Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
3801

خاوند اوربیوی کا اکٹھے غسل کرنا اورایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا

کیا خاوند اوربیوی کاا کٹھے غسل کرنااور ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا جائز ہے ؟
مجھے کسی نے یہ کہا تھا کہ ہم بستری کے وقت کمرہ میں اندیھرا ہونا ضروری ہے اور ہم بستری کے وقت خاوند اوربیوی میں سے کسی ایک کے لیے بھی پورا بے لباس ہونا صحیح نہیں توکیا یہ صحیح ہے ؟
میں اللہ تعالی سے دعا گوہوں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم کی ھدایت نصیب فرمائے ۔

الحمد للہ
عورت کے لیے اپنے خاوند کے سارے جسم کودیکھنا جائز ہے ، اور اسی طرح خاوند کے لیے بھی اپنی بیوی کے مکمل جسم کودیکھنا جائز ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اوروہ لوگ جواپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اپنی بیویوں اورلونڈیوں پر انہیں کوئي ملامت نہیں ، جس نے بھی اس کے علاوہ کوئی اورراستہ اختیار کیا وہ زيادتی کرنے والے اورحد سے بڑھنے والے ہیں } ۔

دیھکیں فتاوی المراۃ تالیف شیخ ابن عثیمین ( 121 ) ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عہنا بیان کرتی ہیں کہ :

میں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کیا کرتے تھے ۔ صحیح بخاری حديث نمبر ( 250 ) ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی فتح الباری میں کہتے ہیں :

اس سے داودی رحمہ اللہ تعالی نے یہ استدلال کیا ہے کہ مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ دیکھ سکتا ہے اوراسی طرح بیوی اپنے خاوند کی بھی ۔

اس کی تائید ابن حبان کی مندرجہ ذیل روایت بھی کرتی ہے :

سلیمان بن موسی بیان کرتے ہیں کہ ان سے یہ سوال کیا گيا کہ آيا مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ دیکھ سکتا ہے ؟

توانہوں نے کہا میں نے عطاء رحمہ اللہ تعالی سے اس کے بارہ میں سوال کیا توان کا کہنا تھا میں نے عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے اسی معنی کی حدیث بیان کی ، جوکہ اس مسئلہ میں نص ہے ۔ انتھی ۔ دیکھیں فتح الباری ( 1 / 364 ) ۔

میرا کہنا ہے کہ :

بعض لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا کہ مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ دیھکے ۔

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ، اسی میں سے یہ بھی روایت بیان کی جاتی ہے کہ :

ابن عباس اورابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تم میں سے جب کوئي ایک اپنی بیوی سے ہم بستری کرے تووہ اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اس لیے کہ اس سے اندھے پن کی بیماری پیدا ہوتی ہے اورزيادہ باتيں بھی نہ کریں کیونکہ اس سے گونگے پن کی بیماری پیدا ہوتی ہے ) ابن جوزی رحمہ اللہ تعالی اس روایت کےبارہ میں کہتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے ۔ دیکھیں الموضوعات لابن جوزي ( 2 / 271 - 272 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments