Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
22442

اداکاری اورچھوٹی بچیوں کی شادی کا حکم

1- فلموں میں اداکاری کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ، اوراگر ایسا کرنا جائز ہے تو کس قسم کی فلموں میں کرنا چاہیے ، اورفلموں میں عورتوں کا کیا کردار ہو گا ؟
2 - اسلام میں دس برس سے کم عمربچیوں کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کیوں جائز ہے ؟
کہا جاتا ہے کہ بچوں کے بارہ میں صرف ان کے والدین ہی اھتمام کريں گے ، مجھے یہ توعلم ہے کہ بالغوں کی اجازت درکا ہوتی ہے ، اورحقیقت بھی یہی ہے کہ شادی پختہ عمروالوں کے بابین ہی واجب ہے لیکن بچوں میں یہ نہیں ہوسکتی توکیا آپ بچوں کی شادی کے شرعی حکم کی وضاحت کريں گے ؟

الحمد للہ :

اول :

فلموں اورڈراموں میں اداکاری وغیرہ کے متعلق جواب دیا جا چکا ہے آپ اس کی تفصیل کےلیے سوال نمبر ( 10836 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ، ہم اس میں کچھ اوربھی اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

شیخ ابوبکر زید حفظہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

مروءت ایک شرعی مقصد ہے ، اورخلاف مروءت کام کرنا مقدمے میں گواہی ساقط کردیتا ہے ، اورشریعت اسلامیہ اخلاق عالیہ اختیار کرنے کا حکم دیتی اوربرے اورذمیم اخلاق سے منع کرتی ہے ، بہت سے دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اداکاری کرنے والے اپنے ا‏عضاء میں سے کسی عضو کوناکارہ ظاہر کرتے ہیں یا پھر غلط قسم کی حرکات کرتے اورعجیب وغریب قسم کی آوازیں نکالتے ہیں ۔

بلکہ بعض اوقات تو کسی مجنون اورپاگل اوریا پھربے وقوف کا کردار ادا کرتے ہیں ، توکوئي عقل مند اس میں شک نہیں کرسکتا کہ اداکاری کرنا خلاف مروءت ہے ، اوراس لیے یہ گواہی ساقط کرنے کا بھی با‏عث ہے ، اورایسی چيز کو شریعت برقرار نہیں رکھتی ۔۔۔۔

دیکھیں : المروءۃ وخوارمھا تالیف مشھور حسن ص ( 221 ) ۔

دوم :

چھوٹی بچی کی بلوغت سے قبل شادی :

شریعت اسلامیہ اسے جائز قرار دیتی ہے بلکہ اس مسئلہ میں تو علماء کرام کا اجماع بھی منقول ہے ۔

اس شادی کے جواز کے دلائل :

ا - اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوروہ عورتیں جوحیض سے ناامید ہوچکی ہیں اگر تمہیں شبہ ہو توان کی عدت تین ماہ ہے اوروہ بھی جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا } الطلاق ( 4 ) ۔

ہم اس آیت میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان عورتوں کی طلاق کی عدت ( ان کی چھوٹی عمر اور نابالغ ہونے کی وجہ سے ) تین ماہ مقرر کی ہے جواس بات کی واضح دلیل ہے اس بچی کی بھی شادی ہوسکتی ہے اوراگر اسے طلاق ہوجائے تو وہ عدت بھی گزارے گی ۔

ب – عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی تو وہ چھ برس کی تھیں ، اورنو برس کی عمر میں ان کی رخصتی ہوئی اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نوبرس تک رہیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4840 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1422 ) ۔

لیکن چھوٹی عمرکی بچی کی شادی کے جواز سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے ہم بستری کرنا بھی جائز ہے ، بلکہ اس سے ہم بستری اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک وہ اس کی اہلیت نہ رکتھی ہو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی رخصتی میں اسی لیے دیر کی تھی ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

چھوٹی عمرکی شادی شدہ بچی کی رخصتی اوراس سے ہم بستری کے وقت کے بارہ میں یہ ہے کہ :

اگر بچی کا ولی اورخاوند کسی ایسی چيز پر متفق ہوجائيں جس میں بچی پر کسی قسم کا ضرر نہ ہو اس پر عمل کیا جائے گا ، اوراگر وہ دونوں اختلاف کریں تو امام احمد اور ابو عبید رحمہمااللہ کہتے ہیں کہ نوبرس کی بچی پر یہ لازم کیا جائے گا لیکن اس سےچھوٹی پر نہیں ۔

امام شافعی اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ اس کی حد یہ ہے کہ وہ جماع کی طاقت رکھے ، اس کے وقت میں لڑکیوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اختلاف ہے جس میں عمر کی کوئي قید نہیں لگائي جاسکتی ۔

اوریہی قول صحیح ہے کیونکہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں عمر کی کوئي تحدید نہیں اورنہ ہی ہم بستری کی طاقت رکھنے والی کونوبرس کی عمرسے قبل اس سے منع کیا گيا ہے ، اور اسی طرح طاقت نہ رکھنے والی نوبرس کی بچی کو اس کی اجازت ہے ۔

داووی کہتے ہیں : عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بہت اچھی جوان ہوچکی تھی رضی اللہ تعالی عنہا ۔ دیکھیں شرح مسلم للنووی ( 9 / 206 ) ۔

مستحب تو یہ ہے کہ ولی اپنی چھوٹی بچی کی شادی نہ کرے لیکن جب اس میں کوئي مصلحت ہو تو شادی کرسکتا ہے ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ امام شافعی اوراس کے اصحاب اسے مستحب قرار دیتے ہیں کہ باپ اورداد بچی کے بالغ ہونے سے قبل شادی نہ کریں اورشادی کرنے میں اس کی اجازت لے لیں تا کہ وہ خاوند کے پاس ناپسندیدگی کی حالت میں نہ چلی جائے ۔

ان کا یہ قول عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث کے مخالف نہیں ، کیونکہ ان کی مراد یہ ہے کہ بلوغت سے قبل اگر شادی کرنے میں تاخیر کی بنا پرکوئي فوت ہونے والی مصلحت نہ ہو تو شادی نہیں کرنی چاہیے جس طرح کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں ہے ، تویہ خاوند کا حصول مستحب ہوگا اس لیے کہ باپ اپنے بچے کی مصلحت پر مامور ہے اور یہ مصلحت فوت نہيں ہونی چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔

شرح مسلم للنووی ( 9 / 206 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments