Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
31796

اسلام قبول کرناچاہتی ہےلیکن ماں اورنانی کی مخالفت درپیش ہے

میں گیارہ برس کی عمرسے اسلام قبول کرنے کا سوچ رہی ہوں اوراب میری عمر چودہ برس ہوچکی ہے مجھےیقین کامل ہے کہ اس زندگی میں یہی اسلام ہی چاہتی ہوں ۔
میں مکل نمازاورسورۃ الفاتحہ سیکھ چکی ہوں اورنمازپڑھنے کی کوشش کی ہے لیکن نماز کی کیفیت میں مجھے تشویش ہے کہ وہ کس طرح ہوگی ، اورمیں نے اپنا اسلامی نام بھی چن رکھا ہے ۔
میں نے اپنے اعتقادات کےبارہ میں والدہ کوبھی بتایا ہے لیکن وہ کیتھولک عیسائ‏ ہونے کی بنا پرمیرے قبول اسلام کی مخالفت کرتی ہے ۔
میری کوئ‏ سہیلی اوردوست مسلمان نہ ہونے کی بنا پرمجھے کو‏ئ نصیحت کرنے والا نہيں ہے ، میری والدہ مجھے کہتی ہے کہ سولہ برس کی عمرتک انتظار کرو لیکن فی الحال مجھے گرجا میں جانا ضروری اورواجب ہے ۔
میں اسلام قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہوں اورہردفعہ میں اپنی نانی کی بات یاد کرتی ہوں جوہمارے ساتھ ہی رہتی ہے اس کا کہنا ہے کہ میں ان کے لیے تنگی اورمشکلات کاسبب بنوں گی اس لیے کہ وہ برطانوی نہیں ہیں ، ان کی یہ بات مجھے بہت پریشان اورتنگ کرتی ہے ، لیکن میں ان کے سامنے اونچی آواز سے بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ مجھے علم ہے ان کاادب واحترام نہ کرنا خلاف اسلام ہے ۔
میں اپنے دوستوں واحباب کے لیے وضاحت سے اپنے اعتقادات کا اعلان کرنا چاہتی ہوں لیکن میری نانی کہتی ہے کہ اس بنا پرلوگوں کے ساتھ میرا معاملہ مختلف ہوجاۓ گا اورمیں لوگوں کی نظروں میں گرجاؤ‎ں گی ۔
اس بناپرمیں نے کئ بارچورچھپے اسلام قبول کرنے کا سوچا لیکن میں پھر اکیلے مسجد نہیں جاسکتی اورنہ ہی میں پردہ کرسکتی ہوں اورسکول والے مجھے نمازیں بھی ادار کرنے نہیں دینگے ، مجھے یہ علم نہیں کہ میں کیا کروں ؟ آپ سے گزارش ہے کہ میرا تعاون کریں ۔

الحمد للہ:

آپ کاسوال ہمارے لیے آج صبح بہت خوشی کی خبریں لایا اورہمارے سینہ کوٹھنڈا کردیا ، ہم نے جوکچھ بھی آپ کے سؤال میں پڑھا ہے اس پراللہ تعالی کا شکرو حمد ثنا ہے ۔

جن مشکلات سے آپ دوچار ہيں ہم انہیں سمجھ چکے ہیں ، اب ہم آپ کے سوال کا جواب دیتے ہوۓ آپ کے ساتھ ہيں اورآپ کودرپیش مشکلات کا حل پیش کرتے ہیں ۔

ہمیں بہت تعجب اورخوشی ہوئ ہے کہ آپ نے نماز اورسورۃ الفاتحہ یاد کرلی ہے حالانکہ آپ کی زبان انگلش ہے ، اس پربھی تعجب ہے کہ آپ نے گیاربرس کی عمرمیں ہی اللہ تعالی کومعرفت حاصل کرلی ، اورتین سال بعد چودہ برس کی عمرنے آپ نے اسلام کے بارہ میں یقین واطمنان حاصل کرلیا ، ہم اللہ تعالی کی توفیق سے آپ کویہ کہتے ہيں :

انسان جب کسی چيزپرایمان لاتا ہے تووہ اس کے لیے قربانی دینے پربھی تیارہوتا ہے ، توپھراگر وہ چيز اللہ تعالی کی توحید ، اوراس کی عبادت ، اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع وپیروی اورسب احکامات کی تنفیذ میں کیوں نہ ہوگی ، اس میں کوئ‏ شک نہیں کہ اس وقت تویہ قربانی بہت ہی بڑی ہوگی ۔

اورپھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہیں بتایا ہے کہ جنت مشکلات اورناپسندیدہ اشیاء کے گھری ہوئ ہے ، جس کا معنی یہ ہوا کہ ہمارے لیے جنت کے راستہ میں مشکلات و ناپسندیدگی اورمصائب آئيں گے اورمشقت برداشت کرنی پڑے گی ۔

اللہ تعالی کا یہ سامان بڑا قیمتی اوراس کی نعمتیں بہت بڑی ہيں جو ختم ہونے والی نہيں اس میں زندگی ہمشہ کے لیے ہے اوراس کی لذتیں دائمی ہيں ، لھذاحقیقی مسلمان ہروقت اس فانی دنیا کےزائل ہونےوالےبہت سےامورکی ان نعتموں کے لیے قربانی دینے پر تیار رہتا ہے ۔

اس میں ہروقت یہ استعداد ہونی چاہیےکہ وہ ان نعمتوں کے حصول کےلیے لوگوں کی طرف سے دی گئ تکلیف برداشت کرے اوران کےسب و شتم اورتنقید اورمذاق وٹھٹھا پرصبر کرے ۔

اس موضوع میں ایک اوربہت خوبصورت امر یہ ہے کہ جب بھی اسے تکلیف آۓ اوروہ اس پرصبر کا مظاہرا کرے تواللہ رب العالمین کے ہاں اس کا اجرو ثواب زیادہ اوردرجات میں بلندی ہوتی ہے ، بلکہ اس کا ایمان زيادہ اورمزید قوی ہوتا ہے اوروہ ناپسندیدہ اشیاء پراللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیےصبر کرتے ہوۓ لذت محسوس کرتا ہے ۔

اوراللہ تعالی کی رضا کےحصول کی کوشش کی مٹھاس لوگوں کے غضب اوران کی تکلیف و تنقید کی کڑواہٹ کوبھلا دیتی ہے ، اوراگروہ لوگوں کے کچھ مذاق و سخریہ یا پھرتنقیدی کلمات سنے تو اگروہ انہیں اللہ تعالی کی رضا اوراجرو ثواب حاصل کرنے کے لیے برداشت کرلے تواسے کیا ہے ۔

اوروہ ان سب کوبرداشت کرنے میں اللہ تعالی کے اس وعدہ پرایمان رکھتا ہے جس کا ذکراللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن مجید میں کیا ہے :

{ اوراچھاانجام متقیوں کے لیے ہی ہے } ۔

اوروہ اس کا علم رکھے کہ صبر اللہ تعالی کی مدد وتعاون سے حاصل ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالی سے مدد وتعاون اورثابت قدمی طلب کرے ، اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ آپ صبر کریں اورآّپ کا صبرتواللہ تعالی کی مدد وتعاون سے ہی ہے }

اورپھروہ انسان لوگوں کےلیے حق کا اعلان کرنے میں مستعد اورتیار ہے ان میں جوراضی ہوتا وہ راضی اور جواسے ناپسندکرتا اورناراض ہوتا ہے ناراض ہوتا پھرے ، اوراگروہ حق کوقبول نہ کریں تووہ ان سے اعراض کرلے اورانہیں چھوڑ دے جس طرح اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوکہا ہے :

{ آپ کوجوحکم دیا جاتا ہے اسے علانیہ طورپربیان کردیں اورمشرکوں سے اعراض کرلیں } ۔

اورفرمان باری تعالی ہے:

{ اورجاہل قسم کے لوگوں سے اعراض کریں } ۔

بلاشبہ عزیزو اقارب کی تنقیدی اورجرح والی باتیں دل پر بہت گراں گزرتی ہيں اوریہ اسلحہ سے بھی زيادہ سخت واقع ہوتی ہيں ، لیکن جواللہ تعالی کی عظمت اوراس کے اجروثواب کوسامنے رکھے یہ سب کچھ اس کے لیے آسان بن جاتا ہے اوروہ اپنے راہ پرچلتا ہوا ان کی طرف التفات اوردھیان بھی نہیں دیتا اورنہ ہی وہ تردد اورشک کا شکار ہوتا ہے ۔

اس توضيح کے بعد ہم آپ کے سوال کا جواب مندرجہ ذيل نقاط میں دیتے ہيں :

اول :

آپ نے اپنی نانی کے سامنے اونچا نہ بول کربہت اچھا کیا ہے اس لیے کہ والدین اوردادا دادی اورنانا نانی کا احترام کرنا دین اسلام میں واجب ہے ۔

دوم :

حتی الامکان آپ گرجا نہ جائيں بلکہ جانے سے انکار کریں ، اس لیے کہ وہ ایسی جگہ ہے جہاں پراللہ تعالی کی آیات کے ساتھ کفراور شرک علانیہ طور پر پایا اورباطل دین کا سرعام پرچار کیا جاتا ہے ۔

اوراس لیے کہ آپ عورت ہیں آپ پرمردوں کی طرح مسجد میں جانا واجب اورضروری نہیں ، اورآپ اگرمسجد نہیں جاتی توآپ گناہ گاربھی نہیں ہوں گی اس لیے کہ عورت کے لیے نمازپڑھنے کی سب سے افضل جگہ اس کا گھر ہے ۔

سوم :

آپ حتی الوسعہ پردہ کرنے کی کوشش کریں اوراللہ تعالی کے راستے میں تکلیف برداشت کریں ، اوراسی طرح اللہ تعالی کی فرض کردہ پانچ نمازیں اپنے وقت ادا کرنے پرصبر کریں ، آپ کے علم میں ہونا چاہیۓ کہ یہ سب نمازيں سکول کے وقت سے تعارض نہيں رکھتیں ۔

اگرآپ فجر کی نماز طلوع فجر کے بعداداکرکے سکول چلی جائيں توآپ سکول میں ظہرکی نماز عصرکے وقت سے قبل تک پڑھ سکتی ہیں ، اورآپ کواس کا وقت پیریڈ کے درمیان وقفہ میں مل جاۓ گا ، یا پھرلنچ کے وقت پڑھ لیں اوریا پھر سکول سے گھرواپس آکر صرف اتنی بات ہے کہ آپ ظہر کی نماز زوال شمس کے بعد عصرکا وقت داخل ہونے سے قبل پڑھیں ۔

چہارم :

جب آپ لوگوں سے معاملات اچھے کریں گی تو بالآخر آپ ان کو اپنے ساتھ ملالیں گی اوراللہ تعالی کے حکم سےآپ ان کی نظروں سے نہیں گریں گی ۔

پنجم :

اسلام قبول کرنے اوراس میں داخل ہونے میں دیر نہ کریں اوراس میں ایک لمحہ بھی انتظار نہ کریں اس لیے کہ آپ کوعلم نہيں کب موت آجاۓ ، توآپ کلمہ شہادت پکاراٹھیں ، اورنمازکی پاپندی شروع کردیں توآپ اس کی رکعات اوراوقات اوراذکارکووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یاد کرلیں گی ۔

توجب آپ اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہیں الحمدللہ اس میں آپ کواپنی ماں اورنانی کی موافقت کی کوئ ضرورت ہیں اورنہ ہی آپ اسلام قبول کرنے میں انکی اوران کے علاوہ کسی اورکی محتاج ہيں ، جب اللہ تعالی نے آپ کواپنے دین اسلام کی پیروی کرنے کا حکم دے رہا ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورجو بھی اسلام کے علاوہ کوئ اوردین تلاش کرتا پھرے گا اس کا وہ دین اس سے قبول نہیں کیا جاۓ گا } ۔

ششم :

آپ دوستی اورسہیلیوں کے لیے مسلمان بہنوں کوتلاش کریں اوران سے دوستی لگائيں تاکہ وہ آپ کی دین اسلام کی تعلیم میں مدد گار ثابت ہوں ، اورآّپ اس پرثابت قدم رہيں ۔

ہم ذيل میں لندن کے اندمجلس اسلامی کا ٹیلی فون نمبر درج کرتے ہیں تا کہ آّپ وہاں سے عورتوں کے دروس کا شیڈول حاصل کرلیں ہوسکتا ہے کہ آپ اس جگہ سے اپنی ابتداء کرلیں اس لیے کہ آپ برطانیہ میں رہائش پزیرہیں مجلس اسلامی لندن کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے : (7369060 ).

اورآخر میں ہم ایک دفع پھرآپ کے سوال سےاپنے سرور خوشی کا اظہار کرتے ہیں ، اورآپ کوسعادت مندی کی زندگی اوردین حنیف اوراسلام کےساۓ میں خوبصورت اورروشن مستقبل کی خوشخبری دیتے ہيں ، اورہم آپ کا ہرقسم کاتعاون کرنے پرتیار ہیں ۔

اللہ تعالی ہمیں اورآپ کوایسے اعمال کرنے کی توفیق عطافرماۓ جواس کی رضا اورمحبت کا سبب ہیں ۔

اوراللہ تعالی ہی سیدھے راہ کی ھدایت اورراہنمائى کرنے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments