Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
26830

گھر اوررمضان المبارک

میں گھر کا سربراہ ہوں ، رمضان المبارک آنے کو ہے ، لھذا مجھے اس مبارک مہینہ میں اپنے گھرانے کی تربیت اوردیکھ بھال کس طرح کرنی چاہیے ؟

الحمد للہ
مسلمان پر یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا انعام ہے کہ وہ اسے رمضان کے روزوں تک پہنچاتا اور قیام کرنےپر مدد فرماتا ہے ، یہ ایسا مبارک مہینہ ہے جس میں نیکیاں بڑھتی اوردرجات بلند ہوتے ہیں ، اوراللہ تعالی جہنم سے کچھ لوگوں کو آزادی بھی دیتے ہيں ۔

لھذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس مبارک مہینہ سے بھر پور فائدہ اٹھائے اوراسے موقع غنیمت جانتے ہوئے خیروبھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے ، اوراپنی زندگی کے اوقات کو اللہ تعالی کی اطاعت میں صرف کرے ، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جوبیماری یا موت یا پھر گمراہی کی وجہ سے اس بابرکت مہینہ کی نعمتوں سے محروم ہو گئے ۔

اوراسی طرح مسلمان پر واجب ہےکہ رمضان المبارک کے مہینہ کو موقع غنیمت سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو اطاعت میں صرف کرے ، اوراس پر اولاد کے واجبات میں یہ شامل ہے کہ وہ ان کی اچھی اوربہتر تربیت کرے اوران کی نگہبانی کرتے ہوئے انہیں خیروبھلائی کے کاموں پرابھارے اورانہيں اس کا عادی بنائے ، کیونکہ بچہ اسی چيزپر پرورش پاتا ہے جس کی اسے اس کے والدین عادت ڈالیں ۔

اور ہم میں پرورش پانے والے نوجوان اسی پر بڑے ہوں گے جس کی اس کے والد نے عادت ڈالی ہوگي اور اسے تیار کیا ہوگا ۔

لھذا ان بابرکت ایام میں والدین کے لیے ایک سنہری موقع اورفرصت ہے ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اچھائي و بھلائي کے کاموں پر تیارکریں اوراس کا عادی بنائيں ، اس لیے ہم والدین کو مندرجہ ذیل نصیحت کرتے ہیں :

1 - اولاد کے روزہ رکھنے کا خیال رکھنا اورانہیں روزے پر ابھارنا ، اورجس سے کوئی کمی کوتاہی ہوجائے اسے سمجھانا کہ روزے بہت زيادہ فضیلت کے حامل ہیں ۔

2 - اولاد کو روزہ کے بارہ میں یہ یاد دلانا کہ روزہ صرف کھانے پینے کوترک کرنے کا ہی نام نہیں بلکہ وہ تو تقوی و پرہیزگاری اختیار کرنے کا راستہ اورسبب ہے ، اور روزہ گناہوں کی بخشش اوراس کا کفارہ بنتا ہے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی سیڑھیاں چڑھے اورانہوں نے آمین ، آمین ، آمین کہا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گيا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ پہلے تو ایسا نہیں کرتے تھے اب ایسے کیوں کیا ہے ؟

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مجھے جبریل علیہ السلام نے کہا : وہ شخص ذلیل وخوارہویا اس کے لیے دوری ہو جس نے رمضان المبارک آنے کے باوجود بھی اپنے گناہ معاف نہ کروائے ، تو میں نے کہا آمین ۔

پھر جبریل علیہ السلام نے کہا : وہ ذلیل وخوار ہو یا اس کے لیے دوری ہو جس نے اپنے والدین یا ان میں سےکسی ایک کو زندہ پایا اور وہ ( ان کی خدمت کرکے ) جنت میں داخل نہ ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں میں نے کہا آمین ۔

پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے : وہ شخص ذلیل ورسوا یا اس کے لیے دوری ہو جس کےپاس آپ کا نام لیا جائے اوروہ آپ پر درود نہ پڑھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں میں نے کہا آمین ۔

دیکھیں ابن خزیمہ حدیث نمبر ( 1888 ) یہ الفاظ ابن خزیمہ کے ہیں ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 3545 ) مسند احمد حدیث نمبر ( 7444 ) صحیح ابن حبان حدیث نمبر ( 908 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 3510 ) ۔

3 - اولاد کوکھانے پینے کے آداب اوراحکام کی تعلیم دینا کہ دائيں ہاتھ اوراپنے سامنے سے کھایا جائے ، اورانہيں یا بتایا جائے کہ کھانے پینے میں اسراف حرام ہے اوراس کا ان کے جسم کو بھی نقصان ہے ۔

4 - انہیں اس سے منع کیا جائے کہ وہ افطاری کرنے میں بہت زيادی دیر تک کھاتے پیتے رہیں کیونکہ اس بنا پر ان کی نماز مغرب جماعت سےفوت ہوجائے گی ۔

5 - اولاد کو ایسے فقراء ومساکین کے بارہ میں بتانا جن کے پاس بھوک کی آگ بجھانے کے لیے ایک لقمہ بھی نہیں ، اورانہیں اللہ تعالی کے راستے ہیں جہاد اورہجرت کرنے والوں کے حالات بتانا ۔

6 - اس میں تقریبات اوراجتماعات بھی شامل ہیں جس میں اقرباء ورشتہ دار اکٹھے ہوں اورصلہ رحمی کی جائے ، بعض ممالک میں ابھی تک یہ عادت موجود ہے کہ اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ، جوکہ قطع رحمی کا سدباب اورصلہ رحمی کے لیے فرصت ہے ۔

7 - کھانا تیار کرنے میں والدہ کا ہاتھ بٹانا ، اوراسی طرح برتن وغیرہ اٹھانے اوردوھونے اوربچا ہوا کھانا محفوظ کرنے میں بھی تعاون کرنا چاہیے ۔

8 - اولاد کو قیام اللیل ادا کرنے کی نصیحت کی جائے اوراس کی تیاری قبل ازوقت کرنے کی نصیحت اورکھانے میں بھی کمی کرنے کی نصیحت کی جائے تا کہ آسانی سے مسجد میں جاکر قیام اللیل کرسکیں ۔

9 - سحری کے بارہ میں والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کو سحری کی برکت کے بارہ میں بتائيں اوریہ کہ سحری کھانے سے انسان روزہ رکھنے کے لیے قوت بھی حاصل کرتا ہے ۔

10 - نماز فجر سے قبل انہیں اتنا وقت دیا جائے کہ جس نے وتر ادا نہیں کیے وہ وتر ادا کرلیں ، اور جس نے قیام نہيں کیا بلکہ وہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرنا چاہتا تھا اس وقت کرسکے ، اوراس وقت میں جوچاہے اپنے پروردگار سے دعا واستغفار کرسکے ۔

11 - نماز فجر کا وقت پر باجماعت اہتمام کرنا کیونکہ سب مسلمان اس کے مکلف ہیں ، ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ ساری رات کھانے کے لیے بیدار رہتے ہیں اورجب نماز کا وقت ہوتا ہے تو بستر پرلیٹتے ہی سوجاتے ہیں جس سے نماز فجر فوت ہوجاتی ہے ۔

12 - نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عشرہ میں یہ طریقہ کارتھا کہ خود بھی رات کو جاگتےاوراپنے گھر والوں کو بھی جگاتے ، جس میں اس بات کی دلیل ہے کہ خاندان کو چاہیے کہ وہ اس بابرکت مہینہ میں مبارک اوقات کوموقع غنیمت جانتے ہوئے اللہ تعالی کی رضی کے کام کرتا رہے ، لھذا خاوند پرلازم ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو بیدار کرے تا کہ وہ بھی اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے کام کرسکیں ۔

13 - بعض اوقات گھر میں چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں جنہیں روزہ رکھنے کا شوق دلانا ضروری ہے تا کہ وہ بڑے ہوکر اس عبادت کے عادی بن جائيں ، اس لیے والد کے ذمہ ہے کہ وہ انہيں سحری کھانے کا شوق دلائے ، اورانہيں انعام اوران کی تعریف کے ذریعہ روزہ رکھنے پر ابھارے کہ جو بھی نصف مہینہ یا پھر پورا مہینہ کے روزے رکھے گا اسے یہ انعام دیا جائے گا ۔

ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء ( یعنی دس محرم ) کی صبح انصار صحابہ کرام کی بستی میں یہ پیغام بھیجا کہ جس نے بھی روزہ نہیں رکھا وہ باقی دن کچھ بھی نہ کھائے پیے اورجس نے روزہ رکھا ہے وہ روزہ پورا کرے ۔

وہ کہتی ہيں کہ ہم اس کےبعد روزہ رکھا کرتے تھے اوراپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے اورانہیں اپنے ساتھ مسجد میں لےجاتے تھے ، اوران کے لیے روئي کے کھلونے بناتے تھے ، ان میں سے جب بھی کوئي کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم وہ کھلونا اسے دیتے حتی کہ افطاری تک یہی ہوتا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1859 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1136 )

