26744: عفت وعصمت نہ رکھنے والی عورت سے شادی


میں اپنے معاملے میں حیران وپریشان ہوں ۔
اپنی منگیتر کوبہت چاہتاہوں لیکن منگنی سے پہلے وہ یورپی لڑکی کی طرح زندگی گزارتی رہی بے ہودہ قسم کا لباس پہننا ، سگرٹ نوشی ، نوجوانوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ، ان کے ساتھ گھروں میں جانا ، یہ سب کچھ کرتی رہی ہے ، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنا کنوار پن نہیں گنوایا ۔
اس کے کہنے کے مطابق وہ ایک نوجوان سے جنون کی حد تک پیارومحبت کرتی تھی ، لیکن منگنی کے بعد وہ ان سب کاموں کوچھوڑ چکی ہے ، میں اس کے ان اعمال کی وجہ سےاسے آہستہ آہستہ ناپسند کرنے لگا اوریہ خیال کرنے لگا ہوں کہ اس نے مجھ سے کذب بیانی سے کام لیا ہے ، میں یہ نہیں مانتا کہ جس طرح وہ کہتی ہے اتنے بے ہودہ قسم کے کام کرنے کے باوجود اس نے کسی کواپنا عاشق اوردوست نہ بنایا ہو !!
یہ توناممکن سی بات ہے ، اوراسی وجہ سے میں اسے ناپسند کرنے لگا ہوں ، بلکہ اب تو ہم جھگڑا بھی کرنے لگے ہیں ، اس بارہ میں آپ کی نصیحت کیا ہے ؟
میری ایک اوربھی مشکل ہے وہ یہ کہ میرا ایک لڑکی سے تعارف ہوا اورمیں اس کے سامنے بہت ہی کمزور ہوگیا اپنے پر قابو نہیں رکھ سکا اوراس سے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں ، مجھے معلوم نہیں یہ کیسے ہوا ، لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ ہوچکا ہے ۔
میں نےاپنے گناہوں سے توبہ کرلی ہے اس لیے کہ میری منگنی کے بعد منگیتر بہت ہی مخلص ہوچکی ہے ، بھائي جان میرا سوال یہ ہے کہ :
مجھے کیا کرنا چاہیے ، اوراس مسئلہ کو کس طرح حل کروں ؟
حقیقتا مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے ۔

الحمد للہ
وہ عورت جومنگنی سےقبل آپ کی بیان کردہ صفات کی مالک ہو اس سے نکاح اس وقت تک جائز نہيں جب تک کہ وہ اپنے سابقہ گناہوں سے اللہ تعالی کے ہاں سچی اورپکی توبہ نہ کرلے نہ کہ اپنے منگیتر کی وجہ سے بلکہ یہ توبہ صرف اللہ تعالی کے لیے خالص ہونی چاہیے ۔

اگر تو وہ لڑکی توبہ کرلیتی ہے اوراپنے کیے پر ندامت بھی کرتی ہے اورآپ اس کے بعد اسے اس پر حریص بھی دیکھتے ہیں اوروہ غیرمحرم مردوں سے اجتاب کرتے ہوئے ان سے دور بھی رہنے لگي ہو اوران سے خلوت بھی نہ کرے ، اوریہ سب کچھ آپ کوواضح نظر آنے لگے تو پھر آپ کا اس سے نکاح کرنا جائز ہے ۔

میری توآپ کویہی نصیحت ہے کہ آپ اس کے علاوہ کوئي اورلڑکی تلاش کریں جوکہ صالحہ اورعفت وعصمت کی مالکہ ہو اورآپ کی دنیا و آخرت میں سعادت کا باعث بنے جو کہ آخرت میں نجات کا بھی سبب ہو ، اس لیے کہ ایک نہ ایک دن وہ آپ کی اولاد کی ماں اورآپ کے شرف ونسب کی حافظہ اورآپ کے مال کوجمع کرنے والی ہوگي ۔

تو اس طرح کی عورت سے ہی محبت ومودت اورمہربانی ورحمت اورسکوں نصیب ہوتا ہے جوکہ ازواجی زندگي کی اساس ہے ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

{ اوراس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم میں سے بیویاں بنائيں تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اورتمہارے مابین محبت ومودت قائم کردی } ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( عورت کے ساتھ چار وجہ سے شادی کی جاتی ہے ، اس کے مال کی بنا پر ، اس کے حسب ونسب کی بنا پر ، اس کے جمال وخوبصورتی کی بنا پر ، اوراس کے دین کی وجہ سے ، تیرے ہاتھ خاک میں ملیں دین والی کو اختیار کر ) صحیح بخاری ( 3 / 242 ) صحیح مسلم ( 2 / 1086 ) ۔

اورایک دوسری حدیث میں ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( دنیا ساری مال ومتاع ہے اوردنیا کا سب سے اچھا اوربہتریں مال ومتاع صالحہ اورنیک بیوی ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2668 ) ۔

آپ کا یہ ذکر کرنا کہ کسی لڑکی سے آپ نے جوجرم کا ارتکاب کیا ہے ، اوراس کے بعد توبہ بھی کرلی ہے ، اس اللہ تعالی کا شکر اورتعریف ہے جس نے آپ کوتوبہ کی توفیق بخشی جوکہ آپ پر اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل اوراحسان ہے ۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کا خیال کرے اوراس جیسے جرائم تک پہنچانے والے اسباب کو اجتاب کرے ۔

ہمارے عزيز بھائي ہم آپ کو یہ تنبیہ کرتے ہیں کہ توبہ صرف اورصرف اللہ تعالی کے لیے خالص ہونی چاہیے نہ کہ اس لیےکہ آپ کی منگیتر آپ کے لیے مخلص ہوگئي ہے ، ہم آپ کو نصحیت کرتے ہیں کہ آپ توبہ کی تجدید کریں اوراستغفار کرتے رہیں اوراللہ تعالی سے وعدہ کریں کہ آئندہ اس کام کی طرف دوبارہ نہيں پلٹیں گے ۔

اس کے علاوہ آپ کوکچھ اورامورکی بھی نصیحت کرتے ہيں ، ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ ان سے آپ کو نفع دے :

اول : اپنی نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے نیچی رکھیں اورانہيں تلاوت قرآن ، حدیث اورصالحین علماء کرام اورزاھد قسم کے لوگوں کے قصے پڑھنے میں مشغول کرکے اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء سے بچائيں ۔

دوم : غیر محرم اوراجنبی عورتوں سے خلوت کرنے سے بچيں ۔

سوم : آپ صالح اورنیک قسم کے لوگوں سے دوستی لگائيں جو کہ آپ کے دین اوردینا کے معاملات میں آپ کا تعاون کریں ۔

چہارم : آپ موسیقی اورگانے سننے سے بچیں ، اس لیے کہ یہ زنا کا وسیلہ اوراس تک پہنچنے کا راستہ ہیں ۔

پنجم : مسلمانوں کے ساتھ پانچ وقتی نماز مسجد میں پاپندی سے ادا کرنے پر حرص رکھیں ، اوراس کے ارکان کی ادائيگي خشوع و خضوع کا بھی خیال کریں ، کیونکہ نماز برائي اورفحاشی کے کاموں سے روکتی ہے ، اورنمازي ہی فلاح وکامیابی حاصل کرنے والے ہیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یقینا نماز میں خشو‏ع اختیار کرنے والے مومن فلاح اورکامیابی حاصل کرگئے } ۔

اللہ تعالی ہمیں اورآپ کو ہرقسم کی بھلائي اورخیر کی توفیق عطا فرمائے اورآپ کے معاملات میں آسانی پیدا فرمائے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments