Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
42567

ريٹائرمنٹ نظام ميں شركت كا حكم

ميں برطانيا ميں سكونت پذير ہوں، ريٹائرمنٹ كى مد ميں حكومت ميرى تنخواہ سے ماہانہ كٹوتى كرتى ہے، اس طرح كى ريٹائرمنٹ كا حكم كيا ہے؟
اس ميں ايك اور اختيار بھى موجود ہے كہ پرائيويٹ كمپنيوں ميں ريٹائرمنٹ كا خاص نظام طلب كرنا ؟
جيسا كہ وہ ماہانہ كچھ معين رقم لتے اور اس كى سرمايہ كارى كرتے ہيں، اور ساٹھ يا پينسٹھ برس كى عمر ميں ريٹائرمنٹ كے بعد اس مال ميں سے ہميں ديتے ہيں، اس ريٹائرمنٹ نظام كا حكم كيا ہے؟

الحمد للہ :

غير سركارى اداروں كے ريٹائرمنٹ نظام ميں شركت كرنا جوے كى ايك قسم ہے، اس ليے كہ ہو سكتا ہے وہ اس ميں چند ماہ شريك ہو اور پھر اسے كوئى معذورى پيش آجائے يا پھر فوت ہو جائے، تو اسے يا اس كے ورثاء كو جمع كرائے گئے مال سے بہت زيادہ رقم حاصل ہو جائے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس نے بہت سى قسطيں ادا كى ہوں ليكن حاصل كردہ رقم اس سے كم ہو، اور يہى جوا ہے، اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے ويب سائٹ ميں انشورنس كے متعلقہ سوالات كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اور اگر اقساط سے حاصل كردہ مال كى سرمايہ كارى كسى حرام كام ميں كرتے ہوں مثلا شراب كشيد كرنے يا پھر سودى قرض ميں تو يہ حرمت كا ايك اور سبب ہو گا كہ اس ميں گناہ و معصيت اور ظلم و زيادتى ميں معاونت پائى جاتى ہے.

يہ تو اس وقت ہے جب اس نظام ميں شراكت اختيارى ہو، تو پھر اس ميں شركت كرنا جائز نہيں، اور جو كوئى بھى كسى چيز كو اللہ تعالى كے ليے ترك كرتا ہے اللہ تعالى اسے اس كا نعم البدل عطا فرماتا ہے.

اور اگر اس ميں شركت اجبارى اور لازمى ہو تو پھر اسے پر كوئى گناہ نہيں، آپ كے ليے اور نہ ہى آپ كے ورثاء كے ليے اس رقم سے زيادہ مال حاصل كرنا جائز نہيں جو آپ سے ليا گيا ہے، اور آپ كو يہ حق ہے كہ آپ باقى مانندہ زيادہ رقم حاصل نہ كريں يا پھر حاصل كر كے اسے نيكى و بھلائى كے كاموں ميں صرف كر ديں.

اور حكومتى اداروں كے ريٹائرمنٹ كے نظام ميں شركت كرنے كے بارہ ميں يہ ہے كہ: اس اعتبار سے يہ سابقہ حكم ميں نہيں آئے گا كہ حكومت يا بيت المال ضرورت كے وقت اپنى رعايا پر خرچ كرنے كى ذمہ دار ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments