27176: لواطت سے توبہ کرنا چاہتااورتعاون کا محتاج ہے


میں دین اسلام کا التزام کرنے والا مسلمان ہوں اورایک طویل عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا ، مسئلہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی مجھے جنسی بیماری کا شکار کرلیا گیا ، اوراب میری یہ حالت ہے کہ میں مردوں اور عورتوں کا رسیا ہوچکا ہوں میرے اندر یہ چيز پائ جاتی ہے لیکن مجھے اس سے چھٹکارا نصیب نہیں ہورہا اورپتہ نہیں میں اس سے کس طرح نجات حاصل کرسکتا ہوں ۔
میں ہمیشہ تواس معصیت کا ارتکاب نہیں کرتا لیکن بعض اوقات اس کا ارتکاب ہوجاتا ہے ، اورمیں اس فعل پر نادم رہتا ہوں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی جنسی انحراف کوپسند نہیں فرماتا ، لیکن مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں اپنے آپ کا تعاون کروں اوراس سے رک جاؤں ۔
اپنے آپ کوبدلنے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہيں ہوا ، میں نے اللہ سبحانہ وتعالی سے بھی تعاون مدد طلب کی ہے ، اورمسلمانوں کے سامنےاس کا اعتراف بھی کیا ہے تا کہ وہ میرا تعاون کریں لیکن ؟ اسی طرح میں ماہر نفسیات کے پاس بھی گيا ہوں مجھے اللہ تعالی اور اس کےدین سے محبت ہے لیکن میرے معاملات اس محبت کے خلاف ہیں میں ہمیشہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
میں اس بیماری کا شکارہوں جس کی بنا پر مجھے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ شریعت اسلامیہ لواطت کرنے والے کوقتل کرنے کا حکم کیوں اورکس لیے دیتی ہے ۔
میرے سب دوست واحباب مسلمان ہیں اوردین کا التزام کرنےوالوں میں سے ہيں ، لیکن شیطان کی کوشش ہے کہ وہ میرے اورمیرے دوست واحباب کے ایمان کوتباہ کردے ۔
میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ میرا تعاون کرتے ہوۓ اس کا کوئی حل بتائيں اگرچہ وہ حل دنیا کے کسی کونے میں ہو اورمیں وہاں جانے کی تکلیف کروں گا ، اس لیے کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ اب دوبارہ اس قبیح اورگندے عمل کودہرا‎ؤں ۔
اورنہ ہی ميں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی کے بندوں میں سے کسی شخص پر خطرہ بنا رہوں ۔

الحمد للہ
ہم آپ سے اس مسئلہ میں چارنقاط کے اندر رہتے ہوۓ بات کریں گے اس سے زيادہ کوئی بات نہیں ہوگی ، لھذا ہماری آپ سے گزارش ہے کہ آپ پورے دھیان اورغور سے پڑھیں ۔ وہ چار نقاطی فارمولہ یہ ہے :

پہلا معاملہ :

لواطت کی قباحت ورسوائی اورگندگی :

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی قوم لوط کے بارہ میں کہتے ہیں :

اصحاب قول اول جو کہ جمہورعلماء رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ : کئي ایک نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع نقل کیا ہے کہ :

لواطت کے علاوہ کسی اورمعصیت میں فساد عظیم نہيں اورلواطت بھی کفرکے فساد کے ساتھ ہی ملی ہوئی‏ ہے بلکہ ہوسکتا ہے قتل سے بھی زيادہ با‏عث کا باعث ہے جس کا ان شاء اللہ آگے بیان ہوگا ۔

ان کا کہنا ہے : دنیا میں قوم لوط سے قبل اللہ تعالی نے کسی کوبھی اس کبیرہ گناہ میں مبتلا نہیں کیا ، اورپھر انہیں اس جرم کی سزا بھی ایسی دی کہ دنیا میں کسی اورامت کو اس طرح کی سزا نہیں دی گئي ، اوران پر کئي قسم کی سزائيں جمع کردی گئيں مثلا :

ھلاکت وبربادی ، اوران پر ان کے گھروں کوالٹ دیا گيا ، اورانہیں زمین میں دھنسا دیا گيا ، آسمان سے ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئي ، ان کی آنکھوں کو مٹا دیا گیا اورانہیں مستقل عذاب دیا گيا اورانہیں ایسی عبرت سزا دی گئي جوکسی اورامت کونہیں دی گئي ۔

یہ سب کچھ صرف اورصرف اس جرم عظیم کی بنا پر ہی تھا یہ ایسا جرم ہے جس کے کرنے سے زمین کے کناروں میں زلزلہ بپا ہوجاۓ اورجب فرشتے یہ عمل ہوتا دیکھیں تووہ نزول عذاب کے ڈر سےآسمان وزمین کے کناروں سے بھاگنا شروع کردیں اورزمین اپنے رب کے سامنے گڑگڑانے لگے اورقریب ہے کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ پر نہ ٹھر سکیں ۔

جس کےساتھ یہ کام کیا جارہا ہے بہتر ہے کہ اسے قتل کردیا جاۓ ، اورجب کوئی مرد اس سے لواطت کرتا ہے اس نے اسے ایسے قتل کردیا کہ وہ اس جرم کے ساتھ زندہ رہنے کی امید ہی نہیں رکھتا ، عمومی قتل کے خلاف کیونکہ جب اسے قتل کیا جاۓ‌ تووہ مظلوم ہوکر قتل ہورہا ہے اورشھید ہے اورہوسکتا ہے اسے یہ آخرت میں فائدہ بھی دے ۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے :

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کااس کے قتل پر اجماع ہے جس میں کسی بھی دوصحابیوں نے ا ختلاف نہیں کیا ، بلکہ اختلاف صرف اسے قتل کرنے کی کیفیت میں ہے کہ اسے کس طرع قتل کیا جاۓ ۔

تواس سے بعض لوگ اس کے قتل میں اخلاف سمجھ رہے ہيں ، اوراسے انہوں صحابہ کے درمیان ایک نزاعی مسئلہ بیان کردیا ہے ، حالانکہ اس مسئلہ میں تو ان کے درمیان اجماع پایا جاتا ہے ۔

جوشخص بھی مندرجہ ذیل فرمان باری تعالی کے متعلق غور فکر اورسوچ وبچار کرتا ہے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان فاصلہ اوربعد واضح ہوجاۓ گا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ خبردار زنا کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ وہ بڑی بے حیائي اورفحش کام ہے اوربہت ہی بری راہ ہے } الاسراء ( 32 ) ۔

اورلواطت کے بارہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ تم ایسا فحش کام کرتے ہوجس کو تم سے پہلے کسی نے بھی دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا } الاعراف ( 80 ) ۔

توان آیات پرغور کرنے والے کویہ فرق ظاہر ہوجاۓ گا ، بلاشبہ اللہ تعالی نے لفظ فاحشہ کونکرہ بیان کیا ہے یعنی وہ فحش کاموں میں سے ایک فحاشی ہے ، اورلواطت والی آیت میں الفاحشۃ کومعرفہ ذکر کیا ہے ، جوکہ اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ لواطت ایسی فحاشی ہے جواسم فحش کے تمام معانی کواپنے اندر سموۓ ہوۓ ہے ۔۔۔۔

پھر اللہ سبحانہ وتعالی نے اس فحاشی کی حالت بیان کرکے تاکید بیان کی ہے کہ یہ ایسی فحاشی ہے جودنیا میں پہلے کسی نے بھی نہیں کی فرمان باری تعالی ہے :

{ جس کو تم سے پہلے کسی نے بھی دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا }

پھراللہ تعالی نے تاکید میں زور پیدا کیا اور ایسی صراحت بیان کی جس سے دل دور بھاگتے ہیں اورکان سننے سے کتراتے اورشدید قسم کی نفرت کرتے ہیں ، وہ یہ کہ جس طرح کوئي مرد کسی عورت سے جماع کرتا ہے اسی طرح کوئی اپنی طرح کے مرد کے ساتھ یہ فعل کرے ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ تم مردوں کے ساتھ شہوت زنی کرتے ہو } ، ۔۔۔

پھر اللہ سبحانہ وتعالی نے اس کی قباحت کی تاکید بیان کی کہ لواطت ایسا کام ہے جو مردوں کی فطرت کے برعکس ہے جس پراللہ تعالی نے انہیں پیدا فرمایا ہے ، اورانہوں نے اس طبعیت کوبھی بدل کررکھ دیا جواللہ تعالی نے مردوں میں رکھی ہے کہ اللہ تعالی نے جوطبعیت رکھی ہے وہ عورتوں کی خواہش ہے مردوں کی نہيں لیکن انہوں نے معاملہ الٹ کر رکھ دیا اورفطرت وطبعیت کے برعکس چلنے لگے اورمردوں سے مرد تعلقات استوار کرنا شروع ہوگۓ ۔

تواللہ تعالی نے اسی لیے ان پر ان کے گھروں کوالٹ کر رکھ دیا اوران کے نچلے حصہ کواوپر کردیا اوراسی طرح انہیں پلٹا اورعذاب میں انہیں سرکے بل گرا دیا ۔

پھر اللہ تعالی نے اس کی قباحت کی تاکید کرتے ہوۓ اس پرحکم لگا یا کہ یہ اسراف اورحد سے تجاوز ہے ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ بلکہ تم تو اسراف وزيادتی کرنے والی اورحد سے بڑھی ہوئي قوم ہو } ۔

آپ ذرا غورو فکر توکریں کہ زنا میں بھی اس طرح یا پھر اس کے قریب کے فرامین آۓ ہیں ، اوراللہ تعالی نے ان کے لیے یہ فرمان بھی جاری کیا :

{ اورہم نے اسے اس بستی والوں سے نجات دی جو خباثتوں اورفحش کام کرتے تھے } ۔

پھر اللہ تعالی نے ان کی مذمت کرتے ہوۓ انہیں ایک انتہائي اورآخری قبیح وصف سے نوازتے ہوۓ فرمایا :

{ بلاشبہ وہ فاسق اوربرائی کرنے والی قوم تھی } الانبیاء ( 74 ) ۔

اورانہیں ان کے نبی کے قول میں فسادیوں کے نام سے نوازا :

{ میرے رب مجھے میری فسادی قوم کے خلاف مدد وتعاون عطا فرما } الانبیاء ( 75 )۔

اورفرشتوں کی زبان سے ابراھیم علیہ السلام کے سامنے انہيں ظالم کہا :

{ بلاشبہ ہم اس بستی والوں کوھلاک کرنے والے ہيں بلاشبہ اس کے رہنے والے ظالم قسم کے لوگ ہیں } العنکبوت ( 31 ) ۔

آپ غورکریں کہ اس جیسی سزا کسے دی گئي اوراس طرح کی مذمت کس کی گئي ہے ؟

لذتیں ختم ہوجاتی ہیں اورحسرت ویاس باقی رہتی ہے ، شھوات ختم ہوجاتی ہيں اپنے پیچھے شقاوت و بدبختی وراثت میں چھوڑ جاتی ہے ، یہ کام کرنے والے فائدہ توبہت کم حاصل کرتے ہیں لیکن ایک طویل عذاب کا شکارہوجاتے ہیں ۔

وہ مضر اورردی قسم کی زندگی گـزارتے رہے جس کی سزا میں انہیں عذاب الیم کا سامنا کرنا پڑا ، انہیں شھوات کے نشہ نے مدہوش کردیا اورجب انہیں ہوش آیا تووہ عذاب والوں کے ساتھ تھے ، وہ اس غفلت میں سوۓ رہے اورجب بیدارہوۓ تو ھلاکت والے گھر میں تھے ۔

اللہ کی قسم وہ بہت زیادہ ندامت کرنے لگے لیکن اس وقت اس ندامت نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ، اوروہ اپنے کیے پرآنسؤوں کے بدلے خون کے آنسو روتے رہے ۔

اگرآپ اس گروہ کے اوپر نیچے دیکھیں توجہنم کی گھرائیوں میں ان کے مونہوں اورجسموں سے آگ نکل رہی ہوگی اوروہ وہاں لذیذ شراب کی جگہ کھولتے ہوۓ گرم پانی پی رہے ہوں گے اورانہیں چہروں کے بل گھسیٹتے ہوۓ کہا جاۓ گا : جوکچھ تم کمائی کرتے رہے ہواس کا بدلہ چکھو ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اورنہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تہمارے کیے کا بدلہ دیا جاۓ گا } الطور ( 16 ) ۔

دیکھیں الجواب الکافی ص ( 240 - 245 ) یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا گيا ہے ۔

دوسرا نقطہ اورمعاملہ :

اس فحش کام سے جسمانی اورصحت کونقصان :

