2665: حدیث ( استوصوا بالنساء خیرا ) کامعنی


حدیث میں ہے کہ ( عورتوں سے خیرخواہی اوربھلائ کیا کرو ، اس لیے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئ ہے اورپسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا پن اوپروالے حصہ میں پایا جاتا ہے ) حديث کے آخرتک ۔
گزارش ہے کہ حدیث کا معنی بیان فرمائيں اور سب سے اوپروالی زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے کی بھی وضاحت فرما دیں ۔

الحمدللہ

یہ حدیث صحیح ہے جسے امام بخاری اورامام مسلم رحمہما اللہ تعالی نے ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ :

( عورتوں سے خیرخواہی اوربھلائ کیا کرو ، اس لیے کہ وہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئ ہیں اورپسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا پن اوپروالے حصہ میں پایا جاتا ہے ، توعورتوں کے ساتھ بھلائ اور خیر کیا کرو ) انتھی ۔

یہ حکم والدین بھائیوں اور خاوندوں وغیرہ کے لیے ہے کہ عورتوں سے خیر خواہی اوربھلائ اور ان کےساتھ احسان کريں ، اوریہ کہ ان پرظلم وستم نہ کریں اوران کے حقوق کی ادائيگي کریں اور ان کوخیر اوربھلائ کی راہنمائ کریں ، جو کہ سب پرواجب ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ( عورتوں کے ساتھ خیرخواہی اوربھلائ کرو ) ۔

ان کا بعض اوقات اپنے خاونداور رشتہ داروں سے بدزبانی کرنا یا اپنے کسی فعل سے براسلوک کرجاتی ہیں تو ان کےساتھ خیراور بھلائ کرنے میں یہ چیز آڑے نہیں آنی چاہيے بلکہ ان کی خير خواہی کرنا ضروری ہے اس لیے کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئ ہیں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پسلی میں سب سے زیادہ ٹيڑھا حصہ اس کا اوپروالا حصہ ہوتا ہے ۔

یہ معلوم ہے کہ پسلی کا اوپروالا حصہ وہ ہے جہاں سے پسلی شروع ہوتی ہے اورپسلی میں ٹیڑھا پن بھی معروف ہے ۔

تومعنی یہ ہوگا کہ عورت کی خلقت اورپیدائش میں ہی نقص اورٹیڑھا پن ہے ، اسی لیے صحیحین کی دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ( میں نے تم سے ناقص العقل اورناقص دین نہیں دیکھا تم میں کوئ ایک اچھے بھلے آدمی کی عقل خراب کردیتی ہے ) ۔

اوراس سے مقصود یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے جوکہ صحیحن میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ثابت ہے ، نقص عقل کا معنی وہی ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ دوعورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے ۔

اور نقص دین کا معنی بھی وہی ہے جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کئ کئ دن رات نماز نہیں پڑھتی ، یعنی حیض اورنفاس کی وجہ سے ، تویہ ایک ایسا نقص ہے جو اللہ تعالی نے ان پر لکھ دیا ہے اور جس میں کسی قسم کا کوئ گناہ نہیں ۔

توعوتوں کوچاہیے کہ وہ اس نقص کا اعتراف اس طرح ہی کریں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راہنمائ فرمائ ہے ، اگرچہ وہ عورت علم اور تقوی والی ہی کیوں نہ ہواس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے توبولتے ہی نہیں بلکہ یہ تواللہ تعالی کی طرف سے ان کی طرف وحی کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے ، کہ تمہارے ساتھی نے نہ توراہ گم کی اورنہ ہی وہ ٹیڑھی راہ پر ہے ، اور نہ ہی وہ اپنی خواہش سے کوئ بات کہتے ہیں وہ توصرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے } ۔ .

دیکھیں کتاب : مجموع فتاوی ومقالات المتنوعۃ للشیخ علامہ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ تعالی ، جلد نمبر ( 5 )
Create Comments