34495: انسداد منشيات كے دوران قتل ہونے والے شخص كا حكم


مسلمان ممالك ميں نشہ پھيل چكا ہے، تو كيا نشہ آور اشياء كے خاتمہ كے ليے قائم كردہ محكمہ كے ملازمين ميں سے نشہ آور اشياء اسمگلنگ اور ترويج كرنے والوں كے ساتھ مقابلہ ميں قتل ہونے والا شہيد كے حكم ميں آتا ہے؟
ان گروہوں تك پہنچنے كے ليے ملازمين كو ان كے اڈے كى معلومات مہيا كرنے والے شخص كا حكم كيا ہو گا ؟

الحمد للہ:

اس ميں كوئى شك نہيں كہ نشہ آور اشياء كو ختم كرنا ايك عظيم جہاد فى سبيل اللہ شمار ہوتا ہے، اور اسے ختم كرنے كے ليے سب سے اہم واجب يہ ہے كہ معاشرے كے افراد ايك دوسرے كے ساتھ تعاون كريں، كيونكہ اس كا خاتمہ سب كے ليے فائدہ مند ہے، اور اس ليے بھى كہ اس كا پھيلنا اور رواج پانا سب كے ليے نقصان دہ ہے.

اور جو شخص بھى اس شر كو ختم كرتے ہوئے قتل ہو جائے اور اس كى نيت بھى اچھى ہو تو وہ شہداء ميں سے ہے، اور جس شخص نے بھى ان كے اڈوں كى نشاندہى كرنے ميں معاونت كى اور اسے افشاں كرنے ميں تعاون كيا، اور ذمہ داران كو اس كے متعلق آگاہ كيا تو وہ عند اللہ ماجور ہے، اور اس طرح وہ مجاہد فى سبيل الحق شمار ہوگا، اور اسے مسلمانوں كى مصلحت اور ان كے معاشرے كو نقصان دہ اشياء سے محفوظ كرنے والا مجاہد شمار كيا جائےگا.

ہم اللہ تعالى سے دعا گو ہيں كہ وہ اس بيمارى كى ترويج كرنے والوں كو ہدايت سے نوازے، اور انہيں ان كى ہدايت كى جانب پلٹا دے، اور انہيں ان كے نفسوں كے شراور شيطان كے مكروں سے محفوظ ركھے، اور اسے ختم كرنے والوں كو حق تك پہنچائے، اور واجبات كى ادائيگى ميں معاونت كرے، اور ان كى غلطيوں كى اصلاح فرمائے، اور انہيں شيطانى جماعت پر غلبہ عطا كرے، بلا شبہ اللہ تعالى بہتر مسئول ہے.

ديكھيں: كتاب مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ: تاليف فضيلۃ الشيخ علامہ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ تعالى ( 4 / 410 ).
Create Comments