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اس حدیث میں بچوں کو اطاعت کرنے کی مشق اورانہیں عبادت کرنے کا عادی بنانا ہے ، لیکن وہ اس کے مکلف تو نہیں ہیں بلکہ یہ تو صرف انہیں عادت ڈالنے کےلیے ہے ۔

قاضی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : عروہ رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ بچے جب بھی روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں ان پرروزہ رکھنا واجب ہے ، اوریہ غلط ہے جو کہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تین اشخاص مرفوع عن القلم ہیں : چھوٹا بچہ جب تک اسے احتلام نہ ہوجائے اورایک روایت میں بالغ کے الفاظ ہیں ) واللہ تعالی اعلم ۔

دیکھیں شرح مسلم للنووی ( 8 / 14 ) ۔

14 - اگروالدین رمضان المبارک میں عمرہ پر جاسکیں تو ایسا کرنا ان کے اپنے اوراہل وعیال کے لیے سب سے بہتر اوراچھا ہے ، کیونکہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے سے حج کا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے ، اوربہتراورافضل تو یہ ہے کہ رش سے بچنے کے لیے رمضان المبارک کے شروع میں عمرہ ادا کیا جائے ۔

15 - خاوند کو چاہیے کہ وہ بیوی کےذمہ وہ بوجھ نہ ڈالے جس کی اس میں استطاعت نہیں ہے کہ وہ ایسا کھانا یا پھر مٹھائياں تیار کرے جس کا تیار کرنا مشکل ہے ، کیونکہ بہت سارے لوگوں نے تو اس مہینہ کو کھانے پینے اوراسراف کے ایام بنا لیا ہے جس کی وجہ سے اس مہینہ کی مٹھاس اورمقصد و حکمت ہی فوت ہوجاتی ہے ، جوکہ تقوی کا حصول تھا وہ نہیں ہوتا ۔

16 - رمضان کا مہینہ قرآن مجید کا مہینہ ہے ، اس لیے ہم یہ نصیحت کرتےہیں کہ ہر گھر میں قرآنی مجلس قائم کی جائے جس میں والد کوچاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو قرآن مجید پڑھنا سکھائے اوراپنے گھر والوں کو اس کی تعلیم دے ، اورانہیں قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر پڑھائے ۔

اوراسی طرح روزوں کےاحکام اورآداب کے بارہ میں بھی کوئی کتاب اپنے اہل وعیال کےسامنے پڑھنی چاہیے تاکہ انہيں احکام اورآداب کا علم ہو ، اللہ سبحانہ وتعالی نے بہت سے علماء کرام اورطلاب علم کو ایسی کتابیں تالیف کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ، جس میں تیس ایام کے لیے روزانہ کی ایک مجلس بنائي گئی ہے ، اس میں ہرایک دن ایک موضوع پڑھا جائے تا کہ سب کو عمومی فائدہ ہو ۔

17 - اہل وعیال کو صدقہ وخیرا ت کرنے اورہمسائے اورمحتاجوں کا خیال رکھنے پر ابھارا جائے ۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زيادہ جود وسخا کے مالک تھے ، اورآپ رمضان المبارک میں جب آپ سے جبریل علیہ السلام ملاقات کرتے توآپ اوربھی زيادہ سخاوت کرنےلگتے تھے ، اورجبریل امین علیہ السلام رمضان کی ہررات کو آپ سے مل کرقرآن مجید کا دور کرتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزہوا سے بھی زيادہ بھلائی میں سخی تھے ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2308 ) ۔

18 - والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروالوں اوربچوں کو رات جاگنے سے منع کریں جس میں کوئي فائدہ نہ ہوبلکہ صرف اورصرف وقت کا ضیاع ہو بلکہ حرام کام یعنی ٹیلی ویژن اورکھیل کود میں مشغول نہ رہیں ، کیونکہ اس مہینہ میں انسان صفت شیطان اپنی بلوں سے باہر نکل آتے ہیں تاکہ وہ روزہ داروں کو رمضان المبارک کے دنوں اورراتوں میں فسق وفجور میں مشغول رکھیں ۔

19 - گھرمیں خاندان کے ساتھ اکٹھے ہوکر انہيں اللہ تعالی کے انعام جنت اورآخرت یاد دلائی جائے جس میں ہر قسم کی سعادت ہے ، آخرت میں اللہ تعالی کی ملاقات اوراللہ تعالی کے عرش کےسائے تلے جگہ کا حصول ہے ، دنیا میں اس قسم کی سب مجالس جس میں اللہ تعالی کا ذکر اورعلم کا حصول اور نماز وغیرہ ہو یہ سب کچھ اس سعادت کے حصول کا سبب اورذریعہ ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے اورتوفیق بخشنے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments