Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
39181

استعمال شدہ سونے كو نيا كر كے فروخت كرنا

بعض دوكاندار صاف ستھر استعمال شدہ سونا خريدتے اور اسے صاف كر كے نئے ريٹ پر فروخت كرتے ہيں، كيا ايسا كرنا جائز ہے، يا كہ خريدار كو بتانا ضرورى ہے كہ يہ پرانا اور استعمال كردہ ہے، يا كہ لازم نہيں اس يے كہ بعض خريدار سوال نہيں كرتے آيا يہ نيا ہے يا استعمال شدہ ؟

الحمد للہ:

اس پر واجب ہے كہ اسے نصيحت كى جائے، اور وہ بھى اسى چيز كو پسند كرے جو چيز اپنے ليے پسند كرتا ہے، يہ معلوم ہونا چاہيے كہ اگر كوئى شخص آپ كو تھوڑى سى استعمال كردہ چيز فروخت كرے جس پر استعمال كا كوئى اثر بھى نہ ہو، اور وہ اسے نئى چيز بنا كر آپ كو فروخت كر دے، تو آپ اس كى جانب سے اسے دھوكہ اور فراڈ شمار كرينگے، تو اگر آپ اس پر راضى نہيں ہوتے كہ لوگ آپ كے ساتھ ايسا كريں تو پھر آپ اسے اپنے ليے كيسے جائز اور مباح قرار ديتے ہيں كہ ايسا كسى دوسرے كے ساتھ كريں ؟!

اس بنا پر انسان كے ليے ايسا فعل كرنا جائز نہيں، حتى كہ وہ خريدار كو يہ واضح طور پر بتا دے كہ يہ استعمال كردہ ہے اور زيادہ استعمال نہيں ہوا بلكہ تھوڑا سا استعمال كيا گيا ہے.

واللہ اعلم .

فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين ماخوذ از: اسئلۃ فى بيع و شراء الذھب.
Create Comments