Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
22399

عربى اور يورپى ميگزين جن پر حرام غالب ہوتا ہے ميں كام كرنے اور خريد و فروخت كا حكم

كيا آپ مجھے بتا سكتے ہيں كہ اسلام مسلمان ممالك ميں پائے جانے والے ان اخبارات اور جرائد كے بارہ ميں كيا كہتا ہے جن ميں مردوں اور عورتوں كى تصاوير وغيرہ ہوتى ہيں، اور ان ميں آپ اسلام مخالف اشياء كى مشہورى بھى ديكھيں گے، مثال كے طور پر آپ ادا كاروں، اور گانے گانے والوں اور رقص كرنے والوں كے بارہ ميں ان اخبارات اور جرائد ميں آرٹيكل پڑھيں گے، جب آپ اس طرح كے ميگزين اور رسالے و اخبارات كھوليں تو آپ كو اس ميں كسى كافرہ عورت يا مرد كى ايك بڑى سى تصوير نظر آئے گى جو كفار كے لباس زيب تن كيے ہوئے ہے، اور آپ كو ان رسائل اور ميگزين اور اخبارات ميں يہ بھى ملے گا كہ عنقريب كونسى فلم ريلز ہو رہى ہے، اس كے علاوہ آپ كو چہرے كے خوبصورت بنانے يا پھر ناك كى خوبصورتى كے متعلق بھى پڑھنے كو ملے گا، اس كے ساتھ آپ كو اور بھى ايسى اشياء مليں گى جو دين اسلام ميں حرام ہيں.
ليكن اس كے ساتھ ساتھ آپ كو اسى اخبار اور ميگزين ميں اپنے علاقے، ملك اور پورى دنيا كى خبريں بھى پڑھنے كو مليں گى، اس ميں آپ كھيلوں كے بارہ ميں بھى پڑھ سكتے ہيں، اور تجارت كے متعلق بھى، اور ان حصص كے بارہ ميں جو اسلام ميں حرام ہيں، اس سب كچھ كے بعد كيا اس طرح كے اخبارات اور رسائل و ميگزين ميں كام كرنا حلال ہے؟
اور يورپى معاشرہ ميں آپ ديكھيں گے كہ مسلمانوں كے علاقائى اخبارات اور ميگزين و رسائل ميں بھى كم تناسب ميں سودى فوائد پر مشتمل قرضوں كے حصول، اور كم سودى فوائد پر مكانات كے حصول كے اعلانات، اور انڈين فلميں، اور كچھ تجارتى كمپنيوں كے اعلانات، اور پھر اس ميں رقص اور موسيقى كے ليے ايك قسم خاص ہوتى ہے جس ميں نوجوان لڑكيوں كى مختصر لباس ميں تصاوير اور نت نئے ماڈلوں كے لباس وغيرہ يہ سب اسلام كے خلاف ہوتا ہے.
كيا جو شخص بھى اس طرح كے اخبارات اور ميگزين ميں ملازمت اور كام كرے اس كى كمائى اور تنخواہ حلال ہے يا حرام ؟
يعنى ميرى مراد يہ ہے كہ اس سے جو شخص بھى متعلق ہو مثلا خبريں لكھنے والا، يا جو ان اخبارات كو پرنٹ كرتا ہے، يا جو اسے تقسيم كرتا اور اسے تقسيم كے ليے پہنچاتا ہے، ان سب كى تنخواہ حلال ہے يا حرام ؟ اور كيا اس طرح كے اخبارات اور رسائل و ميگزين پڑھنا حرام ہيں يا حلال ؟
اور كيا جو لوگ ان اخبارات اور ميگزين و رسائل ميں كام اور ملازمت كرتے ہيں وہ گنہگار ہيں؟ اور اسى طرح پڑھنے والے بھى گنہگار ہيں كہ نہيں؟
پھر يہاں ہمارے ہاں يورپ ميں كچھ اخبارات ايسے بھى ہيں جو مكمل طور پر اسلام كے خلاف بھرے ہوتے ہيں، ان ميں نوجوان لڑكيوں كى تقريبا ننگى تصاوير ہوتى ہيں، اور دوسروں كے ايڈريس جنسى طور پر، شراب، موسيقى، فلميں، سود، جوا اور قمار بازى، اور اسلام كے خلاف اور بہت سى اشياء ہوتى ہيں، كيا آپ كے خيال ميں ہم مسلمانوں كے ليے اس طرح كے اخبارات اور ميگزين و رسائل جن ميں يہ معلومات پائى جاتى ہيں خريدنے ميں كوئى حرج نہيں ؟ اور ہو سكتا ہے اس ميں كچھ خير و بھلائى كى اشياء بھى ہوں ليكن 99 % ننانوے فيصد شر ہى ہوتا ہے؟
اس طرح كے اخبارات اور ميگزين كى كمپنى ميں كام كرنے والے شخص كى آمدن حلال ہے يا حرام ؟ اور ان اخبارات اور رسائل و ميگزين كے ساتھ كسى بھى قسم كا تعلق ركھنے والے شخص چاہے وہ كسى بھى طرح كا تعلق ركھے، ليكن ان كا تعلق اس كے ساتھ جزئى طور پر ہے تو كيا اس كى آمدن اور كمائى حرام ہے يا حلال؟
كيا يہ سب لوگ كبيرہ گناہ كے مرتكب ہو رہے ہيں ؟
اور كيا جب ہم ان جرائد اور ميگزين و رسائل كى خريدارى كرتے ہيں تو ہم بھى گنہگار ہونگے ؟

الحمد للہ:

اس طرح كے اخبارات اور رسائل و ميگزين جن ميں اكثر اشياء حرام ہوں اور اس پر حرام كا غلبہ ہو تو اس ميں كام كرنا جائز نہيں، اور اس كام سے كى گئى كمائى اور حاصل ہونے والى آمدن بھى حرام ہو ہے.

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے جب كسى چيز كو حرام كيا ہے تو اس كى قيمت بھى حرام كر دى، اور ان اخبارات اور رسائل و ميگزين كى ترويج اور انہيں پڑھنا، اوراس كى خريدارى كرنا، اور فروخت كرنا بھى حرام ہے، اور اس كے متعلقات بھى ، بلكہ اس كا بائيكاٹ كرنا واجب ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ عبد الكريم الخضير
Create Comments