ڈاکٹر محمود حجازي اپنی کتاب " الامراض الجنسیۃ والتناسلیۃ " ( جنسی اورتناسلی امراض ) میں لواطت کی بنا پر ہونے والے بعض خطرات اورنقصانات بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں :

وہ امراض جولواطت جنسی سے متقل ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذيل ہیں :

1 - ایڈز ، یہ ایک ایسا مرض ہے جس سے قوت مناعت جاتی رہتی ہے جس سے عادتا موت واقع ہوجاتی ہے ۔

2 - جگرکی بیماری -

3 - زھری کا مرض ۔

4 - مرض سیلان ۔

5 - جرثومی میلان کی جلن ۔

6 - ٹائیفائڈ ۔

7 - ایمیاء کا مرض ۔

8 - انتڑیوں میں کیڑے پڑنا ۔

9 - خارش ( چنبل ) ۔

10 - زيرناف جوؤں کا پڑنا ۔

11 - سائٹومگلک وائرس جو سرطان کا با‏عث بنتا ہے ۔

12 - تناسلی امراض ۔

تیسرا نقطہ :

اوپر جوکچھ بیان ہوچکا ہے اس سے اس برے فعل کی قباحت اورگندگی اورفحاشی واضح ہوتی ہے ، اورجوکچھ اس قبیح فعل کے ارتکاب سے نقصان دہ امراض پیدا ہوتے ہیں وہ بھی واضح ہوتے ہیں ، لیکن اس کے باوجودگنہگاروں اورمعصیت کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اوراللہ سبحانہ وتعالی ان کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے ۔

آپ اللہ سبحانہ وتعالی کے اس فرمان پر غوروفکر کریں :

{ اوروہ لوگ جواللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کونہیں پکارتے اورکسی ایسے شخص کوجسے اللہ تعالی نے قتل کرنا حرام قرار دیا اسے وہ حق کے سوا قتل نہیں کرتے ، اورنہ ہی وہ زنا کا ارتکاب کرتے ہیں اور جوکوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لاۓ گا ۔

اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جاۓ گا اوروہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی عذاب میں رہے گا ، سواۓ ان لوگوں کے جوتوبہ کریں اورایمان لائيں اورنیک وصالح اعمال کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالی نیکیوں سے بدل دیتا ہے ، اوراللہ تعالی بخشنے والا اورمہربانی کرنے والا ہے } الفرقان ( 68 – 70 ) ۔

اوراللہ تعالی کے مندرجہ ذيل فرمان پر غور کرنے سے آپ کو علم ہوگا کہ اللہ تعالی کا بہت بڑا اورفضل عظیم ہے ۔

فرمان باری تعالی ہے :

{ توایسے لوگوں کے گناہوں کواللہ تعالی نیکیوں سے بدل ڈالتے ہیں }

مفسرین نے تبدیل کے دومعنی بیان کیے ہيں :

اول :

بری صفات کواچھی صفات میں تبدیل کرنا ، مثلا ان کے شرک کو ایمان کے ساتھ اورزنا کوعفت عصمت کے ساتھ اورکذب وجھوٹ کوسچائ کے ساتھ اورخیانت کوامانت کے ساتھ اور اسی طرح دوسری صفات بھی ۔

دوم :

جوبرائياں کی ہيں انہیں قیامت کے دن نیکیوں میں بدلنا ۔

توآپ پر ضروری اورواجب ہے کہ آپ جتنی جلدی ہوسکے اللہ تعالی کے ہاں توبہ عظیم کریں ، اوریہ بات علم میں رکھیں کہ آپ کا اللہ تعالی کی طرف رجوع اورتوبہ کرنا آپ کے لیے اپنے اہل عیال اوردوست واحباب اورپورے معاشرہ سے بھی بہتر اوراچھا ہے ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہيۓ کہ زندگی بہت ہی کم ہے اورآخرت ہی باقی رہنے والی اوربہتر ہے ، اورآپ یہ بھی نہ بھولیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے قوم لوط کو ایسے عذاب اورطریقے سے ھلاک کیا تھا جس کے ساتھ کسی اورکو ھلاک نہیں کيا گیا ۔

چوتھا نقطہ :

اس مصیبت میں مبتلا شخص کا علاج :

1 - ان اسباب سے دور رہيں جواس معصیت وگناہ میں وقوع کی آسانی کا باعث بنتے ہیں اورآپ کویاد دلاتے ہیں مثلا :

- آپ نظریں نيچی رکھیں ، عورتوں اور ڈش وغیرہ دیکھنے سے باز رہيں ۔

- کسی عورت یا مرد سے خلوت نہ کرنا ۔

2 - آپ ہمیشہ ایسے کام میں مشغول رہیں جوآپ کودینی یا دنیاوی فائدہ دیں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورجب توفارغ ہو توعبادت میں محنت کر } ۔

جب آپ دنیا کے کام سے فارغ توآخرت کے عمل کرنے میں کوشش کریں مثلا تلاوت قرآن اورطلب علم اوراچھی اورنفع مند کیسٹیں سننے میں وقت گزاریں ۔۔۔

اورجب آپ ایک اطاعت سے فارغ ہوں تودوسری میں مشغول ہو جائيں اورجب دنیا کے کاموں سے فارغ ہوں توآخرت کی تیاری میں لگ جائيں ۔۔۔ اوراسی طرح چلتے رہیں ۔

اس لیے کہ اگر آپ اپنے آپ کوحق میں مشغول نہيں کریں گے تووہ آپ کوباطل میں مشغول کردے گا لھذا آپ اپنے نفس کوفرصت ہی نہ دیں کہ وہ یہ کام کرے اورنہ ہی اس کے لیے وقت مہیا کریں کہ وہ اس فحش کام کے بارہ میں سوچ ہی نہ سکے ۔

3 - آپ اس فحش کام کی لذت اوراس کے بعد ہونے والی ندامت و پریشانی اورہمیشہ کے لیے چمٹی رہنے والی حیرت کے درمیان موازنہ کریں ، پھر آپ دیکھیں کہ آخرت میں ملنے والے عذاب کا بھی اندازہ کریں ، توکیا آپ کے خیال میں کچھ دیر میں ہی ختم ہوجانے والی لذت کوکوئی عقل مند ہمیشہ رہنےوالی ندامت و عذاب پر مقدم کرسکتا ہے ۔

آپ کواس معاملہ سے بچنے کے لیے قوت دینے اوربچنے پر راضي کرنے والی چيز پر ابھارنے کے لیے حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی کتاب " الجواب الکافی لمن سال عن الدواء الشافی ) کا مطالعہ کرنا چاہیۓ ، جسے حافظ رحمہ اللہ نے آپ جیسے لوگوں کی حالت کے بارہ میں لکھی ہے ، اللہ تعالی ہمیں اورآپ کوکامیابی نصیب فرماۓ ۔

4 - عقل مند کسی بھی محبوب چيز کونہيں چھوڑتا مگر اس سے بھی اعلی اورمحبوب چيز کے لیے اسے چھوڑ سکتا ہے یا پھر وہ اس کے مکروہ کے ڈر سے ترک کرتا ہے ۔

تویہ فحاشی آپ پر دنیاوآخرت کی نعمتوں کومحروم کررہی ہے اوراس سے اللہ تعالی کی محبت بھی جاتی رہتی ہے اوراس کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے عذاب اوراس کی ناراضگي و غضب کا مستحق ٹھرے گا ۔

تواس فحاشی کی بنا پرآپ آپنے آپ سے فوت ہوجانے والی خیروبھلائی اورجوکچھ آپ کوشروبرائی حاصل ہوتی ہے اس کے درمیان مقارنہ و موازنہ کریں ، اورعقل مند کوعلم ہے کہ وہ ان دونوں چيزوں میں سے کسے مقدم رکھے ۔

5 - اورپھران سب اشیاء سے بھی اہم یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی سے دعاکریں اوراس سے تعاون کی درخواست کریں کہ وہ آپ سے یہ برائي دور کردے ، اورآپ قبولیت کے اوقات کوغنیمت جانتے ہوۓ سجدہ اور نماز کے اندر تشھد میں اوررات کے آخری حصہ میں اوربارش کے نازل ہونے کے اوقات اورسفر اورروزے کی حالت اورروزہ افطاری کے اوقات میں خاص طور پر دعا کریں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہيں کہ وہ آپ کورشدو ھدایت سے نوازے اورآپ کی توبہ قبول فرماۓ ، اورآپ کو ہر قسم کے برے اعمال اور اخلاق سے بچاۓ ، آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments