاد کردیا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2630 ) ۔

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

( جس نے بھی دولڑکیوں کی بلوغت تک پرورش کی وہ اورمیں قیامت کے روز اکٹھے آئيں گے ،اور آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کا ملایا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2631 ) ۔

اوراس موضوع میں بہت سی احادیث ہیں ، واللہ تعالی اعلم ۔ ا ھـ ۔

کتاب : غذا ء الالباب ( 2 / 437 ) سے کچھ کمی و بیشی کے ساتھ لیا گيا ہے ۔

اورابن بطال رحمہ اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ :

آدمی اپنے آپ اوراہل وعیال پر خرچ کرے اوران پر بھی جن کا خرچہ اس کے ذمہ لازم اورواجب ہے اوراس خرچ کرنے میں کوئ کنجوسی سے کام نہ لے ان پر اتنا ہی خرچ کرے جتنا کہ واجب ہے اوراس میں اسراف بھی نہ کرے ۔

اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوریہ وہ لوگ ہیں جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اس میں اسراف وفضول خرچی نہیں کرتے اورنہ ہی اس میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں اوروہ ان دونوں کے دومیان کا راستہ اختیارکرتے ہیں } ۔

اوریہ خرچہ سب صدقات وخیرات اورخرچوں سے افضل ہے ۔

دیکھیں : طرح التدریب ( 2 / 74 ) ۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments