Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
22101

منگیترکوبھول جانے کے لیے شادی کی ، اورمرد وعورت کے مابین خط وکتابت کا حکم

میرے خاوندنے مجھے کہا کہ وہ یہ شادی کا بندھن توڑ کرعلیحدگي کی زندگي بسر کرنا چاہتا ہے ، پھراس کے کچھ دن بعد یہ کہا کہ اس کی پہلی منگیتر نے اسے ای میل کے ذریعہ خط لکھا ہے اورمجھے اپنی سابقہ منگیترکی ای میل پڑھنے کی اجازت بھی دے دی ، جب میں نے ای میل دیکھی تومجھے بہت تعجب ہوا کہ وہاں توکئي ای میل خط ہیں جووہ آپس میں ایک دوسرے کو ارسال کرتے رہے اور مجھے اس کا بتایا تک بھی نہیں ۔
میں نے ان خطوط کو پڑھا جس میں انہوں نے آپس میں کچھ فحش گوئی سے بھی کام لیاتھا، اوروہ اپنی ملازمت والی جگہ سے روزانہ اس کے ساتھ رابطہ کرتا رہا اوراسے یہ کہتا کہ وہ اب دوبارہ اس سے رابطہ منقطع نہیں کرنا چاہتا ۔
اس کا کہنا ہے کہ مجھ سے اس نے دو اسباب کی بنا پر شادی کی تھی :
اول : وہ یہ چاہتا تھا کہ اس کے علاوہ میرے ساتھ کوئي اور شادی نہ کرے۔
دوم : اس نے مجھ سے اس لیے شادی رچائي تا کہ وہ اپنی سابقہ منگیتر کوبھول جائے لیکن وہ اسے نہیں بھول سکا بلکہ اس کی تلاش میں رہا اوربالاخر اسے تلاش کرہی لیا ۔
اوراس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ پڑھنے والی سہیلیوں نے اس سے خط وکتابت شروع کردی ، مجھے یہ علم ہے کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں چار عورتوں سے شادی کرے ، لیکن کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ نوجوان لڑکیوں کو اپنی سہیلیاں بنائے اورپھر خاص کرجب کہ وہ سب کی سب غیر مسلم ہوں ؟

الحمدللہ

اللہ سبحانہ وتعالی نے شادی کواپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے اوراسے خاوند اوربیوی کے مابین محبت و مودت اوررحمت اور خاوند بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے ، اورشادی میں اصل تویہ ہے کہ اس میں استقرار اوراستمرار ہونا چاہیے ، اورخاوند بیوی میں سے کسی کے لیے بھی جائز نہيں کہ وہ شادی کی حکمت کے مخالف ہوں ۔

آپ کے خاوند پر واجب اورضروری تھا کہ وہ اللہ تعالی کا تقوی اور ڈر اختیار کرتے ہوئے شادی کی ابتداء سے قبل ہی اپنی نیت کوصحیح اوراچھی کرتا ، اورجب کہ آپ سے اس نے شادی آپ کی رضامندی اورباقی عقد نکاح کی صحیح شروط کے ساتھ کی ہے توآپ کی یہ شادی صحیح ہے اوراس پر کسی قسم کی کوئي غبار نہیں ۔

اوراسی طرح آپ کے خاوند پر یہ حرام ہے کہ وہ اجنبی لڑکیوں سے تعلقات قائم کرے اوران سے خط وکتابت کرتا پھرے ، اورپھر جب اس خط وکتابت میں فحش گوئی سے بھی کام لیا گیا ہوتو پھر کیا حالت ہوگي اس کی تفصیل کے لیے آپ سوال نمبر ( 23349 ) کا بھی مراجعہ کریں ۔

اورہم آپ کے بارہ میں یہ کہیں گہ کہ آپ اپنے خاوند کے سامنے صراحت کیوں نہیں کرتی اوراسے وعظ ونصیحت کیوں نہیں کرتیں ہوسکتا ہے وہ اس سے اپنے اس طریقے کو چھوڑ کرصحیح راہ پر واپس آجائے ، یا پھر آپ اس معاملہ میں خیر وبھلائی والے لوگوں سے دخل اندازی طلب کریں اورانہيں کہیں کہ وہ آپ کے خاوند کونصیحت کریں اورسمجھائيں ۔

اوراگر وہ اپنی سابقہ منگیتر کوبھول نہیں سکتا تو پھر اگروہ لڑکی اہل کتاب میں سے ہے توشرعی طور پر اس کے لیے جائز ہے کہ اس سے شادی کرلے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ پہلے اپنے سابقہ حرام تعلقات سے توبہ کرے اورعفت وعصمت کی طرف پلٹ آئے ۔

اوراس طرح وہ اپنے آپ کوحرام کردہ اشیاء میں واقع ہونے سے بچائے ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے مرد کے لیے مباح قرار دیا ہے کہ وہ اہل کتاب ( یھودی اورعیسائي ) کی پاکباز عورتوں سے شادی کرسکتا ہے ۔

آپ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں اورعلیحدگي کرنے میں جلدبازي سے کام نہ لیں ، ہوسکتا ہے آپ کاصبرکرکے اس کے ساتھ رہتے ہوئے اسے وعظ ونصیحت کرتے رہنے سے وہ صحیح راستے پر پلٹ آئے اوراس کی ھدایت کا سبب بن جائے ۔

اوراگر وہ انکار کرتا اورعلیحدگي اورحرام کام پر ہی باقی رہتا چاہتا ہے تو پھر اس طرح کے لوگوں پر کوئي کسی قسم کا افسوس نہیں اورنہ ہی ان جیسے لوگوں کے ساتھ باقی رہا جاسکتا ہے ، ہم ہر حال میں ہم اللہ تعالی سے آپ اوراپنے لیے خیرو بھلائي کی توفیق کے طلبگارہيں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments